”مئی ۱۰–۱۶۔ متّی ۱۹–۲۰؛ مرقس ۱۰؛ لُوقا ۱۸: ’اَب مُجھ میں کِس بات کی کمی ہے؟‘آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”مئی ۱۰–۱۶۔ متّی ۱۹–۲۰؛ مرقس ۱۰؛ لُوقا ۱۸،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
مئی ۱۰–۱۶۔
متّی ۱۹–۲۰؛ مرقس ۱۰؛ لُوقا ۱۸
”اَب مُجھ میں کِس بات کی کمی ہے؟“
متّی ۱۹–۲۰؛ مرقس ۱۰؛ اور لُوقا ۱۸ کو پڑھیں اور غوروفکر کریں، اور اپنی حاصل کردہ سرگوشیوں پر دھیان لگائیں۔ اُن سرگوشیوں کو نوٹ کریں، اور تعین کریں کہ آپ اُن پر کیسے عمل کریں گے۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
اگر آپ کو نجات دہندہ سے سوال پوچھنے کا موقع ملے تو آپ کیا سوال پوچھیں گے؟ جب ایک مالدار نوجوان شَخص پہلی بار نجات دہندہ سے مِلا، تو اُس نے پوچھا، ”میں کونسِی نیکی کرُوں تاکہ ہمیشہ کی زِندگی پاؤں؟“ (متّی ۱۹: ۱۶)۔ نجات دہندہ کے جواب نے اُس نوجوانوں کے ماضی کے اچھے کاموں کی تعریف کی اور ساتھ ہی ساتھ مزید اور اچھے کاموں کو کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کی تھی۔ جب ہم ابدی زندگی کے امکان پر غور کرتے ہیں، تو ہمیں بھی اِسی طرح گمان ہوسکتا ہے کہ کیا ہمیں مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم اپنے طریقے سے، پوچھتے ہیں کہ، ”اَب مُجھ میں کِس بات کی کمی ہے؟“ (متّی ۱۹: ۲۰)، تو خُداوند ہمیں ایسے جوابات دے سکتا ہے جو اتنے ہی ذاتی نوعیت کے ہوں گے جتنا اُس مالدار نوجوان شَخص کا جواب تھا۔ خُداوند ہم سے جو کچھ کرنے کو کہتا ہے، اُس کے جواب پر عمل کرنے کا ہمیشہ سے یہ تقاضا ہوگا کہ ہم اپنی ہی راست بازی سے زیادہ اُس پر بھروسہ کریں (دیکھیں لُوقا ۱۸: ۹–۱۴) اور یہ کہ ”خُدا کی بادشاہی کو بچّے کی طرح قُبُول کرے“ (لُوقا ۱۸: ۱۷؛ مزید دیکھیں ۳ نیفی ۹: ۲۲)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
متّی ۱۹: ۱–۹؛ مرقس ۱۰: ۱–۱۲
مرد اور عَورت کے درمیان شادی خُدا کی طرف سے مُقرِّر کردہ ہے۔
نجات دہندہ اور فرِیسِیوں کے درمیان یہ تبادلہِ خیال اُن چند قلمبند مثالوں میں سے ایک ہے جس میں نجات دہندہ نے شادی کے بارے میں خصوصی طور پر تعلیم دی تھی۔ متّی ۱۹: ۱–۹ اور مرقس ۱۰: ۱–۱۲ کو پڑھنے کے بعد، چند بیانات کی ایک فہرست بنائیں جو شادی سے متعلق خُداوند کے خیالات کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ باپ کے نِجات کے منصوبے کے بارے میں آپ کے علم سے آپ کو یہ سمجھنے میں کس طرح مدد ملتی ہے کہ مرد اور عَورت کے درمیان شادی خُدا کی طرف سے کیوں مُقرِّر کردہ ہے؟
ابدی شادی خُدا کے مُنصوبے کا حصّہ ہے۔
متّی ۱۹: ۳–۹؛ مرقس ۱۰: ۲–۱۲
کیا یِسُوع نے یہ سکھایا تھا کہ طلاق کبھی بھی قابل قبول نہیں ہے یا طلاق یافتہ لوگوں کو دوبارہ شادی نہیں کرنی چاہیے؟
طلاق سے متعلق ایک خطاب میں، صدر ڈیلن ایچ اوکس نے سِکھایا کہ آسمانی باپ ازدواجی تعلقات کو ابد تک قائم رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم، خُدا اِس بات کو بھی سمجھتا ہے کہ ”[ہماری] سخت دِلی کے سبب سے“ (متّی ۱۹: ۸)، ایک یا دونوں فریق کے ناقص انتخابات اور خود غرضی کے باعِث، طلاق کبھی کبھار ضروری ہوتی ہے۔
صدر اوکس نے وضاحت کی کہ خُداوند ”طلاق یافتہ افراد کو اعلیٰ قانون میں وضع غیر اخلاقی داغ کے بغیر دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جب تک کہ طلاق یافتہ رکن نے سنگین غلطی کا ارتکاب نہ کیا ہو، وہ یکساں اہلیت کے معیار کے تحت جو دُوسرے اَرکان پر لاگو ہوتا ہے اجازت نامہ برائے ہَیکل کا اہل بن سکتا/سکتی ہے“ (”Divorce،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۰۷، ۷۰)۔
متّی ۱۹: ۱۶–۲۲؛ مرقس ۱۰: ۱۷–۲۲؛ لُوقا ۱۸:۱۸–۲۳
اگر میں خُداوند سے پوچھوں، تو وہ مجھے سِکھائے گا کہ ابدی زندگی کے وارث ہونے کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے۔
مالدار نوجوان کی کہانی اِیماندار، تاحیات شاگرد کو بھی سکوت بخش سکتی ہے۔ جب آپ مرقس ۱۰: ۱۷–۲۲ پڑھتے ہیں تو، آپ کو نوجوان شَخص کی اِیمانداری اور خلوص کا کیا ثبوت ملتا ہے؟
مالدار نوجوان شَخص کی مانند، ہم سب غیر کامل اور نامکمل ہیں، لہٰذا شاگردوں کی حیثیت سے ہمیں یہ پوچھنا چاہیے، ”اَب مُجھ میں کِس بات کی کمی ہے؟“—اور ہمیں پوری زندگی یہ سوال پوچھتے رہنا چاہیے۔ غور فرمائیں کہ اُس کو جواب محبت سے دیا گیا ایسے شَخص کے ذریعے جو ہمیں ویسے دیکھتا ہے جو واقعتاً ہم ہیں (دیکھیں مرقس ۱۰: ۲۱)۔ خُداوند سے یہ پوچھنے کے لیے کہ آپ میں کِس بات کی کمی ہے—اور اُس کا جواب قبول کرنے کی تیاری کے لیے آپ کیا کرسکتے ہیں؟
مزید دیکھیں لیری آر لارنس، ”What Lack I Yet؟“ انزائن یا لیحونا، نومبر. ۲۰۱۵، ۳۳–۳۵؛ ایس مارک پالمر، ”Then Jesus Beholding Him Loved Him،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۷، ۱۱۴–۱۶۔
متّی ۲۰: ۱–۱۶
ہر کوئی ابدی زندگی کی نعِمت حاصل کرسکتا ہے، وہ چاہے جب بھی اِنجیل کو قبول کریں۔
کیا آپ تاکِستان کے مزدُوروں میں سے کسی ایک کے تجربہ سے وابستگی کا اظہار کرسکتے ہیں؟ اِس پیرائے میں سے آپ اپنے لیے کون سے اسباق حاصل کرسکتے ہیں؟ بزرگ جیفری آر ہالینڈ کا پیغام ”The Laborers in the Vineyard“ (انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۲، ۳۱–۳۳) سے اِس تَمثِیل کے اطلاق کے نئے طریقوں کو دیکھنے میں آپ کو مدد مل سکتی ہے۔ رُوح آپ کو کون سی اضافی سرگوشیاں بخشتا ہے؟
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
متّی ۱۹: ۱–۹؛ مرقس ۱۰: ۱–۱۲
کیا آپ کا خاندان شادی اور خاندان کے بارے میں خُدا کی تعلیمات پر گفتگو کرنے سے مستفید ہوگا؟ اگر ایسا ہے تو، آپ ”خاندان: دُنیا کے لیے ایک اعلان“ (انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۰، ۱۲۹) پڑھ سکتے ہیں۔ اعلان میں پائی جانے والی تعلیمات شادی اور خاندان سے متعلق دُنیاوی پیغامات میں پائی جانے والی اُلجھنوں اور دروغ گوئی کو دور کرنے میں کِس طرح مدد کرتی ہیں؟
مرقس ۱۰: ۲۳–۲۷
دَولت مند ہونے اور دَولت پر بھروسہ رکھنے میں کیا فرق ہے؟ (دیکھیں مرقس ۱۰: ۲۳–۲۴)۔ جب آپ آیت ۲۷ پڑھتے ہیں، تو آپ ترجمہ برائے جوزف سمتھ کی جانب بھی توجہ دِلا سکتے ہیں: ”ایسے آدمِی جو دَولت پر بھروسا رکھتے ہیں، اُن سے تو نہِیں ہو سکتا ہے؛ مگر ایسے آدمِیوں سے ہو سکتا ہے جو خُدا پر بھروسہ رکھتے ہیں اور میرے لیے سب کُچھ چھوڑ دِیتے ہیں، کِیُوں کہ ایسے آدمِیوں کے لیے یہ تمام چیزیں ممکن ہیں“ (مرقس ۱۰: ۲۷، زیریں حاشیہ اے میں)۔
متّی ۲۰: ۱–۱۶
متّی ۲۰: ۱–۱۶ میں درج اُصولوں کی وضاحت کے لیے، آپ ایک سادہ مقابلہ ترتیب دے سکتے ہیں، جیسا کہ ایک چھوٹی دوڑ، اور وعدہ کریں کہ جیتنے والے کو انعام ملے گا۔ مقابلہ ختم ہونے کے بعد، ہر ایک کو ایک ہی انعام سے نوازیں، اور اُس شَخص کے ساتھ شروع کریں جو سب سے آخر آیا تھا اور اُس شَخص کے ساتھ اختتام پذیر ہوں جس نے پہلے نمبر پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں کہ آسمانی باپ کے منصوبے کے مطابق ابدی زندگی کی نعِمتیں کون حاصل کرتا ہے؟
متّی ۲۰: ۲۵–۲۷؛ مرقس ۱۰: ۴۲–۴۵
اِس جملے کے کیا معنی ہیں کہ ”جو تُم میں اوّل ہونا چاہے وہ تُمہارا غُلام بنے“؟ (متّی ۲۰: ۲۷)۔ یِسُوع مسِیح نے اِس اُصول کی کیسے مثال پیش کی؟ ہم اپنے خاندان، اپنے حلقہ یا شاخ اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اُس کی مثال کی کیسے پیروی کرسکتے ہیں؟
لُوقا ۱۸: ۱–۱۴
ہم اِن آیات میں درج دو تَمثِیلوں سے دُعا کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا
اپنے لیے موزوں وقت نکالیں۔ جب آپ صحائف کا مُطالعہ بغیر کسی رکاوٹ کے کر پاتے ہیں تو سیکھنا اکثر آسان ہوتا ہے۔ اپنے لیے موزوں وقت نکالیں، اور ہر دن اُس وقت مستقل مُطالعہ کرنے کی پوری کوشش کریں۔