لائبریری
مئی ۳–۹۔ لُوقا ۱۲–۱۷؛ یُوحنّا ۱۱: ’میرے ساتھ خُوشی کرو کِیُونکہ میری کھوئی ہُوئی بھیڑ مِل گئی‘


”مئی ۳–۹۔ لُوقا ۱۲–۱۷؛ یُوحنّا ۱۱: ’میرے ساتھ خُوشی کرو کِیُونکہ میری کھوئی ہُوئی بھیڑ مِل گئی‘“ آ، میرے پِیچھے ہولے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”مئی ۳–۹۔ لُوقا ۱۲–۱۷؛ یُوحنّا ۱۱،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

آدمِی اپنے بَیٹے سے بغل گیر ہوتے ہوئے

مُسرف بَیٹا، از لز لیمن سوونڈل

مئی ۳–۹

لُوقا ۱۲–۱۷؛ یُوحنّا ۱۱

”میرے ساتھ خُوشی کرو کِیُونکہ میری کھوئی ہُوئی بھیڑ مِل گئی“

جب آپ لُوقا ۱۲–۱۷ اور یُوحنّا ۱۱ کو پڑھتے ہیں تو، دُعاگو ہو کر اِس بات کے خواہاں ہوں کہ آسمانی باپ آپ کو کیا بتانا اور آپ سے کیا کروانا چاہتا ہے۔ اِن ابواب کا مُطالعہ صرف آپ سے متعلق پیغامات حاصل کرنے کے لیے آپ کا دِل کھول سکتا ہے۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

زیادہ تر حالات میں، سو میں سے نِنانوے بہترین تصور کیا جائے گا—لیکن اِس طرح کے اعداد خُدا کے محبوب بچّوں پر لاگو نہیں ہوتے (دیکھیں عقائد اور عہود ۱۸: ۱۰)۔ اُس صورت میں، یہاں تک کہ ایک جان بھی مفصل، مضطرب تلاش کی مستحق ہوتی ہے ”جب تک [ہمیں] مِل نہ جائے“ (لُوقا ۱۵: ۴)، جیسا کہ مُنّجی نے کھوئی ہوئی بھیڑ کی تَمثِیل میں سِکھایا تھا۔ پھر خُوشی منائی جا سکتی ہے، کِیُوں کہ ”نِنانوے راستبازوں کی نِسبت جو تَوبہ کی حاجت نہِیں رکھتے ایک تَوبہ کرنے والے گُنہگار کے باعِث آسمان پر زِیادہ خُوشی ہوگی“ (لُوقا ۱۵: ۷)۔ اگر یہ بات غیر منصفانہ لگے، تو اِس سَچّائی کو یاد رکھنا مددگار ثابت ہوگا، کہ کوئی بھی ایسا شَخص موجود نہیں جو ”تَوبہ کی حاجت نہِیں رکھتا۔“ ہم سب کو بچائے جانے کی ضرورت ہے۔ اور ہم سب مِل کر بچانے کے کام میں حصّہ لے سکتے اور بچائی گئی ہر جان کے لیے باہم خُوشی منا سکتے ہیں(دیکھیں عقائد اور عہود ۱۸: ۱۵–۱۶

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

لُوقا ۱۲؛ ۱۴–۱۶

مجھے دُنیاوی چِیزوں کی بجائے اہم ابدی چِیزوں کی طرف اپنا دِل مائل کرنا چاہیے۔

کِیُوں خُدا نے ایک محنتی، کامیاب اِنسان کو ”اَے نادان“ کہا جس نے بڑی کوٹھیاں تعمیر کیں اور اُن میں اپنا سارا اَناج اور مال بھرا (دیکھیں لُوقا ۱۲: ۱۶–۲۱)۔ لُوقا کے اِن ابواب میں، نِجات دہندہ نے کئی ایسی تَمثِیلیں سِکھائی جو دُنیاوی چِیزوں سے پرے ابدی چِیزوں کو دیکھنے میں ہماری مدد کر سکتی ہیں۔ اِن تَمثِیلوں میں سے کچھ یہاں درج کی گئی ہیں۔ آپ کِس طرح سے ہر ایک کے پیغام کا خلاصہ پیش کریں گے؟ آپ کے خیال میں خُداوند آپ سے کیا کہنا چاہتا ہے؟

  • نادان دَولتمند شَخص (لُوقا ۱۲: ۱۳–۲۱)

  • عظیم ضیافت (لُوقا ۱۴: ۱۲–۲۴)

  • مُسرف بَیٹا (لُوقا ۱۵: ۱۱–۳۲)

  • ناراست مُختار (لُوقا ۱۶: ۱–۱۲)

  • دَولتمند شَخص اور لعزر (لُوقا ۱۶: ۱۹–۳۱)

مزید دیکھیں متّی ۶: ۱۹–۳۴؛ ۲ نیفی ۹: ۳۰؛ عقائد اور عہود ۲۵: ۱۰۔

لُوقا ۱۵

کھوئے ہوؤں کو ڈھُونڈنے کے باعِث آسمانی باپ خُوش ہوتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی اُن لوگوں کے لیے آسمانی باپ کے احساسات کے بارے میں سوچا ہے جن لوگوں نے گُناہ کیا یا بصورتِ دیگر ”کھو“ گئے؟ فرِیسی اور فقِیہ بُڑ بُڑاتے تھے کہ یِسُوع اَیسے لوگوں سے مِلتا تھا۔ اِس کے جواب میں، یِسُوع نے لُوقا ۱۵ میں پائی جانی والی تین تَمثِیلیں بتائیں—کھوئی ہوئی بھیڑ، کھویا ہوا دِرہم، اور مُسرف بَیٹے کی تَمثِیلیں۔

جب آپ یہ تَمثِیلیں پڑھتے ہیں تو، اِن کے درمیان مشابہت اور اختلافات کی ایک فہرست بنانے پر غور کریں۔ مثال کے طور پر، آپ جائزہ لے سکتے ہیں کہ کیا چِیز کھوئی تھی اور کیوں، یہ کس طرح مِلی تھی، اور اِس کے ملنے پر لوگوں کا ردِعمل کیسا تھا۔ یِسُوع کا اُن لوگوں کے لیے کیا پیغام ہے جو ”کھو“ گئے ہیں—اُن سمیت جو خود کو کھویا ہوا محسوس نہیں کرتے ہیں؟ کھوئے ہوؤں کو تلاش کرنے والوں کے لیے اُس کا کیا پیغام ہے؟

بیشک، کھویا نہ جانا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ لُوقا ۱۵: ۷ کے بارے میں، بزرگ جیمز ای ٹالمیج نے لکھا، ”اِس دلیل کا کوئی جواز نہیں ہے کہ تَوبہ کرنے والے گُنہگار کو گُناہ کے خلاف مزاحمت کرنے والی نیک رُوح پر فوقیت دی جائے“ (Jesus the Christ [۱۹۱۶]، ۴۶۱)۔ البتہ، ہم میں سے ہر ایک نے گُناہ کیا اور ہم سب کو نِجات کی ضرورت ہے، اور نِجات دہندہ کی تَمثِیلوں کا اِطمینان بخش پیغام یہ ہے کہ ہم سب تَوبہ کرسکتے اور راستی کی جانب واپس لوٹ سکتے ہیں، کِیُوں کہ خُدا کی خواہش ہے کہ ایک بھی رُوح ہلاک نہ ہو۔

مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۱۸: ۱۰–۱۶؛ جیفری آر ہالینڈ، ”The Other Prodigal،“ انزائن، مئی ۲۰۰۲، ۶۲–۶۴۔

دِرہم کو ڈھُونڈتی ہوئی عَورت

کھویا ہُؤا دِرہم، از جیمز ٹیسیٹ

لُوقا ۱۶: ۱–۱۲

مسِیح نے ناراست مُختار کی تَمثِیل میں کیا تعلیم دی تھی؟

بزرگ جیمز ای ٹالمیج نے اِس تَمثِیل سے حاصل ہونے والے ایک سبق کی وضاحت دی: ”سرگرم رہیں؛ آپ کی دُنیاوی دَولت کے اِستعمال کرنے کا دن جلد ہی گزر جائے گا۔ یہاں تک کہ بے اِیمان اور بدکار لوگوں سے سبق حاصل کریں جو؛ محتاط طریقے سے صرف اُس مستقبل کے لیے ذخیرہ کرتے ہیں جس کا فہم وہ رکھتے ہیں؛ پَس آپ کو جو، ابدی مستقبل پر یقین رکھتے ہیں، کتنا زیادہ ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے! اگر آپ ’ناراست دَولت‘ کو حکمت اور دانائی کے ساتھ استعمال کرنا نہیں سیکھتے تو، حقِیقی دَولت کَون آپ کے سُپُرد کرے گا؟“ (Jesus the Christ, ۴۶۴

لُوقا ۱۷: ۱۱–۱۹

اپنی برکتوں کے لیے شُکریہ ادا کرنا مجھے خُدا کے قریب لے جائے گا۔

اگر آپ دَس کوڑھیوں میں سے ایک ہوتے تو کیا آپ نِجات دہندہ کا شُکریہ ادا کرنے کے لیے واپس لوٹتے؟ شُکر ادا کرنے کے باعِث کوڑھی نے کون سی اضافی برکات حاصل کیں؟ اِظہارِ تشکر کس طرح آپ کو رُوحانی طور پر متاثر کرتا ہے؟ اپنے روزنامچے میں اُن چِیزوں کو تحریر کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے جن کے لیے آپ شُکر گزار ہوں؛ جیسا کہ صدر ہینری بی آئرنگ نے اپنے پیغام میں بیان کیا ہے ”O Remember, Remember“ (انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۰۷، ۶۶–۶۹)۔

یُوحنّا ۱۱: ۱–۴۶

یِسُوع مسِیح قِیامت اور زِندگی ہے۔

مُردوں میں سے لعزر کو زندہ کرنے کا مُعجِزہ ایک قوی اور ناقابلِ تردید گواہی تھی کہ یِسُوع واقعی ہی خُدا کا بَیٹا اور موعودہ ممسوح تھا۔ یُوحنّا ۱۱: ۱–۴۶ میں کون سے اِلفاظ، اقوال، یا تفصیلات آپ کے اِیمان کو مضبُوطی بخشتی ہیں کہ یِسُوع مسِیح ”قِیامت اور زِندگی“ ہے؟ کِس طرح یہ علم آپ کی زِندگی اور آپ کے انتخابات پر اثر انداز ہوتا ہے؟

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

لُوقا ۱۵: ۱–۱۰

کیا آپ کے خاندان کے اَرکان کسی چِیز کے کھو جانے—یا خود کے کھو جانے کے احساس کو سمجھتے ہیں؟ اُن کے تجربات کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کھوئی ہوئی بھیڑ اور کھوئے ہوئے دِرہم کی تَمثِیلوں کے بارے میں گفتگو شروع کی جاسکتی ہے۔ یا آپ آنکھ مچولی کا کھیل کھیل سکتے ہیں جس میں ایک رکن چھپ جاتا ہے اور خاندان کے دُوسرے اِرکان اُس کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سرگرمی ہمیں اِن تَمثِیلوں کو سمجھنے میں کِس طرح مدد دیتی ہے؟

لُوقا ۱۵: ۱۱–۳۲

اپنے کسی پیارے کو کھونے کے باعِث ہم اِس کہانی میں بیان کردہ باپ کی مانند کیسے ہو سکتے ہیں؟ ہم بڑے بَیٹے کے تجربے سے ایسا کیا سیکھ سکتے ہیں جس سے ہمیں مزید مسِیح کی مانند بننے میں مدد مِل سکتی ہے؟ کِن طریقوں سے ہمارا آسمانی باپ اِس تَمثِیل میں بیان کردہ باپ کی مانند ہے؟

لُوقا ۱۷: ۱۱–۱۹

خاندان کے اَرکان کو دَس کوڑھیوں کی کہانی کا اطلاق کرنے میں مدد کے لیے، آپ اُن کو شُکریہ کے خفیہ نوٹ لکھنے اور گھر بھر میں اُنھیں پھیلانے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ آپ اکٹھے ”Count Your Blessings،“ گیت، نمبر ۲۴۱ گا سکتے ہیں، اور اُن برکتوں کے بارے گفتگو کرسکتے ہیں جو آپ کے خاندان نے حاصل کیں ہیں۔

یُوحنّا ۱۱: ۱–۴۶

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

اِنجیلی اُصولوں کو سِکھانے کے لیے کہانیوں اور مثالوں کا استعمال کریں۔ نِجات دہندہ نے اکثر کہانیوں اور تَمثِیلوں کا استعمال کرتے ہوئے اِنجیلی اُصولوں کے بارے میں سِکھایا۔ اپنی خود کی زِندگی میں سے اَیسی مثالوں اور کہانیوں کے بارے میں سوچیں جو کہ آپ کے خاندان کے لیے ایک اِنجیلی اُصول میں جان ڈال سکتی ہیں (دیکھیں نِجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، ۲۲

ایک آدمِی مُنہ کے بل یِسُوع کے پاؤں پر گِر کر اُس کا شُکر کرتے ہوئے

وہ نَو کہاں ہیں، از لز لیمن سوونڈل