”مئی 25–31۔ ’خُداوند نے رہائی دینے والا برپا کِیا‘: قُضاۃ 2–4؛ 6–8؛ 13–16،“ آ میرے پیچھے ہو لے—برائے گھر اور کلِیسیا: پرانا عہد نامہ 2026 (2026)
”مئی 25–31۔ ’خُداوند نے رہائی‘دینے والا برپا کِیا،‘“ آ، میرے پیچھے ہو لے: پرانا عہد نامہ 2026
”مَیں یقیناً تُمھارے ساتھ جاوُں گی“—دبورا نبیّہ، از ڈیس لیوٹ
مئی 25–31: ”خُداوند نے رہائی دینے والا برپا کِیا“
قُضاۃ 2–4؛ 6–8؛ 13–16
ہم سب جانتے ہیں کہ گُناہ کرنا، اِس کے بارے میں بُرا محسُوس کرنا، اور پھر توبہ کرنا اور اپنی راہوں کو بدلنے کا عزم کرنا کیسا لگتا ہے۔ لیکن اکثر ہم اپنے پہلے عزم کو بھُول جاتے ہیں، اور، جب آزمایش آتی ہے، تو ہم خُود کو وہی گُناہ کرتے ہُوئے پاتے ہیں۔ قُضاۃ کی کِتاب میں یہ نمونہ کثرت سے ظاہر ہوتا ہے۔ کنعانیوں کے عقائد اور پرستش کے طریقوں سے مُتاثر—جِنھیں اُن کو مُلک سے نکالنا چاہیے تھا——اسرائیلوں نے خُداوند کے ساتھ اپنے عہُود توڑے اور اُس کی پرستش سے مُنہ پھیر لیا۔ نتیجتاً، وہ اُس کے تحفظ سے محرُوم ہُوئے اور اسیری میں چلے گئے۔ اور پھر بھی ہر بارجب ایسا ہُوا، تو خُداوند نے اپنے موعودہ لوگوں کو توبہ کرنے کا موقع فراہم کِیا اور رہائی دینے والا، فوجی راہ نُما جوکہ ”قاضی“ کہلاتا ہے اُسے برپا کِیا۔ قُضاۃ کی کِتاب کے تمام قُضاۃ راست باز نہ تھے، مگر اُن میں سے بعض نے بنی اسرائیل کو رہائی دِلانے اور اُنھیں خُداوند کے ساتھ اپنے رشتہِ عہد بحال کرنے کی خاطر بڑے ایمان کا استعمال کِیا تھا۔ یہ کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ چاہے کُچھ بھی ہمیں یِسُوع مسِیح سے دور لے گیا ہو، وہ اسرائیل کا مُخلصی دینے والا ہے اور ہمیشہ ہمیں رہائی بخشنے پر آمادہ ہے اور ہماراخیر مقدم کرتا ہے جب ہم اُس کے پاس واپس لوٹتے ہیں۔
قُضاۃ کی کِتاب کا جائزہ لینے کے لیے، بائبل لغت میں سے ”قُضاۃ کی کِتاب“ دیکھیں۔
گھر اور کلِیسیا میں سیکھنے کے لیے تجاویز
قُضاۃ 2:1–19؛ 3:5–12
مَیں جتنی مرتبہ توبہ کرتا ہُوں خُداوند مُجھے مُعاف کرتا ہے۔
قُضاۃ کی کِتاب انتباہ اور حوصلہ افزائی دونوں ہو سکتی ہے۔ اُس تنبیہ اور حوصلہ افزائی کو تلاش کریں جب آپ قُضاۃ 2:1–19؛ 3:5–12 پڑھتے ہیں۔ آپ کیا محسُوس کرتے ہیں کہ انتباہ اور حوصلہ افزائی آپ پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟
مثال کے طور پر، اگر قُضاۃ 2:19 قدیم اسرائیلوں کی بجائے آپ اور آپ کی آزمائشوں کے بارے میں ہوتا، تو یہ کیا کہے گا؟ اگر قُضاۃ 3:9 اِس بارے میں ہو جو آپ کو رہائی دینے کے لیے خُداوند نے کیا کِیا تھا، تو یہ کیا کہے گا؟
صفحہ 9 سے برائے مضبُوطیِ نوجوانان: فیصلہ سازی کے لیے ہدایت نامہ کے سوال و جواب پڑھنے پر غور کریں۔ آپ کے خیال میں اِس کا اِطلاق قُضاۃ کی کِتاب کے اسرائیلیوں کے تجربے پر کیسے ہوتا ہے؟ یہ موازنہ آپ کو یِسُوع مسِیح کے بارے میں کیا سِکھاتا ہے؟
قُضاۃ 4:1–15
مَیں دُوسروں کو خُداوند پر ایمان رکھنے کی ترغیب دے سکتا ہُوں۔
بعض اوقات ایک شخص کا ایمان دُوسرے بُہت سے لوگوں کے ایمان کو تحریک دے سکتا ہے۔ قُضاۃ 4 میں، ایک شخصیت دبورا تھی۔ اُس کے بارے میں قُضاۃ 4:1–15 میں پڑھیں، اور اُس نے اپنے اردگرد کے لوگوں پر جو اثر ڈالا اُس پر غور کریں۔ یہاں پر غور کرنے میں آپ کی مدد کے لیے کُچھ سوالات ہیں کہ اِس کا تجربہ آپ کی زندگی پر کیسے لاگو ہو سکتا ہے:
-
اُس وقت اسرائیلی جن حالات میں تھے آپ اُنہیں کیسے بیان کریں گے؟ (دیکھیں آیات 1–3)۔ آپ آج کے حالات میں—افراد اور معاشرے میں کیا مُماثلت دیکھتے ہیں؟
-
دبورا کے کون سے الفاظ یا اعمال آپ کو ظاہر کرتے ہیں کہ اُس کا خُداوند پر ایمان تھا؟ اُس کے ایمان نے دُوسروں پر کیسے اثر ڈالا؟ اُس کے مُتعلق اور کون سی بات آپ کو مُتاثر کرتی ہے؟
-
آپ کے خیال میں آیت 14 میں دبورا کا سوال ”کیا خُداوند تیرے آگے نہیں گیا ہے“ سے اُس کی کیا مُراد تھی؟ خُداوند کیسے آپ کے ”آگے جاتا“ ہے؟ (دیکھیے عقائد اور عہُود 84:87–88)۔
غور کریں کہ یِسُوع مسِیح پر آپ کا ایمان دُوسروں کو کیسے برکت دے سکتا ہے جیسے دبورا کے ایمان نے براک اور دُوسرے اسرائیلوں کو برکت دی۔ اُس کے بارے میں سوچنے میں آپ کی مدد کرنے کے لیے، آپ ایلڈرنیل ایل اینڈرسن کے پیغام ”ہم مسِیح کی بابت بات کرتے ہیں“ (لیحونا، نومبر 2020، 88–91) کا مُطالعہ کر سکتے ہیں۔ پیغام میں سے تلاش کریں (1) نجات دہندہ کے مُتعلق مزید کھُل کر بات کرنے کی وجوہات اور (2) اُنھیں سر انجام دینے کے طریقے۔
پھر آپ اُن باتوں کی فہرست بنا سکتے ہیں جو آپ یِسُوع مسِیح کے بارے میں جانتے ہیں—صحائف میں سے، زندہ نبیوں کے کلام سے، اور اپنے ذاتی تجربہ سے۔ کس کو یہ جاننے کی ضرورت ہے؟ آپ اِس کا اشتراک کیسے کریں گے؟
مزید دیکھیں متّی 5:14–16؛ 1 پطرس 3:15؛ ہر زندگی جو نیکی کے لیے ہمیں چھُوتی ہے؛“ گیت، نمبر 293۔
اِشتراک کی دعوت دیں۔ اگر آپ ایک مُعلم ہیں—گھر پر یا کلِیسیا میں—”مُتعلمین کو ایک دُوسرے کے ساتھ تبادلہِ خیال کرنے کے مواقع فراہم کریں جو وہ نجات دہندہ اور اُس کی اِنجِیل کی بابت سیکھ رہے ہیں۔ ایسا کرنے سے اُنھیں سِکھائی گئی سچّائیوں کو قبول کرنے بیان کرنے اور اُن کا اظہار کرنے میں مدد ملے گی“ (نجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، 26)۔ مثال کے طور پر، جب قُضاۃ 4 کا اکٹھے مُطالعہ کریں، تو آپ ہر مُتعلم کو باب میں سے کوئی خاص چیز تلاش کرنے کے لیے دے سکتے ہیں اور پھر اُنھیں ایک دُوسرے کو وہ بتانے کی دعوت دیں جو اُنھوں نے پایا ہے۔
قُضاۃ 6–8
خُداوند معجزات کر سکتا ہے جب مَیں اُس کے طریقوں پر بھروسا کرتا ہُوں۔
جب آپ قُضاۃ 6–8 پڑھتے ہیں، تو اُن مواقعوں کو نوٹ کریں جہاں خُداوند نے جدعون کو کسی ایسی چیز پر یقین کرنے کو کہا تھا جو شاید نامُمکن لگتی ہو۔ کیا اُس نے کبھی آپ سے بھی کُچھ ایسا ہی کہا ہے؟
آپ کیا محسُوس کرتے ہیں کہ خُداوند آپ کو اِس واقعہ سے کیا سِکھانے کی کوشش کر رہا ہے؟ آپ نے خُداوند کو اپنے کام کو کِن طریقوں سے کرتے دیکھا ہے جو نامُمکن لگتے تھے؟
قُضاۃ 13–16
جب مَیں اپنے عہُود سے وفادار برتتا ہوں تو خُدا مُجھے تقویت بخشتا ہے۔
سمسون اپنی جسمانی قوت اور رُوحانی مضبُوطی دونوں کھو بیٹھا تھا کیوں کہ اُس نے خُدا کے ساتھ اپنے عہُود کی خلاف ورزی کی، بشمُول اُن کے جو خاص طور پر نذیریوں پر لاگو ہوتے تھے (نذیریوں کے بارے میں معلُومات کے لیے، دیکھیں گنتی 6:1–6؛ قُضاۃ 13:7)۔ جب آپ قُضاۃ 13–16 میں سمسون کے مُتعلق پڑھتے ہیں، اُن آیات پر غور کریں جو ظاہر کرتی ہیں کہ خُداوند سمسون کے ساتھ تھا، اِس کے ساتھ ساتھ وہ آیات جو ظاہر کرتی ہیں کہ سمسون کُلی طور پر خُداوند کے ساتھ وفادار نہیں تھا۔
آپ اِن عہُود پر بھی غور کر سکتے ہیں جو آپ نے خُداوند کے ساتھ باندھے ہیں۔ یہ عہُود کیسے آپ کی زندگی میں اُس کی قدرت کو لائے ہیں؟ آپ سمسون کے تجربات سے کیا سیکھتے ہیں جو آپ کو خُدا کے ساتھ اپنے عہُود سے وفادار رہنے کی ترغیب دیتے ہیں؟
بہن این ایم ڈب نے سِکھایا: ”سمسون بُہت سی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہُوا تھا۔ اُس کی ماں سے وعدہ کِیا گیا تھا، ’وہ اسرائیل کو فلستیوں کے ہاتھ سے رہائی دلائے گا‘ [قُضاۃ 13 :5]۔ لیکن جب سمسون بڑا ہُوا، تو وہ خُدا کی ہدایت کی نسبت دُنیا کی آزمائشوں کی طرف زیادہ متوُجہ ہُوا۔ اُس نے ایسے انتخابات کیے جو ’[اُسے] اچھی طرح خوش کرتے ہیں‘ [قُضاۃ 14:3] بجائے اِس کے کہ وہ راست انتخابات تھے۔ بار بار، صحائف اِس فقرے کا استعمال کرتے ہیں ’اور وہ نیچے چلا گیا‘ [قُضاۃ 14:7] جب وہ سمسون کے سفروں، اعمال اور انتخابات کے بارے میں بتاتے ہیں۔ اپنی عظیم صلاحیت کو پُورا کرنے کے لیے اُٹھنے اور چمکنے کی بجائے، سمسون دُنیا سے مغلوب ہو گیا، اپنی خُداداد قوت کھو دی، اور ایک المناک، جوانی کی موت مر گیا“ (”اُٹھو اور چمکو،“ لیحونا، مئی 2012، 118)۔
مزید دیکھیں ڈیلن ایچ اوکس، ”عہُود اور ذمہ داریاں،“ لیحونا، مئی 2024، 93–96؛ اولیسس سوارز ”یِسُوع مسِیح کے ذریعے اعتمادِ عہُود ،“ لیحونا، مئی 2024، 17–21۔
بچّوں کو سِکھانے کے لیے تجاویز
چونکہ یہ اتوار مہینے کا پہلا اتوار ہے، اِس لیے پرائمری کے مُعلمین کی ”ضمیمہ ب: بچّوں کو خُدا کے عہد کے راستے پر زندگی بھر تیار کرنا“ میں سے تدریسی سرگرمیاں استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
قُضاۃ 3:7–9، 12–15
یِسُوع مسِیح میرا رہائی دینے والا ہے۔
-
قُضاۃ 3 نمونہ بیان کرتا ہے جو ہمیں گُناہ سے رہائی پانے کے لیے مُنّجی کی قدرت کے بارے میں سِکھاتا ہے۔ اپنے بچّوں کو اِس نمونے کی نشان دہی کرنے میں مدد کرنے کے لیے، آپ اِن فقرات کو لکھ سکتے ہیں: ”برائی کی،“ ”خُداوند کے حضور فریاد کی،“ اور ”رہائی بخشنے والا برپا کِیا۔“ پھر آپ کے بچّے اِن فقرات کو قُضاۃ 3:7–9 اور قُضاۃ 3: 12–15 میں سے تلاش کر سکتے ہیں۔ آپ اِس نمونہ سے خُداوند کے بارے کیا سیکھتے ہیں؟
-
اِس بات پر زور دینے کے لیے کہ یِسُوع مسِیح ہمارا رہائی بخشنے والا ہے، آپ لوگوں کی کئی تصاویر اکٹھی کر سکتے ہیں، بشمُول یِسُوع کی تصویر، اور اُنھیں اُلٹا کر کے رکھیں۔ اپنے بچّوں کو تصویروں کو باری باری پلٹنے دیں۔ جب وہ یِسُوع کی تصویر دیکھتے ہیں، تو اُس کے بارے میں گیت گائیں، جیسے کہ ”بھیجا اُس نے اپنا فرزند“ (بچّوں کے گیتوں کی کِتاب، 34–35)، اور اپنے بچّوں کو بتائیں کہ اُس نے آپ کو کیسے رہائی بخشی ہے۔
قُضاۃ 4:1–15
مَیں دُوسروں کو خُداوند پر ایمان رکھنے کی ترغیب دے سکتا ہُوں۔
-
آپ اپنے بچّوں کو قُضاۃ 4 کی کہانی بتانے کے لیے پرانے عہد نامے کی کہانیاں، 92–95، میں سے ”دبورا نبیّہ“ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ دبورا کے مُتعلق کیا پسند کرتے ہیں اُسے ایک دُوسرے کو بتائیں۔ اُس نے اپنے اردگرد کے لوگوں پر جو اثر ڈالا اُس پر غور کریں۔ ہم دُوسروں کو یِسُوع مسِیح پر مزید ایمان رکھنے میں مدد دینے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
2:9Deborah the Prophetess
قُضاۃ 7: 1–21
خُداوند عظیم کام کرنے کے لیے معمُولی چیزوں کو استعمال کر سکتا ہے۔
-
اپنے بچّوں کو یہ سِکھانے کے لیے کہ خُداوند نے اسرائیل کی فوج کو کیسے گھٹایا قُضاۃ 7:4–7، اِس ہفتے کا عملی سرگرمی کا صفحہ، یا ”جدعون کی فوج“ پرانے عہد نامے کی کہانیوں میں سے استعمال کریں۔ خُداوند کیوں چاہتا تھا کہ جدعون کی فوج اتنی چھوٹی ہو؟ (دیکھیں قُضاۃ 7:2)۔
2:37The Army of Gideon
-
آپ کے بچّے تلوار، ڈھال، نرسنگے، چراغ، اور گھڑے کی تصویریں بنا سکتے ہیں اور گُفتگُو کر سکتے ہیں کہ وہ جنگ میں اِن میں سے کون سی اشیا کو لینا چاہیں گے۔ پھر وہ یہ جاننے کے لیے قُضاۃ 7: 16 پڑھ سکتے ہیں کہ خُداوند نے جدعون کی فوج کو کیا استعمال کرنے کو کہا۔ جب آپ قُضاۃ 7:19–21 میں جنگ کے بارے میں پڑھتے ہیں، تو آپ اِس کہانی سے خُداوند کے بارے میں جو کُچھ سیکھتے ہیں اُسے ایک دُوسرے کو بتائیں۔
سمسون ستونوں کو نیچے گرا دیتا ہے، از جیمز ٹیسوٹ اور دیگر
قُضاۃ 5:13
عہُود پر قائم رہنے سے مُجھے مضبُوطی حاصل ہو سکتی ہے۔
-
خُداوند کے ساتھ سمسون کے عہُود نے اُسے جسمانی مضبُوطی بخشی، بالکل اِسی طرح جیسے ہمارے عہُود ہمیں روحانی مضبُوطی دیتے ہیں۔ آپ کے بچّے کُچھ جسمانی ورزشیں کرنے اور گُفتگُو کرنے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں کہ وہ ورزشیں ہمارے جسموں کو مضبُوط بنانے میں کیسے مدد کر سکتی ہیں۔ اپنے عہُود پر قائم رہنے سے ہماری رُوحیں کیسے مضبُوط ہو سکتی ہیں؟ (دیکھیں مضایاہ 8:18–10؛ عقائد اور عہُود 20:77، 79)۔
مزید تجاویز کے لیے، اِس ماہ کے فرینڈ رسالے کا شُمارہ دیکھیں۔