اُس میں رُوحانی شِفا
رُوحانی شِفا یابی کا مطلب ضروری نہیں اِس زندگی میں جسمانی اور جذباتی بحالی حاصل ہو۔ رُوحانی شِفا یابی یِسُوع مسِیح پر اِیمان اور اُس کی جانب رجُوع لانے میں ہے۔
دس کوڑھیوں نے نجات دہندہ کو پُکارا، ”ہم پر رحم کر۔“ اور یسُوع مسِیح نے رحم کِیا۔ اُس نے اُنھیں کہا اپنے تئِیں کاہِنوں کو دِکھاؤ، اور اَیسا ہُوا کہ وہ جاتے ہی، بیماری سے پاک صاف ہو گئے۔
پِھر اُن میں سے ایک نے، جب یہ دیکھا کہ وہ شِفا پا گیا، بُلند آواز سے خُدا کی تمجِید کرنے لگا۔ وہ نجات دہندہ کے پاس لَوٹا، اُس کے پاؤں پر گِرا، اور اُس کا شُکر کرنے لگا۔
اور نجات دہندہ نے اُس سے جو شُکر گُزار تھا کہا، ”تیرے اِیمان نے تُجھے اچھّا کر دِیا۔“
یسُوع مسِیح نے دس کوڑھیوں کو شِفا بخشی تھی۔ لیکن ایک، جو نجات دہندہ کے پاس واپس لَوٹ کر آیا، اُس نے کُچھ اور بھی پایا۔ اُس نے رُوحانی شِفا پائی۔
نو کوڑھیوں نے جسمانی شِفا پائی تھی۔
اُس ایک نے جسمانی شِفا اور رُوحانی شِفا بھی پائی۔
اِس کہانی پر غور کرتے ہُوئے، مَیں سوچتی رہی کہ کیا یہ بات سچّ ہے۔ اگر جِسمانی شِفا اور رُوحانی شِفا ایک جیسی نہیں ہیں، تو کیا کسی شخص کو اُس کے وسیلے سے رُوحانی شِفا مِل سکتی ہے، البتہ وہ جسمانی اور جذباتی طور پر ابھی تک شِفا یاب نہیں ہُوا؟
شِفا کا مالِک اپنے وقت پر ہماری تمام—جسمانی اور جذباتی—تکلیفوں کو ٹھیک کرے گا۔ لیکن جِسمانی شِفا پانے کے اِنتظار میں، کیا کوئی رُوحانی شِفا پا سکتا ہے؟
رُوحانی شِفا پائے جانے سے کیا مُراد ہے؟
جب ہم یِسُوع مسِیح میں رُوحانی شِفا پاتے ہیں تو ہم اپنے اِیمان پر عمل کر کے اپنی مرضی سے اُس کی پیروی کرتے ہیں، اپنے دِلوں کو اُس کے سپُرد کرتے ہیں تاکہ وہ اُنھیں تبدیل کرے، اُس کے حُکم مانتے، اور اُس کے ساتھ عہد کے رشتے میں داخل ہوتے ہیں، فروتنی سے برداشت کرتے اور اِس دُنیا کی پریشانیوں سے سیکھتے ہیں جب تک کہ ہم اُس کے پاس واپس لَوٹتے اور ہر طرح سے شِفا پاتے ہیں۔ اگر مَیں پُورے دِل سے اُس کے ساتھ اپنے تعلقات اُستوار کرُوں، تو مَیں جِسمانی شِفایابی کا انتظار کرتے ہُوئے، رُوحانی شِفایابی بھی پا سکتی ہُوں۔
یِسُوع مسِیح پر اِیمان سے اُمید پیدا ہوتی ہے۔ مُجھے رُوحانی شِفا پائے جانے کی کاوِش میں اُمید مِلتی ہے—اور رُوحانی شِفا یِسُوع مسِیح پر اِیمان سے پَیدا ہوتی ہے۔ اُس پر اِیمان جِسمانی شِفایابی کے لیے میری اُمید کو بڑھاتا ہے، اور یہ اُمید یِسُوع مسِیح پر میرے اِیمان کو مزید تقویت بخشتی ہے۔ یہ زبردست سِلسِلہ ہے۔
خُداوند نے اَنوس کو کہا اُس کے اِیمان نے اُسے رُوحانی طور پر ”اچھّا“ کِیا ہے۔ رُوحانی شِفا آئی کیوں کہ اَنوس نے اپنے نبی باپ یعقوب کے کلام پر غور کِیا، کیوں کہ اُسے ہمیشہ کی زندگی کو سمجھنے کی طلب تھی، کیوں کہ اُس نے زبردست دُعا میں خُدا سے فریاد کی تھی۔ پھر اُس خواہش اور عاجزی کی حالت میں، اُس کے گُناہوں کی مُعافی کے فرمان سے، خُداوند کی آواز اُسے سُنائی دی۔ پھر اَنوس نے خُداوند سے کہا، ”یہ کیوں کر ہُوا؟“ اور خُداوند نے فرمایا، ”مسِیح پر تیرے اِیمان نے، … تُجھے اچھّا کر دِیا ہے۔“
مسِیح پر اپنے اِیمان کے سبب سے، ہم رُوحانی شِفا پانے کی تلاش میں رہتے ہیں جب کہ ہم جسمانی اور جذباتی شِفایابی کا اِنتظار اور اُمید کرتے ہیں۔
اُس کی کفّارہ بخش قُربانی کے باعث، جب ہم سچّے دِل سے توبہ کرتے ہیں، تو نجات دہندہ ہمیں گُناہ سے شِفا بخشتا ہے، جیسے اُس نے اَنوس کو شِفا بخشی۔ اُس کا لامحدُود کفّارہ ہمارے غموں اور دُکھوں کے لیے بھی ہے۔
لیکن وہ شاید دیرینہ درد، قوتِ مدافعت کی خرابی جیسے متعدد امراضِ عصبہ، کینسر، اِضطراب، ڈپریشن، اور اِس طرح کی دیگر—بیماریوں سے شفا یابی عطا نہ کرے۔ اَیسی شِفا یابی خُداوند کے مُقررہ وقت پر عطا ہوتی ہے۔ اور اِس دوران میں، ہم اُس پر اپنے اِیمان پر عمل کرنے سے کامِل ہونے کا اِنتخاب کرسکتے ہیں!
رُوحانی شِفا پانے سے مُراد ہے مُکمل اور پُورا ہونا۔ بالکل پانچ عقل مند کنواریوں کی مانِند جب دُولہا آیا تو وہ تیل سے بھری کُپیاں اپنے ساتھ لائیں، جب اُس میں تبدیل ہونے کے غذائیت بخش تیل سے ہم اپنی کُپیوں کو بھرتے ہیں تو ہم بھی یِسُوع مسِیح میں رُوحانی شِفا پا سکتے ہیں۔ اُس طرح، ہم علامتی شادی کی دعوت، یعنی اُس کی دُوسری آمد کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
تمثیل میں، تمام دس کنواریاں صحیح جگہ پر، دُولہا کا اِنتظار کر رہی تھیں۔ اُن میں سے ہر ایک تیل کی کُپی ساتھ لے کر آئی۔
لیکن جب وہ، آدھی رات غیر متوقع گھڑی میں آ گیا، تو پانچ بے وقوفوں کی کُپیوں میں تیل کافی نہ رہا۔ وہ بدکردار نہیں تھیں، بلکہ بے وقوف بیان کی گئیں۔ بے وقوف اپنی مشعلیں جلانے کے لیے رجُوع لانے کے تیل سے مناسب تیاری کرنے میں ناکام رہیں۔
اور یُوں، شادی کی دعوت میں داخل ہونے کے لیے اُن کی درخواست کی اِجازت کے جواب میں، دُولہے نے جواب دِیا، ”تُم مُجھے نہیں جانتیں۔“
اِس کا مطلب ہے، کہ، وہ پانچ عقل مند کنواریاں اُسے جانتی تھیں۔ وہ اُس میں رُوحانی طور پر شِفایاب تھیں۔
اُن کی مشعلیں رجُوع لانے کے بیش قیمت تیل سے بھری ہُوئی تھیں جس سے عقل مند کنواریاں دُولہے کے دائیں جانب شادی کی ضیافت میں داخل ہو پائیں تھیں۔
جیسا کہ نجات دہندہ نے فرمایا ہے، ”وفا دار رہو، ہمیشہ دُعا کرتے رہو، اپنی مشعلیں دُرست اور روشن، اور اپنے ساتھ تیل رکھو، تاکہ دُولہے کی آمد کے وقت تُم تیار رہو۔“
پانچ عقل مند کنواریاں، اَز بین ہیمنڈ
حال ہی میں ہیکل کے احاطہ کے عین باہر اَنجمنِ خواتین کی عمارت اور سالٹ لیک ہیکل کے سایہ میں پانچ عقل مند کنواریوں کی تصویر کشی کا شان دار مجسمہ رکھا گیا۔
اِس تمثیل کے لیے یہ موزوں جگہ کا اطلاق ہے۔ کیوں کہ جب ہم عہُود باندھتے اور اُن کی پاسداری کرتے ہیں، خاص طور پر جو خُداوند کے گھر میں دست یاب ہیں، تو ہم اپنی مشعلوں کو رجُوع لانے کے تیل سے بھرتے ہیں۔
جب کہ پانچ عقل مند کنواریوں کی نمایندہ خواتین رجُوع لانے کے اپنے تیل کو نہیں بانٹتیں، وہ اپنی روشنی بانٹتی ہیں کیوں کہ وہ اپنی مشعلوں کو تھامے ہُوئے ہیں جو تیل سے بھری ہُوئی اور روشن جل رہی ہیں۔ بالخصوص اُنھیں ایک دُوسرے کا ساتھ دیتے ہُوئے دِکھایا گیا ہے—کندھے سے کندھا ملائے، ایک دُوسرے کے گِرد بازو، آنکھوں سے رابطہ سے اور دُوسروں کو روشنی میں آنے کا اِشارہ کرتی ہیں۔
درحقیقت، ”[ہم] دُنیا کے نُور ہیں۔“ نجات دہندہ نے فرمایا:
”مَیں تُمھیں بخشتا ہُوں کہ تُم اِن لوگوں کے لیے نُور بنو۔ جو شہر پہاڑ پر بسا ہے چُھپ نہیں سکتا۔
”… [کیا ہم] چراغ جلا کر پیمانہ کے نیچے رکھتے ہیں؟ نہیں، بلکہ چراغ دان کے اُوپر رکھتے ہیں، اور اِس سے اُن سب کو جو گھر میں ہیں روشنی پُہنچتی ہے؛
”پَس اپنی روشنی اِن لوگوں کے سامنے چمکنے دو، تاکہ وہ تُمھارے نیک کاموں کو دیکھیں اور تُمھارے باپ کی [جو] آسمان پر ہے تمجید کریں۔“
ہمیں اُس کا نُور پھیلانے کا حُکم دِیا گیا ہے۔ پَس اپنی کُپیوں کو یِسُوع مسِیح کی جانب رجُوع لانے کے تیل سے بھری رکھو اور اپنی مشعلوں کو درست اور روشنی سے جلانے کے لیے تیار رہو۔ پھر اُس نُور کو چمکنے دو۔ جب ہم اپنی روشنی کو پھیلاتے ہیں، تو ہم دُوسروں تک یِسُوع مسِیح کا آرام پُہنچاتے ہیں، اُس کی جانب ہمارا رجُوع لانا تقویت پاتا ہے، اور حتیٰ کہ ہم جِسمانی شِفا یابی کا اِنتظار کرتے ہُوئے رُوحانی شِفا پاتے ہیں۔ اور جب ہم اپنے نُور کو چمکنے دیتے ہیں، تو ہم اِنتظار کرتے بھی خُوش رہتے ہیں۔
صحیفائی مثال اِس اُصول کو تقویت دینے میں کارآمد ہے کہ جب ہم یِسُوع مسِیح میں تبدیل ہوتے ہیں تو ہم رُوحانی شِفا پا سکتے ہیں اور اُس سے قوت پاتے ہیں، حتیٰ کہ جب ہم جِسمانی شِفا یابی کا اِنتظار کرتے ہیں۔
پولُس رسول کو کسی قسم کی تکلیف تھی جس کو اُس نے ”جسم میں کانٹے،“ کے طور پر بیان کِیا جسے دُور کرنے کے لیے اُس نے تین بار خُداوند سے کہا تھا۔ مگر خُداوند نے پولُس سے کہا، ”میرا فضل تیرے لیے کافی ہے: کیوں کہ میری قُدرت کمزوری میں پُوری ہوتی ہے۔“ جس کی پولُس نے مُنادی کی:
پَس مَیں بڑی خُوشی سے اپنی … کمزوریوں پر فخر کرُوں گا، تاکہ مسِیح کی قُدرت مُجھ پر چھائی رہے۔
”اِس لیے مَیں مسِیح کی خاطر، … بڑی خُوشی سے اپنی کمزوریوں پر فخر کرتا ہُوں: کیوں کہ جب مَیں کمزور ہوتا ہُوں اُسی وقت زور آور ہوتا ہُوں۔“
پولُس کی مثال بتاتی ہے کہ ہم کمزوری میں بھی، یِسُوع مسِیح میں اپنی قُوت کو کامِل بنا سکتے ہیں—یعنی مُکمل اور پُوری۔ جو لوگ فانی مُشکلات سے لڑ رہے ہیں، اور پولُس کی طرح اِیمان کے ساتھ خُدا کی طرف رجُوع کرتے ہیں، وہ خُدا سے آشنائی کی برکات سے نوازے جاتے ہیں۔
پولُس نے اپنی تکلیف سے شِفا نہ پائی، بلکہ اُس نے یِسُوع مسِیح میں رُوحانی شِفا پائی۔ اور حتیٰ کہ اپنی تکلیف میں بھی، یِسُوع مسِیح سے قُوت اور اُس کی تبدیلی کی روشنی چمکتی تھی اور وہ خُوش رہتا تھا۔ فِلپیوں کے نام اپنے خط میں اُس نے لکھا، ”خُداوند میں ہر وقت خُوش رہو: اور مَیں پھر کہتا ہُوں، خُوش رہو۔“
بہنو اور بھائیو، جواب ہاں ہے، ہم رُوحانی شِفا پا سکتے ہیں، حتیٰ کہ جب ہم جسمانی اور جذباتی شِفایابی کا اِنتظار کرتے ہیں۔ رُوحانی شِفا یابی کا مطلب ضروری نہیں اِس زندگی میں جسمانی اور جذباتی بحالی ہے۔ رُوحانی شِفا یابی یِسُوع مسِیح پر اِیمان لانے اور اُس میں تبدیل ہونے اور اُس تبدیلی کی روشنی کو چمکانے میں ہے۔
”کیوں کہ بُلائے ہُوئے بُہت ہیں، مگر برگُزِیدہ [بننے کا انتخاب کرنے والے] تھوڑے۔“
یومِ آخر میں سب جسمانی اور جذباتی شِفا پائیں گے۔ لیکن اَبھی آپ اُس میں شِفا یابی پانے کو چُنیں گے؟
مَیں خُوشی سے، اعلان کرتی ہُوں، کہ مَیں خُداوند یِسُوع مسِیح میں تبدیل ہو گئی ہُوں۔ مَیں اُس میں رُوحانی شِفا پانے کی کوشش کرتی ہُوں۔ مُجھے یقین ہے کہ سب چیزیں اُس کے وقت پر، بحال ہوں گی اور شِفا یاب ہوں گی، کیوں کہ وہ زِندہ ہے۔
مریم مگدلینی وہ خاتون تھی جس نے یِسُوع مسِیح کے وسیلے سے شِفا پائی۔ اُس خاتون نے یِسُوع مسِیح میں رُوحانی شِفا پائی۔ اُس کی شاگرد ہوتے ہُوئے، وہ سارے گلیل میں اُس کی پیروی اور خدمت کرتی رہی۔
وہ اُس کی صلیب کے پاس، اُس کی موت کی گواہ موجُود تھی۔
وہ اُس کی تدفین کی تیاریوں کو مُکمل کرنے کے لیے اُس کی قبر پر گئی اور دریافت کِیا کہ قبر کے پتھر کو ہٹا دِیا گیا تھا، کہ خُداوند کی میّت غائب تھی۔ مریم قبر پر رو رہی تھی جب پہلے فرشتہ اور پھر نجات دہندہ نے خُود اُسے پُوچھا، ”اَے عَورت، تُو کیوں روتی ہے؟ تُو کس کو ڈُھونڈتی ہے؟“
مریم روئی، ”وہ میرے خُداوند کو اُٹھا لے گئے ہیں اور مُجھے معلوم نہیں کہ اُسے کہاں رکھا ہے۔“
پھر یِسُوع نے نرمی سے اُسے نام لے کر بُلایا، ”مریم۔“ اور اُس نے اُسے پہچانا اور احترام سے کہا، ”ربُّونی … یعنی اَے اُستاد۔“
نجات دہندہ کی پیشین گوئی کرتے، یسعیاہ نے کہا، ”وہ مَوت کو ہمیشہ کے لیے نابُود کرے گا؛ اور خُداوند خُدا سب کے چِہروں سے آنسُو پونچھ ڈالے گا۔“
اُس کے جی اُٹھنے سے مریم کے آنسُو پونچھ ڈالے گئے۔ بے شک وہ آپ کے آنسُو بھی پونچھے گا۔
مریم نجات دہندہ کے جی اُٹھنے کی پہلی گواہ تھی۔ اور جو کُچھ اُس نے دیکھا تھا دُوسروں کو گواہی دینے والی پہلی تھی۔
مَیں فروتنی سے اپنی گواہی کو مریم کی گواہی کے ساتھ شامِل کرتی ہُوں۔ وہ جی اُٹھا ہے۔ یِسُوع مسِیح زِندہ ہے۔ بالآخر، سب اُس میں، جسمانی اور جذباتی طور پر شفا پا جائیں گے۔ اور اُس شِفا یابی کے اِنتظار میں، شِفا کے مالِک پر اِیمان سے ہم رُوحانی شِفا پائیں گے یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔