لائبریری
جون ۲۸–جولائی ۴۔ اعمال ۱–۵: ’تُم میرے گواہ ہوگے‘


”جون ۲۸–جولائی ۴۔ اعمال ۱–۵: ’تُم میرے گواہ ہوگے‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”جون ۲۸–جولائی ۴۔ اعمال ۱–۵،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

عِید پنتِکسُت کا دِن

عِید پنتِکسُت کا دِن، از سِڈنی کنگ

جون ۲۸–جولائی ۴

اعمال ۱–۵

”تُم میرے گواہ ہوگے“

اعمال ۱–۵ کا مُطالعہ کرتے ہوئے، رُوحُ الُقدس آپ کو اپنی زِندگی سے متعلق سَچّائیوں کو تلاش کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ اُن آیات کو نوٹ کریں جو آپ کو متاثر کرتی ہیں، اور اپنے حاصل کردہ علم کے اشتراک کے مواقع تلاش کریں۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب یِسُوع اپنے باپ کے پاس اُوپر اُٹھالِیا گیا تو دُوسرے رَسُولوں کے ساتھ، ”آسمان کی طرف غَور سے“ دیکھتے ہوئے پطرس کیا سوچ رہا تھا اور اُس نے کیا محسوس کیا؟ (اعمال ۱: ۱۰)۔ وہ کلیسیا جو خُدا کے بَیٹے نے قائم کی تھی یِسُوع اب اُس کی قیادت، خُدا کے نبی، پطرس کے ذریعہ سے کررہا تھا۔ اب ”سب قَوموں کو شاگِرد“ بنانے کی کوشش کی راہنمائی کرنے کا کام پطرس کو سونپا گیا تھا (متّی ۲۸: ۱۹)۔ لیکن شاید اُس نے خود کو ناکافی سمجھا یا خوف محسوس کیا، مگر ہمیں اعمال کی کتاب میں اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ مگر ہم بے خطر گواہی اور رُجُوع لانے، مُعجِزاتی شِفا، رُوحانی اِلہام اور کلیسیا کی نمایاں ترقی کی مثالیں پاتے ہیں۔ رُوحُ القُدس کی نَعمت کے ساتھ، پطرس اب، کوئی اَن پڑھ ماہی گیر نہیں رہا تھا جسے یِسُوع گلیل کے ساحل پر مِلا تھا۔ نہ ہی وہ حد سے زیادہ پریشان شَخص رہا تھا جو صرف چند ہفتوں پہلے یِسُوع ناصری کا انکار کرنے کی وجہ سے بری طرح رویا تھا۔

اعمال کی کتاب میں، آپ یِسُوع مسِیح اور اُس کی اِنجیل کے بارے میں پُر اثر بیانات پڑھیں گے۔ آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ اِنجیل لوگوں کو—آپ سمیت—خُدا کے ارادے کے مُوافِق کیسے بہادر شاگِردوں میں تبدیل کرسکتی ہے۔

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

اعمال ۱:۱–۸، ۱۵–۲۶؛ ۲: ۱–۴۲؛ ۴: ۱–۱۳، ۳۱–۳۳

یِسُوع مسِیح اپنی کلیسیا کی راہ نمائی رُوحُ الُقدس کے ذریعہ کرتا ہے۔

اعمال کی کتاب نِجات دہندہ کے اُوپر اُٹھا لِیے جانے کے بعد یِسُوع مسِیح کی کلیسیا کو قائم کرنے کی رَسُولوں کی کوششوں کو بیان کرتی ہے۔ اگرچہ یِسُوع مسِیح اب زمِین پر نہیں رہا تھا، اُس نے رُوحُ الُقدس کے ذریعہ مُکاشفہ کے وسیلہ سے کلیسیا کی قیادت کی۔ درج ذیل حوالہ جات کا جائزہ لیتے ہوئے آپ غور کریں کہ رُوحُ الُقدس نے مسِیح کی کلیسیا کے نئے راہ نماؤں کو کِس طرح ہدایت کی: اعمال ۱:۱–۸، ۱۵–۲۶؛ ۲: ۱–۴۲؛ ۴: ۱–۱۳، ۳۱–۳۳۔

خُداوند نے آپ کو کون سی تفویضات، بُلاہٹیں، یا ذمہ داریاں سونپی ہیں؟ آپ اِن ابتدائی رَسُولوں کے تجربات سے اپنی راہ نمائی کے لیے رُوحُ الُقدس پر بھروسا کرنا کیسے سیکھتے ہیں؟

اعمال ۲: ۱–۱۸

زبانوں کی نَعمت کا کیا مقصد ہوتا ہے؟

زبان کی نَعمت بعض اوقات ایسی زبان بولنے کے مترادف سمجھی جاتی ہے جس کا فہم کوئی دوسرا نہیں رکھتا۔ تاہم، نبی جوزف سمتھ نے اعمال ۲ میں رُونما ہونے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ رُوح کی نَعمتیں ”اُن لوگوں کے درمیان [اِنجیل] کی منادی کے مقصد کے لیے بخشی گئی تھیں جن کی زبان سمجھی نہیں جاتی تھی؛ جیسا کہ عِید پنتِکسُت کے دِن۔ … [زبان کی نَعمت] کا حتمی مقصد غَیر زبان والوں سے بات کرنا ہے“ (Teachings of Presidents of the Church: Joseph Smith [۲۰۰۸], ۳۸۳–۸۴)۔ عِید پنتِکسُت، یہُودِیوں کا ایک بڑا تہوار، کئی ممالک کے یہُودِیوں کو یروشلِیم میں لانے کا باعث بنتا تھا۔ زبان کی نَعمت نے اُن زائرین کو اپنی مادری زبانوں میں رَسُولوں کے اِلفاظ کو سمجھنے کی اجازت دی تھی۔

اعمال ۲: ۳۶–۴۷؛ ۳: ۱۳–۲۱

اِنجیل کے پہلے اُصول اور رسوم مسِیح کی طرف رُجُوع لانے میں میری مدد کرتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی پنتِکسُت کے دِن والے یہُودِیوں کی طرح ”[اپنے] دِلوں پر چوٹ لگی“ محسوس کی ہے؟ (اعمال ۲: ۳۷)۔ ہوسکتا ہے کہ آپ نے ایسا کچھ کیا ہو جس پر آپ کو افسوس ہوا ہو، یا شاید صرف آپ اپنی زِندگی کو مکمل طور پر بدلنا چاہتے ہیں۔ ایسے احساسات کی صورت میں آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ یہُودِیوں کے لیے پطرس کی مشورت اعمال ۲ :۳۸ میں پائی جاتی ہے۔ نوٹ کریں کہ اِنجیل کے پہلے اُصول اور رسوم (بشمول اِیمان، تَوبہ، بپتِسمہ، اور رُوحُ القُدس کی نَعمت—یا جس کا حوالہ بعض اوقات عقیدہِ مسِیح کے طور پر بھی دیا جاتا ہے) نے کِس طرح اُن تبدیل ہونے والوں کو متاثر کیا، جیسا کہ اعمال ۲: ۳۷–۴۷ میں درج ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ نے پہلے ہی سے بپتِسمہ پا لیا ہو اور رُوحُ القُدس کی نَعمت حاصل کرلی ہو، تاہم آپ مسِیح کے عقیدے کو کِس طرح لاگو کرنا جاری رکھیں گے؟ بزرگ ڈیل جی رینلنڈ کے اِن اِلفاظ پر غور کریں: ”ہم بار بار … [مسِیح] پر بھروسہ کرنے، تَوبہ کرنے، بپتِسمہ لیتے وقت باندھے گئے عہود اور برکات کی تجدید کے لیے عشائے ربانی میں حصّہ لینے، اور رُوحُ الُقدس کو ایک اعلیٰ درجہ تک مستقل ساتھی کی حیثیت سے حاصل کرنے کی بدولت کامِل ہوسکتے ہیں۔ اَیسا کرنے کے باعِث، ہم مزید مسِیح کی مانند بن جاتے ہیں اور تمام لازم چِیزوں کے ساتھ، آخِر تک برداشت کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں“ (”Latter-day Saints Keep on Trying،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۵، ۵۶)۔

مزید دیکھیں ۲ نیفی ۳۱؛ ۳ نیفی ۱۱: ۳۱–۴۱؛ ۲۷؛ برائن کے ایشٹن، ”The Doctrine of Christ،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۶، ۱۰۶–۹۔

اعمال ۳: ۱۹–۲۱

”تازگی کے دِن“ اور ”جب تک کہ وہ سب چِیزیں بحال نہ کی جائیں“ سے کیا مراد ہے؟

”تازگی کے دِن“ سے مراد فضل کے ہزار سال ہیں، جب یِسُوع مسِیح زمِین پر لوٹے گا۔ ”جب تک کہ وہ سب چِیزیں بحال نہ کی جائیں“ سے مراد اِنجیل کی بحالی ہے۔

اعمال ۳؛ ۴: ۱–۳۱؛ ۵: ۱۲–۴۲

یِسُوع مسِیح کے شاگِردوں کو اُس کے نام پر مُعجِزے کرنے کا اِختیّار بخشا گیا ہے۔

لنگڑا آدمِی ہَیکل میں جانے والوں سے بِھیک مانگنے کی اُمید کر رہا تھا۔ لیکن خُداوند کے خادِموں نے اُسے کہیں زیادہ بخشش کی پیش کش کی۔ جب آپ اعمال ۳؛ ۴: ۱–۳۱؛ اور ۵: ۱۲–۴۲ کو پڑھتے ہیں، تو اِس بات پر غور کریں کہ بعد ازاں رُونما ہونے والے مُعجِزے نے درج ذیل پر کیا اثر ڈالا:

لنگڑا آدمِی

پطرس اور یُوحنّا

ہَیکل میں موجود گواہ

سَردار کاہن اور حکمران

دیگر مُقدّسین

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

اعمال ۲: ۳۷

کسی شَخص کی جانب سے اِنجیل کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے کیا آپ نے کبھی ”[اپنے] دِلوں پر چوٹ لگی“ محسوس کی ہے؟ اِس احساس کا کیا مطلب ہے؟ اِن احساسات کے حامل ہوتے ہوئے یہ کہنا کیوں ضروری ہے کہ، ”ہم کیا کریں؟“

اعمال ۳: ۱–۸

ہَیکل میں آدمِی نے غَیر متوقع برکت کیسے پائی؟ ہم نے کیسے آسمانی باپ کی برکات غَیر متوقع طریقوں سے حاصل کی ہیں؟

پطرس ایک شَخص کو شِفا دیتے ہوئے

جو میرے پاس ہے وہ تُجھے دِئے دیتا ہُوں، از والٹر رین

اعمال ۳: ۱۲–۲۶؛ ۴: ۱–۲۱؛ ۵: ۱۲–۴۲

پطرس اور یُوحنّا کی وفاداری سے متعلق کونسی بات آپ کو متاثر کرتی ہے؟ ہم کیسے یِسُوع مسِیح کی اپنی گواہی میں نڈر ہوسکتے ہیں؟

اعمال ۴: ۳۲–۵: ۱۱

آپ کا خاندان سادہ ملبوسات اور کچھ سکوں کے ساتھ حننِیاہ اور سفیرہ کی کہانی کی کردار نگاری کرنے سے لطف اندوز ہوسکتا ہے۔ ہم اِس کہانی سے کون سے اسباق سیکھتے ہیں؟ اپنے خاندان کی ضروریات پر مبنی، آپ دیانتداری، کلیسیائی راہ نماؤں کی تائید کرنے، یا تقدیس کے بارے میں گفتگو کرسکتے ہیں۔

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

ایک عنوان منتخب کریں۔ خاندانی اَرکان یَکے بعد دیگرے اعمال ۱–۵ میں سے ایک موضوع کا انتخاب کریں جن کا خاندان ایک ساتھ مل کر مُطالعہ کرے گا۔

صعودِ یِسُوع

صعودِ خُداوند، از ولیم ہینری مارگٹسن