مجلسِ عامہ
”اِس سے سب جانیں گے کہ تُم میرے شاگِرد ہو“
مجلسِ عامہ اپریل 2025


15:5

”اِس سے سب جانیں گے کہ تُم میرے شاگِرد ہو“

خُدا اور اُس کے بچّوں کے لیے ہماری محبّت دُنیا کے لیے قوّی گواہی ہے کہ یہ واقعی نجات دہندہ کی کلِیسیا ہے۔

بُہت سال پہلے بہن اُکڈورف اور مَیں جنُوبی جرمنی کا سفر کر رہے تھے۔ یہ اِیسٹر سے عین پہلے تھا، اور ہم نے ایک اچھی دوست کو، جو کلِیسیا کی رُکن نہیں تھی، اپنی اِتوار کی عِبادت میں اپنے ساتھ شامِل ہونے کی دعوت دی۔ ہمیں اِس عزیز دوست سے پیار تھا، لہٰذا یہ بالکل طبعی اور فِطری تھا کہ ہم نے اُس کے ساتھ مُنّجی اور اُس کی کلِیسیا کی بابت اپنے احساسات کا تذکرہ کِیا اور اُسے آنے اور دیکھنے کی دعوت دی! اُس نے یہ دعوت قبُول کی اور قریبی برانچ کی عِبادات میں ہمارے ساتھ شامِل ہُوئی۔

اگر آپ کبھی کسی دوست کو پہلی بار چرچ لے کر گئے ہیں، تو شاید آپ اُس اِتوار کی صُبح میرے جذبات کو سمجھ سکتے ہیں۔ مَیں چاہتا تھا کہ سب کُچھ بالکل ٹھیک ہو۔ ہماری دوست اعلیٰ تعلیم یافتہ، رُوحانی شخصیت تھی۔ مَیں دِل سے اُمید کر رہا تھا کہ اِس برانچ کی عِبادات اُس پر اچھا تاثر چھوڑیں گی اور کلِیسیا کی بہترین نُمایندگی کریں گی۔

برانچ ایک کریانہ سٹور کی دُوسری منزل پر کرائے کے کمروں میں عِبادت کرتی تھی۔ وہاں جانے کے لیے، ہمیں عِمارت کے پچھلے حِصّے سے سیڑھیاں چڑھنی پڑتیں، جہاں ذخیرہ شُدہ اشیا کی تیز خُوشبُوئیں محسُوس ہوتی تھیں۔

جب عِشائے ربّانی کی عِبادت شُروع ہُوئی، تو مَیں اپنی دوست کے مُتعلق سوچ رہا تھا جو پہلی بار یہ سب کُچھ تجربہ کر رہی تھی، اور مَیں اُن چیزوں کو نظر انداز نہ کر سکا جو مُجھے تھوڑا شرمندہ کر رہی تھیں۔ مِثال کے طور پر، حمدوثنا، بالکل ٹیبرنیکل کوائر جیسی نہیں لگ رہی تھی۔ بےچین، شور مچاتے بچّے عِشائے ربّانی کی عِبادت کے دوران سُنے جا سکتے تھے۔ مُقررین نے اپنی بہترین کوشِش کی، مگر وہ عوامی خِطاب کرنے میں ماہر نہیں تھے۔ مَیں بڑی بےچینی سے عِبادت میں بیٹھا رہا، اِس اُمید کے ساتھ کہ شاید سنڈے سکُول بہتر ہو گا۔

اَیسا نہیں ہُوا۔

ساری صُبح مَیں فِکرمند رہا کہ ہماری دوست اِس کلِیسیا کے مُتعلق کیا سوچ رہی ہو گی جہاں ہم اُسے لے آئے تھے۔

اِس کے بعد، جب ہم گھر واپس روانہ ہُوئے، تو مَیں نے بات کرنے کے لیے اپنی دوست کی طرف رُخ کِیا۔ مَیں وضاحت کرنا چاہتا تھا کہ یہ محض ایک چھوٹی سی برانچ تھی اور یہ واقعی پُوری کلِیسیا کی نُمایندگی نہیں کرتی۔ لیکن اِس سے پہلے کہ مَیں کُچھ کہتا، وہ خُود ہی بول پڑی۔

”یہ بُہت خُوب صُورت تھا،“ اُس نے کہا۔

مَیں دَم بَخود رہ گیا۔

اُس نے بات جاری رکھتے ہُوئے کہا، ”مَیں اِس بات سے بُہت مُتاثر ہُوئی کہ آپ کی کلِیسیا میں لوگ ایک دُوسرے کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں۔ وہ سب مُختلف پسِ منظر سے لگ رہے تھے، اور پھر بھی یہ واضح ہے کہ وہ حقیقت میں ایک دُوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ مَیں تصور کرتی ہُوں کہ مسِیح اپنی کلِیسیا کو اَیسا ہی دیکھنا چاہتا تھا۔“

خیر، مَیں نے فوری طور پر اپنے تنقیدی رویے سے توبہ کی۔ مَیں چاہتا تھا کہ عِبادات بالکل کامِل ہوں تاکہ اپنی دوست کو مُتاثر کر سکُوں۔ لیکن اِس برانچ کے اَرکان نے جو حاصِل کِیا تھا وہ دِل کو چھُو جانے والی محبّت، شفقت، صبروتحمل، اور ہمدردی کی رُوح تھی۔

کہ زمین پر اِیمان بڑھے

میرے پیارے بھائیو اور بہنو، میرے عزیز دوستو، مَیں کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام سے محبّت کرتا ہُوں۔ یہ مُنّجی کی سچّی اور زِندہ کلِیسیا ہے، اور یہ یِسُوع مسِیح کی بحال شُدہ اِنجِیل کی معمُوری کی تعلیم دیتی ہے۔ اُس کی کہانت کی قُدرت اور اِختیار یہاں سکونت کرتا ہے۔ یِسُوع مسِیح اِس کلِیسیا کی شخصی طور پر راہبری فرماتا ہے، اُن خُدّام کے وسیلے سے جن کو اُس نے بُلایا اور اِختیار بخشا ہے، اور ایک زِندہ نبی، یعنی رسل ایم نیلسن کے وسیلہ سے۔ مُنّجی نے مُقدّسِینِ آخِری ایّام کو اُمّتِ خُدا کو اِکٹھا کرنے اور دُنیا کو نجات دہندہ کی آمدِ ثانی کے لیے تیار کرنے کا منفرد مِشن عطا کِیا ہے۔ مَیں اپنی گواہی دیتا ہُوں کہ یہ سب کُچھ سچ ہے۔

لیکن یہ یاد رکھنا اَہم ہے کہ جب زیادہ تر لوگ پہلی بار کلِیسیائے یِسُوع مسِیح کا تجربہ کرتے ہیں، تو وہ کہانتی اِختیار یا رُسُوم یا اِسرائیل کو اِکٹھا کرنے کے مُتعلق نہیں سوچ رہے ہوتے۔ سب سے بڑھ کر، وہ جس بات پر دھیان دیں گے، وہ یہ ہے کہ جب وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں تو کیسا محسُوس کرتے ہیں اور ہم ایک دُوسرے کے ساتھ کیسا سلُوک کرتے ہیں۔

”ایک دُوسرے سے محبّت رکھو،“ یِسُوع نے فرمایا۔ ”اِس سے سب جانیں گے کہ تُم میرے شاگِرد ہو۔“ اکثر اوقات، یِسُوع مسِیح کی بابت کسی شخص کی پہلی گواہی تب آتی ہے جب وہ یِسُوع مسِیح کے شاگِردوں کے درمیان محبّت محسُوس کرتا یا کرتی ہے۔

مُنّجی نے اِعلان کِیا کہ اُس نے اپنی کلِیسیا کو بحال کِیا ”کہ … زمین پر اِیمان بڑھے۔“ اِس واسطے، جب لوگ ہماری کلِیسیائی عِبادات میں شامِل ہوتے ہیں، تو نجات دہندہ چاہتا ہے کہ وہ اُس پر مزید مضبُوط اِیمان کے ساتھ واپس جائیں! ہمارے دوست جو محبّت ہمارے درمیان محسُوس کرتے ہیں وہ اُنھیں یِسُوع مسِیح کی قُربت میں لے جائے گی! جب بھی ہم اِکٹھے ہوتے ہیں تو یہی ہمارا سادہ سا مقصد ہوتا ہے۔

جو کوئی بھی مسِیح پر زیادہ اِیمان یا آسمانی باپ سے قریبی تعلق کا خواہاں ہے اُسے کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام میں اپنے گھر جیسا احساس ہونا چاہیے۔ اُنھیں اپنی عِبادات میں مدعُو کرنا اُتنا ہی طبعی اور اُتنا ہی فِطری ہو سکتا ہے جتنا اُنھیں اپنے گھروں میں دعوت دینا۔

مِثالی اور حقیقی

اَب، مُجھے احساس ہُوا کہ مَیں مِثالی کو بیان کر رہا ہُوں۔ اور اِس فانی زِندگی میں، ہمیں کبھی کبھار ہی مِثالی کا تجربہ حاصِل ہوتا ہے۔ اور اُس ”کامِل دِن کے آنے تک،“ مِثالی اور حقیقی کے درمیان ہمیشہ ایک فرق رہے گا۔ پَس، ہمیں کیا کرنا چاہیے جب کلِیسیا کامِل دِن کی طرح محسُوس نہ ہو؟ جب، کسی بھی وجہ سے، ہماری وارڈ اَبھی تک کامِل اِیمان یا محبّت کو پروان نہیں چڑھا پائی؟ یا جب یہ محسُوس ہو کہ ہم اِس کا حِصّہ نہیں بن پا رہے؟

ایک کام جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے وہ مِثالی کے لیے ہمت ہارنا ہے!

مورمن کی کِتاب کے صفحہِ عُنوان میں یہ اَہم انتباہ شامِل ہے: ”اَب اگر کوئی خامیاں ہیں،“ اِس میں تحریر ہے، ”تو اِنسان کی غلطیاں ہیں، پَس، خُداوند کے کاموں کو رَدّ مت کرنا۔“

کیا کسی کِتاب—یا کلِیسیا یا کسی شخص—میں ”خامیاں“ اور ”غلطیاں“ ہو سکتی ہیں اور پھر بھی وہ خُدا کا کام ہو سکتا ہے؟

میرا جواب زوردار ہاں ہے!

لہٰذا، جب ہم خُود کو خُداوند کے اعلیٰ معیارات پر قائم رکھتے ہیں، تو آئیے ہم ایک دُوسرے کے ساتھ صبروتحمل کے ساتھ پیش آئیں۔ ہم میں سے ہر کوئی کارِ زیرِ تکمیل ہے، اور ہم سب اپنی ہر پیش رفت کے لیے نجات دہندہ پر توّکل کرتے ہیں۔ یہ بات ہم پر اِنفرادی طور پر صادق اُترتی ہے، اور زمین پر خُدا کی بادشاہی کے لیے بھی صادق آتی ہے۔

خُداوند ہمیں نہ صِرف اپنی بادشاہی میں شامِل ہونے بلکہ بےتابی سے اِس کی تعمیر میں مشغُول ہونے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ خُدا ایک اَیسی اُمّت کا تصور کرتا ہے جو ”یک دِل اور یک ذہن ہو۔“ اور یک دِل ہونے کے لیے، ہمیں پاک دِل کے طالِب ہونا چاہیے، اور اِس کے لیے دِل کی بُہت بڑی تبدیلی کی ضرُورت ہوتی ہے۔

مگر اِس کا مطلب اپنے دِل کو آپ کے موافق تبدیل کرنا نہیں ہے۔ نہ ہی اِس کا مفہُوم یہ ہے کہ آپ کا دِل میرے دِل کے مُطابق بدل جائے۔ اِس سے مُراد یہ ہے کہ ہم سب اپنے دِلوں کو مُنّجی کے مُوافق تبدیل کریں۔

اگر ہم اَبھی تک اُس کے مُوافق نہیں ہیں، تو یاد رکھیں: خُداوند کی مدد سے، کُچھ بھی نامُمکن نہیں ہے۔

حِصّہ بننا اور وابستگی

اور اگر آپ کبھی یہ محسُوس کریں کہ آپ اِس کا حِصّہ نہیں بن پا رہے، تو براہِ کرم جانیں کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ کیا ہم سب زِندگی کی اَیسی صُورتِ حالوں سے نہیں گُزرے جب ہم نے کمرے میں اپنے آپ کو اجنبی محسُوس کِیا ہو؟ مَیں نے اِس کا تجربہ ایک سے زائد بار کِیا ہے۔ جب مَیں 11 برس کا تھا، تو میرے خاندان کو اپنا گھر چھوڑنے اور ایک انجان عِلاقے میں مُنتقل ہونے پر مجبُور کِیا گیا۔ ہر چیز اِس سے مُختلف تھی جس کا مَیں عادی تھا۔ اور میرے لہجے نے دُوسرے بچّوں پر یہ واضح کر دِیا کہ مَیں اُن سے مُختلف تھا جن کے وہ عادی تھے۔ اَیسے وقت میں جب مُجھے دوستی اور وابستگی کی اَشد ضرُورت تھی، تو مَیں نے خُود کو تنہا اور بے گھر محسُوس کِیا۔

زمین پر، زیادہ تر تفرقات جو ہم محسُوس کرتے ہیں—اور جنھیں ہم میں سے بعض لوگ ایک دُوسرے کی درجہ بندی کرنے کے لیے اِستعمال کرتے ہیں—اُن کا تعلق دُنیاوی چیزوں سے ہوتا ہے: یعنی جسمانی شکل و صُورت، قومیت، زُبان، لِباس، رسم و رِواج، وغیرہ۔ کیوں کہ ”خُداوند اِنسان کی مانِند نظر نہیں کرتا۔ اِنسان ظاہری صُورت کو دیکھتا ہے، پر خُداوند دِل پر نظر کرتا ہے۔“

اُس کے نُقطہِ نظر سے، فقط ایک قِسم ہے جو سب سے افضل ہے: طِفلِ خُدا ہونا۔ اور ہم سب کُلی طور پر اِس پر پورا اُترتے ہیں۔

یہ فِطری بات ہے کہ ہم اُن لوگوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں جو ہماری طرح نظر آتے، بولتے، عمل کرتے، اور سوچتے ہیں۔ یہ کچھ حد تک دُرُست ہے۔

مگر نجات دہندہ کی کلِیسیا میں، ہم خُدا کی ساری اولاد کو اِکٹھا کرتے ہیں جو جمع ہونے کے لیے آمادہ اور سچّائی کے مُتلاشی ہوتے ہیں۔ یہ ہماری جسمانی شکل و صُورت، ہمارے سیاسی نظریات، ہماری ثقافت، یا ہماری نسل نہیں ہے جو ہمیں اِکٹھا کرتی ہے۔ یہ ہمارا مُشترکہ پسِ منظر نہیں ہے جو ہمیں مُتحد کرتا ہے۔ یہ ہمارا مُشترکہ مقصد ہے، اپنے خُدا کے واسطے ہماری محبّت اور اپنے پڑوسی کے لیے ہماری محبّت، یِسُوع مسِیح اور اُس کی بحال شُدہ اِنجِیل سے ہماری وابستگی ہے۔ ہم ”مسِیح میں ایک“ ہیں۔

جس اِتحاد کے ہم طلب گار ہیں وہ یہ نہیں ہے کہ ہر کوئی ایک جگہ کھڑا ہو؛ بلکہ یہ ہے کہ سب کا رُخ ایک ہی سِمت میں ہو—یِسُوع مسِیح کی جانب۔ ہم اِس لیے ایک نہیں ہیں کہ ہم کہاں رہتے ہیں بلکہ اِس لیے کہ ہم کہاں جانے کی کاوش کر رہے ہیں، اِس لیے نہیں کہ ہم کون ہیں بلکہ اِس لیے کہ ہم کیا بننے کے طلب گار ہیں۔

یہی مسِیح کی سچّی کلِیسیا کا مقصد بھی ہے۔

ایک بدن

اگر آپ خُدا سے پیار کرتے ہیں، اگر آپ اُس کے بیٹے کی پیروی کرتے ہُوئے اُس کو بہتر طور پر جاننا چاہتے ہیں، تو پھر آپ کا تعلق یہیں سے ہے۔ اگر آپ دِل سے نجات دہندہ کے حُکموں پر عمل کرنے کے مُشتاق ہیں—اگرچہ آپ اِس میں اَبھی تک کامِل نہیں ہیں—پھر بھی آپ کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے لیے بالکل موزُوں ہیں۔

اور اگر آپ اپنے اِردگِرد کے لوگوں سے مُختلف ہیں تو پھر کیا؟ یہ آپ کو غیر موزُوں نہیں بناتا—بلکہ یہ آپ کو مسِیح کے بدن کا ضرُوری حِصّہ بناتا ہے۔ مسِیح کے بدن میں سب کی ضرُورت ہے۔ کان اُن چیزوں کو محسُوس کرتے ہیں جو آنکھیں کبھی نہیں کر سکتیں۔ پاؤں وہ کام کرتے ہیں جن میں ہاتھ کبھی مؤثر نہیں ہوتے۔

اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا کام ہر ایک کو اپنی مانِند بدلنا ہے۔ مگر اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس اپنا حِصّہ ڈالنے کے لیے کُچھ اَہم ہے—اور یہ کہ آپ کے پاس سیکھنے کے لیے بھی کُچھ اَہم ہے!

یک آواز

مجلسِ عامہ کی ہر عِبادت میں، ہم باصلاحیت کوائر کی اَثر اَنگیز حمدوثنا سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ جب آپ سُنتے ہیں، تو آپ محسُوس کر سکتے ہیں کہ سب گلوکار ایک ہی لَے میں نہیں گاتے۔ بعض اوقات ایک گروہ مرکزی دھُن گاتا ہے، اور کبھی دُوسرا۔ مگر وہ سب مِل کر ایک خُوب صُورت آواز بنتے ہیں، اور وہ مُکمل طور پر مُتحد ہوتے ہیں۔ کوائر کے ہر رُکن کا ایک ہی مرکزی مقصد ہے: خُدا کی حمدوثنا کرنا اور اپنے دِلوں کو اُس کی طرف راغب کرنا۔ ہر ایک کا ذہن اور دِل اِسی ایک اِلہٰی مقصد پر مرکُوز ہونا چاہیے۔ اور جب اَیسا ہوتا ہے، تو وہ واقعی یک آواز ہو جاتے ہیں۔

اگر آپ اَبھی تک کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے رُکن نہیں ہیں، تو ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ نجات دہندہ کے ”مُخلصی بخش محبّت کے گیت“ میں شادمان ہوں۔ ہمیں آپ کی ضرُورت ہے۔ ہم آپ سے پیار کرتے ہیں۔ آپ کی کاوِشوں کے ساتھ کلِیسیا خُداوند اور اُس کے بچّوں کی بہتر خِدمت کرنے کے قابل ہو گی۔

اگر آپ نے پہلے ہی بپتِسما کے ذریعے، خُدا کے ساتھ عہُود باندھنے کے ذریعے، ”خُدا کے گلّے میں آنے، اور اُس کے لوگ کہلانے،“ کی اپنی خواہش کا اِظہار کِیا ہے اِس عظیم اور اِلہٰی کام کا حِصّہ بننے اور کلِیسیائے یِسُوع مسِیح کو ویسی جیسی نجات دہندہ چاہتا ہے بنانے میں مدد کرنے کے لیے آپ کا شُکریہ۔

جیسا کہ مَیں نے جرمنی میں اپنی دوست سے سیکھا، خُدا اور اُس کے بچّوں کے لیے ہماری محبّت دُنیا کے لیے قوّی گواہی ہے کہ یہ واقعی نجات دہندہ کی کلِیسیا ہے۔

خُدا ہمیں برکت دے تاکہ ہم صبر اور جاں فِشانی کے ساتھ اُن مِثالوں کے مُطابق جینے کی کوشِش کریں جو ہمارے مُنّجی، مُخلصی دینے والے، اور مالِک نے ہمارے واسطے مُقرر کی ہیں—تاکہ سب جان جائیں کہ ہم اُس کے شاگِرد ہیں۔ یِسُوع مسِیح کے مُقدّس نام پر، آمین۔

حوالہ جات

  1. یُوحنّا 13:‏34–35، نیو کِنگ جیمز ورژن۔

  2. عقائد اور عہُود 1:‏21۔

  3. دیکھیں عقائد اور عہُود 46:‏5–6۔

  4. عقائد اور عہُود 50:‏24۔

  5. مُوسیٰ 7:‏18۔

  6. دیکھیں عقائد اور عہُود 97:‏21۔

  7. دیکھیں ایلما 5:‏14۔

  8. دیکھیں لُوقا 1:‏37۔

  9. 1 سموئیل 16:‏7،نیا انگریزی ترجمہ۔

  10. دیکھیں رسل ایم نیلسن، ”اَبَدیت کے لیے اِنتخابات“ (نوجوان بالغِین کے لیے عالم گیر عِبادت، 15 مئی، 2022)، گاسپل لائبریری۔

  11. گلتیوں 3:‏28۔

  12. دیکھیں عقائد اور عہُود 6:‏36۔

  13. دیکھیں 1 کرنتھیوں 12:‏12–27۔ مسِیح کے بدن میں، ہم اِختلافات کو نظر اَنداز نہیں کرتے، اور نہ محض اُنھیں برداشت کرتے ہیں۔ ہم اِس مُنفرد شراکت کے لیے شُکرگُزار ہیں جو ہر رُکن پُورے بدن کی ترقی کے لیے کرتا ہے۔

  14. جس طرح کان کا بدن کو دیکھ کر یہ کہنا غلط ہو گا کہ ”مَیں آنکھ نہیں، اِس لیے بدن کا نہیں تو وہ اِس سبب سے بدن سے خارج تو نہیں،“ اِسی طرح آنکھ کا کان سے یہ کہنا بھی یکساں طور پر غلط ہو گا کہ، ”تُم میرے جیسے نہیں ہو؛ ہمیں تُمھاری ضرُورت نہیں“ (1 کرنتھیوں 12:‏16، 21

  15. ایلما 5:‏26۔

  16. مُضایاہ 18:‏8۔ جب ہم بپتِسما لیتے ہیں، تو ہم گواہی دیتے ہیں، کہ دیگر باتوں کے عِلاوہ، ہم اَیسی اُمّت کا حِصّہ بننا چاہتے ہیں جو ”ایک دُوسرے کا بوجھ اُٹھاتے ہیں“ اور ”ماتم کرنے [والوں] کے ساتھ ماتم کرتے ہیں“ اور ”اُنھیں تسلّی دیتے ہیں جِنھیں تسلّی کی ضرُورت ہے“ (آیات 8–9)۔ دُوسرے الفاظ میں، جب ہم کلِیسیائے یِسُوع مسِیح میں شامِل ہوتے ہیں، تو ہم—فروتنی سے مگر واضح طور پر—کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم مزید اپنے محبُوب مُنّجی کی مانِند بننا چاہتے ہیں، اور ہم یہ سب مِل کرنا چاہتے ہیں۔