عِشق—حقیقی شاگِردی کی علامت
شاگِردی کی اصل منزل حرف بہ حرف یِسُوع مسِیح کی مانِند بننا ہے۔
صدر رسل ایم نیلسن نے ہمیں حال ہی میں ”اپنی شاگِردی کو اپنی اَوّلین ترجِیح“ بنانے کی عودت دی ہے۔ اِس پُرزور دعوت نے مُجھے ذاتی طور پر یِسُوع مسِیح کی میری ذاتی شاگِردی پر گہرے طور پر غَور کرنے کے لِیے جَھنْجُھوڑا ہے۔
شاگِردی دانِستہ ہے
شاگِرد کسی دُوسرے کا پیروکار یا طالبِ علم ہوتا ہے۔ شاگِرد اَیسے ”اُمِّیدوار“ ہوتے ہیں جو اپنے اُستاد کی مانِند بننے کے لِیے اپنی زِندگیاں وقف کرتے ہیں۔ پس، یِسُوع مسِیح کے شاگِرد ہونے کا مطلب اُس کی تعلیمات اور عقائد پر یقین رکھنے سے کہیں زیادہ ہے۔ حتیٰ کہ اُس کی الوہیت کو اور اُسے اپنا مُنّجی اور مُخلصی دینے والا تسلیم کرنے سے بھی زیادہ معنی رکھتا ہے، حالاں کہ یہ بھی اُتنا ہی اہم ہے۔
صدر ڈیلن ایچ اوکس نے تَشرِیح کی: ”مسِیح کی پیروی نہ ثانوی ہے یا نہ بے ڈھنگی ہے۔ یہ مُسلسل عزم اور طرزِ زِندگی ہے جو ہر وقت اور ہر جگہ ہماری ہدایت کرتی ہے۔“ شاگِردی اَیسا اِرادی سفر ہے جو ہم خُداوند کی کَفارہ بخش قُربانی اور اُس کی لائق بنانے والی قُدرت سے تبدیل ہونے کے لِیے کرتے ہیں۔ شاگِردی کی اصل منزل حرف بہ حرف یِسُوع مسِیح کی مانِند بننا ہے—یعنی اُس نقطہ تک جہاں ہم ”اُس کی شبہیہ کو [اپنی] صُورت میں پا لیں۔“
خُداوند کے شاگِرد ہونے کے لِیے، ہمیں ہر روز شعُوری طور پر اُس کے خیالات اور اعمال کی لازما تَقلیِد کرنی ہے—مثلاً، اُس کی فرمان برداری، فروتنی، اور صبر کی۔ جیسے ہم اِن اوصاف کو اپنی شناختوں میں سَمو لیتے ہیں، ہم ”[اُس کی] ذاتِ الہٰی میں شریک ہو جاتے ہیں۔“ نجات دہندہ کی سیرتِ پاک کی اَیسی تَقلِید اُس کی پرستش کا مرکز ہے۔ جیسے صدر نیلسن نے سِکھایا، ”یِسُوع سے ہماری بندگی کا بُہترین اظہار ہماری یِسُوع کی پیروی سے ہوتا ہے۔“
حقیقی شاگِردی کی علامت
یِسُوع مسِیح کی کئی ساری صفات میں سے جن کی ہمیں اُس کی تَقلِید کرنی ہے، فقط جو سب سے زیادہ افضل اور باقی سب کی ظاہری صُورت ہے۔ وہ صفت اُس کا سچّا عِشق یا محبّت ہے۔ دونوں مورمن نبی اور پولُس رسُول ہمیں یاد دِلاتے ہیں کہ محبّت کے بغیر ”[ہم] کُچھ بھی نہیں۔“ یا جیسے نبی جوزف سمتھ پر منکشف کیا گیا تھا، بغیر ”محبّت، [ہم] کُچھ نہیں کر سکتے۔“
مُنجّی نے بذاتِ خُود محبّت کی شناخت اَیسے نشان یا علامت کے طور پر کی جِس سے اُس کے شاگِردوں کی پہچان ہو گی جب اُس نے فرمایا:
”مَیں تُمھیں ایک نیا حُکم دیتا ہُوں، کہ ایک دُوسرے سے محبّت رکھّو، کہ جَیسے مَیں نے تُم سے محبّت رکھّی، تُم بھی ایک دُوسرے سے محبّت رکھّو۔
”اگر آپس میں محبّت رکھّو گے تو اِس سے سب جانیں گے کہ تُم میرے شاگِرد ہو۔“
محبّت نہایت زرخیز موضوع ہے جِس کو بیان کرنا مُشکل ہو سکتا ہے مگر وہ سب جو اِس سے چھوئے جاتے ہیں با آسانی اِسے سمجھ لیتے ہیں۔ میری اِنجِیل کی مُنادی کرو سِکھاتی ہے کہ ”ایمان کی مانِند، محبّت عمل کی طرف راہ نُمائی کرتی ہے۔“ یقیناً محبّت کو ”مصرُوفِ عمل پیار“ کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہ تعریف نجات دہندہ کی زِندگی کے مختصر بیان میں بڑی بصیرت فراہم کرتی ہے—وہ ”بھلائی کرتا پھرا۔“
یِسُوع مسِیح کے پیروکار ہوتے ہُوئے، ہمیں اُس انداز کی تَقلیِد کرنے کے طلب گار ہونا چاہیے جیسے ہمارے مالک نے دُوسروں سے اپنا سچّا عِشق ظاہر کِیا۔ اگرچہ مُنجّی نے کئی طریقوں سے اپنے عِشق کا اِظہار کِیا ہے، مَیں اُس کے عِشق کی خاص تین مثالوں کی طرف توجہ دِلانا چاہُوں گا جو اُس کے سچّے شاگِردوں میں باآسانی دیکھی جا سکتی ہیں۔
محبّت رحم دِکھاتی ہے
اوّل، نجات دہندہ نے ترس کھا کر عِشقِ حقِیقی کو ظاہر کِیا۔ جیسے کہ مورمن کی کِتاب میں مرقوم ہےِ، نِیفیوں میں اپنی خِدمت کے دوران میں، خُداوند نے لوگوں کو گھر لوٹنے اور اُس نے جو باتیں سِکھائی تھیں اُن پر غَور کرنے اور اگلے روز اُس کی واپسی کے لِیے تیاری کرنے کی دعوت دی۔ پھر صحِیفہ بتاتا ہے:
”وہ آںسُو بہا رہے تھے، اور اُس کو اِس طرح غَور سے دیکھتے رہے جَیسے وہ اُسے تھوڑی دیر اور اپنے ساتھ ٹھہرنے کی درخواست کرتے ہوں۔
”اور اُس نے اُن سے کہا، دیکھو، تُمھارے لِیے میرا دِل رحم سے بھرا ہے۔“
رحم محبّت کا وہ حِصّہ ہے جو تکلیف کو دُور کرنے کی خواہش کرتا ہے۔ رحم سے معمور، خُداوند نے لوگوں کے درمیان بیماروں اور روگیوں کو شِفا دی۔ بعد میں اُس نے اُن کے بچّوں کو برکت دی جِس دوران میں فرشتے آسمان سے اُترے اور اُنھیں گھیرے میں لے لیا۔ اُس نے اَیسے شفِیق، محبّت بھرے کام انجام دِیے، اور بُہت کُچھ کِیا، کیوں کہ اُس کو”ترس آیا۔“
جنوبی امریکہ میں نوجوان مُناد کے طور پر خِدمت کرنے کے دوران میں، مَیں بھی ایک عزیز دوست کے رحم سے فیض یاب ہُوا ہُوں۔ ایک شام جب مَیں اپنے ساتھی کے ساتھ صدرِ مشن کے گھر کی جانب گاڑی چلا رہا تھا، اچانک سائیکل پر سوار نوجوان آدمی گاڑی کے سامنے آ گیا۔ یہ سب اتنی جلدی سے ہُوا کہ مَیں ٹکرانے سے بچ نہ سکا۔ المناک طور پر، یہ نوجوان ٹکر سے ہلاک ہو گیا۔ مَیں اُس کی جان چلے جانے سے ٹُوٹ گیا۔ دہشت زدہ اور صدمے میں ابھی جو سب وقوع پذیر ہُوا تھا اُس کی خوفناک حقیقت نے مُجھے پریشان کر دیا، مُجھے جیل لے جا کر قید کر دیا گیا۔ مَیں نے کبھی بھی اتنا خوف زدہ اور تنہا محسوُس نہیں کیا تھا۔ مَیں مایوسی اور خوف سے بھر گیا کہ میں ساری زندگی قید رہوں گا۔
ایک ساتھی مُناد، ایلڈر برائن کوچ اِیور، کو اِس حادثہ کا علم ہُوا اور اُس کو مجھ پر رحم آیا۔ وہ جیل میں آیا اور عہدے داروں سے التجا کی اُسے میرے ساتھ قید خانہ میں رہنے کی اِجازت دی جائے تاکہ مَیں تنہا نہ رہُوں۔ معجزانہ طور پر وہ مان گئے۔ آج کے دِن تک، مَیں اِس شاگِرد کی مانِندِ مسِیح محبّت کے عمل کے لِیے گہرے طور پر ممنُون ہُوں، جِس نے مُجھے میری زِندگی کی سب سے پریشان کُن گھڑِی میں راحت، تسلی اور تشفی دی۔ اُس کی فیاض ہمدردی اُس کی شاگِردی کی مُنہ بولتی علامت تھی۔ جیسے صدر نیلسن نے مشاہدہ کِیا ہے، ”یِسُوع مسِیح کے سچّے پیروکار کو پہچاننے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ وہ شخص دُوسرے لوگوں کے ساتھ کتنا ہمدردی سے پیش آتا ہے۔“
محبّت اَن کہی ضرُوریات کو پُورا کرنا ہے
مُنجّی اپنے پیار کا مظاہرہ کیسے کرتا ہے اُس کی ایک مثال اُس کا دُوسروں کی اَن کہی ضرُوریات کا مشاہدہ کرنا اور اُن کو پُورا کرنا ہے۔ اُس شخص کو جو 38 برس سے بیمار تھا اور اُس کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا، خُداوند نے اُسے چنگا کِیا اور اُس کی راست بازی سے جینے کی حوصلہ افزائی کی۔ زنا میں پکڑی گئی عورت کو، اُس نے مذمت کی بجائے اُمِّید اور تسلی دی۔ اُس مفلُوج آدمی کو، جِسے چھت سے نیچے اُتارا گیا تھا، خُداوند نے، صرف جِسمانی شِفا ہی نہیں گُناہوں کی مُعافی بھی عطا کی۔
جب مُجھے بشپ کی حیثیت سے خِدمت کرنے کے لِیے بُلایا گیا، ہمارے چھے چھوٹے بچّوں نے میری بیوی، کرسٹین، کے لِیے عِشائے ربانی کی عِبادت کو مُشکل بنا دیا، جِس کو اُنھیں اکیلے ہی سنبھالنا پڑتا جِس دوران میں مِنبر پر بیٹھتا۔ جیسا کہ آپ تصُّور کر سکتے ہیں، ہمارے بچّے بُہت زیادہ با اَدَب نہ تھے۔ اُس کی حالت پر غَور کرتے ہُوئے، ہماری وارڈ کے دو اَرکان، جان اور ڈیبی بینچ، مدد کی خاطر ہر اتوار کو اُس کے ساتھ بیٹھنا شروع ہو گئے۔ اُن کی مہربانی برسوں تک جاری رہی، اور وہ ہمارے خاندان کے قائم مقام دادا دادی بن گئے تھے۔ خُداوند کی مانِند، اِن پیرکاروں نے اَن کہی ضرُورت کو دیکھا اور محبّت—اُن کی شاگِردی کی نُمایاں علامت میں عمل کِیا۔
راہِ عہد پر دُوسروں کی مدد کرنا عِشقِ حقیقی ہے
آخِر میں، مُنجّی کا کامل پیار خُدا کے سب بچّوں کو اُن کی الہٰی صلاحیت کو پُورا کرنے کے قابل بنانے پر مرکوز ہے تاکہ ہم ”اُس کی نجات، اور اُس کی مُخلصی دینے والی قُدرت میں شریک ہوں۔“ جب ہم مزید اپنے مالک کی مانِند بنتے ہیں، راہِ عہد پر اپنے بہن بھائیوں کی مدد کرنے کی ہماری خواہش قُدرتی طور پر بڑھے گی۔
مثلاً، ہم اَیسے لوگوں کی اِصلاح اور اُن سے دوستی کر سکتے ہیں جو ناراض ہیں یا بھُلائے ہُوئے محسُوس کرتے ہیں، ہم خیر مقدم محسُوس کرنے میں اُن کی مدد کر سکتے ہیں جو ہماری جماعت میں نئے ہیں، یا دوستوں کو اپنے ساتھ عِشائے ربانی کی عِبادت میں—شاید اِس آیندہ ایسٹر پر پرستش کرنے کے لِیے مدعو کر سکتے ہیں۔ دُوسروں کو اُن کی پیش رفت میں حوصلہ افزائی کرنے اور معاونت دینے کے بے شمار طریقے ہیں اگر ہم شعُوری طور پر اور دُعا گو ہو کرچشمِ بینا اور حساس دِل پانے کے لِیے آسمانی مدد کے خواہاں ہوتے ہیں کہ یِسُوع مسِیح اُن کو کیسے دیکھتا اور محسُوس کرتا ہے۔
دُوسروں کی اُن کی راہِ عہد پر مدد ایک غیر رسمی خِدمت کی صُورت اختیار کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، فلپائن میں میری موجودہ ذمہ داری کے دوران، مَیں نے آگاماتا خاندان کے بارے جانا۔ اُن کا 2023 میں بپتسما ہُوا تھا، اور پھر اُنھوں نے بڑے اشتیاق سے بطور خاندان قریبی اردانیٹا فلپائن ہَیکَل میں مُہر بندی کی تاریخ مقرر کی۔ تاہم، خاندان کے مقررہ وقت سے ذرا پہلے، خِطہ میں کئی سمندری طوفان آئے۔ بھائی آگاماتا، دھان کا کسان، شدید طوفانوں میں اپنی فصل کاشت کرنے سے قاصر تھا۔ جب آخِر کار آندھی تھم گئی، اُسے جلدی سے دھان کی کاشت کرنی تھی جب زمین پانی سے تر تھی—جو کہ کاشت کے لِیے موزوں ترین حالات تھے۔ افسوس کے ساتھ، ہَیکَل کے دورہ کو منسوخ کرنا پڑنا تھا۔
دو شاگِرد، ایلڈر اور بہن کاؤلان نے، تین نوجوان خِدمتی مُنادوں کے ہمراہ، آگاماتا خاندان کی جدوجہد کا سُنا اور کاشت کاری کا کوئی تجربہ نہ ہونے کے باوجود مدد کی پیش کش کی۔ کڑی دھوپ میں کام کرتے ہُوئے، اُنھوں نے پنیری لگانے میں مدد کی، آگاماتا کو اُن کا کام مُکمل کرنے اور مقرررہ وقت پر ہَیکَل میں مُہربندی میں شریک ہونے کا موقع فراہم کِیا۔ ایلڈر کاؤلان نے مشاہدہ کِیا کہ ”[آگاماتوں] کے چہرے دمک رہے تھے جب ہم نے اُنھیں خُداوند کے گھر میں سفید لباس میں ملبوس دیکھا۔ کسی ایک کی خِدمت گزاری کرنے میں ہم نے جو خُوشی محسُوس کی، وہ ناقابلِ بیان خُوشی تھی!“
آگاماتا اب اَبَدی خاندان کے طور پر مُہر بندی کی بھرپُور نعمتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں کیوں کہ چند ساتھی شاگِرد جو محبّت سے بھرے ہُوئے تھے—اُن کی شاگِردی کی علامت—اپنے بھائیوں اور بہنوں کو اُن کے راہِ عہد پر آگے بڑھنے میں مدد کرنے کے لِیے پُرعزم تھے۔
بھائیو اور بہنو، دائمی خُوشی پانے کا واحد راستا یِسُوع مسِیح کی شاگِردی ہے۔ یہ راہ دُوسروں کے لِیے شعُوری اور بامقصد اعمالِ اُلفت سے آراستہ ہے۔ اگرچہ شاگِردی کی راہ گزر مُشکل اور چنوتیوں بھری ہو سکتی ہے، اور بعض اوقات ہم جدو جہد کریں اور ناکام ہو جائیں گے، ہم تسلی پا سکتے ہیں کہ خُدا ہم سے آشنا ہے اور ہر بار جب ہم کوشش کرتے ہیں ہماری مدد کرنے کا آرزو مند رہتا ہے۔ یسعیاہ ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ ”خُدا [ہمارا] ہاتھ پکڑ کر، کہے گا … ، مت ڈر؛ مَیں تیری مدد کروں گا۔“
اپنے آسمانی باپ سے اِس یقین دہانی کو ذہن میں رکھتے ہُوئے، مَیں دِل سوزی سے دُعا گو ہُوں کہ ہم صدر نیلسن کی اپنی شاگِردی کو ترجیح دینے کی دعوت کی تَقلِید کریں۔ ہم ”باپ سے اپنے دِل کی ساری طاقت کے ساتھ دُعا کریں،“ کہ ”اِس محبّت سے سرشار کر دے، جو اُس نے اُن سب کو عطا کی ہُوئی ہے جو اُس کے بیٹے، یِسُوع مسِیح، کے سچّے شاگِرد ہیں، … تاکہ جب وہ ظاہر ہو تو ہم اُس کی مانِند ہوں“ کیوں کہ ہم حقیقی شاگِردی کی علامت اُٹھائے پھریں گے، جو کہ ”محبّت … مسِیح کا سچّا عِشق ہے۔“
مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ یِسُوع مسِیح ہمارا جلالی زِندہ مُنّجی، مُخلصی دینے والا، نظیر، اور دوست ہے۔ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔