مجلسِ عامہ
چھوٹے بچّے کی مانِند
مجلسِ عامہ اپریل 2025


15:10

چھوٹے بچّے کی مانِند

مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ شِیرخوار اور بچّے اور نوعُمر لڑکے لڑکیاِں زمِین پر خُدا کی بادِشاہی کی ساری قُدرت اور خُوب صُورتی کی تصوِیریں ہیں۔

یِسُوع نے اپنی فانی زِندگی کے آخِری برس کا آغاز اپنے رَسُولوں کی تربیت کو تیز کر کے کِیا۔ اگر اُس نے جو پیغام مُتعارف کرایا تھا اور جو کلِیسیا اُس نے قائم کی تھی اُس کے قائم و دائم رہنے کے لِیے، اُن 12 اِنتہائی معمُولی مردوں کے دِلوں میں مزید عِلم و عِرفان اُنڈیلنا تھا جو اُسے بمُشکل 24 ماہ سے جانتے تھے۔

ایک دِن یِسُوع نے بارہ میں سے بعض کو آپس میں بحث کرتے ہُوئے دیکھا اور بعد میں پُوچھا، کہ ”تُم راہ میں کیا بحث کرتے تھے؟“ ظاہر ہے کہ ندامت کی وجہ سے ”وہ چُپ رہے،“ صحِیفہ کہتا ہے۔ لیکن تمام اُستادوں کے سب سے بڑے اِس اُستاد نے اُن کے دِلوں کے خیال کو بھانپ لِیا اور شخصی تکبُر کی پہلی سُرخی کو بھی پہچان لِیا۔ لہٰذا اُس نے ”ایک بچّے کو پاس بُلایا، …

”اور کہا، مَیں تُم سے سچّ کہتا ہُوں کہ اگر تُم تَوبہ نہ کرو اور بچّوں کی مانِند نہ بنو تو آسمان کی بادِشاہی میں ہرگِز داخِل نہ ہو گے۔

”پَس جو کوئی اپنے آپ کو اِس بچّے کی مانِند چھوٹا بنائے گا وُہی آسمان کی بادِشاہی میں بڑا ہو گا۔“

واضح رہے کہ مسِیح کی پَیدایش سے قبل بنیامین بادِشاہ کے آخِری خُطبہ میں بھی بچّے کی فروتنی پر یہ موّثر بات شامِل تھی۔ لِکھا ہے: ”نفسانی اِنسان خُدا کا دُشمن ہے، … اور ہمیشہ سے ہمیشہ تک، رہے گا، سِوا اِس کے کہ وہ … مسِیح خُداوند کے کَفارہ کے وسِیلہ سے مُقدّس بن جائے، اور بچّے کی مانِند ہو، مُنکسر، … حلیم، … محبّت سے معمُور، … یعنی جَیسے کوئی بچّہ خُود کو باپ کے [حوالے] کرتا ہے۔“

اب، ظاہر ہے کہ بعض شِیرخوارگی کی جبلتوں کی ہم حوصلہ افزائی نہیں کرتے ہیں۔ پچِیس برس پہلے، میرے اُس وقت کے تین سالہ نواسے نے اپنی پانچ سالہ بہن کو بازُو پر کاٹا تھا۔ میرے داماد نے، اُس رات بچّوں کو دیکھتے ہُوئے، اپنی بیٹی کو مُعافی کے وہ سارے سبق سِکھا دِیے جو اُس کے ذہن میں آ سکتے تھے، اور یہ نتیجہ اخذ کِیا کہ اُس کے چھوٹے بھائی کو شاید یہ بھی معلُوم نہیں تھا کہ بازُو پر کاٹا جانا کَیسا محسُوس ہوتا ہے۔ بِنا سوچے سمجھے یہ پِدرانہ نصیحت تقریبا ایک منٹ، شاید ڈیڑھ منٹ تک موثّر رہی، جب تک کہ بچّوں کے بیڈ رُوم سے زور زور سے چیخنے کی آواز آئی، وہاں سے میری نواسی نے چِلا کر کہا، ”وہ اب جانتا ہے۔“

تو ہمیں یہ جو چھوٹی دُنیا ہے اُن کی زِندگی کی نیکیوں میں کیا دیکھنا چاہیے؟ وہ کون سی چِیز تھی جِس نے مورمن کی پُوری کِتاب میں سب سے زیادہ محبّت بھرے منظر میں مسِیح کو آنسو بہانے پر مجبُور کر دِیا تھا؟ یِسُوع کیا تعلِیم دے رہا تھا جب اُس نے آسمانی آگ کو بُلایا اور نِگہبان فرِشتوں نے اُن بچّوں کو گھیر لِیا، اور بڑوں کو حُکم دیا کہ ”[اپنے] چھوٹے بچّوں کو دیکھو“؟

ہم نہیں جانتے کہ یہ سب کِس چِیز کا باعث بنا، لیکن مُجھے یہ سوچنا ہوگا کہ اِس ماجرے کا تعلُق اُن کی پاکیزگی اور معصُومیت، اُن کی پَیدایشی فروتنی تھا، اور یہ ہماری زِندگیوں میں کیا برپا کر سکتا ہے۔

ہمارے مایُوسی کے ایّام کو کیوں ایک نبی نے ” باطِل ہی باطِل؛ سب کُچھ باطِل ہے“ کے زُمرہ میں رکھا ہے؟ اور اَیسا کیوں کر ہے کہ ”بنی نوع اِنسان کے بے سُود تصَوُّرات اور گھمنڈ“ وہ باتیں ہیں جو اُس بڑی اور وسِیع عِمارت کی عکاسی کرتی ہیں، جو لِحی کی رویا میں رُوحانی طور پر مُردہ ہیں۔ اور بنی ضورام، اَیسا گروہ جو اِنتہائی تکُبر سے دُعا مانگتا تھا؟ ایلما نے اُن کی بابت کہا، ”اے خُداوند، اپنے مُنہ سے وہ تُجھ سے [دُعا] کرتے ہیں، جب کہ وہ شیخی سے بِپھرے ہُوئے ہیں … دُنیا کی بے فائدہ چیزوں سے۔“

اِس کے برعکس، کیا بچّے کی دُعا سے بڑھ کر کوئی شَے زیادہ شِیریں، زیادہ پاکِیزہ، یا زیادہ فروتن ہے؟ اَیسا لگتا ہے کہ گویا جنت کمرے میں ہے۔ خُدا اور مسِیح اُن کے لِیے بڑے حقِیقی ہیں، لیکن دُوسروں کے لِیے بعد میں، اَیسا تجُربہ زیادہ تر سطحی ہو سکتا ہے۔

مثلاً ایلڈر رچرڈ ایل ایونز نے تقرِیباً 60 برس پہلے حوالہ دِیا تھا کہ: ”ہم میں سے بُہت سے لوگ مسِیحی ہونے کا تو دعویٰ کرتے ہیں، پھر بھی ہم … اُس کو سنجِیدگی سے نہیں اپناتے۔ … ہم اُس کی تعظِیم تو کرتے ہیں، لیکن اُس کی تقلِید نہیں کرتے۔ … ہم اُس کے نوِشتوں کا حوالہ تو دیتے ہیں، لیکن اُن کے مُطابق زِندگی بسر نہیں کرتے۔“ ”ہم اُس کی تعرِیف تو کرتے ہیں، لیکن اُس کی عِبادت نہیں کرتے۔“

زِندگی کتنی مُختلف ہو سکتی ہے اگر دُنیا یِسُوع کی بےہُودہ اَنداز میں وقتاً فوقتاً قَسمیں کھانے سے بڑھ کر اُس کی قدر کرے۔

لیکن بچّے واقعی اُس سے محبّت کرتے ہیں، اور وہ محبّت زِندگی کے میدان میں اُن کے دُوسرے رِشتوں میں لے جا سکتی ہے۔ اُصُولی طور پر، یعنی اُن کی کم سِنی میں بھی، بچّے بڑی آسانی سے پیار کرتے ہیں، بڑی آسانی سے مُعاف کرتے ہیں، اور اِتنی خُوشی سے ہنستے ہیں کہ شدِید ترین سرد اور سخت ترین دِل بھی موم ہو سکتا ہے۔

خیر، فہرست جاری رہتی ہے۔ پاکِیزگی؟ بھروسا؟ حوصلہ؟ سِیرت؟

میرے ایک نوجوان، بُہت پیارے دوست کی طرف سے خُدا کے حُضُور عاجزی کا مظاہرہ دیکھنے کے لِیے میرے ساتھ آئیں۔

ایسٹن ڈیرن جولی

5 جنوری، 2025—91 دِن پہلے—ایسٹن ڈیرن جولی کو ہارُونی کہانت عطا ہُوئی اور اُس کو کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام میں ڈیکن مُقرّر کِیا گیا تھا۔

جہاں تک ایسٹن کو یاد پڑتا ہے اُس کی دیرِینہ خواہش تھی کہ عِشائے ربانی کو تقسِیم کرنے میں حِصّہ لے۔ لیکن اِس مُقدّس موقع کے ساتھ ساتھ اُس پر خَوف چھایا ہُوا تھا کہ کہیں وہ ناکام نہ ہو جائے، کہیں وہ گِر نہ جائے، کہیں اُس کا مُذاق نہ اُڑایا جائے یا اُسے اور اُس کے خاندان کو شرمِندہ نہ ہونا پڑے۔

ایسٹن مُنفرد اور اِنتہائی مُہلک مرض میں مُبتلا ہے۔

آپ دیکھیں، ایسٹن مُنفرد اور انتہائی مُہلک مورُوثی اعصابی مرض میں مُبتلا ہے۔ اِس نے آہستہ آہستہ اُس کی نوجوان زِندگی کو شدِید مسائل سے بھر دِیا ہے جب کہ مُستقبل کے لِیے اُس کی اُمِّیدوں اور خوابوں کو چِکنا چُور کر دِیا ہے۔ وہ جلد ہی مُستقل طور پر وہیل چیئر پر ہو گا۔ اُس کے گھر والے اِس کے مُتعلق بات نہیں کرتے کہ اِس کے بعد اُس کا کیا بنے گا۔

اِتوار کو اپنی تقرّری کے بعد، 12 جنوری کو ایسٹن پہلی بار عِشائے ربانی تقسِیم کرے گا۔ اور اُس کا ذاتی خُفیہ جذبہ یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو اور اِن مُقدّس علامات کو اپنے والد کو پیش کر سکے، جو وارڈ کا بشپ تھا۔ اِس کام کا اَندازہ لگاتے ہُوئے اُس نے اِلتجا کی تھی اور مِنتیں کی تھیں، رو رو کر بھیک مانگی تھی، اِس بات کی ضمانت مانگی کہ کوئی بھی، کوئی بھی، اُس کی مدد کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ بُہت سی وجُوہات کی بِنا پر، اپنے تئیں، اُسے یہ تنہا اور بغیر مدد کے کرنا ضرُوری تھا۔

کاہن کے روٹی کو توڑنے اور اُسے برکت دینے کے بعد—مسِیح کے ٹُوٹے ہُوئے جِسم کی یادگار کو—ایسٹن، اپنے ٹُوٹے ہُوئے جِسم کے ساتھ، اپنی ٹرے وصُول کرنے کے لیے آگے لپکا۔ تاہم، عِبادت گاہ کے فرش سے اُوپر مِنبر تک تین بڑے زِینے تھے۔ لہٰذا، اپنی ٹرے حاصِل کرنے کے بعد، اُس سے جِتنا اُونچا ہو سکتا تھا آگے بڑھا اور اپنی ٹرے کو ہینڈریل کے اُوپر کی سطح پر رکھ دیا۔ پِھر اُونچی سیڑھیوں میں سے ایک زِینہ پر بیٹھ کر، دونوں ہاتھوں سے اُس نے اپنی دائیں ٹانگ کو پہلے زِینہ پر رکھ لِیا۔ پِھر اُس نے اپنی بائیں ٹانگ کو اِسی زِینہ پر رکھا، اور اِسی طرح وہ کرتا رہا، جب تک، وہ اپنی ذاتی تین زِینوں والی ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر نہ پُہنچ گیا۔

اُس کے بعد وہ جَیسے تَیسے کر کے لکڑی کے پائے تک پُہنچا جِس کے سہارے وہ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ وہ واپس ٹرے کی طرف بڑھا۔ چند قدم اور چل کر وہ بشپ، یعنی اپنے باپ، کے سامنے کھڑا ہو گیا جِس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور چہرے کو بھگو رہے تھے، اُس باہمت اور وفادار بیٹے کو گلے لگانے سے اپنے آپ کو روکنا پڑا۔ اور ایسٹن، خُوشی کے ساتھ اور اُس کے چہرے پر پَھیلی ہُوئی بڑی مُسکراہٹ نے، شاید یہ کہا ہو گا، ”جو کام [میرے باپ] نے مُجھے کرنے کو دِیا تھا اُس کو تمام کر کے مَیں نے [اُس کا] جلال ظاہِر کِیا۔“

اِیمان، وفاداری، پاکیزگی، اعتماد، وقار، اور آخِر میں، اُس باپ کے لِیے محبّت جِس کو وہ خُوش کرنا چاہتا تھا۔ یہ اور درجن بھر دُوسری خُوبیاں ہمیں یہ کہنے پر مجبُور کرتی ہیں، ”جو کوئی … اپنے آپ کو اِس بچّے کی مانِند چھوٹا بنائے گا وُہی آسمان کی بادِشاہی میں بڑا ہو گا۔“

بہنو اور بھائیو اور دوستو، سب سے خُوب صُورت تصویروں کی فہرست میں سب سے اُوپر مَیں جانتا ہُوں کہ وہ شِیر خوار،اور ننھے بچّے اور کم سِن ہیں اِسی طرح وہ باضمِیر اور بیش قِیمت ہیں جِن کا ہم نے آج حوالہ دِیا ہے۔ مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ وہ خُدا کی بادِشاہی کی تصوِیریں ہیں جو زمِین پر اپنی پُوری قُدرت اور خُوب صُورتی کے ساتھ پھلتی پھولتی ہیں۔

گواہی کے اِسی رُوح کے ساتھ، مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ اپنی نوعُمری میں، جوزف سمِتھ نے جو دیکھا وہی بتایا اُس نے دیکھا اور اُن سے ہم کلام ہُوا جِن کی بابت اُس نے کہا کہ وہ ہم کلام ہُوا۔ مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ فروتن اور سچّا رسل ایم نیلسن خُدا کا مُقرّر کردہ اور پُرفضل نبی اور رویا بین ہے۔ ساری عُمر مُسلسل مُطالعہ کرنے کے بعد، مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ مورمن کی کِتاب سب سے زیادہ فیض دینے والی کِتاب ہے جو مَیں نے آج تک پڑھی ہے اور بڑے بڑے بنگلوں کی بادِشاہی میری چھوٹی سی جھونپڑی کا کلِیدی پتّھر ہے۔ مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ کہانت اور دُعا میری زِندگی بحال کر رہی ہیں—یعنی مسِیح کی کہانت، اور آپ کی دُعائیں۔ مَیں جانتا ہُوں کہ یہ سب کُچھ سچّ ہے اور خُدا کے سب بیٹوں میں سب سے زیادہ وفادار اور فروتن کے نام پر آپ پر اِس کی گواہی دیتا ہُوں—الفا اور اومیگا، حق تعالیٰ مَیں ہُوں، مصلُوب، وفادار گواہ—یعنی خُداوند یِسُوع مسِیح، آمین۔

حوالہ جات

  1. مرقس 9:‏33۔

  2. مرقس 9:‏34۔

  3. دیکھیے لُوقا 9:‏47۔

  4. متّی 18:‏2–4۔

  5. مضایاہ 3:‏19۔

  6. 3 نیفی 17:‏23؛ مزید دیکھیے آیات 11-24۔

  7. واعِظ 1:‏2۔

  8. 1 نیفی 12:‏18۔

  9. ایلما 31:‏27۔

  10. جیمس ڈبلیو کلارک، سے ماخُوذ رچرڈ ایل ایونز، کانفرنس رپورٹ میں، اپریل 1965، 136۔ ایلڈر ایونز بیان کرتے ہیں کہ یہ اِقتباس ریڈیو واعظ سے آیا ہے جو ڈاکٹر جیمس ڈبلیو کلارک نے دِیا تھا۔ جِس کا حوالہ وِلیم ایچ ڈین فورتھ نے دِیا تھا۔

  11. کلارک، سے ماخُوذ رچرڈ ایل ایونز، کانفرنس رپورٹ میں، اپریل 1965، 136۔

  12. یُوحنّا 17:‏4۔ جیفری آر ہالینڈ کے ساتھ برائن اور چاریسا جولی کی بیان کردہ آپ بِیتی، جنوری 2025۔

  13. متّی 18:‏4۔

  14. دیکھیں مُکاشفہ 1:‏5۔