”مئی ۳۱–جون ۶۔ یُوحنّا ۱۳–۱۷: ’تُم میری محبّت میں قائِم رہو‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”مئی ۳۱–جون ۶۔ یُوحنّا ۱۳–۱۷،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
اُس کی یادگارِی کے لِئے، از والٹررین
مئی ۳۱–جون ۶
یُوحنّا ۱۳–۱۷
”تُم میری محبّت میں قائِم رہو“
جب آپ یُوحنّا ۱۳–۱۷ میں نِجات دہندہ کی تعلیمات کو پڑھتے ہیں، تو رُوحُ الُقدس اپنے لیے پیغامات کی نشاندہی کرنے میں آپ کی مدد کرے گا۔ حاصل کردہ تاثرات کو قلمبند کریں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
آج ہم اِس کو”آخِری کھانا“ کہتے ہیں، لیکن ہم نہیں جانتے کہ جب یِسُوع کے شاگِر سالانہ عیدِ فسح کے لیے جمع ہوئے تھے تو آیا وہ اِس بات سے باخبر تھے کہ یہ اُس کی موت سے قبل اپنے اُستاد کے ساتھ اُن کا آخِری کھانا ہوگا۔ البتہ، یِسُوع، ”نے جان لِیا کہ میرا وہ وقت آپُہنچا“ (یُوحنّا ۱۳: ۱)۔ اُسے جلد ہی گتسِمنی میں دُکھ اُٹھانا، اپنے قریبی دوستوں کے ہاتھوں پکڑوایا جانا اور انکار کیا جانا اور صلیب پر تکلیف دہ موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پھر بھی اِس حیقیت سے ہراساں ہونے کی بجائے، یِسُوع نے خود کی بجائے اپنے شاگِردوں کی خدمت پر توجہ مرکوز کی۔ اُس نے حلیمی کے ساتھ اُن کے پاؤں دھوئے۔ اُس نے اُنھیں محبّت کے بارے میں تعلیم دی۔ اور اُس نے اُنھیں یقین دلایا کہ، ایک لحاظ سے، وہ اُنھیں کبھی نہیں چھوڑے گا اور اُنھیں کبھی بھی اُسے چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تب اور اب شاگِردوں کو اُس کے وعدوں سے تسلّی ملتی ہے: ”مَیں تُمہیں یتِیم نہ چھوڑونگا“ (یُوحنّا ۱۴: ۱۸)۔ ”اگر تُم میرے حُکموں پر عمل کرو گے تو، میری محبّت میں قائِم رہو گے“ (یُوحنّا ۱۵: ۱۰)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
یُوحنّا ۱۳–۱۵
اُس کے حُکموں پر عمل کرنے سے میں یِسُوع مسِیح سے اپنے پیار کا اِظہار کرتا ہوں۔
یِسُوع مسِیح نے پہلے ہی یہ سِکھایا تھا کہ دو عظیم احکام کا مدار محبّت ہے (دیکھیں متّی ۲۲: ۳۴–۴۰)۔ اِس تاکید کو مدِنظر رکھتے ہوئے، رَسُولوں کے لیے اُس کی آخِری ہدایات کا ایک اہم موضوع محبّت تھا۔ یُوحنّا ۱۳–۱۵ کو پڑھتے ہوئے، آپ محبّت کے لفظ کے ہر استعمال کو نوٹ یا نشان زد کر سکتے ہیں۔
اِن ابواب میں آپ نوٹ کریں گے کہ لفظ حُکموں کی وابستگی لفظ محبّت کے ساتھ کثرت سے دہرائی گئی ہے۔ مُنّجی کی تعلیمات سے آپ محبّت اور حُکموں کے درمیان تعلق کے بارے میں کیا سیکھ سکتے ہیں؟ اِن ابواب میں لفظ محبّت کے ساتھ دُوسرے کون سے اِلفاظ بار بار دہرائے گئے ہیں؟ آپ نے جو سیکھا ہے اُس کی بنیاد پر، محبّت کے بارے میں نِجات دہندہ کی تعلیمات کا ایک مختصر خلاصہ لکھنے پر غور کریں۔
مزید دیکھیں ڈی ٹاد کرسٹوفرسن، ”Abide in My Love،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۶، ۴۸–۵۱۔
یُوحنّا ۱۴–۱۶
رُوحُ الُقدس یِسُوع مسِیح کے شاگِرد کی حیثیت سے اپنے مقصد کو پورا کرنے میں میری مدد کرتا ہے۔
یِسُوع مسِیح جانتا تھا کہ وہ جلد ہی اپنے شاگِردوں سے جدا ہو جائے گا، اور وہ جانتا تھا کہ اُس کے جانے کے بعد اُنھیں رُوحانی مدد کی ضرورت ہوگی۔ اُن کو یہ سمجھانے کے لیے کہ یہ مددگار کیسے ملے گا، اُس نے اُنھیں رُوحُ الُقدس کے بارے میں تعلیم دی۔ اِن آیات میں مُنّجی کے اِلفاظ سے آپ رُوحُ الُقدس کے کردار کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟
-
یُوحنّا ۱۴: ۱۶–۱۷، ۲۶
-
یُوحنّا ۱۵: ۲۶
-
یُوحنّا ۱۶: ۷–۱۱
-
یُوحنّا ۱۶: ۱۲–۱۵
شاگِردوں کو رُوحُ الُقدس سے اِس قسم کی مدد کیوں درکار تھی؟ رُوحُ الُقدس نے آپ کی زِندگی میں اِن کرداروں کو کس طرح نبھایا ہے؟ جب آپ نئے عہد نامہ کا مُطالعہ کرنا جاری رکھتے ہیں تو، اُن طریقوں کو ڈھونڈیں جن کی بدولت رُوحُ الُقدس نے یِسُوع کے شاگِردوں کو برکت دی۔ اگر آپ رُوحُ الُقدس کو زیادہ گہرائی سے اپنے پر اثر انداز ہونے کی دعوت دیں تو آپ کی زِندگی کیسے مختلف ہوگی؟
مزید دیکھیں مضایاہ ۳: ۱۹؛ ۵: ۱–۳؛ ۳ نیفی ۲۷: ۲۰؛ مرونی ۸: ۲۵–۲۶؛ ۱۰: ۵؛ عقائد اور عہود ۱۱: ۱۲–۱۴؛ موسیٰ ۶: ۶۱۔
یُوحنّا ۱۵: ۱–۸
مسِیح میں قائِم رہنے کے باعِث، میں اچھّے پھَل لاؤں گا۔
”[مسِیح] میں قائِم رہنے“ سے کیا مراد ہے؟ (یُوحنّا ۱۵: ۴)۔ کون سا ” پھَل“ ظاہر کرتا ہے کہ آپ انگُور کی بیل کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، جو یِسُوع مسِیح کی نمائندگی کرتی ہے؟
یُوحنّا ۱۷
یِسُوع مسِیح اپنے شاگِردوں کی شفاعت کرتا ہے۔
یُوحنّا ۱۷میں درج یِسُوع کے اِلفاظ شفاعتی دُعا کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اِس دُعا میں، یِسُوع نے اپنے رَسُولوں اور ”اُن کے لئِے بھی جو اُن کے کلام کے وسِیلہ سے [اُس] پر اِیمان لائیں گے“ دُعا کی (یُوحنّا ۱۷: ۲۰)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کے لیے دُعا کر رہا تھا۔ یِسُوع نے آپ کے لیے اور دُوسرے تمام پیروکاروں کے لیے اپنے باپ سے کیا درخواست کی؟
یہ دُعا گہری، ابدی سَچّائیوں کا بھی درس دیتی ہے۔ اِسے پڑھنے سے آپ کو کون سی سَچّائیاں ملتی ہیں؟
یُوحنّا ۱۷: ۱۱، ۲۱–۲۳
یِسُوع مسِیح اور آسمانی باپ کیسے ایک ہیں؟
یُوحنّا ۱۷ میں اپنی دُعا میں، یِسُوع نے باپ کے ساتھ اپنے اتحاد پر زور دیا تھا، لیکن اِس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اور اُس کا باپ ایک ہستی ہیں۔ جب نِجات دہندہ نے دُعا کی کہ اُس کے شاگِرد ایک ہوں ”جِیسے“—یا جس طرح سے—وہ اور اُس کا باپ ایک ہیں (یُوحنّا ۱۷: ۲۲)، تو اُس کے کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ تمام شاگِرد ایک ہستی بن جائیں۔ بلکہ، اُس کی خواہش یہ تھی کہ وہ باپ کے ساتھ اُس کی مانند کامِل اتحاد کا لطف اُٹھائیں—جو مقصد، دِل، اور دماغ کا کامِل اتحاد ہے۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
یُوحنّا ۱۳: ۱–۱۷
اِن آیات میں نِجات دہندہ کی مثال سے ہمارا خاندان کیا سیکھتا ہے؟ ہم کن طریقوں سے اُس کے نمونہ کی پیروی کرسکتے ہیں؟
یُوحنّا ۱۳: ۳۴–۳۵؛ ۱۵: ۹–۱۴
جب آپ محبّت کے بارے میں نِجات دہندہ کی تعلیمات پر گفتگو کرتے ہیں تو، صدر تھامس ایس مانسن کے اِن اِلفاظ پر بھی غور کریں: ”آج کی دُنیا میں، گھر کی بنیاد محبّت پر رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اور مُقدّسینِ آخِری ایّام کے گھروں کی نسبت دُنیا کو کہیں بھی اِس بنیاد کی مثال نہیں ملتی جن کی خاندانی زِندگی محبّت پر مرکوز ہے۔ … محبّت ہی اِنجیل کا نچوڑ ہے، جو انسانی جان کی سب سے عمدہ صفت ہے“ (”As I Have Loved You،“ انزائن یا لیحونا، فروری ۲۰۱۷، ۴–۵)۔
آپ کے خاندانی اَرکان تصویر بنانے یا کاغذی دِلوں پر ایک دُوسرے کے بارے میں پسندیدہ چِیزیں لکھنے سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ وہ اُن دِلوں کو گھر کے چاروں طرف ایک دُوسرے سے محبّت کا اِظہار کرنے کی یاد دہانی کے طور پر لگا سکتے ہیں۔
یُوحنّا ۱۵: ۱–۸
اِن آیات کو باہر انگُور کی بیل، دَرخت یا کسی اور پودے کے پاس بیٹھ کر پڑھنے سے لطف اُٹھایا جاسکتا ہے۔ یہ سرگرمی نِجات دہندہ کی تعلیمات کو بہتر طور پر سمجھنے میں کِس طرح آپ کے خاندانی اَرکان کی مدد کرتی ہے؟
یِسُوع نے سِکھایا، ”مَیں انگُور کا دَرخت ہُوں تُم ڈالِیاں ہو“ (یُوحنّا ۱۵: ۵)۔
یُوحنّا ۱۵: ۱۷–۲۷؛ ۱۶: ۱–۷
آپ کے خیال میں یِسُوع مسِیح نے اپنے شاگِردوں کو ظلم و ستم سے آگاہ کیوں کیا؟ آج مسِیح کے شاگِردوں کو کس طرح ستایا جاتا ہے؟ جب ہمیں ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اِن آیات میں نِجات دہندہ کی مشورت ہماری مدد کیسے کرسکتی ہے؟
یُوحنّا ۱۶: ۳۳
مسِیح دُنیا پر کیسے غالِب آیا ہے؟ اُس کے کفارہ نے ہمیں کس طرح اِطمینان اور خُوشی بخشی ہے؟ (مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۶۸: ۶)۔
یُوحنّا ۱۷: ۲۱–۲۳
جیسا کہ یِسُوع مسِیح اور آسمانی باپ متحد ہیں ہمارا خاندان کیسے مزید متحد ہوسکتا ہے؟ خُداوند کیوں ہم سے متحد ہونا چاہتا ہے؟ (مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۳۸: ۲۷)۔
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
اپنی تدریس کو بہتر بنانا
آڈیو ریکارڈنگ کا استعمال کریں۔ جب آپ اپنے خاندان کو صحائف کی تعلیم دیتے ہیں تو ChurchofJesusChrist.org یا گاسپل لائبریری ایپ پر پائے جانے والے صحائف کے آڈیو ورژن کو سننے پر غور کریں۔ یُوحنّا ۱۳–۱۷ کو سننا خاص طور پر قوی ہوسکتا ہے کیونکہ اِن ابواب میں نِجات دہندہ کے اِلفاظ بکثرت شامل ہیں۔