اجداد کو ہمارے تھا جو پیارا ایمان سے رہیں گے وفادار
براہِ کرم اپنے سے پہلے آنے والوں کے ایمان اور گواہیوں سے تقویت حاصل کریں۔
جب مَیں ہَیکَل کے جائزہ کے لیے نیش ویل ٹینیسی ہَیکَل کا دورہ کر رہا تھا تو اُس دوران، مُجھے خُداوند کے اِس خوبصُورت گھر کا سرسری طور پر جائزہ لینے کا اعزاز حاصل ہُوا۔ خصوصاً مَیں میٹرن کے دفتر کی دیوار پر آویزاں Carry On نامی میری وانلس کی پینٹنگ سے نہایت متاثر ہُوا۔
اِس تصویر کے پس منظر کی کہانی کچھ یوں ہے:
”میزوری میں 1862 کو، 14سالہ میری وانلس نے اپنی قریب المرگ سوتیلی ماں سے وعدہ کِیا کہ وہ یہ یقینی بنائے گی کہ اُس کا اپاہج والد [اور اُس کے بہت چھوٹے چار بہن] بھائی گریٹ سالٹ لیک کی ویلی تک پُہنچ پائیں گے۔ … میری نے بیلوں کو ہانکا اور گائیوں کا دُودھ دھویا جو چھکڑے کو کھینچتے تھے، جس میں اُس کا [بیمار و نِڈھال والد پڑا تھا، اور] اُس نے اپنے … بہن بھائیوں کا خیال رکھا۔ ہر روز کے سفر کے بعد، اُس نے خاندان کا پیٹ بھرنے کی خاطر کھانے کے لائق پودوں، پھولوں اور بیریوں کو تلاش کِیا۔ اُس کی واحد قطب نُما وہ ہدایت تھی جو اُس نے پائی کہ مغرب کی طرف سفر کرتی رہو ’جب تک کہ بادل پہاڑ نہ بن جائیں۔‘
”وہ سارا موسمِ بہار اور گرما سفر کر کے، ستمبر میں یُوٹاہ ویلی میں پہنچے۔ اُس کے خاندان کے یُوٹاہ ضلع میں مقیم ہونے کے تھوڑی دیر بعد اُس کا والد وفات پا گیا، جہاں بعد میں میری نے شادی کی اور [اپنے] خاندان کو پروان چڑھایا۔“
یہ ایک 14 سالہ نوجوان لڑکی کے ایمان اور مضبُوطی کی حیران کُن کہانی ہے جو آج ہم میں سے ہر ایک کو ”فقط چلتے رہنے“ میں مدد دے سکتی ہے۔
”فقط چلتے رہو“—یا میری مادری ڈچ زبان میں آزادانہ طور پر ترجمہ کیا گیا، Gewoon Doorgaan—میری والدہ اور والد کا بھی جیون بھر یہی نعرہ رہا ہے۔
میرے والدین اور سُسرال ہمارے خاندان کے پیش رو ہیں۔ اُنھوں نے اُن سب کی مانند جو کلِیسیا، خُداوند کے گلّہ میں، ہر روز آ رہے ہیں اپنے ”میدانی عِلاقوں،“ کو عبور کِیا ہے۔ اُن کی کہانیوں کا بیلوں اور گائیوں سے بہت تھوڑا تعلق ہے مگر آیندہ نسلوں پر یکساں اثر رکھتی ہیں۔
اُنھوں نے اِنجِیل کو قبول کِیا اور اپنی نوعُمری کے برسوں میں بپتسما پایا۔ میرے دونوں والدین کا بچپن نہایت دشوار تھا۔ میرے والد نے جاوا اِنڈونیشیا کے جزائز پر پرورش پائی۔ دُوسری جنگِ عظیم کے دوران میں، اُنھیں زبردستی اُن کے خاندان سے الگ کر دیا گیا اور ایک حِراستی کیمپ میں پابندِ سِلاسل رکھا، جہاں اُنھوں نے جوانی کی عُمر میں ناقابلِ بیان سختیاں برداشت کیں۔
میری والدہ بکھرے ہُوئے خاندان میں پلی بڑھی اور اُنھوں نے بھوک اور دوسری جنگِ عظیم کی سختیوں کو برداشت کِیا تھا۔ بعض اوقات اُنھیں گُلِ لالہ کی پتِیاں کھا کر گزارا کرنا پڑا تھا۔ اُن کے والد کی حرکات اور بعد ازاں اُن کی والدہ سے طلاق کی بدولت، اُن کے لیے بعض اوقات آسمانی باپ کو محّب باپ کے طور پر تصور کرنا مُشکل تھا۔
میرے والدین کی مُلاقات کلِیسیائی سرگرمی میں ہُوئی اور کُچھ ہی دیر بعد اُنھوں نے برن سوئٹزرلینڈ ہَیکَل میں شادی کرنے اور مہر بند ہونے کا فیصلہ کِیا۔ ریلوے اسٹیشن پر انتظار کرتے ہُوئے، ہَیکَل کے دورے کے لیے اپنی آخری قلیل جمع پونجی خرچ کرتے ہُوئے، وہ پریشان تھے کہ وہ گزارہ کیسے کریں گے مگر پُراعتماد تھے کہ سب اچھا ہی ہو گا۔ اور ایسا ہی ہُوا!
اُنھوں نے ایمسٹرڈیم کے وسط میں ایک معمُولی بالائی منزل کے اپارٹمنٹ سے اپنے خاندان کی پرورش کا آغاز کِیا۔ کئی برسوں تک اپنے کپڑے ہاتھ سے دھونے کے بعد، اُنھوں نے بِالآخِر ایک واشنگ مشین خریدنے کے لیے رقم جمع کر لی۔ خریداری کرنے سے ذرا پہلے، بشپ اُن سے ملنے آیا، اور ایمسٹرڈیم میں ایک عبادت گاہ تعمیر کرنے کے لیے چندہ دینے کی درخواست کی۔ اُنھوں نے وہ سب جو واشنگ مشین کے لیے جمع کر رکھا تھا عطیہ کرنے اور ہاتھوں سے کپڑے دھونا جاری رکھنے کا فیصلہ کِیا۔
بطور خاندان ہم کسی بھی دُوسرے خاندان کی مانند، مُشکلات سے گزرے۔ اِنھوں نے ہمیں صرف مضبُوط کِیا اور خُداوند یِسُوع مسِیح پر ہمارے ایمان کو مزید گہرا کِیا، بالکل ایلما کی مانند جب وہ اپنے بیٹے ہیلمین کو اپنی کہانی بتا رہا تھا، جہاں اُس نے اُسے بتایا کہ اُس نے ”ہر قِسم کی آزمایشوں اور تکلیفوں کے دوران میں مدد“ پائی تھی کیوں کہ اُس نے اپنا توکُّل خُداوند یِسُوع مسِیح پر رکھا تھا۔
دو لوگ جو اپنی نوجوانی کے سالوں میں اتنی آزمایشوں سے گُزرے تھے کیسے اتنے بہترین والدین بنے جس کی مَیں کبھی خواہش بھی نہیں کر سکتا ہُوں؟ جواب نہایت سادہ ہے: اُنھوں نے اِنجِیل کو کُلی طور پر قبول کِیا اور آج کے دِن تک اپنے عہُود کو نبھایا ہے!
شادی کے 65 سے زائد برسوں کے بعد، میری والدہ محترمہ، جو کہ الزائمر کے بیماری میں مُبتلا تھی، اِس فروری کو رحلت فرما گئی ہیں۔ میرے والد صاحب، 92 سال کی عُمر میں ابھی تک گھر پر رہتے ہیں، جتنی دفعہ ہو سکتا تھا اُن سے ملنے آتے جب تک وہ وفات نہ پا گئیں۔ کچھ عرصہ قبل اُنھوں نے میرے چھوٹے بہن بھائیوں سے ذکر کِیا تھا کہ دُوسری جنگِ عظیم کے دوران انڈونیشیا کے کیمپ میں ہونے والے خوفناک تجربات نے اُنھیں کئی برسوں تک تحمل سے اپنی بیوی کی دیکھ بھال کرنے کے لیے تیار کِیا تھا کیوں کہ وہ اِس خوفناک بیماری کا شکار ہُوئی اور اُن کی حالت ابتر ہوتی گئی تھی اور اِس بُرے دِن کے لیے اُنھیں اپنی بُنیادی دیکھ بھال دُوسروں کے سپرد کرنی پڑی تھی اور مزید وہ اُن کے ساتھ نہیں رہ سکتے تھے۔ اُن کا نصب العین رہا تھا اور اب بھی ہے کہ ”فقط چلتے رہو،“ مسِیح پر کامل اُمِیّد رکھتے ہُوئے یومِ آخِر کو اُس کے ساتھ سکُونت کے لِیے جلال میں اُٹھائے جانے کے لیے۔
اُن کا ایمان اور گواہیاں اُن نسلوں کے لیے متحرک قوت رہی ہیں جو اُن کے بعد آئی ہیں۔
وہ گاؤں جس میں میری بیوی پروان چڑھی تھی، اُس کے والدین نے، جو اچھے چرچ جانے والے لوگ تھے، اِنجِیل کو ایک نوجوان شادی شدہ جوڑے کی حیثیت میں قبول کِیا اور میری بیوی اُس وقت اُن کی دو سالہ اکلوتی بچّی تھی۔ کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے رُکن بننے کے اُن کے فیصلہ نے اُن کی زندگیوں پر بڑا گہرا اثر ڈالا کیوں کہ اُن کے خاندان اور گاؤں والوں نے اُن سے ناطہ توڑ لیا۔ آخر کار اُن کے قبول کیے جانے سے قبل، کئی برس، اَرکانِ خاندان کو کئی محبّت بھرے خطوط، اور برادری کی خدمت بروئے کار لائی گئی۔
ایک موقع پر جب میری زوجہ کا والد بشپ کی حیثیت سے خدمت سر انجام دے رہا تھا، تو اُس پر جھوٹا الزام لگایا گیا اور اُسے فوراً سبکدوش کر دیا گیا۔ میری ساس اتنی زیادہ رنجیدہ ہُوئی کہ اُس نے اپنے شوہر سے کہا کیا اُنھیں چرچ جانا جاری رکھنا چاہیے۔ اُس نے جواب دیا کہ وہ یقیناً چرچ جانا جاری رکھیں گے چوں کہ یہ آدمیوں کی کلِیسیا نہیں ہے بلکہ یہ یِسُوع مسِیح کی کلِیسیا ہے۔
سچّائی کو سامنے آنے میں کافی وقت لگا اور معذرتوں کا اظہار کِیا گیا۔ وہ جو نقطہِ شکستگی ہو سکتا تھا اُس نے اُن کی مضبُوطی اور یقِینِ کامِل کو بڑھایا۔
ایسا کیوں ہے کہ ہم میں سے کچھ اپنے والدین کے ایمان اور گواہیوں کی قدر نہیں کرتے جو اپنی تمام تر مُشکلات میں وفادار رہے ہیں؟ کیا ہم سمجھتے ہیں کہ اُنھیں چیزوں کا واضح فہم نہیں ہے؟ وہ گمراہ نہیں ہُوئے نہ ہوتے ہیں! اُنھوں نے رُوحُ سے بہت سارے تجربات حاصل کیے ہیں اور نبی جوزف سمِتھ کے ساتھ کہہ سکتے ہیں، ”مَیں جانتا تھا … اور مَیں اِس کی نفی نہیں کر سکتا تھا۔“
کیا آپ کو بچّوں کے گیتوں کی کِتاب میں پایا جانے والا لشکرِ ہیلیمن کے متعلق گیت پسند نہیں ہے؟
حتٰی کہ جب ایسا نہ بھی ہو، جیسے میری ماّں نے بچّی کی حیثیت سے تجربہ کِیا، آپ اُن ”نیک نام والدین جن میں تھی محبّتِ خُداوندی“ کی مانند بن سکتے ہیں اور دُوسروں کے لیے راست نمونہ فراہم کر سکتے ہیں۔
جب ہم اِسے گاتے ہیں کیا آپ محسُوس کرتے ہیں کہ یہ کُلّی طور پر سچ ہے؟ کیا آپ محسُوس کرتے ہیں کہ آپ ”مانندِ لشکرِ ہیلیمن“ ہیں اور کہ آپ ”پرچمِ حق لہرانے کو جہاں میں بنیں گے مُنادِ خُداوندی“؟ مَیں نے اِس گیت کو کئی ایف ایس وائے پروگراموں اور نوجونوں کے دیگر اِجتماعات میں گاتے ہُوئے کئی مواقع پر اِس احساس کو محسُوس کِیا ہے۔
یا جب ہم گیت ”ایمان سے وفادار“ گاتے ہیں تو ہم کیسا محسُوس کرتے ہیں؟
اِس اُبھرتی ہُوئی نسل کے نوجوانوں، آپ جہاں کہیں بھی ہوں اور آپ خُود کو کسی بھی صورتِ حال میں پائیں، براہِ کرم اپنے سے پہلے آنے والوں کے ایمان اور گواہیوں سے تقویت حاصل کریں۔ یہ آپ کی ادراک پانے میں مدد کرے گا کہ گواہی پانے یا پروان چڑھانے کے لیے، قربانی دینا لازم ہے اور کہ ”قُربانی آسمانی برکتوں کو لاتی ہے۔“
قُربانی کے متعلق سوچتے ہُوئے جو واقعتاً آپ کی زندگی کو بابرکت بنائے گی، مہربانی سے ہمارے پیارے نبی، صدر رسل ایم نیلسن کی دعوت کے متعلق غور اور دُعا کریں جب اُنھوں نے: ”ہر لائق، قابل نوجوان کو فریضہِ مُنادی کی تیاری اور خِدمت انجام دینے کے لیے کہا ہے۔ مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے نوجوان فرزندان کے لیے، مُنادی کی خدمت کہانتی ذِمہ داری ہے۔ …
”نوجوان اور قابل بہنو … آپ کے لیے، بھی فریضہِ مُنادی اِنتہائی فائدہ مند ہے، لیکن اختیاری، موقع ہے۔“
آُپ کو خِدمتی یا تدریسی مُنادوں کی حیثیت سے بُلایا جا سکتا ہے۔ ہر دو اقسام کے مُناد، جانوں کو مسِیح کے پاس لانے کے یکساں مقصد میں، ہر کوئی اپنے منفرد اور قوّی انداز میں حِصّہ ڈالتے ہیں۔
دونوں اقسام کی خدمت میں، آپ خُداوند کو دِکھاتے ہیں آپ اُس سے محبّت کرتے ہیں اور کہ آپ اُس کو مزید بہتر طور پر جاننا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیں، ”کیسے کوئی شخص اُس آقا کو جان سکتا ہے جس کی اُس نے خدمت ہی نہیں کی، اور اُس کے نزدیک تو وہ اجنبی ہے، اور اُس کے دِلی اِرادوں اور خیالوں سے کوسوں دُور ہے؟“
ہم سب، چاہے ہم اِنجِیل میں نسلِ اوّل ہیں یا پنجم، ہمیں اپنے آپ سے پُوچھنا چاہیے، مَیں آئندہ نسل کو ایمان، مضبُوطی، اور آفاقی عَزم کی کون سی کہانیاں مُنتقل کروں گا؟
آئیں ہم سب اپنے مُنجّی، یِسُوع مسِیح، کو بہتر طور پر جاننے اور اُسے اپنی زندگیوں کا محور بنانے کی اپنی کاوشوں کو جاری رکھیں۔ وہ ہی وہ چٹان ہے جس پر ہمیں تعمیر کرنا ہے تاکہ جب وقت مُشکل ہو جائیں، ہم مُستحکم کھڑے ہونے کے قابل ہوں۔
آئیں ہم ”ایمان سے رہیں گے وفادار شہیدوں کو جس کے لیے گیا تھا مارا، فرمانِ خُداوندی، دِل، جان، اور ہاتھ، رہیں گے ہم سچّے، اور وفادار۔“ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔