”مئی ۱۷–۲۳۔ متّی ۲۱–۲۳؛ مرقس ۱۱؛ لُوقا ۱۹–۲۰؛یُوحنّا ۱۲: ’دیکھ، تیرا بادشاہ آتا ہے‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”مئی ۱۷–۲۳۔ متّی ۲۱–۲۳؛ مرقس ۱۱؛ لُوقا ۱۹–۲۰؛یُوحنّا ۱۲،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
گُولر کے پیڑ پر زکائی، از جیمز ٹیسیٹ
مئی ۱۷–۲۳
متّی ۲۱–۲۳؛ مرقس ۱۱؛ لُوقا ۱۹–۲۰؛ یُوحنّا ۱۲
”دیکھ، تیرا بادشاہ آتا ہے“
اِس خاکہ کی تجاویز کو پڑھنے سے پہلے، متّی ۲۱–۲۳؛ مرقس ۱۱؛ لُوقا ۱۹–۲۰؛ اور یُوحنّا ۱۲ پڑھیں۔ ایسے تاثرات کو قلمبند کریں جس کا اشتراک آپ خاندان کے ساتھ یا اپنی کلیسیائی جماعت میں کرسکتے ہیں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
بیت عنِیاہ سے یروشلِیم کا سفر کرنے کے بعد نِجات دہندہ کو بھُوک لگی، اور فاصلے پر اِنجیر کا ایک دَرخت خوراک کا ذریعہ معلوم ہوتا تھا۔ لیکن جب یِسُوع اُس دَرخت کے پاس گیا تو اُس نے پتّوں کے سِوا اُس میں کُچھ نہ پایا (دیکھیں متّی ۲۱: ۱۷–۲۰؛ مرقس ۱۱: ۱۲–۱۴، ۲۰)۔ ایک طرح سے، اِنجیر کا دَرخت یروشلِیم کے عیار مذہبی راہنماؤں کی مانند تھا: اُن کی کھوکھلی تعلیمات اور پاکیزگی کے ظاہری مظاہرے کسی قسم کی رُوحانی نشونما کا سبب نہیں تھے۔ فرِیسِی اور فقِیہ بظاہر بہت سے احکامات پر عمل کرتے تھے مگر دو بڑے احکامات کو نظر انداز کر دیتے تھے: خُدا سے محبّت رکھنا اور اپنے پڑوسِی سے اپنے برابر محبّت رکھنا (دیکھیں متّی ۲۲: ۳۴–۴۰؛ ۲۳:۲۳).
اِس کے برعکس، بہت سے لوگوں نے یِسُوع کی تعلیمات میں اچھّے پھَل کو پہچاننا شروع کردیا تھا۔ جب وہ یروشلِیم پہنچا، تو اُنھوں نے اُس کے استقبال کے طور پر دَرختوں سے ڈالِیاں کاٹ کر راہ میں پھیلائِیں، اور خُوشی منائی کہ طویل مدّت کے بعد، قدیم پیش گوئی پوری ہوئی کہ، ”دیکھ، تیرا بادشاہ آتا ہے“ (زکریاہ ۹:۹)۔ اِس ہفتے اپنی پڑھائی کے دوران، اپنی زِندگی میں نِجات دہندہ کی تعلیمات اور کفّارہ دینے والی قربانی کے پھَلوں کے بارے میں سوچیں اور کیسے آپ ”بہُت سا پھَل“ لاتے ہیں (یُوحنّا ۱۲: ۲۴)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
متّی ۲۳؛ لُوقا ۱۹: ۱–۱۰؛ ۲۰: ۴۵–۴۷
خُداوند ظاہری صُورت کو نہیں دیکھتا بلکہ دِل کی خواہشات پر نظر کرتا ہے۔
یِسُوع کے ایّام میں، بہت سے لوگوں کو یہ گمان تھا کہ محصول لینے والے، یا ٹیکس وصول کرنے والے، فریبی تھے اور لوگوں کو لوٹتے تھے۔ چونکہ زکائی، محصُول لینے والوں کا سَردار، اور دَولتمند شَخص تھا، چنانچہ شاید اُس کو زیادہ بدکار تصّور کیا جاتا تھا۔ لیکن یِسُوع نے زکائی کے دِل پر نظر کی۔ لُوقا ۱۹: ۱–۱۰ میں زکائی کے دِل کے متعلق کیا ظاہر کیا گیا ہے؟ آپ اِن آیات کے اُن اِلفاظ پر غور کر سکتے ہیں جو بیان کرتے ہیں کہ زکائی نے نِجات دہندہ سے اپنی عقیدت ظاہر کرنے کے لیے کیا کِیا۔ آپ کے دِل کی خواہشات کیا ہیں؟ نِجات دہندہ کو پانے کی اپنی خواہش کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں، جیسا کہ زکائی نے کیا؟
فقِیہوں اور فرِیسِیوں کے ساتھ نِجات دہندہ کا تعامل، زکائی کے ساتھ ایک دلچسپ تفریقی تعامل کو تشکیل دیتا ہے۔ جیسا کہ صدر ڈیٹئر ایف اوکڈورف نے وضاحت کی ہے، ”[یِسُوع] نے، فرِیسِیوں اور صدُوقِیوں جیسے عیار لوگوں کے خلاف راست غضب کا مظاہرہ کیا—وہ لوگ جنھوں نے دُنیاوی عِزّت، اثر و رسوخ، اور دولت حاصل کرنے کے لیے راستباز بننے کا دکھاوا کیا، لوگوں کو برکت دینے کی بجائے اُن پر ظلم کرتے ہوئے“ (”On Being Genuine،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۵، ۸۱)۔
متّی ۲۳ میں، مُنّجی نے عیاری کو بیان کرنے کے لیے متعدد استعاروں کا استعمال کیا۔ اِن استعاروں کو نشان زد کرنے یا اِن کی فہرست بنانے اور اِن سے عیاری کے بارے میں کیا تعلیم ملتی ہے اُس کو جاننے پر غور کریں۔ نِجات دہندہ کی تعلیمات کی بدولت آپ کو کیا کام مختلف طریقے سے کرنے کی ترغیب ملی ہے؟
مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۸۸: ۶۲–۶۳؛ ۱۳۷: ۹۔
متّی ۲۱: ۱–۱۱؛ مرقس ۱۱: ۱–۱۱؛ لُوقا ۱۹: ۲۹–۴۴؛ یُوحنا ۱۲:۱۲–۱۶
یِسُوع مسِیح میرا بادشاہ ہے۔
متّی ۲۱: ۱–۱۱؛ مرقس ۱۱: ۱–۱۱؛ لُوقا ۱۹: ۲۹–۴۴؛ اور یُوحنّا ۱۲:۱۲–۱۶ کی تحریروں میں نِجات دہندہ کی زِندگی کے آخری ہفتے کے آغاز کی تفصیل بیان ہے، جس میں یروشلِیم میں اُس کا فاتحانہ داخلہ بھی شامل ہے۔ جن لوگوں نے اُسے اپنا بادشاہ تسلیم کیا تھا اُنھوں نے اُسے مسح کر کے اپنی عقیدت کا مظاہرہ کیا (دیکھیں یُوحنّا ۱۲: ۱–۸)، یروشلِیم میں اکثر لوگوں نے اپنے کپڑے راستہ میں بِچھائے اور اَوروں نے کھجور کی ڈالِیاں کاٹ کر راہ میں پھیلائِیں، اور حمد و ثنا کے نعرے لگائے۔ غور کریں کہ درج ذیل وسائل نِجات دہندہ کی زِندگی کے آخری ہفتے سے شروع ہونے والے واقعات سے متعلق آپ کے فہم کو کیسے گہرا کرسکتے ہیں۔
-
بادشاہ کو مسح کرنے کی ایک قدیم مثال: ۲ سلاطین ۹: ۱–۱۳
-
فاتحانہ داخلے کی ایک قدیم پیش گوئی: زکریاہ ۹:۹
-
معنی برائے لفظ ہوشعنا: لغت برائے بائبل مُقدّس، ”Hosanna“
-
نِجات دہندہ کی آمدِ ثانی کے بارے میں پیش گوئیاں: مُکاشفہ ۷: ۹–۱۰؛ ۱۹: ۱۱–۱۶
آپ نِجات دہندہ کو اپنے خُداوند اور بادشاہ کی حیثیت سے کیسے قبول کرسکتے ہیں؟
متّی ۲۲: ۳۴–۴۰
دو عظیم احکام خُدا سے محبّت رکھنا اور اپنے پڑوسِی سے اپنے برابر پیار کرنا ہیں۔
اگر آپ یِسُوع مسِیح کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کبھی مغلوب ہوجائیں تو، متّی ۲۲ میں عالمِ شرع سے کہے گئے نِجات دہندہ کے اِلفاظ اپنی شاگردی کو آسان بنانے اور اِس پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔ ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے: خُداوند کے متعدد احکامات کی ایک فہرست بنائیں۔ آپ کی فہرست میں شامل ہر حکم دو عظیم احکام کے ساتھ کیسے ہم آہنگ ہوتا ہے؟ دو عظیم احکامات پر توجہ مرکوز کرنے سے آپ کو دُوسروں کی فرمانبرداری کرنے میں کیسے مدد ملے گی؟
متّی ۲۳: ۵
تعوِیز کیا ہوتے ہیں؟
تعوِیز سے مراد چمڑے کی وہ پُڑیاں تھیں جن میں صحائف کی تحریری عبارتیں نقاشی کی پٹیوں کی صُورت میں موجود ہوتی تھیں۔ یہُودی اِس چھوٹی پُڑی کو چمڑے کی پٹیوں سے جوڑتے اور اپنی پیشانی یا بازوؤں کے گرد احکامات کو یاد رکھنے کے لیے پہنا کرتے تھے (دیکھیں اِستثنا ۶:۶–۸)۔ غرور کے باعِث فرِیسِی غیر معمولی طور پر بڑے بڑے تعوِیز پہنتے تھے تاکہ ہر ایک یہ دیکھے کہ وہ خُدا کے کلام سے کتنا پیار کرتے ہیں۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
یُوحنّا ۱۲: ۱–۸
مریم نے نِجات دہندہ سے اپنی محبّت کا اِظہار کیسے کیا؟ ہم اُس سے اپنی محبّت کا اِظہار کیسے کرتے ہیں؟
یِسُوع کے پاؤں دھوتے ہوئے، از برائن کال
یُوحنّا ۱۲: ۴۲–۴۳
جب دُوسرے لوگ اپنے مذہبی عقائد کا اِظہار یا دفاع کرتے ہیں تو ہم اُن کا کیسے احترام کرسکتے ہیں؟ مسِیح میں اپنے اِیمان کے اِظہار یا دفاع کے لیے بعض اوقات کون سے معاشرتی نتائج ہماری حوصلہ شکنی کرتے ہیں؟ ایسے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جو معاشرتی دباؤ سے مغلوب نہ ہوئے تھے، دیکھیں دانی ایل ۱: ۳–۲۰؛ ۳؛ ۶؛ یُوحنّا ۷: ۴۵–۵۳؛ ۹: ۱–۳۸؛ اور مضایاہ ۱۷: ۱–۴۔
متّی ۲۱: ۱۲–۱۷
ہم ہَیکل کے لیے اپنی عقیدت اور احترام کا اِظہار کیسے کرتے ہیں؟ ہم اپنی زِندگیوں میں سے کون سی ایسی چِیزیں ”نِکال“ سکتے ہیں جو ہمیں ”دُعا کے گھر“ (متّی ۲۱: ۱۲–۱۳) اور رُوحانی شفایابی کے ایک مقام کے طور پر ہَیکل کا تجربہ کرنے سے روکتی ہیں؟ ”I Love to See the Temple،“ بچّوں کے گیتوں کی کتاب، ۹۵، کو گانے کے بارے غور کریں۔
متّی ۲۱: ۲۸–۳۲
ایک آدمِی جس کے دو بَیٹے تھے اُس کی تَمثِیل سے آپ کو کیا سبق مل سکتا ہے؟ مثال کے طور پر، آپ سَچّی فرمانبر داری اور تَوبہ کی اہمیت پر گفتگو کرنے کے لیے اِس کہانی کا استعمال کرسکتے ہیں۔ شاید آپ کا خاندان اِس تَمثِیل کو ڈرامائی انداز میں پیش کرنے اور اِس کے مختلف کردار ادا کرنے کے لیے ایک کہانی لکھ سکتا ہے۔
متّی ۲۲: ۱۵–۲۲
کونسی ایسی چیزیں ہیں جو ”خُدا کی ہیں“ (آیت ۲۱) جو ہمیں اُسے دینی چاہیے؟
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
اپنی تدریس کو بہتر بنانا
خاندانی اَرکان کو مشغول کرنے کے لیے تخلیقی فن پاروں کا استعمال کریں۔ ”ChurchofJesusChrist.org پر Gospel Art Book اور Gospel Media Library میں بہت ساری تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں جو خیالات یا واقعات کو تصّور کرنے میں [آپ کے خاندان] کی مدد کرسکتی ہیں“ (نِجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، ۲۲)۔ مثال کے طور پر، اِس خاکہ کے ساتھ منسلک تصویر مسِیح کے یروشلِیم میں داخلے کی کہانی کو زِندہ بخش بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔