مجلسِ عامہ
خُدا کی محبّت
مجلسِ عامہ اپریل 2025


10:34

خُدا کی محبّت

مَیں شادمانی سے گواہی دیتا ہُوں کہ شافی یِسُوع مسِیح ہی خُدا کی محبّت ہے۔ ہمارے واسطے اُس کی محبّت کامِل، شخصی، اور اَبَدی ہے۔

ایک دفعہ موسمِ گرما میں دُور دراز عِلاقے میں سفر کرتے ہُوئے، ہمارے خاندان نے ایک شام کھُلے صاف آسمان تلے گُزاری۔ ہمارے اُوپر واضح طور پر نظر آنے والی شان دار کہکشاں تھی، جو اَن گِنت سِتاروں اور کبھی کبھار شہابِ ثاقب سے بھری ہُوئی تھی۔ جب ہم خُدا کی تخلیق کی شان و شوکت پر حیران ہُوئے، تو ہم نے اُس کے ساتھ ایک پُرعقیدت تعلق محسُوس کِیا۔ ہمارے چھوٹے بچّوں نے، جو ہانگ کانگ میں پلے بڑھے تھے، پہلے کبھی اِس طرح کی کسی چیز کا تجربہ نہیں کِیا تھا۔ اُنھوں نے معصُومیت سے پُوچھا کیا ہم اپنے گھر پر بھی اِسی آسمان کے تلے رہتے ہیں۔ مَیں نے اُنھیں سمجھانے کی کوشِش کی کہ یہ وہی آسمان ہے، لیکن جہاں ہم رہتے ہیں وہاں کی فِضائی اور روشنی کی آلُودگی ہمیں اِن سِتاروں کو دیکھنے سے روکتی ہے حالاںکہ وہ ہمیشہ وہاں موجُود ہوتے ہیں۔

صحائف ہمیں سِکھاتے ہیں کہ، ”اَب اِیمان اُمِّید کی ہُوئی چیزوں کا اِعتماد اور، اَن دیکھی چیزوں کا ثبُوت ہے۔“ اگرچہ بھٹکانے والی اُلجھنیں اور دُنیاوی آزمایشیں ہماری رُوحانی بصیرت کو دھُندلا دیتی ہیں، مگر جب ہم خُدا اور اُس کے بیٹے، یِسُوع مسِیح پر اِیمان کی مشق کرتے ہیں، تو ہمیں اُن کی حقیقت اور ہمارے واسطے اُن کی فِکر کی واضح یقین دِہانی مِلتی ہے۔

مورمن کی کِتاب میں، لِحی نبی نے ”درخت دیکھا، جس کا پھل ہر کسی کو خُوشی دینے کے لیے پسندیدہ تھا“ اور ”سب سے زیادہ، شیریں تھا۔“ جب اُس نے پھل میں سے کھایا، اُس نے اُس کی جان کو اِنتہائی بڑی شادمانی سے معمُور کِیا، اور وہ تمنّا کرنے لگا کہ اُس کا خاندان بھی اِسے کھائے۔ ہم سیکھتے ہیں کہ یہ درخت ”خُدا کی محبّت“ کی نُمایندگی کرتا ہے، اور لِحی کی مانِند، جب ہم اُسے اپنی زِندگیوں میں مدعُو کرتے ہیں تو ہم بھی خُدا کی مسرُور گواہی پا سکتے ہیں۔

یِسُوع مسِیح ہمارے واسطے آسمانی باپ کی محبّت کا مظہر ہے۔ اُس کی کفّارہ بخش قُربانی کے وسیلے سے، اُس نے ہمارے گُناہ اپنے اُوپر لے لِیے اور ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کِیا گیا۔ اُس نے شخصی طور پر ہماری مُشقتیں اُٹھا لِیں، اور ہمارے غموں کو برداشت کِیا، اور ہمارے دُکھوں اور بیماریوں کو اپنے تئیں اُٹھا لِیا۔ وہ ہمیں مدد دینے کے لیے رُوحُ القُدس بھیجتا ہے، اور رُوح کے پھلوں میں خُوشی، اِطمینان، اور اِیمان شامِل ہیں، جو ہمیں اُمید اور محبّت سے معمُور کرتے ہیں۔

اگرچہ خُدا کی محبّت سب کے لیے قابلِ رسائی ہے، بُہت سے لوگ اِس کی دِلجمعی سے تلاش کرتے ہیں، جب کہ کُچھ خُدا کی محبّت کو محسُوس کرنے کی آرزُو رکھتے ہیں لیکن یہ یقین نہیں رکھتے کہ وہ اِس کے حقدار ہیں۔ کُچھ دُوسرے شِدت سے اِس کو محسُوس کرنے کی کوشِش کر رہے ہیں۔ صحائف اور خُداوند کا نبی ہمیں سِکھاتے ہیں کہ ہم مُسلسل خُدا کی محبّت کا تجربہ کر سکتے ہیں جب ہم، یِسُوع مسِیح کے فضل کے وسیلے سے، ہم بار بار توبہ کرتے ہیں، بےتکلفی سے مُعاف کرتے ہیں، اُس کے حُکموں پر عمل کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں، اور دُوسروں کی بےلوث خِدمت کرتے ہیں۔ ہم خُدا کی محبّت کو محسُوس کرتے ہیں جب ہم اَیسے کام کرتے ہیں جو ہمیں اُس کے قریب لاتے ہیں، جیسے کہ دُعا اور صحائف کے مُطالعہ کے ذریعے روزانہ اُس سے بات کرنا، اور اَیسی چیزیں کرنا بند کرنا جو ہمیں اُس سے دُور کرتی ہیں، جیسے کہ غرُور، جھگڑالو رویہ، اور بغاوت۔

صدر رسل ایم نیلسن نے ہمیں دعوت دی ہے کہ ”مُنّجی کی مدد سے، اپنی زِندگیوں کا پُرانا ملبہ، ہٹائیں“ اور ”کِینہ چھوڑ دیں۔“ اُنھوں نے ہماری حوصلہ اَفزائی کی ہے کہ ”اپنی زِندگیوں کو نجات دہندہ اور اُس کی ہَیکل کی رُسُوم اور عہُود پر مرکُوز“ کر کے ”اپنی رُوحانی بُنیادوں کو تقویت دیں۔“ اُنھوں نے وعدہ کِیا کہ ”جب ہم اپنے ہَیکل کے عہُود پر قائم رہتے ہیں، تو ہمیں خُداوند کی تقوِیت بخش قُدرت تک زیادہ رسائی مُیسر ہوتی ہے۔ … ہم یِسُوع مسِیح اور اپنے آسمانی باپ کی پاکیزہ محبّت کا احساس بڑی کثرت سے پاتے ہیں!“

میرا ایک دوست ہے جسے خُوب صُورت خاندان اور ایک شان دار پیشے کی برکت مِلی ہے۔ یہ صُورتِ حال تب بدل گئی جب ایک بیماری نے اُسے کام کرنے کے قابل نہ چھوڑا، جس کے بعد اُس کی طلاق ہو گئی۔ گُزشتہ سالوں سے حالات مُشکل رہے، مگر اپنے بچّوں سے اُس کی محبّت اور خُدا کے ساتھ باندھے گئے عہُود نے اُس کو سہارا دیا۔ ایک روز اُسے پتہ چلا کہ اُس کی سابقہ شریکِ حیات نے دوبارہ شادی کر لی اور اُس نے اپنی ہَیکل کی مُہربندی کو منسُوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔ وہ پریشانی اور اُلجھن کا شِکار تھا۔ وہ خُداوند کے گھر میں اِطمینان اور سمجھ بُوجھ کا خواہاں ہُوا۔ اُس کی مُلاقات کے ایک دِن بعد، مُجھے اُس کی طرف سے درج ذیل پیغام مِلا:

”گُزشتہ رات ہَیکل میں مُجھے حیرت اَنگیز تجربہ حاصِل ہُوا۔ میرے خیال میں یہ واضح تھا کہ مَیں اَب بھی کافی حد تک رنجیدہ تھا۔ … مَیں جانتا تھا کہ مُجھے بدلنا چاہیے، اور اَیسا کرنے کے لیے مَیں سارا ہفتہ دُعا کرتا رہا ہُوں۔ … ہَیکل میں گُزشتہ رات مَیں نے حقیقتاً محسُوس کِیا کہ رُوح نے میرے دِل سے رنجش کو دُور کِیا۔ … اِس سے آزاد ہونے کی اَیسی راحت محسُوس ہُوئی۔ … مُجھ پر چھایا ہُوا بھاری بوجھ جیسے اُٹھا لِیا گیا ہو۔“

اگرچہ وہ اَبھی تک اپنی مُشکلات کا سامنا کر رہا تھا، میرا دوست خُداوند کے گھر میں اِس تجربے کو عزیز رکھتا ہے، جہاں خُدا کی محبّت کی آزادی کی قُدرت نے اُس کی مدد کی کہ وہ خُدا کے قریب، زِندگی کے بارے میں زیادہ پُراُمید، اور اپنے مُستقبل کے مُتعلق بےچینی کو کم محسوس کرے۔

جب ہم خُدا کی محبّت کا تجربہ کرتے ہیں، تو ہم آسانی سے اپنے بوجھ اُٹھا سکتے ہیں اور صبر اور خُوشی سے اُس کی مرضی کے تابع ہو سکتے ہیں۔ ہمیں اِعتماد ہے کہ خُدا ہمارے ساتھ اپنے عہُود کو یاد رکھے گا، ہماری مُصیبتوں میں ہم سے مُلاقات کرے گا، اور ہمیں غُلامی سے رہائی بخشے گا۔ ہم اُس خُوشی کا بھی تذکرہ کرنے کی خواہش کریں گے جو ہم اپنے خاندان اور پیاروں کے ساتھ محسُوس کرتے ہیں۔ لِحی کے خاندان کی طرح، ہر شخص کو یہ اِنتخاب کرنے کی آزادی حاصِل ہے کہ وہ پھل میں سے کھائے یا نہ کھائے، مگر ہمارا موقع محبّت کرنا، بانٹنا، اور اِس طریقے سے دعوت دینا ہے کہ جن سے ہم پیار کرتے ہیں وہ خُدا کی محبّت کو محسُوس کرتے ہیں۔

خُدا کی محبّت کو محسُوس کرنے میں دُوسروں کی مدد کرنے کے لیے، ہمیں خُود میں مسِیح جیسی صِفات کو پروان چڑھانے کی ضرُورت ہے؛جیسا کہ فروتنی، محبّت، رحم، اور صبر اور خُدا سے محبّت کرنے اور اپنے ساتھیوں سے محبّت کرنے کے دو بڑے حُکموں کی پیروی کرتے ہُوئے دُوسروں کو نجات دہندہ کی طرف مائل کرنے میں مدد کریں۔

ہمارے بیٹوں میں سے ایک کو اپنی نوعُمری کے سالوں میں خُود اِعتمادی اور دُوسروں میں گھُلنے مِلنے میں دُشواری کا سامنا رہا۔ مَیں نے اور میری اہلیہ نے یہ جاننے کے لیے دُعا کی کہ اُس کی مدد کیسے کی جائے، اور ہم وہ سب کرنے کے لیے تیار تھے جو خُداوند ہم سے کروانا چاہتا تھا۔ ایک روز مَیں نے اپنے ایلڈر کورم کی جماعت کے صدر سے ایک سوال پُوچھنے کی ترغیب پائی کہ کیا وہ کسی ضرُورت مند کے بارے میں جانتا ہے جس سے مَیں اپنے بیٹے کے ساتھ مِل کر مُلاقات کر سکُوں۔ کُچھ دیر سوچنے کے بعد، اُس نے ہمیں ایک اَیسی عورت کی عیادت کرنے کو کہا جو سنگین صحت کے مسائل سے دوچار تھی اور، صدرِ برانچ کی اِجازت کے ساتھ، ہر ہفتے اُس کے لیے عِشائے ربّانی لے جانے کا کہا۔ مَیں بُہت خُوش تھا مگر ساتھ ہی فِکرمند بھی تھا کہ میرا بیٹا اِس ہفتہ وار ذِمہ داری پر کیا ردِعمل دے گا۔

ہماری پہلی مُلاقات پر، ہمارے دِل اِس عزیز بہن کے لیے دُکھی ہوُئے، کیوں کہ وہ مُسلسل تکلیف میں تھی۔ وہ عِشائے ربّانی کے لیے بےحد شُکرگُزار تھی، اور ہم اُس کے اور اُس کے شوہر کے ساتھ مُلاقات کرنے سے لُطف اَندوز ہُوئے۔ چند مُلاقاتوں کے بعد، ایک اِتوار کو مَیں گھر سے دُور تھا اور اپنے بیٹے کے ساتھ نہیں جا سکتا تھا مگر مَیں نے اُسے ہماری ذِمہ داری یاد دِلائی۔ جب مَیں گھر پُہنچا، تو مَیں بےصبری سے یہ سُننے کا مُنتظر تھا کہ مُلاقات کیسی رہی۔ میرے بیٹے نے جواب دِیا کہ اُسے نہیں لگتا کہ اُس کے ہم جماعتوں کو اَیسے خاص تجربات کرنے کا موقع مِلتا ہو گا۔ اور اُس نے مزید وضاحت کی کہ وہ اپنے بھائی کو مدد کے لیے اپنے ساتھ لے گیا اور کہ عِشائے ربّانی بخُوبی ادا ہو گئی، مگر یہ پیاری بہن اِس ہفتے کے دوران اُداس تھی کیوں کہ اُس نے دوستوں کو اپنے گھر پر فِلم دیکھنے کے لیے مدعُو کِیا تھا، لیکن اُس کا ویڈیو پلیئر کام نہیں کر رہا تھا۔ میرے بیٹے نے کہا کہ اُس نے آن لائن خرابی کی تحقیق کی، مسئلے کا پتہ لگایا، اور فوراً اُسے ٹھیک کر دِیا۔ اُسے محسُوس ہُوا کہ وہ کُچھ ایسا کرنے کے لیے مُفید، شادمان، اور بھروسا مند ہے جس سے اُس بہن کا دِن روشن ہو گیا۔ اُس نے اپنے واسطے خُدا کی محبّت کو محسُوس کِیا؟

اگر آپ کی بہترین کوشِشوں کے باوجُود زِندگی مُشکلات کا شِکار ہے، اگر آپ محسُوس کریں کہ آپ کی دُعائیں نہیں سُنی گئیں، یا اگر آپ خُدا کی محبّت محسُوس نہیں کر پا رہے، تو براہِ کرم جانیں کہ آپ کی ہر کاوِش اَہم ہے اور، جیسے آسمان پر چمکتے سِتارے یقینی ہیں، ویسے ہی آسمانی باپ اور یِسُوع مسِیح آپ کو جانتے، سُنتے اور پیار کرتے ہیں۔

ایک موقع پر، جب اُس کے شاگِرد کشتی میں سوار تھے اور ”کشتی لہروں [سے] ڈگمگا رہی تھی،“ تو نجات دہندہ پانی پر چل کر اُن کی طرف گیا اور اُنھیں تسلّی دی، یہ کہتے ہُوئے، ”خاطِر جمع رکھو؛ مَیں ہُوں؛ ڈرو مت۔“ جب پطرس نے پانی پر چل کر مُنّجی کی طرف جانا چاہا، تو یِسُوع نے اُسے اِشارہ کرتے ہُوئے کہا، ”آ۔“ اور جب پطرس اپنی توجہ کھو بیٹھا اور ڈوبنے لگا، تو نجات دہندہ نے فوراً ہاتھ بڑھا کر اُسے پکڑ لِیا اور محفُوظ کرنے کے بعد فرمایا، ”اَے کم اِعتقاد، تُو نے کیوں شک کِیا؟“

جب ہمیں زِندگی کی مُشکلات اور چنوتیوں کا سامنا ہو، تو کیا ہم خاطِر جمع رکھنے اور جُرات رکھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں؟ ہم کیسے یاد رکھ سکتے ہیں کہ نجات دہندہ ہم سے کبھی دَستبردار نہیں ہوتا اور کہ وہ ہمارے قریب ہے، شاید اُن طریقوں سے جن کو ہم اَبھی پہچان نہیں پاتے؟ کیا ہم اِیمان کے ساتھ اُس کے پاس جانے کے لیے رضامند ہوتے ہیں، بالخصُوص جب ہمارے سامنے کا راستا نامُمکن لگتا ہو؟ اور کِن طریقوں سے وہ ہمیں اُٹھاتا اور محفُوظ مقام پر لے جاتا ہے جب ہم لڑکھڑاتے ہیں؟ ہم کیسے ہر بات میں شک کِیے اور ڈرے بغیر، اُس پر بھروسا رکھ سکتے ہیں؟

اگر آپ اپنی زِندگی میں خُدا کی محبّت کو زیادہ کثرت سے محسُوس کرنا چاہتے ہیں، تو کیا مَیں آپ کو درج ذیل باتوں پر غور کرنے کی دعوت دے سکتا ہُوں:

  • پہلی، اکثر یہ یاد رکھنے کے لیے رُکیں کہ آپ طِفلِ خُدا ہیں اور اُن چیزوں کے مُتعلق سوچیں جن کے لیے آپ شُکرگُزار ہیں۔

  • دُوسری، روزانہ دُعا کریں، آسمانی باپ سے یہ پُوچھیں کہ وہ آپ کی یہ جاننے میں مدد کرے کہ آپ کے آس پاس کس کو اُس کی محبّت محسُوس کرنے کی ضرُورت ہے۔

  • تیسری، خُلوصِ دِل سے پُوچھیں کہ آپ اُس فرد کی کس طرح مُعاونت کر سکتے ہیں کہ وہ خُدا کی محبّت کو محسُوس کر سکے۔

  • اور چوتھی، آپ جو اِلہام پاتے ہیں اُس پر فوری طور پر عمل کریں۔

اگر ہم مُسلسل دُعا کرتے اور دُوسروں کی جانب سے پُوچھتے ہیں، تو خُدا ہمیں وہ لوگ دِکھائے گا جن کی ہم مدد کر سکتے ہیں۔ اور اگر ہم فوری طور پر عمل کرتے ہیں، تو ہم وہ ذریعہ بن سکتے ہیں جس کے وسیلے سے وہ اُن کی دُعاؤں کا جواب دیتا ہے۔ اَیسا کرنے سے، وقت کے ساتھ، ہم اپنی دُعاؤں کے جواب پائیں گے اور ہم اپنی زِندگیوں میں خُدا کی محبّت کو محسُوس کریں گے۔

ہوائی جہاز کی کھڑکی سے باہر کا منظر۔

چند ماہ قبل ویتنام میں سفر کے دوران، میری بیوی اور مَیں ایک پرواز پر تھے جو شدید طُوفان میں اُڑ گئی۔ شدید جھٹکے لگ رہے تھے، اور سیاہ بادل، مُوسلا دھار بارش، اور چمکتی بجلی ہماری کھڑکی سے دیکھی جا سکتی تھی۔ ایک طویل اور ہچکولے کھاتی پروان کے بعد، ہمارا ہوائی جہاز آخِرکار طُوفانی بادلوں سے اُوپر اُٹھا اور ایک شان دار منظر ہمارے سامنے تھا۔ ہمیں ایک دفعہ پھر اپنے آسمانی باپ اور یِسُوع مسِیح کی یاد آئی اور ہم نے اپنے واسطے اُن کی عظیم محبّت کو محسُوس کِیا۔

عزیز دوستو، بطور وہ شخص جو خُدا کی محبّت کا تجربہ کر چُکا ہے، مَیں بڑی شادمانی سے گواہی دیتا ہُوں کہ مُنّجی یِسُوع مسِیح ہی خُدا کی محبّت ہے۔ ہمارے واسطے اُس کی محبّت کامِل، شخصی، اور اَبَدی ہے۔ جب ہم وفاداری سے اُس کی تقلید کرتے ہیں، تو کاش ہم اُس کی محبّت سے معمُور ہو جائیں اور روشنی کا وہ مِینار بنیں جو دُوسروں کو اُس کی محبّت کی طرف لے جاتا ہے۔ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔