”میری طرف واپس پھرو … تاکہ مَیں تُمھیں شِفا دُوں“
وہ جو واپس لوٹتے ہیں آسمان پر اُن کے لیے خُوشی منائی جاتی ہے۔ آپ کو لوٹنے میں تاخِیر نہیں ہُوئی ہے۔
ہم کبھی عَظِیمُ الشّان درختوں سے گھِرے ہُوئے گھر میں رہتے تھے۔ داخلی دروازے کے ساتھ خُوب صُورت بید کا درخت تھا۔ ایک اُداس شب کو بڑا طُوفان آیا، اور بید کا درخت بڑے شور کے ساتھ نیچے گِر گیا۔ یہ اُکھڑی جڑوں کے ساتھ زمین پر پڑا تھا اور نہایت افسوس ناک منظر تھا۔
مَیں جلانے کی لکڑی کے لیے درخت کو کاٹنے کے لیے برقی آری چالُو کرنے ہی لگا تھا جب ہمارا پڑوسی مُجھے منع کرنے کے لیے دوڑتا ہُوا آیا۔ اُس نے مُجھے درخت سے دستبردار ہونے پر ڈانٹا، اور اُس نے ہم سے اصرار کیا کہ ہم اِس سے چھٹکارا حاصل نہ کریں۔ پھر اُس نے ایک جڑ کی طرف اشارہ کیا جو ابھی تک زمین میں اٹکی ہوئی تھی اور کہا کہ اگر ہم درخت کو سہارا دے کر کھڑا کریں، اِس کی شاخیں تراش دیں، اور اِس کی پرورش کریں، تو جڑیں ایک بار پھر سے زور پکڑ لیں گی۔
مُجھے شکوک و شبہات تھے اور مَیں حیران تھا کہ واضح طور پر گِرا اور مُشکل میں درخت کیسے ممکنہ طور پر بچ اور واپس اُگ سکتا ہے۔ مَیں نے دلیل دی اگر یہ دوبارہ بڑھنا شروع ہو بھی گیا، تو یہ یقیناً اگلے طُوفان سے نہیں بچ پائے گا۔ مگر اپنے پڑوسی کے بھروسے پر یقین کیا کہ درخت پھر سے اُگ آئے گا، اور منصُوبہ پر عمل کیا۔
اور نتیجہ؟ کچھ عرصہ بعد، ہم نے زِندگی کے آثار دیکھے جب درخت نے جڑ پکڑنا شروع کی۔ اب، 12 برس بعد، درخت متحرک اور، مضُبوط جڑوں کے ساتھ زِندگی سے لہلہا رہا ہے، اور پھر سے منظر کی خوبصورتی میں حِصّہ ڈال رہا ہے۔
جب مَیں دُنیا بھر میں مُقدّسین سے مِلتا ہُوں، تو مُجھے اِس بید کے درخت کی یاد آتی ہے اور کیسے ابھی اُمِّید موجود ہے جب سب کُچھ کھویا ہُوا لگتا ہے۔ کُچھ لوگ کبھی اِنجیل کی گواہیاں رکھتے تھے جو بید کی مانند مضبُوط اور متحرک تھے۔ پھر، منفرد ذاتی وجوہات کی بِنا پر، ایمان کھو جانے کی جانب لے جاتے ہُوئے وہ گواہیاں کمزور ہو گئیں۔ دیگر لوگ کمزور ترین جڑوں کے ساتھ اِنجِیل کی مٹی میں اٹکے ہُوئے ہیں۔
ابھِی تک بارہا، مَیں بہت سوں کی کہانیوں سے مُتاثر ہُوا ہُوں جنھوں نے اپنی شاگردی کی تجدید کرنے اور اپنے کلِیسیائی گھر میں لوٹنے کا انتخاب کِیا ہے۔ اپنے ایمان اور عقیدے کو بے کار لکڑی کی طرح جلانے کی بجائے، اُنھوں نے لوٹنے کی محبّت بھری دعوتوں اور رُوحانی تحاریک کا جواب دیا ہے۔
مَیں نے کوریا میں ایک سٹیک کی مجلس میں شرکت کی جہاں ایک لوٹنے والے رُکن نے بتایا: ”میرے ایمان کی کمی اور میری کمزوریوں کو قبُول کرنے، مُجھ تک پہنچنے کے لیے مَیں اَرکان اور بھائیوں کا شُکر ادا کرتا ہُوں جو ہمیشہ مُجھ پر مہربان رہے ہیں۔ میرے آس پاس اور بھِی بُہت سارے دوست ہیں جو غیرفعال ہیں۔ یہ مضحکہ خیز ہے، مگر وہ سب اپنا ایمان واپس پانے کے لیے ایک دُوسرے کو کلِیسیا میں لوٹنے کو کہتے ہیں۔ میرا خیال ہے شاید وہ سب ایمان کی آرزو رکھتے ہیں۔“
اُن سب کو جو ایمان کے آرزو مند ہیں، ہم آپ کو واپس لوٹنے کی دعوت دیتے ہیں۔ مَیں وعدہ کرتا ہُوں آپ کا ایمان تقویت پائے گا جب آپ ایک بار پھر سے مُقدّسین کے ساتھ پرستش کریں گے۔
افریقہ سے ایک سابقہ مُناد نے ایک بزرگ کلِیسیائی راہ نُما کو، اُس کی ایک خاص ثقافتی روایات کے مُتعلق تدریس سے خفا ہونے پر معافی مانگتے ہُوئے لکھا، جو تب اُس کے کلِیسیا چھوڑنے کا سبب بنی تھی۔ اُس نے عاجزی سے وضاحت کی: ”افسوس کے ساتھ، جس وجہ سے مَیں 15 برس قبل ناراض ہُوا تھا اُس کی مُجھے بڑی بھاری قیمت چُکانی پڑی ہے۔ مَیں نے بُہت کُچھ کھویا—اُس سے کہیں زیادہ جس کا مَیں کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا ہُوں۔ اِس دوران کیے گئے نُقصان پر مُجھے ندامت ہے جس کا مَیں سبب بنا ہُوں، مگر اُس سب سے بڑھ کر، مُجھے خُوشی ہے کہ مَیں نے واپسی کی راہ پا لی ہے۔“
اُن سب کو جو قبُول کرتے ہیں کہ آپ نے کُچھ کھویا ہے، ہم آپ کو واپس لوٹنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ آپ ایک بار پھر سے اِنجِیل کے مسرت بھرے پھل کا ذائقہ چکھ سکیں۔
ریاست ہائے متحدہ سے ایک بہن جو کئی برسوں تک کلِیسیا سے دور چلی گئی تھی۔ اُس کی واپسی کی کہانی میں والدین اور افرادِ خانہ کے لیے قوی اسباق شامل ہیں جو اپنے پیاروں کے دور جانے پر کَرب میں مُبتلا ہیں۔ اُس نے لکھا:
”مَیں کلِیسیا، اِنجِیل، اور ایک طرح سے اپنے خاندان سے کیوں دور چلی گئی، اِس کی صد ہزار وجوہات تحریر کر سکتی ہُوں۔ مگر وہ واقعی بے وقعت ہیں۔ مَیں نے کلِیسیا کو چھوڑنے کا کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا—مَیں نے شاید ہزاروں انتخابات کیے۔ مگر ایک بات جو مَیں سدا جانتی تھی وہ یہ ہے کہ میرے والدین نے ایک بڑا فیصلہ کِیا، اور وہ اِس پر ڈٹے رہے۔ اُنھوں نے مُجھ سے محبّت کرنے کا فیصلہ کِیا۔
”مَیں شاید کبھی نہ جان سکوں کہ میری خاطر کتنے آنسو بہائے گئے ہیں، کتنی بے خواب راتیں گزاری گئی ہیں اور کتنے دِل سوز دُعائیہ کلمات ادا کیے گئے ہیں۔ اُنھوں نے میرے گناہوں پر مُجھے نشانہِ تنقید نہیں بنایا؛ بلکہ، اُنھوں نے میری گناہ گاری میں مُجھے سہارا دیا۔ اُنھوں نے مُجھے اپنے گھر اور خاندانی اجتماعات میں نا پسندیدہ محسُوس نہیں ہونے دیا؛ ایسے کوئی بھی احساسات میرے اپنے کاموں کی بدولت تھے۔ اِس کی بجائے، وہ میرا خیر مقدم کرتے رہے۔ اُنھوں نے لازماً میرے جوش و ولولہ میں تنزلی دیکھی ہو گی۔ مگر وہ جانتے تھے کہ اُس وقت مَیں جیسی شخصیت تھی وہ صرف اُس کی پرچھائی تھی جو مُجھے بننا تھا۔
”جیسے کلِیسیا سے دُور ہونے کی میری راہ نہایت پیچیدہ تھی، ویسی ہی میری واپسی بھی۔ مگر ایک بات جو واپس آنے میں مُشکل نہ تھی وہ گھر لوٹنے کی خُوشی تھی جہاں سے میرا تعلق تھا۔
آج میرا پیغام خاص اُن سب کے لیے ہے جنھوں نے کبھی رُوح کو محسُوس کِیا مگر سوال اُٹھایا کہ آپ کے لیے واپسی کی راہ یا یِسُوع مسِیح کی بحال شُدّہ کلِیسیا میں کوئی جگہ موجود ہے۔ یہ بات ہر اُس فرد کے لیے بھی ہے جو بمُشکل اٹكا ہُوا ہے یا دُور جانے کی آزمایش میں مُبتلا ہے۔
یہ پیغام کوئی چنوتی نہیں ہے، اور نہ ہی مذمت۔ یہ محبّت اور خلوصِ نیت سے آپ کو آپ کے رُوحانی گھر میں واپس خُوش آمدید کہنے کی دعوت ہے۔
مَیں نے دُعا کی ہے کہ آپ رُوحُ القُدس کی شہادت کو محسُوس کریں جب آپ ہمارے مُنّجی، یِسُوع مسِیح سے ابھی اِس محبّت بھری دعوت اور شاندار وعدہ کو سُنیں۔
”کیا تُم اب میری طرف واپس نہ پِھرو گے، اور اپنے گُناہوں سے تَوبہ کرو گے، اور رُجُوع لاؤ گے، تاکہ مَیں تُمھیں شِفا دُوں؟“
ہر ہفتہ بُہت سے لوگ شاگردی اور کلِیسیائی سرگرمی میں لوٹتے ہُوئے مُنّجی کی دعوت کا جواب دے رہے ہیں، خاموشی اور فروتنی سے اُس شِفا کے خواہاں ہوتے ہُوئے جو یِسُوع نے وعدہ کی ہے۔ اور اُن بیانیوں کے برعکس جو بعض اوقات پھِیلائے جاتے ہیں، ہمارے نوجوان لوگوں کی کثیر تعداد مضبُوط رہنے اور یِسُوع مسِیح پر اپنے ایمان کو بڑھانے کا انتخاب کر رہی ہے۔
جب کفر نحُوم میں یِسُوع کے پیروکاروں میں سے کُچھ نے اُس کی تعلیمات کو سخت جانا اور اُس کو چھوڑنا مُنتخب کِیا، وہ اپنے رَسُولوں کی طرف مُڑا اور پُوچھا، ”کیا تُم بھی چلے جانا چاہتے ہو؟“
یہ وہ سوال ہے جس کا ہم میں سے ہر ایک کو جواب دینا چاہیے جب ہم اپنی ذاتی چنوتیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ پطرس کا یِسُوع کو جواب لازوال اور شاندار ہے: ”اَے خُداوند، ہم کس کے پاس جائیں؟ ہمیشہ کی زِندگی کی باتیں تو تیرے ہی پاس ہیں۔“
لہٰذا جیسے آپ مُنّجی کی اُس کے پاس واپس لوٹنے کی دعوت پر غور کرتے ہیں، آپ بید کے درخت کی کہانی سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
-
اکثر واپسی کا سفر آسان اور آرام دہ نہیں ہوتا، مگر یہ قابلِ قدر ہے۔ جب ہمارا بید کا درخت واپس کھڑا کِیا گیا، اُس کی تمام شاخیں کاٹ دی گئی تھیں۔ یہ خُوب صُورت نہیں تھا۔ جب ہم اپنی پُرانی روشوں کو ترک کرتے اور تکبر سے محرُوم ہوتے ہیں تو ہم بھی کمزور محسُوس کر سکتے ہیں۔ اپنے اِیمان کو یِسُوع مسِیح اور اُس کی اِنجِیل پر مرتکز کرنے سے—تنا اور جڑیں—آپ کو پہلا قدم اُٹھانے میں اُمِّید اور حوصلہ فراہم کریں گے۔
-
ہمارے بید کے درخت کو اپنی سابقہ طاقت اور خُوب صُورتی واپس پانے میں کئی برس لگے۔ اب یہ پہلے سے زیادہ مضبُوط اور خُوب صُورت ہے۔ جب آپ کا ایمان اور گواہی بھی فروغ پائیں تو تحمل سے کام لیں۔ اِس میں بلا سوچے سمجھے تبصرے بھی شامل ہیں جیسے :”تُم اتنے سالوں سے کہاں تھے؟“
-
بید کا درخت مسلسل حفاظت اور غذا کے بغِیر بچ نہ پاتا۔ آپ اپنے ایمان اور اپنی گواہی کی پرورش کریں گے جب آپ ہر ہفتہ عِشائے زبانی کی میز پر ضیافت کرتے اور جب آپ خُداوند کے گھر میں پرستش کرتے ہیں۔
-
جیسے بید کے درخت کو پھر سے اُگنے کے لیے اُس کی شاخوں اور پتّوں کو دھوپ کی ضرورت تھی، آپ کی گواہی بھی فروغ پائے گی جب آپ رُوح کی شہادت اور احساسات سے حساس رہیں گے۔ ایمولک سے سیکھیں، جس نے اپنے وقت کو کم فعال رُکن کے طور پر یوں بیان کِیا، ”مُجھے کئی مرتبہ بُلایا گیا اور مَیں نے نہ سُنا۔“
-
میرا پڑوسی جانتا تھا کہ بید پھر سے کیا بن سکتا تھا۔ پس ویسے ہی خُداوند آپ کے الہٰی امکان کو جانتا ہے کہ آپ کا ایمان اور آپ کی گواہی کیا بن سکتے ہیں۔ وہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔ یِسُوع مسِیح کے کفّارے کے وسیلے سے، وہ سب جو مسمار ہو چُکا ہے پھر سے بحال ہو سکتا ہے۔
مَیں گواہی دیتا ہُوں كہ وہ جو واپس لوٹتے ہیں آسمان پر اُن کے لیے خُوشی منائی جاتی ہے۔ آپ کی ضرورت ہے، اور آپ سے پیار کِیا جاتا ہے۔ مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ یِسُوع مسِیح ہمارا نجات دہندہ ہے اور وہ اُن تمام کو بڑے اِطمینان اور بڑی خُوشی سے فیض یاب کرتا ہے جو اُس کے پاس واپس لوٹتے ہیں۔ اُس کے رحم کے بازو بندھے نہیں بلکہ کھُلے اور آپ کی طرف بڑھے ہُوئے ہیں۔ آپ کو لوٹنے میں تاخِیر نہیں ہُوئی ہے۔ دِل کی اتھاہ گہرائیوں سے، ہم آپ کو گھر واپسی پر خُوش آمدید کہتے ہیں۔ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔