زِندگی سے پیار کرنا
زِندگی ہمارے باپ کے کامِل منصُوبہ کا سب سے زیادہ قِیمتی حِصّہ ہے، اور اُس کے فرمان سے ہم زِندگی کی قدر کرتے ہیں؛ ہم زِندگی کی حِفاظت کرتے ہیں۔
ہمارے نجات دہندہ، یِسُوع مسِیح نے ہمیں سِکھایا، ”اگر آپس میں محبّت رکھو گے تو اِس سے سب لوگ جانیں گے کہ تُم میرے شاگِرد ہو۔“
یوٹاہ میں ایک بشپ نے حال ہی میں مُجھ سے اپنی وارڈ کی کسی نوجوان عورت اور اُس کے خاندان کے لِیے بے پناہ محبّت کے مُتعلق بتایا۔ پُرکشش سِلسِلہ وار واقعات کے ذریعے سے، والدین نے نجات دہندہ اور اُس کی کلِیسیا کی طرف رُجُوع لانے کا عزم کِیا۔ جِس دوران میں وہ کلِیسیا سے دُور تھے، اُن کی نو عُمر بیٹی کے تعلُقات کسی لڑکے کے ساتھ تھے۔ واپس آکر، اِس پیاری بیٹی نے اَنجمُنِ دُختران کی گواہی کی عِبادت میں اپنے آسمانی باپ کی طرف سے بے پناہ محبّت کا احساس پایا۔ اُس نے حُکموں پر مزید کامِل طریقہ سے چلنے کا عزم کِیا۔ اُس نے لِکھا، ”مَیں نے اپنے بشپ کے ساتھ تَوبہ کا عمل شرُوع کِیا۔“
جلد ہی، وہ بِیمار ہو گئی۔ اُسی کے اَلفاظ میں: ”ٹیسٹ سے معلُوم ہُوا … مَیں حامِلہ تھی۔ مَیں … رونے لگی۔ … میرے والد نے مُجھے اپنی بانہوں میں سمیٹ لِیا اور مُجھے تسلّی دِی کہ سب کُچھ ٹھیک [ہو] جائے گا۔ … میرے بوائے فرینڈ نے مُجھے … بچّہ گِرانے کا کہا۔ … مَیں نے اِنکار کر دیا۔“
ضرُورت مندوں کا خیال رکھیں
اُس نے بات جاری رکھی: ”مُجھے میری وارڈ کے خاندان نے بڑا پیار اور سہارا دِیا ہے۔ یہ بڑا حیرت خیز رہا ہے۔ [میرے] بشپ اور اَنجمُنِ دُختران کی صدر اپنی محبّت دِکھانے اور سہارا دینے کے لِیے حد سے آگے بڑھے ہیں۔ … مَیں نے خُداوند کا ہاتھ دیکھا ہے … میری اور میرے خاندان کی ہدایت کرتے ہُوئے۔ … میری جیسی وارڈ اَیسا خاندان ہے جِس کی ہر کِسی کو ضرُورت ہوتی ہے، خاص طور پر مُجھ جَیسی نوجوان لڑکیوں [کے لِیے]۔“
اِس نے، اُس کے خاندان نے، اور اُس کی وارڈ کے خاندان نے گُزشتہ فروری میں اِس بچّہ کو پیار سے قبُول کِیا۔
صدر رسل ایم نیلسن نے کہا، ”خُداوند کی زِندہ اور سچّی کلِیسیا کا ہمیشہ غیر معمُولی اُسلُوب رہے گا … کہ خُدا کی اُمّت کے ہر فرد کی خِدمت کرے … [محبّت بھری شفقّت کے ساتھ خِدمت] جَیسے اُس نے کی تھی۔“
راست فیصلوں میں مدد کرنا
جب کسی غیر شادی شُدّہ لڑکی کو معلُوم ہوتا ہے کہ وہ اُمِّید سے ہے، تو صحت کے مسائل، رُوحانی کش مکش، ندامت، مالی پریشانیاں، تعلیمی سوالات، بیاہ کی غیر یقینی صُورتِ حال، اور چِکنا چُور خوابوں کا دُکھ، پریشان لڑکی کو درد اور گھبراہٹ کے لمحے میں، اَیسے اقدام اُٹھانے کے لِیے اُکسا سکتے ہیں جو گہرے درد اور ندامت کا باعث بنیں۔
کوئی بھی سُننے والا جو بچّہ گِرانے یا اِس میں حِصّہ لینے سے شدِید دُکھ اور پچھتاوے کا شِکار رہا ہے، مہربانی سے یاد رکھیں: اگرچہ ہم ماضی کو نہیں بدل سکتے، لیکن خُدا ماضی کو اچّھا کر سکتا ہے۔ مُعافی اُس کے کَفارہ بخش فضل کے مُعجزہ کے وسِیلہ سے آ سکتی ہے، جب آپ تائب اور فروتن دِل کے ساتھ اُس کی طرف رجوع لاتے ہیں۔
فانی پَیدایش کے تقدّس سے اکثر دو اَلفاظ جُڑے ہوتے ہیں: زِندگی اور فیصلہ۔ زِندگی ہمارے باپ کے کامِل منصُوبہ کا سب سے زیادہ قِیمتی حِصّہ ہے، اور اُس کے فرمان سے ہم زِندگی کی قدر کرتے اور حِفاظت کرتے ہیں؛ اور حمل ٹھہرنے کے بعد ہم زِندگی کی پرورش کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم اَخلاقی اِرادت کی نعمت کو بھی قدر کی نِگاہ سے دیکھتے ہیں—خُدا کی طرف سے منظُور شُدّہ راست فیصلوں کو مضبُوط کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
جب کوئی عَورت اور مرد اِس طرح کی نازُک حالت میں ہوتے ہیں، تو بڑے اَہم فیصلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو ہمارے اَلفاظ، ہمارے ہاتھ، ہمارے دِل—رُوحانی، جذباتی اور مالی اَنداز میں—اُنھیں نجات دہندہ کی محبّت کو محسُوس کرنے میں برکت دے سکتے ہیں، جِس طرح صدر ہنری بی آئرنگ نے کہا ہے، اُن کی رُوحانی آنکھوں میں واضح ہم آہنگی لائیں کہ”وہ جو سوچتے ہیں وہی دیکھتے ہیں“ سے لے کر ”جو وہ ابھی تک نہیں دیکھ سکتے۔“
فانی زِندگی کا عقِیدہ
صدر ڈیلن ایچ اوکس نے کہا: ”اِسقاطِ حمل کے مُتعلق ہمارا رویہ بتائے گئے اِس علم پر مبنی نہیں ہے کہ فانی زِندگی کب شرُوع ہوتی ہے۔ … ہمارا عِلم اِس بات پر قائم ہے کہ … خُدا کے تمام بچّے جو رُوحیں ہیں اُنھیں ضرُور جلالی مقصد کے لِیے دُنیا میں آنا ہے، اور یہ اِنفرادی شناخت حمل ٹھہرنے سے بُہت پہلے شرُوع ہُوئی تھی اور اَبَدالآباد تک جاری رہے گی۔“
نوزائیدہ بچّوں کی بابت خُداوند کے کلام، جو صدارتِ اَوّل اور بارہ رسُولوں کی جماعت کے وسِیلہ سے عطا کی گئی آواز، کبھی نہیں بدلی اور زمانوں سے نبِیوں کے نوِشتوں کی بازگشت آتی ہے، جو خُداوند نے ہم سے مانگی ہے اور اِس کو اَبَدی تناظُر فراہم کرتی ہے۔
”کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام اِنسانی زِندگی کے تقدس پر یقین رکھتی ہے۔ لہذا، کلِیسیا ذاتی یا مُعاشرتی سہُولت کے لِیے اِرادی اِسقاطِ حمل کی مُخالفت کرتی ہے، اور اپنے اَرکان کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ ایسے اِسقاطِ حمل کے لِیے نہ راضی ہوں، نہ اِسے سر انجام دیں، نہ اِس کی حوصلہ افزائی کریں، نہ اِس کے واجبات کی ادائیگی کریں، یا نہ ہی اِس کا بندوبست کریں۔
”[خُداوند] … مُمکنہ مُستثنِیات کی اِجازت دیتا ہے جب:
-
زنا بالجبر یا محرمات کے ساتھ جنسی تعلق کے نتیجہ میں حمل، یا
-
ایک مجاز طبی معالج یہ تعین کرے کہ ماں کی زِندگی یا صحت کو شدید خطرہ لاحق ہے، یا
-
کوئی مجاز طبی معالج یہ تعین کرے کہ جنین میں مُتعدد نقائص پائے گئے ہیں جس سے بچّے کی پیدایش کے وقت مَوت واقع ہو جائے گی۔“
صدارتِ اَوّل کہتی ہے: ”اِسقاطِ، حمل اِنتہائی سنگِین مُعاملہ ہے۔ [اِن شاذ و نادِر حالات میں بھی] اِس پر تب ہی غَور کِیا جانا چاہیے جب ذمہ دار افراد کو دُعا کے وسِیلہ سے توثِیق مِل جائے“ اور دُوسروں سے مشورہ کر لِیا جائے۔
تِیس برس پہلے، خُداوند کے نبِیوں نے دُنیا کے لِیے اِعلامیہ جاری کِیا۔ اِس میں یہ باتیں شامِل ہیں:
”ہم … اِعلان کرتے ہیں کہ خُدا نے حُکم دِیا ہے کہ مَرد و زن کے درمیان افزائشِ نسل کی مُقدّس قُوتیں، صِرف قانُونی طور پر بیاہ شُدّہ شوہر اور بیوی کی حیثیت سے ہی اِستعمال کی جائیں۔
”ہم اِعلان کرتے ہیں کہ جِن ذرائع سے فانی زِندگی تخلِیق ہوتی ہے وہ اِلہٰی طور سے مُقرر کیے گئے ہیں۔ ہم خُدا کے منصُوبہ میں زِندگی کے تَقدُّس اور اِس کی اَہمیت کی تائید کرتے ہیں۔“
اِس زِندگی کی پرورش اور حفاظت کرنا جو ابھی پپٹ میں ہے سیاسی حیثیت نہیں ہے۔ یہ آفاقی قانون ہے جِس کی تصدیق خُداوند نے اپنے نبِیوں کے وسِیلہ سے کی ہے۔
زیادہ کُھل کر بات کرنا
صدر جے روبن کلارک جونیئر کا بیان، جِنھوں نے صدارتِ اَوّل میں خِدمات انجام دیں، ہمارے آج کے نوجوانوں کو خُوب صُورتی سے بیان کرتے ہیں: ”کلِیسیا کے نوجوان رُوح کی چِیزوں کے بھوکے ہیں؛ وہ اِنجِیل کو سِیکھنے کے لِیے بے تاب ہیں، اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ صرِیح اور اصلی ہو۔ وہ … ہمارے عقائد کے مُتعلق جاننا چاہتے ہیں؛ وہ اُن کی سچّائی کی گواہی پانا چاہتے ہیں۔ وہ … سچّائی کے مُتلاشی، اور مُشتاق ہیں۔“ آئیے ہم اپنے گھروں میں اپنے نوجوانوں سے، اور اپنی اَنجُمنِ خواتِین میں اور ایلڈرز کورم کی جماعتوں میں ایک دُوسرے کے ساتھ، خُداوند کے پاک دامنی کے قانُون، زِندگی کے تقدس، اور نازائیدہ بچّوں اور اُن کی ماؤں کی دیکھ بھال کے بارے میں زیادہ کثرت سے اِیمان اور ہم دردی کے ساتھ بات کریں۔
کِسی عزیز بہن نے مُجھے کئی دہائیوں پہلے اپنے واقعہ کے بارے میں لِکھا: ”جب مَیں [17 برس] کی تھی … ، تو حاملہ ہو گئی، اور میرے بوائے فرینڈ نے میری کوئی مدد نہ کی۔ مَیں ندامت اور تنہائی کا شِکار ہوگئی [لیکن مَیں نے] کبھی [بچّہ گِرانے] کا نہیں سوچا۔ … میرے ساتھ میرا پیارا خاندان اور میرا بشپ [تھا]، جِن سے مَیں ہدایت پانے کے لِیے باقاعدگی سے ملتی تھی۔ … مَیں خُدا کی طرف رُجُوع لائی۔ مَیں نے صحائف کا مُطالعہ کِیا … اور دُعا مانگی [اور] اپنے نجات دہندہ اور تَوبہ کے عمل کے وسِیلہ سے ہمت پائی۔ … مُجھے [اپنی دُعاؤں کا] جواب مِلا جِس سے مَیں اِنکار نہیں کر سکتی تھی۔ … یہ دِل شِکن تھا، لیکن مَیں جانتی تھی کہ مَیں اپنی بیٹی کو گود دے دوں گی۔ … مَیں نے ہمت کے لِیے دُعا مانگی [اور] نجات دہندہ کی محبّت کو تَوبہ کے وسِیلہ سے بڑے واضح طور پر محسُوس کِیا، مَیں جانتی ہُوں کہ خُدا … دُعاؤں کا جواب دیتا ہے اور ہمیں مضبُوط کرتا ہے۔“
کسی پُرشفِیق جوڑے نے ننھی بچّی کو گود لے لِیا، اور اُس کو اِنجِیل سِکھائی۔ اب وہ شادی شُدّہ ہے اور اُس کا اپنا خُوب صُورت خاندان ہے۔
بعض اوقات، زِندگی کی حِفاظت اِنتہائی مُشکل اور غیر یقینی تکلِیف دہ ہو سکتی ہے۔
حال ہی میں ایک اَیسا جوڑا جِس کو کیتھی اور مَیں پیار کرتے ہیں اُنھوں نے مُجھے اپنے ہونے والے بچّہ کے مُتعلق لِکھا۔
والد نے لِکھا: ”[جب میری بیوی] 10 ہفتوں کی حامِلہ تھی تو ہمیں معلُوم ہُوا کہ ہمارے مُعجزاتی بچّہ کی مورُوثی حالت ٹرائی سومی 21 ہے، جسے عام طور پر ڈاؤن سِنڈروم کہا جاتا ہے۔ ہم دباؤ کا شِکار تھے … طبی ماہرین بچّہ گِرانے کا مشورہ دے رہے تھے۔ چند ہفتوں بعد ہم پر یہ بات عِیاں ہُوئی … ہمارے بچّے کو جو پَیدا نہیں ہُوا تھا … اپنی زِندگی کے پہلے سال میں دِل کے مُتعدد آپریشن درکار ہوں گے۔ اِس سارے عمل کے دوران میں جب ہم نے اِلہٰی مدد کے لِیے دِل سوزی سے دُعا مانگی، … ہمیں احساس ہُوا کہ رُوح ہمیں تسلّی دیتا ہے۔ ہم نے مُکاشفہ اور اِدراک پایا کہ ہماری بیٹی آسمانی باپ کی برگُزیدہ اَولاد ہے اور ہمارے خاندان کا حِصّہ بننے اور دُنیا میں آنے کی بڑی آرزُو مند ہے۔“
اِس بچّی کی ماں نے لِکھا: ”[ہمیں] بڑا صدمہ پُہنچا، تذب ذب کا شِکار ہُوئے، اور سچّ اِس خبر سے ہمت ہار گئے۔ … جب مَیں 14 ہفتوں کی حامِلہ تھی، ہمیں عِلم ہُوا کہ ہماری بچّی کے دِل میں مُتعدد پیدایشی خرابیاں تھیں، جو مُمکنہ طور پر جان لیوا ہو سکتی ہیں۔ ہم 10–18 ہفتوں کے حمل کے دوران میں لاتعداد ڈاکٹروں اور ماہرین کے پاس گئے۔ … ہماری ہر مُلاقات میں، ہم سے پُوچھا گیا کہ کیا ہم حمل جاری رکھنا چاہتے ہیں یا گِرانا چاہتے ہیں۔ … نجات دہندہ نے میرے دِل کو شِفا بخشی اور مُجھے ہماری بچّی کے بارے میں تسلّی اور خُوشی کا احساس دِلایا۔ … [آسمانی باپ] نے مُجھے بار بار دِکھایا ہے کہ اُس کے پاس میرے لِیے کامِل منصُوبہ ہے [اور] مَیں اِس پر توکُّل کرتی ہُوں۔“
ٹھِیک ایک ہفتہ پہلے اُن کے ہاں پیاری سی بچّی پَیدا ہُوئی اور وہ بڑے خُوش تھے۔ وہ اُن کی ہے اور وہ ہمیشہ اُس کے ہیں۔
بے باک اِیمان اور غیر معمُولی ہِمت یِسُوع مسِیح کے شاگِردوں کے اُسلُوب ہیں۔
اِیمان کی قابلِ ذِکر مثال
برسوں کے دوران میں، مُجھے اُن مردوں اور عَورتوں سے ملنے کا شرف حاصل ہُوا ہے جِنھوں نے اپنی رُکنیت سے محرُومی کے کئی سالوں بعد فروتنی کے ساتھ عہد کی راہ اور اپنی کہانت اور ہَیکل کی برکتوں کی طرف لوٹنے کی کوشش کی ہے۔
کسی موقع پر، مَیں صدارتِ اَوّل کی جانب سے کسی شخص کا اُس کی کہانت اور ہَیکل کی برکتوں کی بحالی کے لِیے اِنٹرویو کرنے والا تھا۔
مُقدّس ہَیکل میں اپنے بیاہ کے بعد، اور تین ہونہار بچّوں کی پَیدایش کے بعد، شوہر اپنی اَہلیہ اور اپنے مُقدّس عہُود سے بے وفائی کر گیا تھا۔ ایک کُنواری لڑکی حامِلہ ہوگئی اور وہ بچّہ گِرانا چاہتی تھی۔
شوہر کی پاکیزہ اَہلیہ نے لڑکی سے بچّہ پَیدا کرنے کی اِلتجا کی اور وعدہ کِیا تھا کہ جب وہ بچّہ پَیدا ہوگا تو وہ اپنے بچّوں کے ساتھ اُس کی پرورِش کرے گی۔
بڑی سوچ بچار کے بعد وہ لڑکی بچّہ نہ گِرانے پر راضی ہوگئی۔
اب تک دس برس بِیت چُکے تھے۔ میرے سامنے بیٹھی مُحترم بہن نے اُس لڑکے کو اپنے بچے کی مانِند پیار کِیا اور مُجھے اپنے شوہر کی اِصلاح کرنے اور اُس کی اور خاندان کی محبّت اور دیکھ بھال کرنے کی کوششوں کے بارے میں بتایا۔ جب وہ بول رہی تھی تو والِد رو رہا تھا۔
خُدا کی یہ عظِیم بندی کیسے اُس بچّہ کو اپنا بنا سکتی ہے جو اپنے شوہر کی بے وفائی کی روزانہ یاد دِلا سکتا ہے؟ کیسے؟ چُوں کہ اُس نے یِسُوع مسِیح کے وسِیلہ سے ہِمت پائی تھی اور اُس کا زِندگی کے تقدّس، زِندگی کی پاکیزگی پر اِیمان تھا۔ وہ جانتی تھی کہ پَیدا ہونے والا بچّہ خُدا کا بچّہ، معصُوم اور پاک ہے۔
میرے پیارے بھائیو اور بہنو، دُنیا بھر میں نازائیدہ بچّوں کے لِیے کم ہوتی ہُوئی محبّت پر بڑی گہری تشوِیش ہے۔ خُدا زِندگی سے پیار کرتا ہے۔ یہ اُس کا اَمر اور جلال ہے کہ اِنسان کی لافانی اور اَبَدی زِندگی کا سبب پَیدا کرے۔ یِسُوع مسِیح کے شاگِردوں کی حیثیت سے، ہم زِندگی کو پیار کرتے ہیں۔ ”اگر آپس میں محبّت رکھّو گے، تو اِس سے سب جانیں گے کہ تُم میرے شاگِرد ہو۔“ دُعا ہے کہ ہم اپنی محبّت اُن لوگوں کے ساتھ اور زیادہ کثرت سے بانٹیں جنِھیں ہماری اَشد ضرُورت ہے۔ مَیں آپ سے اپنی محبّت کا اور ہمارے آسمانی باپ کے دُنیا میں آنے والے اُس کے بچّوں کے لِیے بھی محبّت کا اِظہار کرتا ہُوں۔ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔