لائبریری
اپریل ۱۹–۲۵۔ متّی ۱۸؛ لُوقا ۱۰: ’مَیں کیا کرُوں کہ ہمیشہ کی زِندگی کا وارِث بنُوں؟‘


”اپریل ۱۹–۲۵۔ متّی ۱۸؛ لُوقا ۱۰: ’مَیں کیا کرُوں کہ ہمیشہ کی زِندگی کا وارِث بنُوں؟‘“ آ، میرے پِیچھے ہولے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”اپریل ۱۹–۲۵۔ متّی ۱۸؛ لُوقا ۱۰،“ آ، میرے پِیچھے ہولے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

نیک سامری

نیک سامری، از ڈان بُر

اپریل ۱۹–۲۵

متّی ۱۸؛ لُوقا ۱۰

”مَیں کیا کرُوں کہ ہمیشہ کی زِندگی کا وارِث بنُوں؟“

جب آپ دُعاگو ہوکر متّی ۱۸ اور لُوقا ۱۰ کو پڑھتے اور اِس پر غور و فکر کرتے ہیں تو، رُوحُ الُقدس کی دھیمی سرگوشیوں پر دھیان لگائیں۔ وہ آپ کو بتائے گا کہ یہ تعلیمات اور کہانیاں آپ پر کِس طرح لاگو ہوتی ہیں۔ حاصل کردہ تاثرات کو قلمبند کریں۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

جب آپ خُداوند سے کوئی سوال پوچھتے ہیں تو، آپ شاید غیر متوقع جواب حاصل کرسکتے ہیں۔ میرا پڑوسِی کَون ہے؟ جس کسی کو بھی آپ کی مدد اور محبّت کی ضرورت ہو۔ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کون ہے؟ ایک بچّہ۔ کیا کِسی قصُور وار کو سات بار مُعاف کرنا کافی ہے؟ نہیں، آپ کو سات دفعہ کے ستّر بار تک مُعاف کرنا چاہیے۔ (دیکھیں لُوقا ۱۰: ۲۹–۳۷؛ متّی ۱۸: ۴، ۲۱–۲۲۔) اگر آپ خُداوند کی مرضی کے خواہاں ہوتے ہیں، نہ کہ ”[اپنے] تئِیں راستباز“ ٹھہرانے کی غرض سے (لُوقا ۱۰: ۲۹)، لیکن چونکہ آپ واقعتاً اُس سے علم حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو خُداوند آپ کو سِکھائے گا کہ ابدی زِندگی حاصل کرنے کے لیے کِس طریقے سے زِندگی گزارنی چاہیے۔

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

متّی ۱۸: ۲۱–۳۵

خُداوند سے مُعافی حاصل کرنے کے لیے مجھے دُوسروں کو مُعاف کرنا چاہیے۔

پطرس کی تجویز کہ وہ کسی کو سات بار معاف کرسکتا ہے، شاید بہت فراخ دِل لگے، لیکن یِسُوع نے ایک اعلیٰ شَرِیعَت کی تعلیم دی۔ اُس نے جواب دیا، ”مَیں تُجھ سے یہ نہِیں کہتا کہ سات بار: بلکہ، سات دفعہ کے ستّر بار تک،“ جو شمار کی بجائے، مُعافی سے متعلق مِثلِ مسِیح کے رویہ کے بارے میں تعلیم دے رہا تھا۔ جب آپ شرِیر نَوکر کی تَمثِیل کو پڑھتے ہیں تو اُن اوقات پر غور کریں جب آپ نے خُدا کی رحمت اور شفقت محسوس کی تھی۔ کیا کسی کو آپ کے رحم اور شفقت کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے؟

ستّر کی جماعت کے بزرگ ڈیوڈ ای سورنسن نے سِکھایا: ”میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ گناہوں کی مُعافی کو برائی کو برداشت کرنے کے ساتھ اُلجھانا نہیں چاہیے۔ … اگرچہ ہمیں کسی ایسے پڑوسِی کو مُعاف کرنا ہوگا جس نے ہمیں زخم دیے ہوں، لیکن ہمیں دوبارہ سے وہی چوٹ کھانے کے عمل کو روکنے کے لیے تعمیری کام کرنا چاہیے“ (”Forgiveness Will Change Bitterness to Love،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۰۳، ۱۲)۔

لُوقا ۱۰: ۱–۲۰

مُقرّر کِئے گئے ستّر آدمِی کون تھے؟

پرانے عہد نامہ کے اوقات میں قائم کردہ ایک نمونہ کی پیروی کرتے ہوئے (دیکھیں خروج ۲۴: ۱؛ گنتی ۱۱: ۱۶)، اُس کے گواہ بننے، اُس کی اِنجیل کی منادی کرنے، اور اُس کے کام میں اُس کی مدد کرنے کے لیے، یِسُوع مسِیح نے اپنے بارہ رَسُولوں کے علاوہ، ”ستّر آدمِی اَور مُقرّر کِئے۔“ بحال شدہ کلیسیا میں یہ نمونہ اب بھی جاری ہے۔ تمام دُنیا میں یِسُوع مسِیح کے خصوصی گواہ کے طور پر اُن کے مشن میں بارہ کی مدد کے لیے ستّر کی جماعت کو بُلاہٹ دی جاتی ہے۔ ستّر کو جماعتوں کی صُورت میں منظم کیا گیا ہے۔ پہلی دو جماعتوں کے اَرکان کو کلیسیائی اعلیٰ حکام برائے ستّر کے طور پر مُقرّر کیا گیا ہے، جبکہ دیگر جماعت کے اَرکان کو علاقائی ستّر کے طور پر مُقرّر کیا گیا ہے۔ (مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۱۰۷: ۲۵–۲۶، ۳۳–۳۴، ۹۷۔)

لُوقا ۱۰: ۲۵–۳۷

ابدی زِندگی حاصل کرنے کے لیے، مجھے خُدا سے محبّت رکھنی چاہیے اور اپنے پڑوسِی سے اپنے برابر پیار کرنا چاہیے۔

یہ یاد رکھنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے کہ نیک سامری کی تَمثِیل یِسُوع نے ایک سوال کے جواب میں بیان کی تھی: ”میرا پڑوسِی کَون ہے؟“ جب آپ یہ تَمثِیل پڑھتے ہیں تو، اِس سوال کو ذہن میں رکھیں۔ آپ کون سے جوابات حاصل کرتے ہیں؟

یِسُوع کے ایّام تک، یہُودِیوں اور سامریوں کے درمیان دشمنی صدیوں سے جاری تھی۔ سامریہ میں رہنے والے سامری لوگ اُن یہُودِیوں کی اولاد میں سے تھے جنھوں نے غَیر قَوموں کے ساتھ شادی کی تھی۔ یہُودِیوں نے یہ محسوس کیا کہ سامری غَیر قَوموں کے ساتھ اپنی رفاقت کی بدولت بے اِیمان اور مرتد ہوچکے تھے۔ یہُودِی سامریہ سے گزرنے سے بچنے کے لیے کئی میل دور کا سفر کرتے تھے۔ (مزید دیکھیں لُوقا ۹: ۵۲–۵۴؛ ۱۷: ۱۱–۱۸؛ یُوحنّا ۴: ۹؛ ۸: ۴۸۔)

ہمسائے کی شفقت اور پیار کی مثال کے طور پر آپ کے خیال میں مُنّجی نے ایک سامری کا انتخاب کیوں کیا، جس سے یہُودِیوں کو نفرت تھی؟ دُوسروں پر زیادہ رحم کرنے سے متعلق یہ تَمثِیل آپ کو کیا اِلہام بخشتی ہے؟

مزید دیکھیں مضایاہ ۲: ۱۷؛ ”Lord, I Would Follow Thee،“ گیت، نمبر ۲۲۰۔

لُوقا ۱۰: ۳۸–۴۲

ہم ابدی زِندگی کا باعِث بننے والے انتخابات کرکے ”اچھّا حِصّہ چُن“ لِیتے ہیں۔

اَنجمنِ خواتین کی سابق عمومی صدر، بہن بانی ڈی پارکن نے سِکھایا: ”آپ اور میں مریم اور مرتھا ہیں۔ … یہ دونوں خُداوند سے پیار کرتی تھیں اور وہ اپنی محبّت کا اظہار کرنا چاہتی تھیں۔ اِس موقع پر، مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مریم نے اُس کا کلام سُن کر اپنے پیار کا اظہار کیا، جبکہ مرتھا نے اُس کی خدمت کرکے ایسا کیا۔ … یِسُوع نے مرتھا کی تشویش کو مسترد نہیں کیا، بلکہ اِس کے بجائے اُس نے ’اچھّا حِصّہ‘ چُننے کی طرف اُس کی توجہ مبذول کروائی۔ اور وہ کیا ہے؟ … ابدی زِندگی کا انتخاب ایک ضرُوری چِیز ہے [دیکھیں ۲ نیفی ۲: ۲۸]۔ جو انتخاب ہم روزانہ کرتے ہیں“ (”Choosing Charity: That Good Part،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۰۳، ۱۰۴)۔ آپ اپنے اِلفاظ میں مرتھا کے لیے خُداوند کی مشورت کا خلاصہ کیسے پیش کریں گے؟ اپنے شیڈول کی جانچ پڑتال کریں—کیا کوئی ایسی ”ضرُوری“ چِیز ہے جس کے لیے آپ کی زیادہ توجہ درکار ہوتی ہے؟

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

متّی ۱۸؛ لُوقا ۱۰

اِن ابواب میں سِکھائی جانے والی سَچّائیوں سے متعلق آپ کا خاندان کون سے گیت گا سکتا ہے؟ دو مثالیں ”Lord, I Would Follow Thee“ اور ”Have I Done Any Good؟“ ہیں گیت، نمبر ۲۲۰، ۲۲۳، لیکن دیگر اور بھی ہیں۔ اِن گیتوں کے بول آپ کے خاندان کو نِجات دہندہ کی تعلیمات کو بہتر طور پر سمجھنے میں کِس طرح مدد فراہم کرتے ہیں؟

متّی ۱۸: ۱–۱۱

یِسُوع کیوں چاہتا ہے کہ ہم ایک چھوٹے بچّے کی مانند بن جائیں؟ بچّوں کی کون سی ایسی خصوصیات ہیں کہ جن کو اپنی زِندگی میں شامل کرنے کے باعِث ہم مزید مسِیح کی مانند بن سکتے ہیں؟ (دیکھیں مضایاہ ۳: ۱۹

یِسُوع اپنی گود میں بچّوں کے ساتھ

یِسُوع چاہتا ہے کہ اُس کے شاگِرد چھوٹے بچّوں کی مانند بنیں۔

لُوقا ۱۰: ۲۵–۳۷

نیک سامری کی تَمثِیل کی اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ مطابقت کے لیے آپ کیا کرسکتے ہیں؟ کیا وہ ملبوسات پہن کر لطف اندوز ہوں گے؟ یقینی بنائیں کہ خاندانی اَرکان کو یہ جاننے میں مدد ملے کہ وہ نیک سامری کی مانند کیسے بن سکتے ہیں۔ کیا سکول یا کلیسیا میں کوئی ایسا ضرورت مند ہے کہ جس کو ہم نظر انداز کر رہے ہیں؟ ہم اِس شَخص کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

لُوقا ۱۰: ۴۰–۴۲

کیا کبھی آپ کو رُوحانی چِیزوں کو اپنے خاندانی نظام میں مناسب جگہ دینا مشکل محسوس ہوا ہے؟ خاندانی مجلس یا خاندانی شام کے دوران مریم اور مرتھا کی کہانی ایسا کرنے کے طریقوں کے بارے اِلہام بخش سکتی ہے۔ بطور خاندان، آپ وہ ”اچھّا حِصّہ“ چُننے کے طریقوں کی ایک فہرست بناسکتے ہیں (دیکھیں لُوقا ۱۰: ۴۲

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

ایک پیار بھرے ماحول کو پروان چڑھائیں۔ آپ کے گھر کے طرزِ فکر پر خاندانی اَرکان کے ایک دُوسرے کے بارے میں احساسات اور رویوں کا گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ ایک پیار بھرا، تمیزدار گھر تشکیل دینے کے لیے خاندان کے تمام اَرکان کی اپنے حصے کا کام کرنے میں مدد کریں تاکہ ہر شَخص اپنے تجربات، سوالات اور گواہیوں کو محفوظ طریقے سے بانٹ سکے۔ (دیکھیں نِجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، ۱۵۔)

مسِیح مریم اور مرتھا کے ساتھ

مسِیح مریم اور مرتھا کے گھر میں، از والٹر رین