”رُجُوع لانا ہمارا مقصد ہے،“ آ، میرے پِیچھے ہولے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”رُجُوع لانا ہمارا مقصد ہے،“ آ، میرے پِیچھے ہولے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
رُجُوع لانا ہمارا مقصد ہے
تمام اِنجیلی علم اور تدریس کا ہدف ہماری تبدیلی کو مضبوط کرنا اور مزید یِسُوع مسِیح کی مانند بننے میں مدد کرنا ہے۔ اِسی وجہ سے، جب ہم اِنجیل کا مطالعہ کرتے ہیں تو، ہم صرف نئی معلومات کی تلاش نہیں کرتے ہیں؛ بلکہ ہم ایک ”نئی مخلوق“ بننا چاہتے ہیں (دیکھیں ۲ کُرنتھِیوں ۵: ۱۷)۔ اِس کا مطلب اپنے دِلوں، اپنے نقطہِ نظر، اپنے اعمال اور اپنی فطرت کی تبدیلی کے لیے مسِیح پر بھروسہ کرنا ہے۔
لیکن اِنجیل کی اُس قسم کی تعلیم جو ہمارے اِیمان کو تقویت بخشتی اور رُجُوع لانے کی معجزاتی تبدیلی کی طرف مائل کرتی ہے وہ ایک ہی وقت میں وقوع پذیر نہیں ہوتی ہے۔ اِس کی وسعت کمرہِ جماعت سےآگے افراد کے دِلوں اور گھروں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اِس کے لیے اِنجیل کو سمجھنے اور جینے کی روزانہ، مسلسل کوشش کی ضرورت ہے۔ حقیقی تبدیلی کے لیے رُوحُ الُقدس کا اثر درکار ہے۔
رُوحُ الُقدس ہمیں تمام سَچّائی کی راہ دِکھائے گا اور سَچّائی کی گواہی دے گا (دیکھیں یُوحنّا ۱۶: ۱۳)۔ وہ ہمارے ذہنوں کو رُوشن کرتا ہے، ہمارے فہم کو تقویت بخشتا ہے، اور خُدا سے مُکاشفہ کے ذریعہ ہمارے دِلوں کو چُھوتا ہے، جو تمام سَچّائی کا منبع ہے۔ رُوحُ الُقدس ہمارے دِلوں کو پاک کرتا ہے۔ وہ ہمیں سَچّائی کے مطابق زِندگی گزارنے کا الہام بخشتا ہے، اور وہ ہمیں اُن طریقوں سے آگاہ کرنے کے لیے سرگوشیاں بخشتا ہے۔ حقیقاً، ”رُوحُ القُدس … [ہمیں] سب باتیں سِکھائے گا“ (یُوحنّا ۱۴: ۲۶)۔
اِن وجوہات کی بناء پر، اِنجیل کے موافق جینے، سیکھنے اور سِکھانے کی ہماری کوششوں میں، ہمیں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ رُوح کی رفاقت حاصل کرنی چاہیے۔ ہمارے انتخاب کا دارومدار اِس مقصد پر ہونا چاہیے اور ہمارے خیالات اور اعمال کی راہنمائی بھی اِسی مقصد کے وسیلہ سے ہونی چاہیے۔ ہمیں رُوح کے اثر کو دعوت دینے والی ہر چِیز کے متلاشی ہونا چاہیے اور جو بھی چِیز اِس اثر سے دور ہونے کا باعِث بنتی ہے اُسے مسترد کردینا چاہیے—کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم رُوحُ الُقدس کی حضوری کے اہل ہوسکتے ہیں تو، ہم آسمانی باپ اور اُس کے بیٹے، یِسُوع مسِیح کی حضوری میں بھی زندگی گزارنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔