مجلسِ عامہ
اپنے دِلوں کو سخت نہ کرو
مجلسِ عامہ اپریل 2025


11:6

اپنے دِلوں کو سخت نہ کرو

اگر ہم خلُوصِ دِل سے توبہ کریں، خُود کو فروتن بنائیں، اور خُداوند پر بھروسا رکھیں اور توکل کریں، تو ہمارے دِل نرم ہو جائیں گے۔

یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کی بحالی اُس وقت شُروع ہُوئی جب خُدا باپ اور اُس کا پیارا بیٹا نوجوان جوزف سمِتھ پر، اُس کی فروتن دُعا کا جواب دینے کے لیے ظاہر ہُوئے۔ بحالی کے ایک مرحلہ کے طور پر، جوزف سمِتھ نے خُدا کی نعمت اور قُدرت کے وسیلے سے مورمن کی کِتاب کا ترجمہ کِیا۔ اِس نوشتے میں ”قدِیم اَمریکی باشِندوں کے ساتھ خُدا کے مُعاملات کا احوال درج ہے نِیز اَبَدی اِنجِیل کی مَعمُوری بھی شامِل ہے۔“

جب مَیں چھوٹا تھا، تو مَیں مورمن کی کِتاب پڑھتے ہُوئے، اکثر سوچتا تھا کہ لامن اور لیموئیل کیوں اُن سچّائیوں پر یقین نہیں کرتے تھے جو اُن کو دی گئی، حتیٰ کہ خُداوند کا فرشتہ اُن پر ظاہر ہُوا اور براہِ راست اُن سے کلام کِیا۔ لامن اور لیموئیل اپنے باپ، لحی، اور اپنے چھوٹے بھائی نیفی کی تعلیمات کے زیادہ فروتن اور فرماں بردار کیوں نہ ہو سکتے تھے؟

مَیں نے 1 نیفی، میں اِس سوال کا ایک جواب پایا، جس میں بیان کِیا گیا ہے کہ نیفی ”اُن کے دِلوں کی سختی کی وجہ سے غمگین تھا۔“ نیفی نے اپنے بڑے بھائیوں سے پُوچھا، ”تُمھارے دِل اِس قدر سخت اور تُمھاری عقل اِس قدر اَندھی کیوں کر ہُوئی؟“

سخت دِل ہونے سے کیا مراد ہے؟

مورمن کی کِتاب میں ”سختی“ کا کوریائی ترجمہ 완악 (Wan-Aak: 頑惡) ہے۔ یہ جُملہ چینی حرف ”وان“ (頑)، کا اِستعمال کرتا ہے، جِس کا مطلب ہے ”ضدی،“ اور ”آک“ (惡)، جس کا مطلب ہے ”شیطان۔“ جب ہم اپنے دِلوں کو سخت کرتے ہیں، تو ہم اندھے ہو جاتے ہیں، اور اچھی چیزیں ہمارے دِلوں یا ذہنوں میں نہیں آ سکتیں۔ ہم بضد ہو جاتے ہیں اور دُنیاوی خواہشات پر زیادہ توجہ مرکُوز کرنا شُروع کر دیتے ہیں، اور خُدا کے تابعدار نہیں رہتے۔ ہم دُوسروں کی رائے اور ہدایت کو قبول نہ کرتے ہُوئے صرف اپنے خیالات پر توجہ مرکُوز کرنے کا اِنتخاب کرتے ہیں۔ ہم خُدا کی باتوں کو ماننے کی بجائے دُنیاوی چیزوں اور شیطان کی باتوں کا اثر قبُول کرتے ہیں۔ جب ہمارے دِل سخت ہو جاتے ہیں، تو ہم رُوحُ القُدس کے اَثر کی مزاحمت کرتے ہیں۔ ہم ”خُداوند کو یاد رکھنے میں سُست ہو جاتے ہیں،“ اور وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ اُس کا کلام ”ماضی کا احساس“ بن جاتا ہے۔

ایلما نے عمونیاہ میں لوگوں کو سِکھایا کہ بعض ”اپنے دِلوں کی سختی کے باعث خُدا کے رُوح کو رَد کریں گے۔“ اُس نے یہ بھی سِکھایا کہ ”وہ جو اپنے دِلوں کو سخت کریں گے، اُنھیں کلام کا تھوڑا تھوڑا حِصّہ دیا جائے گا جب تک کہ وہ اُس کے بھیدوں کی بابت سمجھ سے محرُوم نہیں ہو جاتے۔“ آخر کار، رُوح دست بردار ہو جائے گا، اور خُداوند ”[اپنا] کلام لے جائے گا“ اُن سے جنھوں نے لامن اور لیموئیل کی مانند، اپنے دِلوں کو سخت کِیا ہے۔ چُوں کہ لامن اور لیموئیل نے مُسلسل اپنے دِل سخت رکھے، رُوحُ القُدس کے اثر کی مزاحمت کی، اور اپنے باپ اور نیفی کے کلام اور تعلیمات کو قبُول نہ کرنے کا اِنتخاب کِیا، اُنھوں نے خُدا کی طرف سے اَبَدی سچّائیوں کو مُکمل طور پر رَد کِیا۔

لامن اور لیموئیل کے برعکس، نیفی مُسلسل، خُداوند کے رُوح سے ہدایت کا خواہاں ہوتے ہُوئے خُود کو فروتن کرتا رہا۔ بدلے میں، خُداوند نے نیفی کے دِل کو نرم کِیا۔ نیفی نے بتایا کہ اُس نے ”خُداوند سے فریاد کی؛ اور وہ میرے پاس آیا، اور میرے دِل کو نرم کِیا کہ مَیں اپنے باپ کی ساری باتوں پر اِیمان رکھُوں۔“ خُداوند نے نیفی کو خُدا اور اُس کے کلام کے تمام بھیدوں کو قبول کرنے، سمجھنے اور اُن پر ایمان رکھنے میں مدد کی۔ نیفی رُوحُ القُدس کی دائمی رفاقت پانے کے قابل تھا۔

ہم اپنے دِلوں کو سخت نہ کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

اَوّل، ہم روزانہ توبہ کی مشق کر سکتے ہیں۔

ہمارے مُنّجی نے فرمایا، ”پس جو توبہ کرتا اور چھوٹے بچّے کی مانند میرے پاس آتا ہے، مَیں اُسے قبُول کرُوں گا۔“ ہمارے پیارے نبی، صدر رسل ایم نیلسن نے ہمیں سِکھایا:

”توبہ آگے بڑھنے کی کُنجی ہے۔ خالص اِیمان ہمیں عہد کے راستے پر آگے بڑھاتا رہتا ہے۔

”براہِ کرم توبہ میں تاخیر نہ کریں اور نہ ڈریں۔ شَیطان آپ کی بَد حالی پر خُوش ہوتا ہے۔ … نفسانی اِنسان سے کِنارہ کش ہونے کی خُوشی کا تجربہ آج سے شُروع کریں۔ نجات دہندہ ہمیشہ ہم سے محبّت کرتا ہے بلکہ بالخصُوص جب ہم توبہ کرتے ہیں۔“

جب ہم اپنے دِلوں کو نرم کرنے اور خُداوند کے پاس آنے کی خوشی کا تجربہ پاتے ہیں، تو ہم ”بچّے کی مانِند مُنکسر، حلیم، فروتن، صابر، محبّت سے معمُور، خُود کو اُن تمام چِیزوں کے حوالے کرنے کے لیے رضا مند جو خُداوند اُس پر لانا واجب سمجھتا ہے، یعنی جَیسے کوئی بچّہ خُود کو باپ کے حوالے کرتا ہے۔“

دوم، ہم فروتن بن سکتے ہیں۔

روزانہ توبہ ہمارے دِلوں میں فروتنی لاتی ہے۔ ہم خُداوند کے حضُور فروتن بننا چاہتے ہیں، جیسے چھوٹا بچّہ اپنے باپ کی فرماں برداری کرتا ہے۔ تب ہم اپنے ساتھ رُوحُ القُدس پائیں گے، اور ہمارے دِل نرم ہو جائیں گے۔

میری بیوی، سُو، اور مَیں گزشتہ چار سالوں سے ایک شان دار جوڑے کو جانتے ہیں۔ جب ہم شُروع میں اُن سے مِلے، تو شوہر کلِیسیا کا نیا رُکن تھا، اور اُس کی بیوی اِنجِیل کا مُطالعہ کرنے کے لیے مِشنریوں سے مِل رہی تھی۔ بُہت سے مِشنری اُس کو مسِیح کے پاس لانے میں مدد کے لیے اُس سے مِلے۔ ہم نے محسُوس کِیا کہ اُس کے پاس اِنجِیل کی پُرجوش گواہی ہے اور وہ جانتی تھی کہ کلِیسیا سچّی ہے۔ اُس نے اکثر ہماری مُلاقاتوں کے دوران رُوح کو محسُوس کِیا اور تمام عِبادتوں میں فعال طور پر شرکت کی۔ اُسے وارڈ کے شاندار اَراکین کے ساتھ بات چیت کرنا پسند تھا۔ تاہم، اُسے بپتِسما لینا مُشکل لگا۔ ایک روز وہ مرونی 7:‏43–44 پڑھ رہی تھی، جس میں لکھا تھا:

”اور پھر، دیکھو میں تم سے کہتا ہوں کہ وہ اِیمان اور اُمید حاصل نہیں کرسکتا سوائے اِس کے کہ وہ مُنکسرالمزاج، اور دل کا فروتن ہو۔

”اگر ایسا ہے تو، [تُمھارا] ایمان اور اُمید بےفائدہ ہے، کیوں کہ خُدا کے حضُور کوئی بھی قابلِ قبُول نہیں، سوائے مُنکسرالمزاج، اور دِل کے فروتن کے۔“

اِن آیات کو پڑھنے کے بعد، اُسے احساس ہُوا کہ اُسے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ اُس نے سوچا کہ اُسے حلیم اور فروتن ہونے کے معنی سمجھ آ گئے ہیں۔ تاہم، اُس کا فہم ابھی خُدا کے حُکموں پر عمل کرنے میں ایمان اور اُمید پانے کے لیے کافی نہیں تھا۔ اُسے اپنی ضِد اور اپنی حِکمت کو چھوڑنا تھا۔ اُس نے مُخلص توبہ کے ذریعے خُود کو فروتن کرنا شُروع کِیا۔ اُس نے خُدا کے تناظر میں فروتنی کو سمجھنا شُروع کِیا۔ اُس نے آسمانی باپ پر اِنحصار کِیا اور اپنے دِل کے نرم ہونے کے لیے دُعا کی۔ اِن دُعاؤں کے ذریعے، اُس نے رُوح کی گواہی محسُوس کی کہ آسمانی باپ چاہتا ہے کہ وہ بپتِسما لے۔

شوہر اور بیوی دونوں نے بتایا کہ وہ جِتنے زیادہ فروتن ہوتے گئے، اُتنے زیادہ وہ خُدا کے کلام کو سمجھتے گئے، اور اُن کے دِل ہمارے خُداوند یِسُوع مسِیح کی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے نرم ہُوئے۔

سوم، ہم اپنے نجات دہندہ پر بھروسا اور توکّل کر سکتے ہیں۔

نیفی خُداوند پر بھروسا کر کے اپنے دِل کو نرم ہونے کی اجازت دینے کی ایک عظیم مثال تھا۔ اُس نے سِکھایا، ”مَیں نے تُجھ پر توکّل کِیا ہے اور مَیں اَبد تک تُجھ پر بھروسا کروُں گا۔ مَیں بشر کے بازو پر بھروسا نہ کروُں گا۔“ اِسی طرح، نبی جوزف سمِتھ کو دِیے گئے مُکاشفہ میں خُداوند نے فرمایا، ”اُس رُوح پر بھروسا کر جو نیکی کی ترغیب دیتا ہے—ہاں، اِنصاف کرنے کی، حلیمی سے چلنے کی، راستی سے عدالت کرنے کی۔“ جب ہم خُداوند پر بھروسا کرتے ہیں اور اُس پر توکّل کرتے ہیں، تو وہ ہمارے دِلوں کو نرم کرے گا، اور ہم اپنی آزمایشوں، مصیبتوں، اور دُکھوں میں مدد پائیں گے۔

اگر ہم خلُوصِ دِل سے توبہ کریں، خُود کو فروتن بنائیں، اور خُداوند پر بھروسا رکھیں اور توکل کریں، تو ہمارے دِل نرم ہو جائیں گے۔ پھر وہ اپنا رُوح ہم پر اُنڈیلے گا اور ہمیں آسمان کے بھید دِکھائے گا۔ ہم اُن سب باتوں پر یقین کریں گے جو اُس نے سِکھائی ہیں، اور ہمارا فہم گہرا ہو گا۔

ہمارا نجات دہندہ، یِسُوع مسِیح فروتنی کی حتمی مثال تھا۔ 2 نیفی 31‏:7 میں ہم پڑھتے ہیں، ”وہ بنی آدم کو نمونہ دیتا ہے کہ، جِسم کے اعتبار سے بھی وہ باپ کے حُضُور اپنے تئیں فروتن بناتا ہے، اور باپ کو گواہی دیتا ہے کہ وہ اُس کے حُکموں کو ماننے میں اُس کا فرماں بردار رہے گا۔“ اگرچہ وہ پاک اور کامل تھا، اُس نے خُود کو باپ کے سامنے فروتن کِیا اور بپِتسما پا کر اُس کا فرماں بردار ہُوا۔

اپنی فانی زندگی کے اِختتام پر، یِسُوع مسِیح نے کڑوا پیالہ لے کر اپنی مرضی اپنے باپ کے سپُرد کی۔ اِس اذیت کی وجہ سے ”درد نے اُسے لرزا دِیا، اور اُس کے ہر مسام سے خُون بہہ نِکلا اور جِسم اور رُوح دونوں کو دُکھ اُٹھانا پڑا۔“ نجات دہندہ نے کہا کہ وہ ”یہ کڑوا پیالہ نہ پئے، اور پیچھے ہٹے۔“ ”تاہم،“ اُس نے کہا، ”باپ پُر جلال ہو، اور مَیں نے پیالہ پِیا اور بنی آدم کے لیے اپنی تیاری مُکمل کی۔“

بھائیو اور بہنو، ہمیں اخلاقی مُختاری دی گئی ہے۔ ہم اپنے دِلوں کو سخت کرنے کا اِنتخاب کر سکتے ہیں، یا ہم اپنے دِلوں کو نرم کرنے کا اِنتخاب کر سکتے ہیں۔ اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں، ہم اُن کاموں کو کرنے کا اِنتخاب کر سکتے ہیں جو خُداوند کے رُوح کو اپنے دِلوں میں آنے اور رہنے کی دعوت دیتے ہیں۔ مَیں جانتا ہُوں کہ اِن اِنتخابات میں، اطمینان اور خُوشی ہے۔

آئیں ہم اپنے نجات دہندہ، یِسُوع مسِیح کی مثال کی پیروی کریں، جس نے باپ کی مرضی پر عمل کِیا۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں، تو خُداوند نے ہم سے وعدہ کِیا ہے، ”پس، دیکھو، مَیں اُنھیں اِس طرح اکٹھا کروُں گا جیسے مُرغی اپنے چوزوں کو اپنے پروں تلے جمع کرتی ہے، اگر وہ اپنے دِلوں کو سخت نہ کریں گے۔“ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔