عِوَضی برکات
اگرچہ زِندگی میں بُہت سے حالات ہماری گِرِفت سے باہر ہوں گے، ہم میں سے کوئی بھی خُداوند کی لامحدُود برکات کی پہنچ سے دُور نہیں ہے۔
صدارتی مجلسِ بشپ میں خِدمت کرتے ہُوئے، مُجھے دُنیا بھر کے مُختلِف مقامات اور تہذیبوں میں مُقدّسینِ آخری اَیّام سے مُلاقات کرنے کا شرف حاصل ہُوا ہے۔ مَیں خُداوند یِسُوع مسِیح سے آپ کی عَقِیدت اور مُستحکم اِیمان سے ہَمہ وقت متاثر ہُوا ہُوں۔ تاہم مَیں اُن انواع و اقسام اور اکثر کٹھن حالات سے بھی متاثر ہُوا ہُوں جِن کا سامنا آپ میں سے بُہت سے کرتے ہیں—مُشکلات جیسے کہ بیماری، معذوری، محدود وسائل، شادی یا تعلِیم کے لیے چند ایک مواقع، دُوسروں کی زیادتی، اور دیگر پابندیاں یا بندشیں۔ بعض اوقات، یہ آزمایشیں آپ کی ترقی میں رکاوٹ بنتی اور اِنجِیل پر کُلی طور پر عمل پیرا ہونے کی کاوشوں کو للکارتی ہُوئی لگتی ہیں، خِدمت، پرستش، اور مُقدّس فرائض کو نبھانا مزید دُشوار بناتی ہیں۔
میرے عزیز دوستو، اگر آپ کبھی بھی اپنی زِندگی کے حالات سے خُود کو محدود یا محرُوم محسُوس کریں، مَیں آپ کو باور کرانا چاہتا ہُوں: خُداوند آپ سے ذاتی طور پر پیار کرتا ہے۔ وُہ آپ کے حالات سے واقِف ہے، اور اُن چنوتیوں سے قطع نظر جِن کا آپ سامنا کرتے ہیں اُس کی نِعمتوں کے دروازے آپ کے لیے سدا کُھلے ہیں۔
مَیں نے یہ حقِیقت ذاتی تجربہ سے جانی ہے جو، اگرچہ بظاہراً غیر معمُولی تھا، مُجھ پر دیرپا چھاپ چھوڑ گیا۔ 22 سال کی عُمر میں، پیرس میں فرانسیسی فضائیہ میں خِدمت کے دوران، مَیں یہ جان کر نہایت خُوش تھا کہ ایلڈر نیل اے میکس ویل، خُداوند کے رسُول، شانزلیزے میں مجلِس سے خطاب فرمائیں گے۔ بہرکیف، تقریب سے ذرا پہلے، ٹھیک اُسی وقت جب مجلِس کا آغاز ہونا تھا مَیں نے ایک سنئیر آفیسر کو ہوائی اڈا پر لے جانے کے احکام پائے۔
مَیں مایُوس ہُوا۔ مگر شرکت کرنے کے لیے پُرعزم، مَیں نے اُس آفیسر کو وہاں اُتارا اور مجلِس کی طرف دوڑا۔ پارکنگ کی جگہ پانے کے بعد، مَیں شانزلیزے مَیں مجلِس کے مقام کی طرف تیزی سے بھاگا اور پھولی ہُوئی سانس کے ساتھ اجلاس ختم ہونے سے صِرف پانچ منٹ قبل وہاں پہنچا۔ جب مَیں اندر داخل ہُوا، تو مَیں نے ایلڈر میکس ویل کو یہ کہتے سُنا، ”اب مَیں آپ کو اپنی رسُولی برکت دیتا ہُوں۔“ اُسی لمحے میں، مجھے ایک خوبصورت، ناقابلِ فراموش رُوحانی تجربہ حاصل ہُوا۔ مَیں رُوحُ سے مغلُوب ہو گیا اور برکت کے اَلفاظ میرے روم روم میں سرایّت کرتے ہُوئے محسُوس ہُوئے، جیسے وُہ صِرف میرے ہی لیے کہے گئے ہوں۔
اُس دِن میں نے جو تجربہ کِیا وہ اپنے بچّوں کے لیے خُدا کے منصوبے کے تسلی بخش پہلو کا ایک چھوٹا لیکن طاقتور مظہر تھا: جب ہماری گِرِفت سے باہر حالات ہمیں ہمارے دِلوں کی راست خواہشات کی تکمِیل سے باز رکھتے ہیں، تو خُداوند ایسے طریقوں سے تلافی کرے گا جو ہمیں اُس کی وعدہ شُدہ برکات پانے کی اجازت دیں گے۔
یہ اِطمِینان بخش سچّائی بحال شُدہ اِنجِیل کے تین کلیدی اُصُولوں پر مبنی ہے:
-
خُدا ہم میں سے ہر ایک کو کامل طور پر پیار کرتا ہے۔ ”وُہ [ہم] سب کو اپنے پاس آنے اور اپنی نیکیوں میں شریک ہونے کی دعوت دیتا ہے۔“ اُس کا نظامِ کفّارہ یقینی بناتا ہے کہ ہر کوئی، بِلا اِستثنا، ایک روز نجات و سرفرازی کی برکات پانے کا موقع پائے گا۔
-
کیوں کہ خُدا دونوں مُنصف اور رحیم ہے اور اُس کا منصُوبہ کامل ہے، وہ ہمیں ہماری گِرِفت سے باہر کاموں کے لیے جواب دہ نہیں ٹھہرائے گا۔ ایلڈر نیل اے میکس ویل نے وضاحت کی کہ ”خُدا … نہ صِرف ہماری خواہشات اور ہماری کارکردگی، بلکہ مُشکلات کے درجات کو بھی مدِنظر رکھتا ہے جو ہمارے مُختلِف حالات ہم پر مُسلِّط کرتے ہیں۔“
-
یِسُوع مسِیح اور اُس کے کفارہ کے وسِیلہ سے، ہم زِندگی کے تمام مسائل کو برداشت کرنے اور آخرکار غالِب آنے کی قُوت پائیں گے۔ جیسے ایلما نے سِکھایا، مُنجّی نے نہ صِرف تائب کے گناہُوں بلکہ ”اپنے لوگوں کے دُکھوں اور بیماریوں“ اور ”اُن کی کم زوریوں“ کو بھی اپنے تئیں اُٹھا لیا۔ لہذا، ہمیں ہماری غلطیوں سے کفّارہ بخشنے کے علاوہ، خُداوند کا رحم اور فضل ہمیں ہمارے فانی تجربات کی بدولت ہم پر مُسلِّط ہونے والی نااِنصافیوں، خامیوں، اور بندشوں میں بھی سہارا دیتا ہے۔
اِن عِوَضی برکات کا حصُول چند شرائط پر منحصر ہوتا ہے۔ خُداوند ہمیں ”ہم جو سب کر سکتے ہیں“ کرنے اور، ”اپنے ہدیے کے طور پر اُس کے حضُور [اپنی] ساری جان نذر“ کرنے کو کہتا ہے۔ اُس کے احکام کی بجا آوری کرنے اور اپنی مرضی اُس کے تابع کرنے کے لیے یہ گہری خواہش، مُخلص اور وفادار دِل، اور حتی الامکان جانفشانی کا تقاضا کرتا ہے۔
جب ہماری سنجیدہ کاوشیں ہمارے قابو سے باہر حالات کی بدولت ہماری خواہشات کے لیے ناکافی ہوتی ہیں، تب بھی خُداوند ہمارے دِلوں کی خواہشات کو ایک لائق نذرانے کے طور پر قبول کر سکتا ہے۔ صدر ڈیلن ایچ اوکس نے سِکھایا، ”ہم اپنے دِلوں کی راست خواہشات کے لیے برکت پائیں گے حتٰی کہ جب کُچھ خارجی حالات نے یہ ناممکن بنا دیا ہو کہ ہم اُن خواہشات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔“
جیسے نبی جوزف سمِتھ اپنے بھائی ایلون کے متعلق فکر مند تھا، جو اِنجِیل کی لازمی رُسُومات کو پائے بغیر وفات پا گیا تھا، اُس نے یہ تسلی بخش مُکاشفہ پایا: ”وُہ بھی جو اَب سے لے کر اِس کے عِلم کے بغیر مر جائیں گے، جِنھوں نے اِسے اپنے پُورے دِل سے قَبُول کرنا تھا، [خُدا کی سیلیسٹیئل بادِشاہی] کے وارِث ہوں گے۔“ پھر خُداوند نے مزید فرمایا، ”پَس مَیں خُداوند، ہر اِنسان کی عدالت اُس کے کاموں کے مُطابق کرُوں گا، اُس کے دِل کی نیت کے مُطابق۔“
خُداوند کے لیے صِرف یہ اہم نہیں کہ آیا ہم قابل ہیں بلکہ اپنے نجات دہِندہ کی حیثیت سے اُس کی پیروی کرنے کے لیے ہم جو سب کر سکتے ہیں آیا ہم وہ کرنے پر رضامند ہیں۔
ایک دوست نے ایک بار ایک نوجوان مُںاد کو تسلی دی جو بوجہ مسائلِ صحت، اُس کی مخلصانہ دُعاؤں اور خِدمت کی شدید خواہش کے باوجود اپنی جلد سبکدوشی پر غمزدہ تھا۔ اِس دوست نے ایک حوالہ کا اِشتِراک کیا جس میں خُداوند نے اعلان فرمایا کہ جب اُس کے بیٹے ”اپنی ساری جان سے“ اُس کا حُکم پُورا کرتے ہیں، اور ”اپنی جان فشانی کو روکتے نہیں،“ اور ”اُن کے دُشمن اُن پر چڑھ آتے ہیں [جِن میں ہماری زِندگیوں کے مُشکل حالات شامل ہیں] اور وُہ فرض پُورا کرنے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، دیکھو، مَیں یہ مناسب جانتا ہُوں کہ اِن فرزندانِ آدم کے ہاتھوں اَیسے فرض کا تقاضا نہ کرُوں، بلکہ اُن کے نذرانے قَبُول کرُوں۔“
میرے دوست نے اِس نوجوان لڑکے کو گواہی دی کہ خُدا جانتا ہے کہ اُس نے خِدمت کرنے کی اپنی بُلاہٹ کے لیے اپنا بہترین دیا ہے۔ اُس نے اُسے یقین دِلایا کہ خُداوند نے اُس کی نذر کو قبول فرمایا ہے اور کہ تمام مُنادوں سے وعدہ کی گئی برکات کو روکا نہیں جائے گا۔
خُداوند کی عِوَضی برکات اکثر دُوسروں کی مہربانی اور خِدمت سے ملتی ہیں جو ہمیں اُس کی تکمِیل کرنے میں مدد کرتے ہیں جو ہم خُود سے نہیں کر سکتے ہیں۔ مُجھے وُہ وقت یاد ہے جب، فرانس میں رہنے والی اپنی بیٹیوں میں سے ایک کے لیے، ہم نے اُس کی مُشکل زچگی کے بعد اُس کی معاونت کرنے کے لیے خُود کو بےبس پایا۔ اُسی ہفتہ میں یوٹاہ میں ہماری وارڈ نے کسی ماں کے لیے مدد طلب کی جس نے جڑواں بچّوں کو جنم دیا تھا۔ میری بیوی، ویلری، اُس نئی ماّں اور ہماری ضرورت مند بیٹی دونوں کے لیے دِل میں دُعا کے ساتھ، رضاکارانہ طور پر اُس کے لیے کھانا لے کر جانے کے لیے تیار ہُوئی۔ جلد ہی، ہمیں معلُوم ہُوا کہ فرانس میں ہماری بیٹی کی وارڈ میں بہنوں نے اُس کے خاندان کے لیے کھانا فراہم کرنے کا اِہتِمام کِیا تھا۔ ہمارے لیے، خُدا نے ہماری دُعاؤں کا جواب دیا تھا، اپنے فرِشتگان کو تسلی دینے کے لیے بھیجا جب ہم اُسے یہ نہیں دے سکتے تھے۔
پابندیوں اور چنوتیوں کا سامنا کرتے ہوئے، آئیں ہم اپنی ذاتی برکات—اپنے تحائف، وسائل، اور وقت کو پہچانیں—اور اُن کا استعمال ضرُورت مندوں کی خِدمت کرنے کے لیے کریں۔ ایسا کرنے سے، ہم نہ صِرف دُوسروں کو برکت دیں گے بلکہ اپنی ذاتی زِندگیوں میں شِفا اور تلافی کو دعوت دیتے ہیں۔
خُدا کی تلافی کی برکات میں حِصّہ ڈالنے کے طریقوں میں سے قوّی ترین نیابتی کام کرنا ہے جو ہم خُداوند کے گھر میں اپنے اجداد کے لیے کرتے ہیں۔ جب ہم اُن کی خاطِر رُسُومات ادا کرتے ہیں، جنھیں اپنی فانی زِندگی میں اِنھیں حاصل کرنے کا موقع نہیں مِلا ہم اپنی نِعمتوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہُوئے اُن کو برکات فراہم کرنے کے لیے خُداوند کے کارِ نجات میں فعال طور پر شامل ہوتے ہیں۔
ہم پاک ہَیکَلوں میں جو محبّت بھری خِدمت فراہم کرتے ہیں ہمیں یاد دِلاتی ہے کہ مُنّجی کا فضل اِس زِندگی سے پرے تک پھیلا ہُوا ہے۔ آیندہ زِندگی میں، ہمیں وہ کرنے کے نئے مواقع دیے جا سکتے ہیں جو ہم اِس فانی زِندگی میں نہیں کر سکے۔ بہنو سے خطاب کرتے ہُوئے جِنھوں نے ابھی اَبدی جیون ساتھی نہیں پایا تھا صدر لورینزو سنو نے مُحبّت سے فرمایا: ”ایّام آخِر کا کوئی ایسا مُقدّس نہیں ہے جو وفادار زِندگی گزارنے کے بعد مرے اور کُچھ بھی کھوئے کیونکہ وُہ کُچھ خاص کام کرنے میں ناکام رہا ہے جب کہ اُسے موقع ہی نہیں دیا گیا تھا۔ … اُنھیں تمام تر برکات، سرفرازی، اور جلال حاصل ہو گا جو کسی بھی مرد یا عورت کو حاصل ہو گا جس کو یہ موقع حاصل ہے۔“
اُمِّید و اطمینان کا یہ پیغام ہم سب، طفلانِ خُدا کے لیے ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی فانیت کی چنوتیوں اور پابندیوں سے نہیں بھاگ سکتا۔ بہر حال، ہم سب اپنے آپ کو بچا پانے کی موروثی نااہلی کے ساتھ پیدا ہُوئے ہیں۔ بہر حال، ہمارے پاس محبّت کرنے والا نجات دہِندہ ہے، اور ”ہم جانتے ہیں کہ بالآخِر سب کُچھ کرنے کے بعد بھی، یہ [اُس کے] فضل کے وسِیلے سے ہے کہ ہم بچائے جاتے ہیں۔“
مَیں گواہی دیتا ہُوں اگرچہ زِندگی میں بُہت سے حالات ہماری گِرِفْت سے باہر ہوں، ہم میں سے کوئی بھی خُداوند کی لامحدُود برکات کی پہنچ سے دُور نہیں ہے۔ اپنی کفّارہ بخش قُربانی کے ذریعے نجات دہِندہ ہر نااہلی اور ناانصافی کی تلافی کرے گا اگر ہم اُسے اپنی ساری جانوں کا نذرانہ پیش کریں۔ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔