”مئی ۲۴–۳۰۔ جوزف سمتھ—متّی ۱؛ متّی ۲۴–۲۵؛ مرقس ۱۲–۱۳؛ لُوقا ۲۱: ’اِبنِ آدم آئے گا‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”مئی ۲۴–۳۰۔ جوزف سمتھ—متّی ۱؛ متّی ۲۴–۲۵؛ مرقس ۱۲–۱۳؛ لُوقا ۲۱،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
آمدِ ثانی، از ہیری اینڈرسن
مئی ۲۴–۳۰
جوزف سمتھ—متّی ۱؛ متّی ۲۴–۲۵؛ مرقس ۱۲–۱۳؛ لُوقا ۲۱
”اِبنِ آدم آئے گا“
آپ جوزف سمتھ—متّی ۱؛ متّی ۲۴–۲۵؛ مرقس ۱۲–۱۳؛ اور لُوقا ۲۱ پڑھتے ہوئے، آپ پوچھ سکتے ہیں کہ، ”اِن ابواب میں میرے لیے؟ میرے خاندان کے لیے؟ میری بُلاہٹ کے لیے کون سے پیغامات موجود ہیں؟“
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
یِسُوع کی پیش گوئی نے اُس کے شاگِردوں کو چونکا دیا ہوگا: یروشلِیم کی زبردست ہَیکل، یہودیوں کا رُوحانی اور ثقافتی مرکز، مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا کہ ”پتھّر پر پتھّر باقی نہ [رہے] گا … جو گِرایا نہ جائے گا۔“ قُدرتی طور پر شاگِرد مزید جاننا چاہتے تھے۔ ”یہ باتیں کب ہوں گی؟“ اُنھوں نے کہا۔ ”اور تیری آمد کا نِشان کیا ہے؟“ (جوزف سمتھ—متّی ۱: ۲–۴)۔ نِجات دہندہ کے جوابات نے عیاں کیا کہ یروشلِیم میں ہونے والی عظیم تباہی—پیش گوئی جو ۷۰ صدی عیسوی میں پوری ہوئی—آخری ایّام میں اُس کے آنے کے نِشانات کی نسبت چھوٹی ہوگی۔ وہ چِیزیں جو یروشلِیم میں ہَیکل سے کہیں زیادہ مستحکم نظر آتی ہیں وہ بھی عارضی ثابت ہوں گی—جیسا کہ سُورج، چاند، سِتارے، قومیں اور سمندر۔ حتیٰ کہ ”ّآسمان کی قُوّتیں ہِلائی جائیں گی“ (جوزف سمتھ—متّی ۱: ۳۳)۔ رُوحانی طور پر آگاہ ہونے کی صُورت میں، اِس ہنگامی صورتِ حال کے باعِث ہم کِسی حقیقی مستقل چِیز پر اعتماد کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ جیسا کہ یِسُوع نے وعدہ کیا تھا، ”آسمان اور زمِین ٹل جائیں گے؛ لیکِن میری باتیں ہرگِز نہ ٹلیں گی۔ … اور جو کوئی میرے کلام کا ذخیرہ کرتا ہے، دھوکہ نہ کھائے گا“ (جوزف سمتھ—متّی ۱: ۳۵، ۳۷)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
جوزف سمتھ—متّی
جوزف سمتھ—متّی کیا ہے؟
جوزف سمتھ—متّی، جو بیش قیمت موتی میں پایا جاتا ہے، جوزف سمتھ کا ترجمہ برائے بائبل کا ایک اقتباس ہے۔ اِس میں متّی ۲۳ کی آخری آیت اور متّی ۲۴ کی تمام آیات کی ترمیم و تنسیح شامل ہے۔ جوزف سمتھ کی اِلہامی ترمیم و تنسیح اُن قیمتی سَچّائیوں کو بحال کرتی ہے جو کھو چکی تھیں۔ آیات ۱۲–۲۱ برائے جوزف سمتھ—متّی قدیم یروشلِیم کی تباہی کا حوالہ دیتی ہیں؛ آیات ۲۱–۵۵ آخری ایّام کے بارے میں پیش گوئیوں پر مشتمل ہیں۔
جوزف سمتھ—متّی ۱: ۲۱–۳۷؛ مرقس ۱۳: ۲۱–۳۷؛ لُوقا ۲۱: ۲۵–۳۸
نِجات دہندہ کی آمدِ ثانی کے بارے میں پیش گوئیاں مجھے اِیمان کے ساتھ مستقبل کا سامنا کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
یِسُوع مسِیح کی آمدِ ثانی سے قبل رُونما ہونے والے واقعات کے بارے میں علم ہمارے سکون میں خلل ڈال سکتا ہے۔ لیکن جب یِسُوع نے اِن واقعات کی پیش گوئی کی تو، اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا کہ ”تُم گھبرا نہ جانا“ (جوزف سمتھ—متّی ۱: ۲۳)۔ جب آپ زلزلوں، جنگوں، فریب کاریوں اور کال کے بارے میں سنتے ہیں تو آپ کِس طرح ”ہراساں نہ ہوں“ گے؟ اِن آیات کو پڑھتے ہوئے اِس سوال کے بارے میں سوچیں۔ کسی بھی تسلّی بخش مشورت کو نشان زد یا نوٹ کریں۔
مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۲۹: ۱۴–۲۱؛ ۳۸: ۳۰؛ ۴۵: ۱۶–۵۲؛ ۸۸: ۸۶–۹۴۔
جوزف سمتھ—متّی ۱: ۲۶–۲۷، ۳۸–۵۵؛ متّی ۲۵: ۱–۱۳؛ لُوقا ۲۱: ۲۹–۳۶
مجھے ہمیشہ مُنّجی کی آمدِ ثانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
خُدا نے ”اِبنِ آدم کے آنے کی گھڑی کو“ ظاہر نہیں کیا ہے (متّی ۲۵: ۱۳)۔ مگر وہ یہ نہیں چاہتا کہ وہ دن ہم پر”ناگہاں“ آ پڑے (لُوقا ۲۱: ۳۴)، لہذا اُس نے ہمیں تیاری کرنے کے بارے میں مشورت دی ہے۔
جب آپ اِن آیات کو پڑھیں تو اُن تَمثِیلوں اور دیگر مشابہتوں کی نشاندہی کریں جن کے استعمال کے باعِث مُنّجی نے ہمیں ہمیشہ اپنی آمدِ ثانی کے لیے تیار رہنے کے بارے میں سِکھایا ہے۔ ہم اِن سے کیا سیکھتے ہیں؟ آپ کیا کرنے کی ترغیب پاتے ہیں؟
متّی ۲۵: ۱۴–۳۰
آسمانی باپ مجھ سے توقع کرتا ہے کہ میں اُس کے عطا کردہ تحائف کو سمجھداری سے استعمال کروں۔
نِجات دہندہ کے دور میں، ”توڑے“ سے مراد رقم تھی۔ لیکن خُداوند کی توڑوں والی تَمثِیل ہمیں اُس رویے سے متعلق سِکھا سکتی ہے کہ جس کے مطابق ہمیں اُس کی عطا کردہ نَعمتوں کا استعمال کرنا چاہیے۔ خُداوند ہم سے توقع کرتا ہے کہ اُس نے جو کچھ ہمیں عطا کیا ہے اُس میں ہم بہتری لائیں۔ اِس تَمثِیل کو پڑھتے ہوئے، اُن نَعمتوں اور مواقع کی ایک فہرست بنائیں جو آسمانی باپ نے آپ کو عطا کیے ہیں۔ وہ اِن نَعمتوں کے عوث آپ سے کیا توقع کرتا ہے؟ آپ اِن تحائف کو زیادہ دانشمندی سے کیسے استعمال کرسکتے ہیں؟ خُداوند کی خدمت کے وسیلہ سے کیسے آپ کے توڑوں میں اضافہ ہوا ہے؟
متّی ۲۵: ۳۱–۴۶
جب میں دُوسروں کی خدمت کرتا ہوں، تو میں خُدا کی خدمت میں مشغول ہوتا ہوں۔
اگر آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ خُداوند آپ کی زِندگی کا فیصلہ کِس طرح کرے گا تو، بھیڑوں اور بکرِیوں کی تَمثِیل پڑھیں۔ جب آپ مسِیح کے تختِ عدالت کے سامنے کھڑے ہوں گے تو سب سے زیادہ کس چِیز سے فرق پڑے گا؟
مزید دیکھیں مضایاہ ۲: ۱۷۔
مرقس ۱۲: ۱۸–۲۷
کیا شادِی بیاہ قیامت کے بعد بھی جاری رہیں گے؟
ہم جدید مُکاشفہ سے یہ سیکھتے ہیں کہ یِسُوع کا بیان ”جب لوگ مُردوں میں سے جی اُٹھیں گے تو اُن میں بیاہ شادِی نہ ہوگی بلکہ آسمان پر فرِشتوں کی مانِند ہوں گے“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو سیلیسٹیل نکاح کے عہد میں داخل نہیں ہوئے ہیں (دیکھیں عقائد اور عہود ۱۳۲: ۱۵–۱۶)۔ سیلیسٹیل نکاح، جس میں ”اگر کوئی آدمِی بیوی [بیاہے] … نئے اور اَبَدی عہد سے،“ اور اگر شوہر اور بیوی اپنے عہود میں صادق رہیں گے تو اُن کا نکاح ”تمام اَبدیّت میں“ قائم رہے گا (عقائد اور عہود ۱۳۲: ۱۹)۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
اِس باب میں اُس کی آمدِ ثانی کی تیاری سے متعلق منجی کی تعلیمات کو ڈھونڈنے میں، آپ اپنے خاندان کی کیسے مدد کرسکتے ہیں (دیکھیں، مثال کے طور پر، آیات ۲۲–۲۳، ۲۹–۳۰، ۳۷، ۴۶–۴۸)۔ آپ کا خاندان اِس مشورت پر عمل پیرا ہونے کے لیے کیا کرسکتا ہے؟
خُدا کے کلام کو ذخیرہ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ ہم بطور خاندان اَیسا کیسے کرسکتے ہیں؟ اَیسا کرنے سے ہمیں فریب سے بچنے میں کِس طرح مدد ملے گی؟
متّی ۲۵: ۱–۱۳
متّی ۲۵: ۱–۱۳ پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اِس خاکہ کے ساتھ منسلک آپ دس کُنوارِیوں کی تصویر کا استعمال کرسکتے ہیں۔ خاندانی اَرکان اِن آیات میں بیان کردہ کن تفصیلات کو اِس تصویر میں پاتے ہیں؟
کیا خاندانی اَرکان آپ کی جانب سے چھپائے گئے کاغذی تیل کے قطروں کو گھر کے چاروں کونوں میں ڈھونڈنے سے لطف اندوز ہوں گے؟ آپ ایسی چِیزوں کے ساتھ اُن قطروں کو منسلک کرسکتے ہیں جن کے باعِث خاندان کے اَرکان اپنی گواہیوں کو مضبُوط اور آمدِ ثانی کے لیے خود کو تیار کرسکتے ہیں، جیسا کہ صحائف، کلیسیا میں شرکت کے دوران پہنے جانے والے کپڑے، یا ہَیکل کی تصویر۔
مرقس ۱۲: ۳۸–۴۴؛ لُوقا ۲۱: ۱–۴
بیوہ کی مثال سے آپ کے خاندان کے اَرکان کیا سیکھ سکتے ہیں؟ مُنّجی نے اپنے شاگِردوں کو ہدیہ جات کے بارے میں کیا تعلیم دی؟ دہ یکی کی ایک پرچی دکھائیں، اور اِس پر تبادلہ خیال کریں کہ آپ کا خاندان خُداوند کو کن ہدیہ جات کی پیش کش کرتا ہے اور اِن سے خُدا کی بادشاہی کی تعمیر میں کِس طرح مدد ملتی ہے۔ کیا آپ کا خاندان ایسے ہدیہ جات کی پیشکش کرتا ہے جو دہ یکی کی پرچی پر قلمبند نہیں کیے جاسکتے؟
بیوہ کی دمڑِیاں، از سینڈرا راسٹ
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا
اپنے اِرد گِرد کے ماحول کو تیار کریں۔ ”ہمارے اِرد گِرد کا ماحول سَچّائی سیکھنے اور محسوس کرنے کی ہماری صلاحیت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے“ (دیکھیں نِجات دہندہ کے طریق سے تعلیم دینا، ۱۵)۔ صحائف کے مُطالعہ کے لیے ایسی جگہ منتخب کرنے کی کوشش کریں جو رُوحُ الُقدس کے اچھّے اثر کو دعوت دے۔ رُوحانی طور پر تقویت بخشنے والی موسیقی اور تصاویر بھی رُوح کو دعوت دے سکتی ہیں۔