”اپریل ۲۶–مئی ۲۔ یُوحنّا ۷–۱۰: ’اچھّا چرواہا مَیں ہُوں‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”اپریل ۲۶–مئی ۲۔ یُوحنّا ۷–۱۰،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
اپریل ۲۶–مئی ۲
یُوحنّا ۷–۱۰
”اچھّا چرواہا مَیں ہُوں“
جب آپ یُوحنّا ۷–۱۰ پڑھتے ہیں، تو آپ اِن ابواب میں عقائدی اُصولوں سے متعلق رُوحُ الُقدس کے تاثرات حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنے تاثرات کو قلمبند کرنے سے آپ کو اُن کے مُوافِق عملی منصوبہ بنانے میں مدد مِل سکتی ہے۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
اگرچہ یِسُوع مسِیح ”زمِین پر اُن آدمِیوں میں جِن سے وہ راضی ہے صُلح“ کرانے کے لیے آیا (لُوقا ۲: ۱۴)، مگر ”لوگوں میں اُس کے سبب سے اِختلاف ہُؤا“ (یُوحنّا ۷: ۴۳)۔ وہ لوگ جنہوں نے یکساں واقعات کا مشاہدہ کیا اُنھوں نے یِسُوع کون تھا اِس کے بارے میں بہت مختلف نتائج اخذ کیے۔ کچھ لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ، ”وہ نیک ہے،“ جبکہ بعض کہتے تھے، ”وہ لوگوں کو گُمراہ کرتا ہے“ (یُوحنّا ۷: ۱۲)۔ جب اُس نے سبت کے دن، ایک اَندھے آدمِی کو شفا دی تو، کچھ لوگوں نے اصرار کیا، ”یہ آدمِی خُدا کی طرف سے نہِیں کِیُونکہ سَبت کے دِن کو نہِیں مانتا،“ مگر بعض نے کہا کہ، ”گنُہگار آدمِی کیونکر اَیسے مُعجِزے دِکھا سکتا ہے؟“ (یُوحنّا ۹: ۱۶)۔ پھر بھی تمام تر اُلجھنوں کے باوجود، سَچّائی کے متلاشیوں نے اُس کے کلام کی قُدرت کو پہچان لیا، کیوں کہ ”اِنسان نے کبھی اَیسا کلام نہِیں کِیا“ (یُوحنّا ۷: ۴۶)۔ جب یہُودِیوں نے یِسُوع سے کہا کہ اگر تُو مسِیح ہے تو ”ہم سے صاف کہہ دے“ تو، اُس نے ایک ایسا اُصول ظاہر کیا جو سَچّائی کو گمراہی سے الگ کرنے میں ہماری مدد کرسکتا ہے: ”میری بھیڑیں میری آواز سُنتی ہیں“ اُس نے کہا، ”اور مَیں اُنہِیں جانتا ہُوں اور وہ میرے پِیچھے پِیچھے چلتی ہیں“ (یُوحنّا ۱۰: ۲۷)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
یُوحنّا ۷: ۱۴–۱۷
جب میں یِسُوع مسِیح کی سِکھائی جانے والی سَچّائیوں کے مُوافِق زِندگی گزاروں گا تو، میں جان پاؤں گا کہ وہ سَچّ ہیں۔
یہُودِیوں نے تعّجُب کیا کہ یِسُوع بغَیر پڑھے اتنا عِلم کیونکر رکھتا تھا (دیکھیں آیت ۱۵)—کم از کم، اُن طریقوں کے برعکس جن سے وہ واقف تھے۔ جواباً، یِسُوع نے سَچّائی کو جاننے کا ایک مختلف طریقہ سِکھایا جو تعلیم یا پس منظر سے قطع نظر، ہر ایک کے لیے دستیاب ہے۔ یُوحنّا ۷: ۱۴–۱۷ کے مطابق، آپ یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ یِسُوع نے جس عقیدے کی تعلیم دی وہ سَچّا ہے؟ اِس عمل نے آپ کو اِنجیل کی اپنی گواہی کو فروغ دینے میں کِس طرح مدد کی ہے؟
یُوحنّا ۸: ۲–۱۱
نِجات دہندہ کا رحم سب کے لیے دستیاب ہے۔
زِناِ میں پکڑی جانے والی عَورت کے ساتھ نِجات دہندہ کے تعامل کے بارے میں بات کرتے ہوئے، بزرگ ڈیل جی رینلنڈ نے کہا: ”یقیناً، مُنّجی نے زِناِ کی منظوری نہیں دی تھی۔ لیکن اُس نے عَورت کو سزا کا حُکم بھی نہیں دیا تھا۔ اُس نے اُسے اپنی زِندگی کی اِصلاح کرنے کی ترغیب دی۔ اُس کی شفقت اور رحم کی بدولت اُس عَورت نے تبدیل ہونے کی حوصلہ افزائی پائی۔ جوزف سمتھ ترجمہ برائے بائبل مُقدّس نے نتیجاً اُس کی شاگِردی کی تصدیق کی: ’اور اُس عَورت نے اُسی گھڑی سے خُدا کی تمجید کی، اور اُس کے نام پر اِیمان لائی‘ [دیکھیں یُوحنّا ۸: ۱۱، زیریں حاشیہ سی]“ (”Our Good Shepherd،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۷، ۳۰)۔
نِجات دہندہ کی طرف سے سزا کی بجائے رحم پاتے ہوئے آپ نے کب خُود کو اُس عَورت کی مانند محسوس کیا ہے؟ خود گنُہگار ہوتے ہوئے دُوسروں پر الزام لگاتے یا اُن کی جانچ کرتے ہوئے آپ نے کب خُود کو فِقیہ اور فرِیسِیوں کی مانند محسوس کیا ہے؟ (دیکھیں یُوحنّا ۸: ۷)۔ فِقیہ اور فرِیسِیوں اور زِناِ میں پکڑی جانے والی عَورت کے ساتھ نِجات دہندہ کے تعامل سے آپ اور کیا سیکھ سکتے ہیں؟ جب آپ یہ آیات پڑھتے ہیں تو نِجات دہندہ کی بخشش کے بارے میں آپ کیا سیکھتے ہیں؟
یُوحنّا ۸: ۵۸–۵۹
یہُودِیوں کو کیوں غصہ آیا، جب یِسُوع نے کہا، ”پیشتر اُس سے کہ ابرؔہام پَیدا ہُؤا، مَیں ہُوں“؟
”مَیں ہُوں“ وہ اِصطلاح ہے جس کا استعمال یہوواہ نے موسیٰ کو اپنی شناخت کروانے کے لیے کیا، جیسا کہ خروج ۳: ۱۴ میں درج ہے۔ چنانچہ جب یِسُوع نے کہا، ”مَیں ہُوں“، تو اُس نے اپنی شناخت یہوواہ، عہدِ عتیق کے خُداکے طور پر کروائی۔ یہُودِی اِسے کُفر سمجھتے تھے، اور موسیٰ کی شَرِیعَت کے تحت، اِس کی سزا موت بذریعہ سنگسار کرنا مُقرّر کی گئی تھی۔
یُوحنّا ۹
ہماری چنوتیوں کے درمیان، خُدا ہماری زِندگیوں میں خود کو ظاہر کرسکتا ہے۔
چونکہ گُناہ کے ارتکاب کے بعد منفی نتائج کا اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے، لہذا ہم اپنی بد نصیبیوں میں سے چند کو غلط کاموں کے نتائج کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم، جب مُنّجی کے شاگِردوں نے یہ فرض کیا کہ آدمِی اِس لیے اَندھا پیدا ہوا ہے کیونکہ اُس نے یا اُس کے والدین نے گُناہ کیا تھا، تو یِسُوع نے اُن کی اِصلاح کی۔ یُوحنّا ۹: ۳ میں نِجات دہندہ کے اِلفاظ آپ کی اپنی چنوتیوں اور دُوسروں کی چنوتیوں کے بارے میں آپ کے نقطہ نظر کو کیسے تبدیل کرتے ہیں؟ جب آپ یُوحنّا ۹ پڑھتے ہیں، تو غور کریں کہ کِس طرح ”خُدا کے کام اُس میں ظاہِر ہُوئے [تھے]“ (یُوحنّا ۹: ۳)۔ خُدا کے کام آپ کی چنوتیوں کے دوران کیسے ظاہِر ہوئے ہیں؟
یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ یُوحنّا ۹: ۲ میں شاگِردوں کے سوال نے انکشاف کیا کہ وہ قبل فانی زِندگی کے وجود پر یقین رکھتے تھے، یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو عظیم برگشتگی کے دوران مسِیحیت سے کھو گیا تھا لیکن نبی جوزف سمتھ کے ذریعہ بحال کیا گیا تھا (دیکھیں عقائد اور عہود ۹۳: ۲۹؛ موسیٰ ۴: ۱–۴؛ ابرؔہام ۳: ۲۲–۲۶)۔
یُوحنّا ۱۰: ۱۶
وہ کون سی ”اَور بھی بھیڑیں ہیں“ جن کا حوالہ نِجات دہندہ نے یُوحنّا ۱۰: ۱۶ میں دیا تھا؟
جب نِجات دہندہ اپنی قیامت کے بعد امریکہ گیا تو، اُس نے وضاحت کی کہ اُس کی دُوسری بھیڑیں کون ہیں (دیکھیں ۳ نیفی ۱۵: ۲۱–۱۶: ۵)۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
یُوحنّا ۷: ۲۴
آپ یُوحنّا ۷: ۲۴ میں یِسُوع کی تعلیم کو سمجھنے میں اپنے خاندان کی کیسے مدد کرسکتے ہیں؟ ایک طریقہ یہ ہے کہ باہر جاکر خاندان کے ایک فرد کو گندا کیا جائے۔ اُس کی ظِاہری شکل کو دیکھ کر اجنبی افراد اُس خاندانی رکن کے بارے میں کیا سوچیں گے؟ اِس خاندانی رکن کی کچھ اچھی خصوصیات کی فہرست بنائیں جو صرف اُسے دیکھنے سے ہی ظِاہر نہیں ہوتی ہیں (مزید دیکھیں ۱ سموئیل ۱۶: ۷)۔
یُوحنّا ۸: ۳۱–۳۶
ہم بعض اوقات کیسے گُناہ کے غُلام بن جاتے ہیں؟ یِسُوع کی جانب سے سِکھائی جانے والی کون سی سَچّائیاں ہمیں آزاد کر سکتی ہیں؟
یِسُوع اَندھے کو شِفا دیتے ہوئے، کارل ہینرچ بلوچ
یُوحنّا ۹
آپ یُوحنّا ۹ میں اَندھے شَخص کو شِفا بخشنے والی یِسُوع کی کہانی کو تصوّر کرنے میں اپنے خاندان کی کِس طرح مدد کرسکتے ہیں؟ آپ ایک ساتھ کہانی کی کردار نگاری کرسکتے ہیں۔ کہانی کے دوران وقفے دیں تاکہ خاندانی اَرکان یُوحنّا ۹ میں سے متعلقہ آیات پڑھ سکیں۔ اُنھیں دعوت دیں کہ وہ کہانی سے اخذ ہونے والے اسباق پر غور کریں، جیسا کہ یِسُوع مسِیح کی اِنجیل پر رُجُوع لانے کا کیا مطلب ہے۔
یُوحنّا ۱۰: ۱–۱۸، ۲۷–۲۹
اچھّے چرواہا کی تَمثِیل سے سیکھنے کے لیے خاندانی اَرکان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے، اُن میں سے ہر ایک کو درج ذیل میں سے کسی ایک کی تصویر بنانے کا کہیں: چور، دروازہ، چرواہا، مزدُور (اجرت پر کام کرنے والا شَخص)، بھیڑیا اور بھیڑ۔ اُنھیں یُوحنّا ۱۰: ۱–۱۸، ۲۷–۲۹پڑھنے کی دعوت دیں، اور پھر خاندان کی حیثیت سے گفتگو کریں کہ نِجات دہندہ نے اُن چیزوں کے بارے میں کیا سِکھایا جن کی اُنہوں نے تصویریں بنائی ہیں۔
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا
الہامی اِلفاظ اور اقوال تلاش کریں۔ جب آپ پڑھتے ہیں، رُوح آپ کی توجہ کچھ اِلہامی یا حوصلہ افزا اِلفاظ یا اقوال کی طرف دِلائے گا جن سے اَیسا محسوس ہوگا کہ یہ شاید صرف آپ کے لیے تحریر کیے گئے ہوں۔ یُوحنّا ۷–۱۰ میں آپ کو متاثر کرنے والے کوئی سے بھی اِلفاظ یا اقوال کو قلمبند کرنے پر غور کریں۔