آ، میرے پِیچھے ہولے ۲۰۲۴
ذہن میں رکھنے کے لیے خیالات: پرانے عہد نامے کی تاریخی کِتابیں


”ذہن میں رکھنے کے لیے خیالات: پرانے عہد نامے کی تاریخی کِتابیں،“ آ، میرے پیچھے ہو لے—برائے گھر اور کلِیسیا: پُرانا عہد نامہ 2026 (2026)

”پرانے عہد نامے کی تاریخی کِتابیں،“ آ، میرے پیچھے ہو لے: پُرانا عہد نامہ 2026

خیالات کی علامت

ذہن میں رکھنے کے لیے خیالات

پرانے عہد نامے کی تاریخی کِتابیں

یشوع سے لے کر آستر کی کِتابیں روایتی طور پر پرانے عہد نامے کی ”تاریخی کِتابیں“ کہلاتی ہیں۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ پُرانے عہد نامے کی دِیگر کِتابوں کی تاریخی قدر نہیں ہے۔ بلکہ، تاریخی کِتابیں اِس لیے کہلاتی ہیں کہ اُن کے مُصنفین کا بُنیادی مقصد بنی اِسرائیل کی تاریخ میں خُدا کا ہاتھ ظاہر کرنا تھا۔ مقصد یہ نہیں تھا کہ مُوسیٰ کی شریعت کی وضاحت کی جائے، جیسے کہ احبار اور اِستثنا میں کِیا گیا تھا۔ یہ شاعرانہ اَنداز میں تعریف یا اَفسوس کا اِظہار کرنے کے لیے نہیں تھا، جیسے کہ زبُور اور نَوحہ میں کِیا گیا تھا۔ اور یہ نبیوں کے کلام کو قلم بند کرنے کے لیے بھی نہیں تھا، جیسے کہ یسعیاہ اور حِزقی ایل کی کِتابوں میں کِیا گیا تھا۔ اِس کی بجائے، تاریخی کِتابیں کہانیاں بتاتی ہیں۔

نُقطہِ نظر کا مُعاملہ

قُدرتی طور پر، یہ کہانیاں ایک خاص نُقطہِ نظر سے بتائی جاتی ہیں۔ جیسا کہ کسی پھُول، چٹان، یا درخت کو ایک وقت میں ایک سے زیادہ زاویے سے دیکھنا نامُمکن ہے، ویسے ہی تاریخی بیان ہمیشہ اُس شخص یا لوگوں کے نُقطہِ نظر کی عکاسی کرے گا جو اِسے لِکھ رہے ہیں۔ یہ نُقطہِ نظر مُصنفین کے قومی یا نسلی تعلقات اور اُن کی ثقافتی روایات اور عقائد کو بھی شامِل کرتا ہے۔ یہ جاننا ہمیں سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ تاریخی کِتابوں کے مُصنفین اور مُرتب کرنے والوں نے کُچھ خاص تفصیلات پر توجہ دی جب کہ دِیگر کو چھوڑ دِیا۔ اُنھوں نے اَیسے مفرُوضات قائم کِیے جو دُوسروں کے لیے قابلِ تصوُّر نہ تھے۔ اور اُنھوں نے اِن تفصیلات اور مفرُوضات کی بُنیاد پر نتائج اَخذ کِیے۔ ہم بائبل کی مُختلف کِتابوں میں بھی مُختلف نُقطہِ نظر دیکھ سکتے ہیں (اور بعض اوقات ایک ہی کِتاب کے اندر بھی)۔ جتنا زیادہ ہم اِن تناظر سے واقِف ہوں گے، اُتنا ہی بہتر ہم تاریخی کِتابوں کو سمجھ سکیں گے۔

پُرانے عہد نامے کی تمام تاریخی کِتابوں میں ایک مُشترکہ نُقطہ نظر بنی اِسرائیل کا ہے، جو خُدا کی موعُودہ قوم ہے۔ اُن کا خُداوند پر اِیمان اُنھیں اپنی زِندگیوں اور اپنی قوم کے مُعاملات میں اُس کا دَستِ کرم دیکھنے میں مدد دیتا تھا۔ اگرچہ دُنیاوی تاریخ کی کِتابیں عام طور پر اِس نظر سے چیزوں کو نہیں دیکھتیں، لیکن یہ رُوحانی نُقطہِ نظر وہ چیز ہے جو پرانے عہد نامے کی تاریخی کِتابوں کو اُن لوگوں کے لیے اِتنا قیمتی بناتا ہے جو خُدا پر اپنے اِیمان کو مضبُوط کرنا چاہتے ہیں۔

باقی ماندہ پرانے عہد نامے کا سیاق و سباق

تاریخی کِتابیں وہاں سے شُروع ہوتی ہیں جہاں اِستثنا کی کِتاب ختم ہوتی ہے، جب بنی اِسرائیل کا برسوں کا بیابانی سفر اپنے اِختتام کے قریب ہوتا ہے۔ یشوع کی کِتاب بنی اِسرائیل کو کنعان اُن کی موعُودہ سرزمین، میں داخِل ہونے کی تیاری کے مُتعلق بتاتی ہے، اور بیان کرتی ہے کہ کیسے اُنھوں نے اِس پر قبضہ کِیا۔ اِس کے بعد کی کِتابیں، قُضاة سے لے کر 2 تواریخ تک، موعُودہ سرزمین میں اِسرائیل کے تجربات کی عکاسی کرتی ہیں، جب سے اُنھوں نے وہاں سُکونت اِختیار کی تب سے لے کر اُس وقت تک جب اُنھیں اَسُور اور بابُل کے ذریعے فتح کِیا گیا۔ عزرا اور نحمیاہ کی کِتابیں کئی دہائیوں بعد، اِسرائیلیوں کے کئی گروہوں کو اپنے دار الحکومت، یروشلیم میں لوٹنے کے بارے میں بتاتی ہیں۔ آخِر میں، آستر کی کِتاب بنی اِسرائیل کی سلطنتِ فارس کے زیر سایہ جِلاوطنی میں زِندگی گُزارنے کی بابت بتاتی ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں پُرانے عہد نامے کی تاریخ ختم ہوتی ہے۔ پہلی بار بائبل پڑھنے والے بعض قارئین حیران ہوتے ہیں جب اُنھیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اُنھوں نے دَراَصل پُرانے عہد نامے کی کہانی ختم کر لی ہے جب کہ اُنھوں نے اِس کے نصف سے زیادہ صفحات کا زیادہ حِصّہ نہیں پڑھا۔ استر کے بعد، ہمیں بنی اِسرائیل کی تاریخ کے بارے میں زیادہ معلُومات نہیں مِلتی۔ اِس کی بجائے، جو کِتابیں اِس کے بعد آتی ہیں—خاص طور پر نبیوں کی کِتابیں—وہ تاریخی کِتابوں کے پیش کردہ زمانی سلسلے میں شامِل ہوتی ہیں۔ مِثال کے طور پر، یرمیاہ نبی کی خِدمت، اُن واقعات کے دوران رُونُما ہُوئی جو 2 سلاطین 22–25 تک (اور متوازی حوالے 2 تواریخ 34–36 میں درج کِیے گئے ہیں)۔ یہ جاننا تاریخی روایات اور نبُوتی کِتابوں دونوں کو پڑھنے کے طریقے پر اَثر اَنداز ہو سکتا ہے۔

جب کُچھ موزُوں نہیں ہوتا

جب آپ پُرانا عہد نامہ پڑھتے ہیں، جیسے کہ کسی بھی تاریخ کو، تو آپ اکثر اَیسے لوگوں کے بارے میں پڑھیں گے، جو جدید نظریے سے، عجیب یا حتیٰ کہ پریشان کُن چیزیں کرتے یا کہتے نظر آتے ہیں۔ ہمیں اِس کی توقع کرنی چاہیے—پرانے عہد نامے کے مُصنفین نے دُنیا کو ایک نُقطہِ نظر سے دیکھا جو، کُچھ طریقوں سے، ہمارے زمانہ سے بالکل مُختلف تھا۔ تشدد، نسلی تعلقات، اور عورتوں کے کِردار صِرف چند اَیسے مسائل ہیں جو قدیم مُصنفین نے آج کے دور کے برعکس مُختلف اَنداز میں دیکھے ہوں گے۔

پس ہمیں کیا کرنا چاہیے جب ہم صحائف میں اَیسے حوالہ جات کو دیکھتے ہیں جو پریشان کُن معلُوم ہوتے ہیں؟ سب سے پہلے، ہر حوالے پر وسیع تناظر میں غور کرنا مدد گار ہو سکتا ہے۔ یہ خُدا کے نجات کے منصُوبے کے لیے کیسے موزُوں ہے؟ آسمانی باپ اور یِسُوع مسِیح کی فِطرت کی بابت آپ کے عِلم کے ساتھ کس طرح مُطابقت رکھتا ہے؟ یہ دیگر صحائف میں یا زندہ نبیوں کی تعلیمات سے آشنا سچّائیوں کے ساتھ کیسے مُطابقت رکھتا ہے؟ اور یہ رُوح کی سرگوشیاں آپ کے اپنے دِل و دماغ کے لیے کیسے موزُوں ہے؟

بعض صُورتوں میں، حوالہ جات شاید اِن میں سے کسی کے ساتھ اچھی طرح مُطابقت نہ رکھتے ہوں۔ کبھی کبھار یہ اِقتباس پزل کے ٹُکڑے کی طرح ہو سکتا ہے جو آپ کے پہلے سے جُڑے ہُوئے ٹُکڑوں کے درمیان اپنی جگہ نہیں رکھتا۔ اِس ٹُکڑے کو زبردستی جگہ دینے کی کوشِش کرنا بہترین طریقہ نہیں ہے۔ لیکن پُورے پزل کو چھوڑ دینا بھی صحیح حل نہیں ہے۔ اِس کی بجائے، آپ کو اِس ٹُکڑے کو کُچھ وقت کے لیے ایک طرف رکھنا پڑ سکتا ہے۔ جیسا کہ آپ مزید سیکھتے ہیں اور پزل کے مزید ٹُکڑے جوڑتے ہیں، آپ بہتر طور پر دیکھ سکیں گے کہ یہ ٹُکڑے کِس طرح ایک ساتھ مِلتے ہیں۔

یہ یاد رکھنا بھی مُفید ہے کہ مخصُوص نُقطہِ نظر کے ساتھ ساتھ، صحائف کی تاریخ اِنسانی غلطیوں سے بھی مُتاثر ہوتی ہے۔ مِثال کے طور پر، صدیوں کے دوران، ”بُہت سی صاف اور قِیمتی چیزیں [بائبل] سے نِکال لی گئیں [تھیں]، ”جن میں تعلیمات، رُسُوم، اور عہُود کے بارے میں اَہم سچّائیاں شامِل ہیں (1 نِیفی 13:‏28؛ مزید دیکھیے آیات 26، 29، 40)۔ اُسی وقت، ہمیں یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ ہمارے اپنے نُقطہِ نظر بھی محدُود ہیں: ہمیشہ اَیسی چیزیں ہوں گی جنھیں ہم مُکمل طور پر نہیں سمجھتے اور سوالات جن کا ہم اَبھی جواب نہیں دے سکتے۔

کوئی شخص پزل جوڑتے ہُوئے

کُچھ صحائف کے اِقتباسات پزل کے ٹُکڑوں کی مانِند ہو سکتے ہیں جنھیں ہم باقی پزل کے ساتھ کیسے جوڑنا ہے یہ نہیں جانتے۔

جواہرات تلاش کرنا

مگر اِس دوران، بے جواب سوالات ہمیں پرانے عہد نامے میں موجُود اَبَدی سچّائیوں کے قِیمتی جواہرات سے دُور نہیں رکھنا چاہیں—اگرچہ یہ جواہرات کبھی کبھار پریشان کُن تجربات اور غیر کامِل لوگوں کے کِیے گئے غلط فیصلوں کی پتھریلی زمین میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔ شاید اِن قِیمتی جواہرات میں سب سے قِیمتی کہانیاں اور اِقتباسات ہیں جو خُدا کی محبّت کو ظاہر کرتے ہیں—خاص طور پر وہ جو ہمیں یِسُوع مسِیح کی قُربانی کی یاد دِلاتے ہیں۔ کسی بھی زاویے سے دیکھا جائے، تو اَیسے جواہرات آج بھی اُتنے ہی چمک دار ہیں جتنے وہ پہلے تھے۔ اور چُوں کہ یہ واقعات خُدا کے موعُودہ لوگوں—اَیسے مَرد اور عورتیں جن میں اِنسانی کم زوریاں تھیں لیکن پھر بھی اُنھوں نے خُدا سے محبّت کی اور اُس کی خِدمت کی—کے بارے میں ہیں اِس لیے پرانے عہد نامے کی تاریخی کِتابوں میں سچائیوں کے قِیمتی جواہرات بکثرت پائے جاتے ہیں۔

جواہرات

حوالہ جات

  1. آج ہمارے پاس بائبل کی تاریخی کہانیاں بُنیادی طور پر کئی بے نام مُصنفین اور مُرتبین کا کام ہیں، جنھوں نے بعض اوقات کئی سال، بلکہ صدیوں بعد، بھی اُن زمانوں کا ذِکر کِیا جن کے بارے میں وہ وضاحت کرتے ہیں۔ اُنھوں نے مُختلف تاریخی ذرائع پر اعتماد کِیا اور اپنی روایات میں شامِل کرنے اور خارج کرنے کے بارے میں فیصلے کِیے۔

  2. مِثال کے طور پر، اگرچہ 1–2 تواریخ تقریباً اُسی دَور کا احاطہ کرتی ہیں جو 1 سموئیل 31 سے 2 سلاطین کے آخِر تک ہے، لیکن 1–2 تواریخ میں بیان کردہ واقعات مُختلف تفصیلات پر زور دیتے ہیں اور ایک الگ نُقطہِ نظر پیش کرتے ہیں، جو تقریباً مُکمل طور پر جنُوبی سلطنت یہوداہ پر مرکُوز ہے اور اکثر داؤد اور سُلیمان کی منفی کہانیوں کو نظر اَنداز کرتے ہیں (مثلاً، 2 سموئیل 10–12 کا موازنہ کریں، 1 تواریخ 19–20 کے ساتھ اور 1 سلاطین 10–11 کا 2 تواریخ 9 کے ساتھ)۔ آ، میرے پیچھے ہو لے 1 اور 2 سلاطین کا مُطالعہ کرنے پر زور دیتا ہے، حالاں کہ اِس کا 1 اور 2 تواریخ کے ساتھ موازنہ کرنا بھی اَہم ہے۔ یہ جاننا مددگار ہو سکتا ہے کہ 1 سموئیل–2 سلاطین پر کام شاید بابُل کی سلطنت کے یہوداہ کو فتح کرنے سے پہلے شُروع ہُوا اور بابُل میں جِلاوطنی کے دوران مُکمل ہُوا۔ دُوسری طرف، جو ریکارڈ 1–2 تواریخ بنا، وہ یہُودیوں کے جِلاوطنی سے واپس لوٹنے کے بعد یروشلیم میں مُرتب کِیا گیا۔ جب آپ پڑھتے ہیں، تو آپ غور کر سکتے ہیں کہ یہ مُختلف حالات مُختلف بیانات کے مُرتبین کے نُقطہِ نظر پر کِس طرح اَثر اَنداز ہو سکتے ہیں۔

  3. اِس ذرائع کے آغاز میں آپ کو ”پرانے عہد نامے کا جائزہ،“ مِلے گا، جو ٹائم لائن ہے کہ ہر نبی کی خِدمت اِسرائیل کی تاریخ میں کیسے شامِل ہوتی ہے (جتنا معلُوم ہو سکتا ہے)۔ آپ دیکھیں گے کہ پُرانے عہد نامہ کی زیادہ تر نبُوتی کِتابیں اُس ٹائم لائن کے آخِر میں پائی جاتی ہیں—بالکل اِس سے پہلے اور اِس کے بعد جب بنی اِسرائیل کو اُن کے دُشمنوں نے فتح کِیا، جِلاوطن کِیا، اور مُنتشر کر دِیا۔

  4. دیکھیے اِیمان کے اَرکان 1:‏8۔