”جون ۱۴–۲۰۔ متّی ۲۷؛ مرقس ۱۵؛ لُوقا ۲۳؛ یُوحنّا ۱۹: ’تمام ہُؤا‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”جون ۱۴–۲۰۔ متّی ۲۷؛ مرقس ۱۵؛ لُوقا ۲۳؛ یُوحنّا ۱۹،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
دیکھو یہ آدمِی، از انٹونیو سیزیری
جون ۱۴–۲۰
متّی ۲۷؛ مرقس ۱۵؛ لُوقا ۲۳؛ یُوحنّا ۱۹
”تمام ہُؤا“
متّی ۲۷؛ مرقس ۱۵؛ لُوقا ۲۳؛ اور یُوحنّا ۱۹ میں مُنّجی کی فانی زِندگی کی آخِری گھڑیوں کی وضاحت شامل ہے۔ اُس کی قربانی اور موت کے بارے میں مُطالعہ کرتے ہوئے اپنے لیے اُس کی محبّت کو محسوس کرنے کے خواہاں ہوں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
ہر قول و فعل میں، یِسُوع مسِیح نے خالص پیار کی مثال قائم کی—جسے پولُس رَسُول نے محبتّ کا نام دیا ہے (دیکھیں ۱ کُرنتھِیوں ۱۳)۔ مُنّجی کی فانی زِندگی کی آخِری گھڑیوں کے دوران یہ محبتّ بہت واضح تھی۔ جھوٹے الزامات کے سامنے اُس کی باوقار خاموشی نے اِس بات کا مظاہرہ کیا کہ وہ ”جھُنجھلایا نہِیں“ (۱ کُرنتھِیوں ۱۳: ۵)۔ کوڑے کھانے، ٹھٹھوں میں اُڑائے جانے، اور مصلُوب ہونے کے لیے اُس کی رضامندی—اُس تشدد کے خاتمے کے لیے اپنی طاقت کو روکتے ہوئے—اُس نے ظاہر کیا کہ وہ ”صابِر ہے“ اور ”سب کُچھ سہہ لیتا ہے“ (۱ کُرنتھِیوں ۱۳: ۴، ۷)۔ اپنی ماں کے لیے اُس کی شفقت اور اپنے مصلُوب کروانے والوں کے لیے اُس کا رحم—یہاں تک کہ اُس کے اپنے ہی یگانہ دُکھوں کے دوران—یہ عیاں ہوا کہ وہ ”اپنی [خود کی] بہِتری نہِیں چاہتا“ (۱ کُرنتھِیوں ۱۳: ۵)۔ زمِین پر اپنے آخِری لمحات میں، یِسُوع وہی کام کر رہا تھا جو اُس نے اپنی فانی خدمت کے دوران کیا تھا—اپنی مثال سے تعلیم دی۔ یقیناً، محبّت ”مسِیح کا خالص پیار ہے“ (مرونی ۷: ۴۷)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
متّی ۲۷؛ مرقس ۱۵؛ لُوقا ۲۳؛ یُوحنّا ۱۹
دُکھ اُٹھانے کے لیے یِسُوع مسِیح کی رضامندی باپ اور ہم سب کے لیے اُس کی محبّت کا اظہار ہے۔
اگرچہ نِجات دہندہ کو ”فرِشتوں کے بارہ تُمن سے زیادہ“ (متّی ۲۶: ۵۳) کو حُکم دینے کا اِختیّار حاصل تھا، اُس نے خُوشی سے، ناراست مقدمے، کٹھور ٹھٹھّوں میں اُڑائے جانے اور ناقابلِ تصور جسمانی درد کو برداشت کرنے کا انتخاب کیا۔ اُس نے اَیسا کیوں کیا؟ ”بنی آدم کے لیے اپنی کمال شفقت“ نیفی نے گواہی دی، ”اور قہر میں دھیما ہونے کے باعِث“ (۱ نیفی ۱۹: ۹)۔
آپ ۱ نیفی ۱۹: ۹ کو پڑھنے سے نِجات دہندہ کی آخِری گھڑیوں کے اپنے مُطالعہ کا آغاز کرسکتے ہیں۔ متّی ۲۷؛ مرقس ۱۵؛ لُوقا ۲۳؛ اور یُوحنّا ۱۹ میں کہاں آپ کو ہر اُس چِیز کی مثال ملتی ہے جو نیفی نے یِسُوع کے دُکھ اُٹھانے کے بارے میں بیان کیں تھیں؟
”[وہ] اُسے نا چِیز جانیں گے“
”وہ اُسے کوڑے ماریں گے“
”وہ اُسے ماریں گے“
”وہ اُس پر تھوکیں گے“
کون سی عبارتیں آسمانی باپ اور یِسُوع کی ”کمال شفقت“ کو محسوس کرنے میں آپ کی مدد کرتی ہیں؟ نِجات دہندہ کی مثالی صفات میں سے کون سی آپ زیادہ مکمل طور پر اپنانے کی حوصلہ افزائی پاتے ہیں؟
مزید دیکھیں ”Jesus Is Condemned before Pilate“ اور ”Jesus Is Scourged and Crucified“ (ویڈیوز، ChurchofJesusChrist.org)۔
متّی ۲۷:۲۷–۴۹، ۵۴؛ مرقس ۱۵: ۱۶–۳۲؛ لُوقا ۲۳: ۱۱، ۳۵–۳۹؛ یُوحنّا ۱۹: ۱–۵
خُدا کی سَچّائی کے ٹھٹھّوں میں اُڑائے جانے سے میرے اِیمان کو کمزور نہیں پڑنا چاہیے۔
اگرچہ یِسُوع نے اپنی تمام خدمت کے دوران ٹھٹھّوں میں اُڑایا جانا برداشت کیا، مگر کوڑے کھاتے اور مصلُوب ہوتے ہوئے اِس کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ لیکن یہ ٹھَٹھّے سچائی نہ بدل پائے: یِسُوع خُدا کا بَیٹا ہے۔ اُس تذلیل کے بارے میں پڑھتے ہوئے جو یِسُوع نے سہی، اُس مخالفت اور ٹھٹھّوں کے بارے میں سوچیں جن کا سامنا آج کے دور میں اُس کے کام کو کرنا پڑتا ہے۔ مخالفت برداشت کرنے کے بارے میں آپ کیا بصیرت حاصل کرتے ہیں؟ متّی ۲۷: ۵۴ میں صُوبہ دار کے اِلفاظ کے بارے میں کون سی چِیز آپ کو متاثر کرتی ہے؟
متّی ۲۷: ۴۶؛ مرقس ۱۵: ۳۴
کیا آسمانی باپ نے صلِیب پر یِسُوع کو چھوڑ دِیا تھا؟
بزرگ جیفری آر ہالینڈ نے درج ذیل بصیرت کی پیشکش کی: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ … ایک کامِل باپ نے اُس گھڑی میں اپنے بَیٹے کو چھوڑا نہیں تھا۔ … بہر حال، رضاکارانہ اور تنہا ہونے کے ناطے اپنے بَیٹے کی عظیم قربانی کی تکمیل کے لیے، باپ نے مختصر عرصے کے لیے یِسُوع سے اپنے رُوح کا اِطمینان، اپنی ذاتی حضوری کی معاونت منسوخ کر دی۔… [نِجات دہندہ کے] کفّارے کو لامتناہی اور ابدی ہونے کے لیے، اُسے نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ رُوحانی طور پر بھی مرنے کے احساس کو محسوس کرنے کی ضرورت تھی، یہ جاننا کہ الہٰی رُوح کا چھِن جانا کتنا کرب ناک ہوتا ہے، مکمل طور پر، بدحال، مایوس کن اکیلے پن کا احساس کیسا ہوتا ہے“ (”None Were with Him،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۰۹، ۸۷–۸۸)۔
لُوقا ۲۳: ۳۴
نِجات دہندہ ہمارے لیے مُعافی کی ایک مثال ہے۔
لُوقا ۲۳: ۳۴ میں نِجات دہندہ کے اِلفاظ کو پڑھنے سے آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ (ترجمہ برائے جوزف سمتھ کے زیریں حاشیہ سی کی جانب سے فراہم کردہ بصیرت کو دیکھیں)۔ نِجات دہندہ کے اِلفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ہینری بی آئرنگ نے سِکھایا: ”ہمیں اپنے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو مُعاف کرنا اور اُن کے خلاف کوئی بغض نہیں رکھنا ہے۔ منجی نے صلِیب پر ہمارے لیے ایک نمونہ قائم کیا۔… ہم اپنے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے دِلوں کو نہیں جانتے ہیں“ (”That We May Be One،“ انزائن، مئی ۱۹۹۸، ۶۸)۔ کسی کو مُعاف نہ کر پانے کی صُورت میں یہ آیت آپ کی کِس طرح مدد کرسکتی ہے؟
لُوقا ۲۳: ۳۹–۴۳
ڈاکُو کو کہے جانے والے نِجات دہندہ کے بیان میں ”فِردوس“ کے کیا معنی ہیں؟
صحائف میں، لفظ فِردوس کا مطلب عام طور پر ”بعد از فانی عالمِ ارواح میں اِطمینان اور خُوشی کا مقام“ سمجھا جاتا ہے—ایک اَیسی جگہ جو راست بازوں کے لیے مخصوص کی گئی ہے۔ نبی جوزف سمتھ نے سِکھایا کہ لُوقا ۲۳: ۴۳ میں لفظ فِردوس ”کا ترجمہ غلط ہوا ہے؛ خُداوند نے دراصل ڈاکُو کو اپنے ساتھ عالمِ ارواح میں ہونے کا کہا تھا“ (True to the Faith، ۱۱۱)۔ عالمِ ارواح میں، ڈاکُو نے اِنجیل کی مُنادی کو سُننا تھا۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
متّی ۲۷: ۳–۱۰
اگرچہ یہُوداہ ذاتی طور پر یِسُوع کو جانتا تھا، اُس نے ”[مسِیح] سے منہ پِھیر لیا، اور اُس کے کلام سے ٹھوکر کھائی“ (ترجمہ برائے جوزف سمتھ، مرقس ۱۴: ۳۱ [مرقس ۱۴: ۱۰، زیریں حاشیہ اے میں])۔ بظاہر مضبُوط گواہیوں کے حامل لوگ کِس سبب سے نِجات دہندہ سے منہ پھیر لیتے ہیں؟ ہم کیسے یِسُوع مسِیح کے ساتھ وفادار رہ سکتے ہیں؟
متّی ۲۷: ۱۱–۲۶؛ مرقس ۱۵: ۱–۱۵؛ لُوقا ۲۳: ۱۲–۲۴؛ یُوحنّا ۱۹: ۱–۱۶
اگرچہ وہ جانتا تھا کہ یِسُوع بے قصور تھا، پھر بھی پِیلاطُس نے کیوں یِسُوع کو مصلُوب ہونے دیا؟ ہم حق کے لیے کھڑا ہونے سے متعلق پِیلاطُس کے تجربے سے کیا اسباق سیکھتے ہیں؟ ایسی فرضی صورتِ حال کی کردار نگاری کہ جس میں اُنھیں حق پر کھڑے ہونے کی اجازت ملے آپ کے خاندان کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
”اور وہ اپنی صلِیب آپ اُٹھائے ہُوئے اُس جگہ تک باہِر گیا جو … گُلگتا ہے“ (یُوحنّا ۱۹: ۱۷)۔
متّی ۲۷: ۴۶؛ لُوقا ۲۳: ۳۴، ۴۳، ۴۶؛ یُوحنّا ۱۹: ۲۶–۲۸، ۳۰
شاید آپ خاندان کے ہر فرد کو، اِن آیات میں پائے جانے والے، صلِیب پر کہے گئے نِجات دہندہ کے بیانات مقرر کرسکتے ہیں، اور اُن سے نِجات دہندہ اور اُس کے مشن کے بارے میں اپنے علم کا اشتراک کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔
مرقس ۱۵: ۳۹
تصلِیب کے بارے میں پڑھنے سے کِس طرح ہماری گواہیاں مضبُوط ہوتی ہیں کہ یِسُوع ”خُدا کا بَیٹا“ ہے؟
یُوحنّا ۱۹: ۲۵–۲۷
ہم خاندانی اَرکان سے محبّت رکھنے اور اُن کی معاونت کرنے کے بارے میں اِن آیات سے کیا سیکھتے ہیں؟
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
اپنی تدریس کو بہتر بنانا
نِجات دہندہ کی زِندگی کی نقالی کرنے کی کوشش کریں۔ ”جس طریقے سے نِجات دہندہ نے تعلیم دی اُس کا مُطالعہ کرنا مددگار ثابت ہوگا—اُس کے طریقہ کار اور اقوال۔ لیکن تعلیم دینے اور دُوسروں کو رُوحانی تقویت بخشنے کی قُدرت کا مبنع نِجات دہندہ کی … اپنی ذات تھی۔ جتنی زیادہ تندہی سے آپ یِسُوع مسِیح کی مانند جینے کی کوشش کرتے ہیں، اتنے زیادہ آپ اُس کی مانند تعلیم دینے کے قابل ہو جائیں گے“ (نِجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، ۱۳)۔