”جون ۲۱–۲۷۔ متّی ۲۸؛ مرقس ۱۶؛ لُوقا ۲۴؛ یُوحنّا ۲۰–۲۱:’وہ جی اُٹھا ہے‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”جون ۲۱–۲۷۔ متّی ۲۸؛ مرقس ۱۶؛ لُوقا ۲۴؛ یُوحنّا ۲۰–۲۱،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
میری بھیڑوں کی گلّہ بانی کر، از کامیلے کوری
جون ۲۱–۲۷
متّی ۲۸؛ مرقس ۱۶؛ لُوقا ۲۴؛ یُوحنّا ۲۰–۲۱
”وہ جی اُٹھا ہے“
مسِیح کی قِیامت کی بدولت آپ کو حاصل ہونے والی خُوشی کی عکاسی کرتے ہوئے، دُعاگو ہو کر متّی ۲۸؛ مرقس ۱۶؛ لُوقا ۲۴؛ اور یُوحنّا ۲۰–۲۱ کو پڑھیں۔ غور و فکر کریں کہ آپ دُوسروں کے ساتھ اِس واقعہ کی اپنی گواہی کا اشتراک کیسے کرسکتے ہیں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
بہت سے مشاہدین کو، یِسُوع ناصری کی موت ایک غیر معمولی زِندگی کا طنز آمیز انجام لگا ہوگا۔ کیا یہ وہی شَخص نہیں جس نے لعزر کو مُردوں میں سے جلایا تھا؟ کیا یہ وہی شَخص نہیں جو وقتاً فوقتاً فرِیسِیوں کی قاتلانہ دھمکیوں کے سامنے ڈٹا رہا تھا؟ جس نے اَندھے پن، کوڑھ اور فالج جیسے امراض کو شِفا بخشنے کی قُدرت کا مظاہرہ کیا تھا۔ حتیٰ کہ ہوائیں اور سمندر بھی اُس کی بات مانتے تھے۔ اور اِس کے باوجود یہاں وہ، ایک صلِیب پر لٹکا، یہ اعلان کر رہا تھا کہ ”تمام ہُؤا“ (یُوحنّا ۱۹: ۳۰)۔ طنزیہ اِلفاظ میں کچھ مخلص حیرت موجود ہو سکتی ہے کہ ”اِس نے اَوروں کو بَچایا؛ اپنے تئِیں نہِیں بَچا سکتا“ (متّی ۲۷: ۴۲)۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یِسُوع کی موت کہانی کا اختتام نہیں تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ قَبر کی خاموشی عارضی تھی اور مسِیح کے بَچانے کے کام کا تو صرف آغاز ہوا تھا۔ آج وہ ”مُردوں میں“ نہیں بلکہ زِندوں میں شمار کیا جاتا ہے (لُوقا ۲۴: ۵)۔ اُس کی تعلیمات فراموش نہیں کی جائیں گی، اُس کے وفادار شاگِرد ”سب قَوموں“ میں اِنجیل کی منادی کریں گے، اُس کے وعدے پر بھروسا رکھتے ہوئے کہ وہ ”دُنیا کے آخِر تک ہمیشہ [اُن کے] ساتھ“ ہوگا (متّی ۲۸: ۱۹–۲۰)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
متّی ۲۸؛ مرقس ۱۶؛ لُوقا ۲۴؛ یُوحنّا ۲۰
کیوں کہ یِسُوع مسِیح جی اُٹھا تھا، ویسے ہی میں بھی جی اُٹھوں گا۔
اِن حوالہ جات میں، آپ بنی نوع اِنسان کی تاریخ میں سب سے زیادہ اہم واقعات میں سے ایک کے بارے میں پڑھیں گے: یِسُوع مسِیح کی قِیامت۔ اِن حوالہ جات کو پڑھتے ہوئے، اپنے آپ کو اُن لوگوں کی جگہ تصّور کریں جنھوں نے قِیامت سے متعلقہ واقعات کا مشاہدہ کیا تھا۔ اِن گواہوں نے کیسا محسوس کِیا ہوگا؟ نِجات دہندہ کی قِیامت کے بارے میں پڑھ کر آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ غور کریں کہ اِس نے آپ کو—زِندگی کے بارے میں آپ کے نقطہ نظر کو، دُوسروں کے ساتھ آپ کے تعلقات کو، مسِیح، اور دیگر اِنجیلی سَچّائیوں پر آپ کے اِیمان کو کِس طرح متاثر کیا ہے۔
لُوقا ۲۴: ۱۳–۳۵
ہم نِجات دہندہ کو ”ہمارے ساتھ رہنے“ کی دعوت دے سکتے ہیں۔
جی اُٹھے نِجات دہندہ کے ساتھ سفر کرنے والے دو شاگِردوں کی ملاقات کا تجربہ آپ کی راہِ شاگِردی کے متوازی ہو سکتا ہے۔ آپ کو اِس کہانی اور مسِیح کے پیروکار کی حیثیت سے اپنے تجربے کے درمیان کیا تعلق نظر آتا ہے؟ آج کیسے آپ اُس کے ساتھ چلنے اور تھوڑی دیر اور اُس کو ”ساتھ رہنے“ کی دعوت دے سکتے ہیں؟ (لُوقا ۲۴: ۲۹)۔ آپ اپنی زِندگی میں اُس کی موجودگی کی شناخت کیسے کرتے ہیں؟ رُوحُ الُقدس نے آپ کو یِسُوع مسِیح کی الوہیت کی گواہی کن طریقوں سے دی ہے؟
لُوقا ۲۴: ۳۶–۴۳؛ یُوحنّا ۲۰
کیا یِسُوع مسِیح کے پاس جسم ہے؟
مریم مگدلینی اور اپنے شاگِردوں کے ساتھ جی اُٹھے خُداوند سے تعاملات کے بیانات کے ذریعے، ہم سیکھتے ہیں کہ یِسُوع کی قِیامت حقیقی اور جسمانی تھی۔ اپنے دوبارہ جی اُٹھے، جلالی جسم کے ساتھ، وہ اپنے پیروکاروں کے ساتھ چلا، بات کی، اور اُن کے ساتھ کھانا کھایا۔ دیگر صحائف بھی گواہی دیتے ہیں کہ یِسُوع مسِیح کے پاس گوشت اور ہڈیوں کا جسم ہے: فِلپِّیوں ۳: ۲۰–۲۱؛ ۳ نیفی ۱۱: ۱۳–۱۵؛ عقائد اور عہود ۱۱۰: ۲–۳؛ ۱۳۰: ۱، ۲۲۔
یُوحنّا ۲۰: ۱۹–۲۹
”مُبارک وہ ہیں، جو بغَیر دیکھے اِیمان لائے۔“
کسی جسمانی ثبوت کو دیکھے بغیر سَچّ پر یقین کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ کئی اوقات میں آپ توما کی مانند محسوس کرسکتے ہیں، جس نے کہا، ”جب تک مَیں نہ دیکھ لُوں … ہرگِز یقِین نہ کرُوں گا“ (یُوحنّا ۲۰: ۲۵)۔ یِسُوع نے جواب میں توما سے کہا، ”مُبارک وہ ہیں، جو بغَیر دیکھے اِیمان لائے“ (یُوحنّا ۲۰: ۲۹)۔ آپ کیسے رُوحانی چِیزوں کو بغَیر دیکھے اِیمان لانے کی بدولت مُبارک ٹھہرے ہیں؟ آپ بھی کیسے بغَیر دیکھے نِجات دہندہ پر اِیمان لانے میں مدد پاتے ہیں؟ دیگر کِن سَچّائیوں پر آپ بغَیر کسی جسمانی ثبوت کے یقین رکھتے ہیں؟ آپ کیسے اُن چِیزوں پر اپنے اِیمان کو مضبوط کرنا جاری رکھیں گے جو ”دکھائی نہیں دیتیں لیکن سَچّ ہیں“؟ (ایلما ۳۲: ۲۱؛ مزید دیکھیں عیتر ۱۲: ۶)۔ ایک روزنامچے میں اَیسے تجربات کو قلمبند کرنے پر غور فرمائیں جن کی بدولت یِسُوع مسِیح پر اِیمان لانے میں، یا کسی جاننے والے کے ساتھ اِن کا اشتراک کرنے میں آپ کو مدد ملی تھی۔
یُوحنّا ۲۱: ۱–۱۷
مُنجی مجھے اپنی بھیڑوں کو چرانے کی دعوت دیتا ہے۔
یُوحنّا ۲۱ میں اپنے رَسُولوں کے ساتھ نِجات دہندہ کے تعامل اور پہلی بار لُوقا ۵: ۱–۱۱ میں درج جال ڈالنے کے حُکم کا آپس میں موازنہ کرنا دلچسپ ہو سکتا ہے۔ آپ کونسی مشابہتیں اور اختلافات پاتے ہیں؟ آپ شاگِردی کے بارے میں کیا بصیرت حاصل کر سکتے ہیں؟
غور کریں کہ کِس طرح یُوحنّا ۲۱: ۱۵–۱۷ میں نِجات دہندہ کے پطرس کے لیے اِلفاظ کا آپ پر اطلاق ہو سکتا ہے۔ کیا کوئی چِیز آپ کو خُداوند کی بھیڑوں کی خدمت گزاری کرنے سے روکتی ہے؟ خُداوند اگر آپ سے پوچھے تو آپ کا ردِ عمل کیا ہو گا ”کیا تُو مُجھ سے محبّت رکھتا ہے؟“ غور و فکر کریں کہ آپ خُداوند سے اپنی محبّت کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں؟
مزید دیکھیں جیفری آر ہالینڈ ”The First Great Commandment،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۲، ۸۳–۸۵۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
متّی ۲۸: ۶
یہ اِلفاظ ”وہ یہاں نہِیں ہے: کِیُونکہ اپنے کہنے کے مُطابِق جی اُٹھا ہے“ کیوں سب سے زیادہ پُر امید اور بولے جانے والے اہم ترین اِلفاظ میں سے ایک ہیں؟
متّی ۲۸؛ مرقس ۱۶؛ لُوقا ۲۴؛ یُوحنّا ۲۰–۲۱
جب آپ کا خاندان اِن ابواب کو پڑھے تو، اُن لوگوں کی طرف توجہ مرگوز کریں جنہوں نے ہر بیان میں یِسُوع کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ مثال کے طور پر، ایک موقع پر آپ اُن لوگوں پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں جو نِجات دہندہ کی قَبر پر گئے تھے۔ کسی اور موقع پر، آپ شاید رَسُولوں یا اِمّاؤس کے راستے پر جانے والے شاگِردوں کے اعمال کا بغور مُطالعہ کرسکتے ہیں۔
اِمّاؤس کی راہ پر، از جون میک نونٹن
متّی ۲۸: ۱۶–۲۰؛ مرقس ۱۶: ۱۴–۲۰؛ لُوقا ۲۴: ۴۴–۵۳
ایک خاندان کے طور پر، اُس کام پر گفتگو کریں جو مسِیح نے اپنے رَسُولوں کو سونپا تھا۔ ہم اِس کام کو پورا کرنے میں کِس طرح مدد کرسکتے ہیں؟ کیا آپ کسی اَیسے وقت کا اشتراک کرسکتے ہیں جب آپ نے محسوس کیا کہ ”خُداوند [آپ] کے ساتھ کام کرتا رہا“ تھا تاکہ اُس کے مقاصد کو پورا کرنے میں آپ کی مدد ہوسکے؟ (مرقس ۱۶: ۲۰)۔
یُوحنّا ۲۱: ۱۵–۱۷
اکٹھے کھانا کھانے کے دوران اِن آیات کو پڑھنے پر غور کریں۔ اَیسا کرنے سے نِجات دہندہ کے اِلفاظ ”میری بھیڑیں چرا“ معنی خیز بن سکتے ہیں۔ یِسُوع نے نئے عہد نامے میں بھیڑوں کے بارے میں جو کچھ سِکھایا اُس کی بنیاد پر (مثال کے طور پر، دیکھیں، متّی ۹: ۳۵–۳۶؛ ۱۰: ۵–۶؛ ۲۵: ۳۱–۴۶؛ لُوقا ۱۵: ۴–۷؛ یُوحنّا ۱۰: ۱–۱۶)، خُدا کے بچّوں کی پرورش اور دیکھ بھال کرنے کے لیے بھیڑوں کو کھانا کھلانا ایک بہتر استعارہ کیوں ہے؟ یہ استعارہ ہمیں کیا سِکھاتا ہے کہ آسمانی باپ اور یِسُوع ہمارے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا
رُوح کو دعوت دینے اور عقیدے کو سیکھنے کے لیے موسیقی کا استعمال کریں۔ ”He Is Risen!“ یا ”Christ the Lord Is Risen Today،“ گیتِ نمبر ۱۹۹، ۲۰۰ جیسے گیت سُننے یا گانے سے، آپ رُوح کو مدعو کرسکتے ہیں اور نِجات دہندہ کی قِیامت کے بارے میں جاننے میں آپ کو مدد مِل سکتی ہے۔