یِسُوع مسِیح کا کَفارہ حقِیقی رہائی دِلاتا ہے
جب ہم دُنیا کے نجات دہندہ یِسُوع مسِیح کی طرف رُجُوع لاتے ہیں، تو وہ ہمیں اپنے کَفارہ کے وسِیلہ سے زِندگی کے طُوفانوں سے بچاتا ہے۔
یِسُوع مسِیح کا کَفارہ اُن آزمایشوں سے حقِیقی رہائی دِلاتا ہے جِن سے ہم اِس زِندگی میں دوچار ہوتے ہیں۔ صدر رسل ایم نیلسن نے گُزشتہ برس کے آخِر میں کیسپر وائیومنگ ہَیکل کی تخصیص کی ذِمہ داری مُجھے سوںپی۔ یہ نہایت گہرا، جذباتی اور رُوحانی تجربہ تھا۔ اِس نے واضح طور پر نجات دہندہ کے کفارہ کے وسِیلہ سے خُدا کی اُمّت کو رہائی دِلانے میں ہَیکلوں کے کِردار کے بارے میں توجہ دِلائی۔
کیسپر وائیومنگ ہَیکل کے ضلع میں سٹیکس کے رقبہ کا کُچھ حِصّہ اُس گُزرگاہ پر مُشتمل ہے جو مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے علم برداروں نے 1847 اور 1868 کے دوران میں اِستعمال کِیا تھا۔ ہَیکل کی تخصیص کی تیاری کے دوران میں، مَیں نے کیسپر کے قریب دریائے پلیَٹ کے ساتھ ساتھ سالٹ لیک سٹی تک جانے والی گُزرگاہ کی تارِیخ کو دوبارہ پڑھا۔ یہ گُزرگاہ سینکڑوں ہزاروں مغربی مہاجرین کے لیے شارعِ عام بن گئی تھی۔ میری بھرپُور توجہ کا مرکز 60،000 سے زیادہ مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے علم بردار تھے جن کا سفر اِس گُزر گاہ سے ہُوا تھا۔
ہمارے زیادہ تر علم بردار چھکڑوں پر آئے تھے، لیکن 10 قافلوں میں 3،000 نے ہاتھ گاڑیوں سے سفر طے کِیا۔ اُن میں سے آٹھ ہاتھ گاڑی والے قافلوں نے چند ہلاکتوں کے سِوا بڑی کام یابی اور خیر و عافِیت سے سفر طے کِیا۔ 1856 کے وِلی اور مارٹن ہاتھ گاڑی والے قافلے غیر معمُولی تھے۔
مَیں نے وِلی اور مارٹن ہاتھ گاڑی والے قافلوں کی رُوداد کو پڑھا ہے جِس وقت بڑے شدِید موسمی حالات شرُوع ہُوئے تھے۔ مَیں سویٹ واٹر ریور، مارٹنز کوہ، راکی رِج، اور راک کرِیک ہَولو کو عبور کرنے پر درپیش مُشکلات سے بخوبی واقف ہو گیا۔
Between Storms، اَز البِن وسیلکا
مَیں تخصِیص سے پہلے کیسپر ہَیکل کے اندر نہیں گیا تھا۔ جب مَیں دلان میں داخل ہُوا، تو میری توجہ فوراً ہاتھ گاڑی کی اصلی پینٹنگ کی طرف مبذول ہُوئی جس کا عُنوان تھا Between Storms۔ پینٹنگ کا مقصد واضح طور پر پیش آنے والے حادثوں کی عکاسی کرنا نہیں تھا۔ جب مَیں نے اِس کو بہ غور دیکھا، تو مَیں نے سوچا، ”یہ پینٹنگ درست ہے؛ ہاتھ گاڑی والے علم برداروں کی اکثریت نے حادثوں کا سامنا نہیں کِیا تھا۔“ مَیں یہ سوچنے پر مجبُور ہو گیا کہ یہ عام زِندگی کی مانِند ہے۔ کبھی ہم طُوفانوں کے بِیچ میں ہوتے ہیں اور کبھی بادلوں میں اور دھوپ میں۔
ہیونز پورٹل، از جِم وِلکاکس
جب مَیں دُوسری دیوار پر اصل پینٹنگ کی طرف متوجہ ہُوا، جِس کا عُنوان تھا ہیونز پورٹل، تو مَیں نے محسُوس کِیا کہ موسمِ گرما کی یہ خُوب صُورت پینٹنگ جسے ”ڈیولز گیٹ“ کہا جاتا ہے، اِس میں پُرسکُون اور شفاف بہتا ہُوا سویٹ واٹر ریور خُداوند کی تخلِیق کا شاہ کار پیش کر رہا تھا، نہ کہ صرف اُن مُشکلات کو جو سردیوں کے اُس خوف ناک موسم میں پیش آئی تھیں۔
پھر مَیں اِستقبالیہ ڈیسک سے آگے بڑھا، اور نجات دہندہ کی خُوب صُورت پینٹنگ دیکھی۔ اِس نے فوری طور پر تشکُر کے جذبات کو جگا دیا۔ خُوب صُورتی کی اِس دُنیا میں، بےشُمار مسائل بھی ہیں۔ جب ہم دُنیا کے نجات دہندہ یِسُوع مسِیح کی طرف رُجُوع لاتے ہیں، تو وہ ہمیں باپ کے منصُوبہ کے مُطابق اپنے کفارہ کے وسِیلہ سے زِندگی کے طُوفانوں سے بچاتا ہے۔
میرے نزدِیک، دلان ہَیکل کی رُسُوم کے لیے بہترین تیاری تھی جو ہمیں سرفرازی کی رُسُوم پانے، پاک عہُود باندھنے، اور نجات دہندہ کے کفارہ کی برکات کو مکمل طور پر قبُول کرنے اور احساس پانے کی اِجازت دیتی ہے۔ باپ کا خُوشی کا منصُوبہ نجات دہندہ کے کفارہِ نجات پر مبنی ہے۔
علم برداروں کی رُوداد مُقدّسِینِ آخِری ایّام کو ایک مُنفرد تاریخی روایت اور مضبُوط اِجتماعی رُوحانی میراث فراہم کرتی ہے۔ بعض لوگوں کے لیے، میزوری اور ناووہ سے زبردستی جلاوطنی کے بعد ہجرت کرنے پر برسوں لگ گئے تھے۔ دُوسروں کے لیے یہ اُس وقت شرُوع ہو گئی جب صدر بریگھم ینگ نے ہاتھ گاڑی کے منصُوبہ کا اِعلان کِیا، جِس کا مقصد ہجرت کو مزید قابلِ رسائی بنانا تھا۔ ہاتھ گاڑیاں، بگھیوں اور بیل گاڑیوں کی نسبت زیادہ سستی تھیں۔
اِنگلینڈ میں ایک مُناد، مِلن اَیٹ ووڈ، نے کہا جب ہاتھ گاڑی کے منصُوبہ کا اِعلان کیا گیا، تو ”یہ جنگل میں آگ کی طرح پھیلا، اور غریب مُقدّسِین کے دِل خُوشی اور شادمانی کے مارے اُچھل پڑے۔“ بُہتیروں نے ”شب و روز لگاتار دُعا مانگی اور روزے رکھے، تاکہ اُنھیں پہاڑی عِلاقہ میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اِکٹھے ہونے کا موقع مِل سکے۔“
زیادہ تر ہاتھ گاڑی والے مُقدّسِین نے مُشکلات کا سامنا کیا لیکن بڑے نقصان دہ واقعات سے گُریز کیا۔ لیکن دو ہاتھ گاڑی والے قافلوں، یعنی وِلی اور مارٹن کے قافلوں، کو فاقہ کشی، شدِید سرد برفیلے موسم، اور بُہت سی اَموات کا سامنا کرنا پڑا۔
اِن میں سے زیادہ تر مسافر مئی 1856 میں لیورپول، انگلینڈ سے دو جہازوں پر سوار ہُوئے۔ وہ جُون اور جُولائی میں آئیووا سٹی میں ہاتھ گاڑی کا سامان فراہم کرنے والی جگہ پر پُہنچے۔ مُتنبہ کرنے کے باوجُود، دونوں قافلے موسمی لحاظ سے بڑی دیر کے بعد سالٹ لیک ویلی کے لِیے روانہ ہُوئے۔
صدر بریگھم ینگ پہلی بار اِن قافلوں کی خطرناک صُورتِ حال سے 4 اکتوبر 1856 کو آگاہ ہُوئے۔ اَگلے دِن وہ سالٹ لیک سٹی میں مُقدّسِین کے سامنے کھڑے ہوئے اور کہا، ”ہمارے بُہت سے بھائی اور بہنیں ہاتھ گاڑیوں کے ساتھ میدانی علاقوں میں ہیں، … اور اُنھیں ضرُور یہاں لانا ہے؛ ہمیں ضرُور اُنھیں امداد بھیجنی ہے … اِس سے پہلے کہ موسمِ سرما شرُوع ہو جائے۔“
اُنھوں نے بشپ صاحبان سے 60 خچروں کی جوڑیاں، 12 یا اِس سے زیادہ بگیاں، اور 12 ٹن (10،886 کلو گرام) آٹا فراہم کرنے کو کہا اور اِعلان کِیا کہ، ”جاؤ اور اب اُن لوگوں کو میدانی عِلاقے میں سے لے آؤ۔“
وِلی اور مارٹن ہاتھ گاڑی والے قافلوں میں علم برداروں کی مُشترکہ تعداد تقریباً 1،100 تھی۔ اِن پیارے مُقدّسِین میں سے کوئی 200 کے قرِیب راستے میں اِنتقال کر گئے۔ بروقت مدد نہ پُہنچتی تو اور بُہت سے لوگ ہلاک ہو جاتے۔
پہلی امدادی ٹیم کے سالٹ لیک سٹی سے نِکلنے کے تقریباً دو ہفتے بعد برفانی طُوفانوں کا سِلسِلہ شرُوع ہو گیا۔ وِلی اور مارٹن قافلوں کے اَرکان کی آپ بِیتیاں طُوفانی آغاز کے بعد کی تباہ کُن مُصِیبتوں کو بیان کرتی ہیں۔ یہ آپ بِیتیاں اُس بُہت بڑی خُوشی کو بھی بیان کرتی ہیں جب مددگار پُہنچے۔
آمد کے منظر کو بیان کرتے ہُوئے، میری حورّین نے کہا، ”آدمیوں کے گالوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اور بچّے خُوشی سے ناچ رہے تھے۔ جیسے ہی لوگوں نے اپنے جذبات پر قابُو پایا، سب نے برف میں گھٹنے ٹیک دیے اور خُدا کا شُکر ادا کِیا۔“
دو دِن بعد، وِلی قافلے کو برفانی طُوفان میں، راکیرِج کے اُوپر سے گُزرتے ہُوئے، راستے کا سب سے مُشکل حِصّہ طے کرنا پڑا۔ اُن میں سے سب سے پِیچھے والے اگلی صبح 5:00 بجے تک کیمپ نہیں پہنچے۔ تیرہ لوگ اِنتقال کر گئے اور اُنھیں اِجتماعی قبر میں دفن کِیا گیا۔
7 نومبر کو، وِلی قافلہ سالٹ لیک ویلی کے قریب پُہنچ رہا تھا، لیکن اُسی صبح، تین اموات ہو گئیں۔ دو دِن بعد، وِلی قافلہ بالآخر سالٹ لیک پُہنچا، جہاں اُن کا شان دار اِستقبال کِیا گیا اور اِن کا اِستقبال مُقدّسوں کے گھروں میں کِیا گیا۔
اُسی دِن، مارٹن قافلہ ابھی بھی 325 میل (523 کلومیٹر) پیچھے گُزر گاہ پر، سردی اور خُوراک کی کمی کا شِکار تھا۔ چند دِن پہلے، اُنھوں نے سویٹ واٹر ریِور کو عبُور کِیا تھا جِس کو اب مارٹنز کوو کہا جاتا ہے، جہاں اُنھیں فطرت کے اَثرات سے تحفُظ مِلنے کی اُمِّید تھی۔ علم برداروں میں سے ایک نے کہا، ”اِس سفر کا اِنتہائی خطرناک ترین تجربہ دریا کو عبُور کرنا تھا۔“ چند بچانے والوں نے—مثلاً میرے پرنانا، ڈیوڈ پیٹن کمبل، جِن کی عُمر صرف 17 سال تھی، اپنے نوجوان دوستوں، ”جارج ڈبلیو گرانٹ، ایلن ہنٹنگ ٹن، اسٹیفن ٹیلر، اور ایرا نیبکر—کے ساتھ برفیلے پانی میں گھنٹوں گُزارے،“ دلیری کے ساتھ سویٹ واٹر کو عبُور کرنے میں قافلہ کی مدد کی تھی۔
چُوں کہ اِس واقعہ کو بُہت زیادہ پذیرائی مِلی ہے، جب مَیں نے بچاؤ کرنے والوں کے بارے میں مزید معلُومات حاصل کیں، تو مَیں نے محسُوس کِیا کہ وہ سب نبی کی پیروی کر رہے تھے اور اُنھوں نے پھنسے ہُوئے مُقدّسِین کو بچانے میں اہم کِردار اَدا کِیا تھا۔ سب بچانے والے، اور ساتھ ہی ساتھ مُہاجرین نہایت بہادر تھے۔
اُن کی کہانی کا مُطالعہ کر کے، مَیں نے ہجرت کرنے والوں کے درمیان قیمتی رِشتوں اور طویل مُدتی اَبَدی تناظُر کو بُہت سراہا۔ جان اور ماریا لِن فورڈ اور اُن کے تین بیٹے وِلی قافلہ کے رُکن تھے۔ پہلی اَمدادی ٹیم کے پُہنچنے سے چند گھنٹے پہلے جان وفات پا گیا۔ اُس نے ماریہ کو بتایا تھا کہ وہ خُوش ہے کہ وہ سفر میں تھے۔ ”مَیں سالٹ لیک پہنچنے تک زِندہ نہ رہُوں گا،“ اُس نے کہا، ”لیکن تُم اور لڑکے زِندہ رہو گے، اور جِن حالات سے ہم گُزرے ہیں مُجھے اِس کا بالکُل پچھتاوا نہیں ہے اگر ہمارے لڑکے بڑے ہو کر صِیّون میں اپنے خاندانوں کی پرورش کر سکیں۔“
صدر جیمس ای فاؤسٹ نے یہ عُمدہ خلاصہ پیش کِیا: ”ہاتھ گاڑی والے علم برداروں کی بہادرانہ جدوجہد میں، ہم بُہت بڑی سچّائی سِیکھتے ہیں۔ سب کو سُنار کی آگ میں سے گُزرنا ہے، اور ہماری زِندگیوں میں فضُول اور فالتو چِیزیں مَیل کی طرح پگھل کر ہمارے اِیمان کو درخشاں، مُحکم، اور مُستحکم بنا سکتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر ایک کے لیے کثرت سے غم، دُکھ اور اکثر دِل ٹوٹنے کا سامان مُیّسر ہوتا ہے، بشمول اُن لوگوں کے جو لگن سے نیکی کرنے اور اِیمان دار رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پِھر بھی یہ خُدا سے آشنا ہونے کے لیے تپائے جانے کا حِصّہ ہے۔“
نجات دہندہ کے کفارہ اور قیامت نے اَبَدِیّت کی تقدِیر کا تعُین کِیا، جِس میں نجات دہندہ نے ہر ایک کے واسطے ”موت کے بندھن توڑے ہیں، کیوں کہ اُس نے موت پر فتح پائی۔“ اُن لوگوں کے لِیے جِنھوں نے گُناہوں سے تَوبہ کی ہے، اُس نے ”اپنے اُوپر اُن کی بدیاں اور خطائیں لیں ہیں، اُنھیں مُخلصی دی ہے، اور اِنصاف کے تقاضوں کو پُورا کِیا ہے۔“
کَفّارہ کے بغیَر، ہم اپنے آپ کو گُناہ اور موت سے نہیں بچا سکتے۔ اگرچہ گُناہ ہماری آزمایشوں میں اہم کِردار ادا کر سکتا ہے، لیکن غلطیاں، بُرے فیصلے، دُوسروں کے بُرے اَعمال، اور بُہت سی چیزیں جو ہمارے قابُو سے باہر ہوتی ہیں، زِندگی کی مُشکلات میں اِضافہ کا باعث بنتی ہیں۔
میری اِنجِیل کی مُنادی کرو سِکھاتی ہے: ”جب ہم یِسُوع مسِیح اور اُس کے کَفارہ پر توکل کرتے ہیں، تو وہ ہماری آزمایشوں، بیماریوں اور تکلیفوں کو برداشت کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ ہم خُوشی، اِطمِینان، اور تسلّی سے مَعمُور ہو سکتے ہیں۔ زِندگی سے مُتعلق وہ سب جو ناروا ہے یِسُوع مسِیح کے کَفارہ کی بدولت دُرست کِیا جا سکتا ہے۔“
ایسٹر کے اِس تہوار کے دوران میں، ہماری توجہ نجات دہندہ اور اُس کی کفارہ بخش قُربانی پر مزکور ہے۔ کفارہ اُس وقت اُمِّید اور تجلّی فراہم کرتا ہے جب بُہت سوں کو مایُوسی اور تارِیکی دِکھائی دیتی ہے۔ صدر گورڈن بی ہنکلی نے فرمایا تھا، ”جب ساری تارِیخ کا جائزہ لِیا جاتا ہے، … تو فضل کے اِس عمل جیسی حیرت خیز، عالی شان، شان دار کوئی چِیز نہیں ہے۔“
مَیں تین تجاوِیز بیان کرتا ہُوں جو میرے خیال میں ہمارے دَور کے لِیے خاص طور پر برمحل ہیں۔
پہلی، دُوسروں کو جِسمانی اور خاص طور پر رُوحانی مُشکلات سے بچانے کے لیے جو کُچھ ہم کر سکتے ہیں اُس کو کم اہم نہ سمجھیں۔
دُوسری، نجات دہندہ کے کفارہ کو شُکرگُزاری کے ساتھ قبُول کریں۔ ہم سب کو خُوشی اور مَسرت کا مُظاہرہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اگرچہ ہم زِندگی کے مسائل کا سامنا بھی کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد روشن پہلوؤں کو مدِنظر رکھتے ہُوئے مُثبت زِندگی گزارنا ہونا چاہیے۔ مَیں نے اپنی پیاری شریکِ حیات، میری، کو ساری زندگی اَیسا کرتے دیکھا ہے۔ مَیں نے اُس کے تابِندہ، حوصلہ افزا طرزِ فِکر کو سراہا ہے یہاں تک کہ جب ہم نے سالہا سال کے دوران میں مسائل کا سامنا کِیا ہے۔
میری تِیسری تجویز ہے نجات دہندہ کے کفارہ پر اِیمان داری کے ساتھ غَور و فِکر کرنے کے لیے مُستقل وقت کو وقف کریں۔ ہماری ذاتی مذہبی عِبادت میں اَیسا کرنے کے بُہت سے طریقے ہیں۔ اَلبتہ، عِشائے ربانی کی عِبادت میں حاضر ہونا اور عِشائے ربانی میں شرِیک ہونا خاص طور پر اہم ہے۔
اُسی قدر ضرُوری ہے کہ جہاں مُمکن ہو ہَیکل میں باقاعدہ حاضری دیں۔ ہَیکل نجات دہندہ کے کفارہ اور اِس کے اَثرات کی مُسلسل یادگار فراہم کرتی ہے۔ اور، اِس سے بھی زیادہ اہم، ہَیکل میں عِبادت ہمیں اپنے مرحُوم پیاروں اور زیادہ دُور کے آباواجداد کے لیے رُوحانی نجات فراہم کرنے کی توفِیق دیتی ہے۔
صدر رسل ایم نیلسن نے ہماری پچھلی کانفرنس پر اِس اُصُول پر زور دِیا اور مزید کہا، ”[ہَیکل کی] برکات … اَیسے لوگوں کو تیار کرنے میں بھی مدد کرتی ہیں جو دُنیا کو خُداوند کی آمدِ ثانی کے لیے تیار کرنے میں مدد کریں گے!“
ہمیں اگلی نسلوں کی قُربانیوں اور مثالوں کو کبھی نہیں بُھولنا چاہیے، لیکن ہماری تمجِید، احسان مندی، اور عِبادت دُنیا کے نجات دہندہ اور اُس کی کفارہ بخش قُربانی پر مرکوز ہونی چاہیے۔ مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ باپ کے خُوشی کے منصُوبہ کی کلید ہمارے نجات دہندہ، یِسُوع مسِیح کے وسِیلہ سے تیار کِیا گیا کفارہ ہے۔ وہ زِندہ ہے اور اپنی کلِیسیا کی ہدایت فرماتا ہے۔ یِسُوع مسِیح کا کَفارہ اُن آزمایشوں سے حقِیقی رہائی دِلاتا ہے جِن سے ہم اِس زِندگی میں دوچار ہوتے ہیں۔ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔