”جون ۷–۱۳۔ متّی ۲۶؛ مرقس ۱۴؛ لُوقا ۲۲؛ یُوحنّا ۱۸: ’تو بھی نہ جَیسا میں چاہتا ہُوں بلکہ جَیسا تُو چاہتا ہے ویسا ہی ہو‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”جون ۷–۱۳۔ متّی ۲۶؛ مرقس ۱۴؛ لُوقا ۲۲؛ یُوحنّا ۱۸،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
اور تب رات تھی، از بِنجمن میک فیرسن
جون ۷–۱۳
متّی ۲۶؛ مرقس ۱۴؛ لُوقا ۲۲؛ یُوحنّا ۱۸
”تو بھی نہ جَیسا میں چاہتا ہُوں بلکہ جَیسا تُو چاہتا ہے ویسا ہی ہو“
جب آپ متّی ۲۶؛ مرقس ۱۴؛ لُوقا ۲۲؛ اور یُوحنّا ۱۸ میں درج واقعات کے بارے میں پڑھتے ہیں تو، اپنے حاصل کردہ کسی بھی تاثر پر، خاص طور پر اپنی زِندگی میں رُجُوع لانے کی سرگوشیوں پر دھیان لگائیں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
گتسِمنی باغ میں یِسُوع مسِیح کے دُکھ کے صرف تین ہی بشر گواہ تھے—اور وہ اِس دوران زیادہ تر سوتے پائے گئے۔ اُس باغ میں اور بعد میں صلِیب پر، یِسُوع نے ہر ایک شَخص جو کبھی اِس دُنیا پر آیا اُن سب کے گُناہ، تکلیفیں اور دُکھ اپنے پر لے لیے، حالانکہ اُس وقت کوئی بھی جیتی جان اِس امر سے باخبر نہ تھی کہ کیا رونما ہو رہا تھا۔ لیکن تب، ابدیت کے سب سے اہم واقعات اکثر دُنیاوی توجہ کے بغیر سر انجام ہو جایا کرتے ہیں۔ خُدا باپ، البتہ، باخبر تھا۔ اُس نے اپنے وفادار بَیٹے کی اِلتجا سُنی: ”اَے باپ اگر تُو چاہے تو یہ پیالہ مُجھے سے ہٹا لے تَو بھی میری مرضی نہِیں بلکہ تیری ہی مرضی پُوری ہو۔ اور آسمان سے ایک فرِشتہ اُس کو دِکھائی دِیا، وہ اُسے تقوِیت دیتا تھا“ (لُوقا ۲۲: ۴۲–۴۳)۔ اگرچہ ہم جسمانی طور پر اُس بے غرضی اور تابع داری کے مشاہدے کے لیے موجود نہ تھے، لیکن ایک لحاظ سے، ہم سب یِسُوع مسِیح کے کفارہ کے گواہ ہوسکتے ہیں۔ جب بھی ہم تَوبہ کریں اور اپنے گُناہوں کی مُعافی پائیں اور جب بھی ہمیں نِجات دہندہ کی تقویت بخش قوت محسوس ہو تو، ہم گتسِمنی باغ میں رُونما ہونے والے واقعہ کے گواہ بن سکتے ہیں۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
متّی ۲۶: ۱۷–۳۰؛ مرقس ۱۴: ۱۲–۲۶؛ لُوقا ۲۲: ۷–۳۹
عشائے ربانی نِجات دہندہ کو یاد کرنے کا ایک موقع ہے۔
آپ اپنی زِندگی میں اہم لوگوں کو یاد کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟ جب نِجات دہندہ نے اپنے شاگِردوں کو عشائے ربانی سے متعارف کروایا، تو اُس نے کہا، ”میری یادگارِی کے لِئے یہی کِیا کرو“ (لُوقا ۲۲: ۱۹؛ مزید دیکھیں ۳ نیفی ۱۸: ۷)۔ اِس رسم کی روٹی، پانی اور دیگر عناصر اُسے اور اُس کے دُکھوں کو یاد رکھنے میں کس طرح آپ کی مدد کرتے ہیں؟ پہلی عشائے ربانی کے بارے میں پڑھتے ہوئے اِس سوال پر غور کریں۔ نیز ترجمہ برائے جوزف سمتھ میں پائی جانے والی ترمیم و تنسیح کا جائزہ لیں (زیریں حاشیہ اور Bible appendix دیکھیں)۔
ہر ہفتے عشائے ربانی کے دوران اپنے تجربے پر غور کرنے کے لیے کچھ وقت نکالیں۔ اِس کو مزید معنی خیز بنانے کے لیے آپ کیا کرسکتے ہیں؟ شاید آپ نِجات دہندہ سے متعلق کچھ چِیزوں کو تحریر کرسکتے ہیں جن کو یاد کرنے کی آپ تحریک پاتے ہیں—اُس کی تعلیمات، اُس کے پیار بھرے اعمال، ایسے اوقات جب آپ نے خاص طور پر خود کو اُس کے قریب محسوس کیا، یا اُس نے جو گُناہ اور تکلیفیں آپ کے باعِث خود پر لے لیں۔
مزید دیکھیں ۳ نیفی ۱۸: ۱–۱۳؛ عقائد اور عہود ۲۰: ۷۶–۷۹)۔
متّی ۲۶: ۳۶–۴۶؛ مرقس ۱۴: ۳۲–۴۲؛ لُوقا ۲۲: ۴۰–۴۶
مُنّجی نے میرے لیے گتسِمنی میں دُکھ اُٹھائے۔
صدر رسل ایم نیلسن نے ہمیں دعوت دی ہے کہ ”نِجات دہندہ اور اُس کی کفّارہ دینے والی قربانی کے بارے میں جاننے کے لیے وقت منسوب کریں“ (”Drawing the Power of Jesus Christ into Our Lives،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۷، ۴۰)۔
غور کریں کہ آپ صدر نیلسن کی دعوت قبول کرنے کے لیے کیا کریں گے۔ آپ گتسِمنی میں نِجات دہندہ کے دُکھوں پر دُعاگو ہو کر غور و فکر کرکے شروعات کرسکتے ہیں، جیسے اِن آیات میں بیان کیا گیا ہے، اور ذہن میں آنے والے تاثرات اور سوالات کو تحریر کریں۔
نِجات دہندہ اور اُس کے کفّارہ کے مزید گہرے مُطالعہ کے لیے، درج ذیل سوالات کے جوابات کے لیے دیگر صحائف میں سے تلاش کرنے کی کوشش کریں:
-
نِجات دہندہ کا کفارہ کیوں ضروری تھا؟ (دیکھیں ۲ نیفی ۲: ۵–۱۰، ۱۷–۲۶؛ ۹: ۵–۲۶؛ ایلما ۳۴: ۸–۱۶؛ ۴۲: ۹–۲۶۔)
-
دُکھ اُٹھانے کے باعِث نِجات دہندہ نے کیا تجربہ حاصل کیا؟ (دیکھیں یسعیاہ ۵۳: ۳–۵؛ مضایاہ ۳: ۷؛ ایلما ۷: ۱۱–۱۳؛ عقائد اور عہود ۱۹: ۱۶–۱۹۔)
-
مسِیح کے دکھ اُٹھانے کے باعِث میری زِندگی پر کیا فرق پڑتا ہے؟ (دیکھیں یُوحنّا ۱۰:۱۰–۱۱؛ عبرانیوں ۴: ۱۴–۱۶؛ ۱ یُوحنّا ۱: ۷؛ ایلما ۳۴: ۳۱؛ مرونی ۱۰: ۳۲–۳۳؛ ڈیلن ایچ اوکس، ”Strengthened by the Atonement of Jesus Christ،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۵، ۶۱–۶۴۔)
-
میرے دیگر سوالات:
جب آپ گتسِمنی میں رُونما ہونے والے واقع کے بارے میں سیکھتے ہیں تو، یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ گتسِمنی زیتون کے دَرختوں کا باغ تھا اور اِس میں زیتون کا ایک کولھو بھی شامل تھا، جس میں سے زیتون کو کچلنے سے روشنی اور کھانے کے ساتھ ساتھ علاج کے لیے استعمال ہونے والا تیل نکالا جاتا تھا (دیکھیں لُوقا ۱۰: ۳۴)۔ زیتون کا تیل نکالنے کے لیے بھاری وزن استعمال کرنے کا عمل گُناہ اور تکلیف کے وزن کی علامت ہے جو نِجات دہندہ نے ہمارے لیے اُٹھایا (دیکھیں ڈی ٹاڈ کرسٹوفرسن، ”Abide in My Love،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۶، ۵۰–۵۱)۔
مرقس ۱۴: ۲۷–۳۱، ۶۶–۷۲؛ لُوقا ۲۲: ۳۱–۳۲
رُجُوع لانا ایک رواں عمل ہے۔
نِجات دہندہ کے ساتھ پطرس کے تجربات کے بارے میں سوچیں—وہ مُعجِزات جس کا اُس نے مشاہدہ کیا اور وہ عقیدہ جو اُس نے سیکھا۔ پھر نِجات دہندہ نے کیوں پطرس سے یہ کہا تھا، ”جب تُو رُجُوع کرے تو اپنے بھائِیوں کو مضبُوط کرنا“؟ (لُوقا ۲۲: ۳۲؛ italics added)۔ ڈیوڈ اے بیڈنار نے گواہی دینے اور واقعتاً رُجُوع لانے کے درمیان کیا فرق سِکھایا ہے؟ (دیکھیں ”Converted unto the Lord،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۲، ۱۰۶–۹)۔ جب آپ مرقس ۱۴: ۲۷–۳۱، ۶۶–۷۲ میں پطرس کے تجربات کے بارے میں پڑھتے ہیں، تو خود اپنے رُجُوع لانے کے بارے میں سوچیں۔ آپ پطرس سے کون سے اسباق سیکھ سکتے ہیں؟ جب آپ نئے عہد نامہ کو پڑھنا جاری رکھتے ہیں تو، آپ کو پطرس کے رُجُوع لانے اور دُوسروں کو مضبُوط کرنے کی اُس کی کوششوں کا کیا ثبوت ملتا ہے؟ رُوحُ القُدس کی نَعمت کو حاصل کرنے سے اُس کے رُجُوع لانے پر کیا اثر پڑا؟ (دیکھیں یُوحنّا ۱۵: ۲۶–۲۷؛ اعمال ۱: ۸؛ ۲: ۱–۴)۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
متّی ۲۶: ۱۷–۳۰؛ مرقس ۱۴: ۱۲–۲۶؛ لُوقا ۲۲: ۷–۳۹
ہر ہفتے عشائے ربانی کے دوران آپ کے خاندان کا تجربہ کیسا رہا ہے؟ پہلی عشائے ربانی کے بارے میں پڑھائی ساکرامنٹ کی اہمیت اور خاندانی اَرکان کی عبادت کو مزید معنی خیز بنانے کے طریقوں کے بارے میں گفتگو کو متاثر کرسکتی ہے۔ Passing the Sacrament (Gospel Art Book، نمبر ۱۰۸) کی تصویر کو دکھانے اور ایک دُوسرے کے ساتھ خیالات کا تبادلہ کرنے کے بارے میں غور کریں کہ آپ عشائے ربانی سے پہلے، اِس کے دوران اور اِس کے بعد کیا کرسکتے ہیں۔
لُوقا ۲۲: ۴۰–۴۶
جب آپ کا خاندان اِن آیات کو پڑھتا ہے، تو وہ ذاتی مُطالعہِ صحائف کے حصّے ”مُنّجی نے میرے لیے گتسِمنی میں دکھ اُٹھائے“ میں تجویز کردہ صحائف کا مُطالعہ کرنے سے حاصل کردہ علم کا اشتراک کرسکتے ہیں۔
لُوقا ۲۲: ۵۰–۵۱
ہم اِس تجربے سے یِسُوع کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟
اِتنے پر کِفایت کرو، از والٹر رین
متّی ۲۶: ۳۶–۴۶؛ مرقس ۱۴: ۳۲–۴۲؛ لُوقا ۲۲: ۴۰–۴۶
ہم اِن آیات میں مُنّجی کے اِلفاظ سے کیا سیکھتے ہیں؟
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا
آخری ایّام کے انبیاء اور رَسُولوں کے کلام کا مُطالعہ کریں۔ صحائف میں پائی جانے والی سَچّائیوں کے بارے میں آخِری ایّام کے انبیاء اور رَسُولوں کی تعلیم کو پڑھیں۔ مثال کے طور پر، انزائن یا لیحونا، کے حالیہ مجلسِ عامہ کے رسالے میں، آپ ”کفّارہ“ سے متعلق عنوان کی فہرست میں تلاش کرسکتے ہیں (دیکھیں نِجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، ۲۱)۔