لائبریری
جولائی ۵–۱۱۔ اعمال ۶–۹: ’تُو مُجھ سے کیا چاہتا ہے؟‘


”جولائی ۵–۱۱۔ اعمال ۶–۹: ’تُو مُجھ سے کیا چاہتا ہے؟‘“آ، میرے پِیچھے ہولے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”جولائی ۵–۱۱۔ اعمال ۶–۹،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

پَولُس دمشؔق کی راہ پر

پَس ہم اَیسے زِندگی گزاریں، از سام لالر

جولائی ۵–۱۱

اعمال ۶–۹

”تُو مُجھ سے کیا چاہتا ہے؟“

اعمال ۶–۹ پڑھنے سے آغاز کریں۔ اِس خاکہ میں دی گئی تجاویز اِن ابواب میں سے کچھ اہم اُصولوں کی نشاندہی کرنے میں آپ کی مدد کرسکتی ہیں، اِس کے باوجود آپ اپنے مُطالعہ کے دوران دُوسرے اُصول بھی دریافت کرسکتے ہیں۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

تبدیلی کے لیے ناممکن اُمِیدوار، شاید ساؤل سے بڑھ کر اور کوئی شَخص نہیں تھا—اَیسا فریسی جو مسِیحیوں کو ستانے کے لیے مشہور تھا۔ تاہم جب خُداوند نے حننِیاہ نامی ایک شاگِرد سے کہا کہ وہ ساؤل کو ڈھونڈے اور اُسے برکت دے، تو قابلِ فہم طور پر حننِیاہ ہچکچایا۔ ”اَے خُداوند،“ اُس نے کہا، ”مَیں نے بہُت لوگوں سے اِس شَخص کا ذِکر سُنا ہے، کہ اِس نے یروشلِیم میں تیرے مُقدّسوں کے ساتھ کیَسی کیَسی بُرائیاں کی ہیں“ (اعمال ۹: ۱۳)۔ لیکن خُداوند ساؤل کے دِل اور اُس کی صلاحیت سے واقف تھا، اور اُس کے ذہن میں ساؤل کے لیے ایک کام تھا: ”کِیُونکہ یہ قَوموں، بادشاہوں، اور بنی اِسرائیل پر میرا نام ظاہِر کرنے کا میرا چُنا ہُؤا وسِیلہ ہے“ (اعمال ۹: ۱۵)۔ چنانچہ حننِیاہ نے بات مانی، اور جب اُس نے اپنے سابقہ ستانے والے کو پایا تو اُس نے اُسے پکارا ”اَے بھائِی ساؤل“ (اعمال ۹: ۱۷)۔ اگر ساؤل مکمل طور پر تبدیل ہوسکتا ہے اور حننِیاہ اُس کا پُر جوش استقبال کرسکتا ہے، تو کیا ہمیں کبھی بھی کسی کو—خود سمیت تبدیلی کے لیے ناممکن اُمِیدوار سمجھنا چاہیے؟

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

اعمال ۶–۸

میرے دِل کو ”خُدا کے نزدِیک خالِص“ ہونے کی ضرورت ہے۔

ایک بڑھتی ہوئی کلیسیا کے لیے بادشاہی میں خدمت کرنے والے شاگِردوں کی بڑھی تعداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اعمال ۶: ۱–۱۵ کے مطابق، بارہ رَسُول اپنے ساتھ خدمت کرنے والوں میں کونسی خوبیوں کی تلاش میں تھے؟ جب آپ اعمال ۶–۸ پڑھیں، نوٹ کریں کہ سِتفنُس اور فلِپَس جیسے لوگوں نے اِن اور دیگر خصوصیات کا مظاہرہ کیسے کیا۔ شمعُون میں کِس چِیز کی کمی تھی، اور ہم اُس سے رُجُوع لانے کی تیاری کے بارے میں کیا سیکھ سکتے ہیں؟

اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ آپ کا دِل ”خُدا کے نزدِیک خالِص“ ہے آپ کیا بدلنے کی ترغیب پاتے ہیں؟ (اعمال ۸: ۲۱–۲۲)۔ خُدا کی خدمت کرتے ہوئے یہ تبدیلی آپ کو کیسے برکت بخشے گی؟

اعمال ۶–۷

رُوحُ الُقدس کی مُخالفت نِجات دہندہ اور اُس کے نبیوں کو رد کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

اگرچہ، یہودی راہنماؤں پر لوگوں کو ممسوح کی آمد کے لیے تیار کرنے کی ذمہ داری عائد تھی، لیکن اُنھوں نے یِسُوع مسِیح کو مسترد کردیا تھا اور اپنے غرور اور خواہشِ اقتدار کی بدولت اُس کے مصلُوب ہونے کا مطالبہ کیا۔ اَیسا کیسے ہوا؟ سِتفنُس نے اعلانیہ کہا، ”تُم ہر وقت رُوح اُلقدّس کی مُخالفت کرتے ہو“ (اعمال ۷: ۵۱)۔ آپ کے خیال میں رُوح اُلقدّس کی مُخالفت کرنے سے کیا مراد ہے؟ رُوحُ الُقدس کی مُخالفت کیسے نِجات دہندہ اور اُس کے نبیوں کو رد کرنے کا سبب بن سکتی ہے؟

جب آپ اعمال ۶–۷ پڑھیں، تو دیگر اَیسے پیغامات کو تلاش کریں جو سِتفنُس نے یہُودِیوں کو سِکھائے تھے۔ وہ کِن رویوں کے خلاف خبردار کر رہا تھا؟ کیا آپ اپنے اندر بھی اِسی طرح کے رویوں کو بھانپ پاتے ہیں؟ رُوحُ الُقدس کی مُخالفت کے نتائج کے بارے میں سِتفنُس کے اِلفاظ آپ کو کیا سِکھاتے ہیں؟ آپ اپنی زِندگی میں رُوحُ الُقدس کی سرگوشیوں کو کِس طرح زیادہ حساس طریقے سے سُن سکتے اور اِن پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں؟

اعمال ۷: ۵۴–۶۰

سِتفنُس کے علاوہ، یِسُوع مسِیح کی گواہی کے سبب سے اور کون شہید ہوا تھا؟

سِتفنُس یِسُوع کے جی اُٹھنے کے بعد پہلا مسیحی شہید تھا (کوئی شَخص جسے اُس کے عقائد کی وجہ سے قتل کیا جائے)۔ تاریخ میں بہت سے دُوسرے مُقدّسین کو بھی قتل کر دیا گیا کیونکہ اُنھوں نے یِسُوع مسِیح پر اپنے اِیمان سے انکار نہ کیا۔ اِن میں سے کچھ کا ذکر ۲ توارِیخ ۲۴: ۲۰–۲۱؛ مرقس ۶: ۱۷–۲۹؛ اعمال ۱۲: ۱–۲؛ مُکاشفہ ۶: ۹–۱۱؛ مضایاہ ۱۷: ۲۰؛ ایلما ۱۴: ۸–۱۱؛ ہیلیمن ۱۳: ۲۴–۲۶؛ عقائد اور عہود ۱۰۹: ۴۷–۴۹؛ ۱۳۵: ۱–۷؛ اور ابرؔہام ۱: ۱۱ میں ملتا ہے۔ نِجات دہندہ کی قِیامت کے بعد، یُوحنّا کے سِوا غالباً باقی تمام رَسُول شہید ہوئے تھے۔

اعمال ۸: ۲۶–۳۹

رُوحُ الُقدس یِسُوع مسِیح کی طرف دُوسروں کی راہنمائی کرنے میں میری مدد کرے گا۔

آپ اعمال ۸: ۲۶–۳۹ میں درج کہانی سے اِنجیل پھیلانے کی بابت کیا سیکھتے ہیں؟ رُوحُ الُقدس نے فلِپَس کی کِس طرح مدد کی؟ دُوسروں کے ساتھ اِنجیل کا اشتراک کرنا کیسے ایک راہ دکھانے والے کی مانند ہے؟ (دیکھیں اعمال ۸: ۳۱

اعمال ۹: ۱–۳۱

خُداوند کی مرضی کے تابع ہونے کے باعِث، میں اُس کے ہاتھوں میں ہتھیار بن سکتا ہوں۔

ساؤل کا رُجُوع لانا بہت اچانک محسوس ہوتا ہے؛ وہ مسِیحیوں کو قید خانے میں ڈالنے کی بجائے ”فوراً“ عِبادت خانوں میں مسِیح کی منادی کرنے لگا (اعمال ۹: ۲۰)۔ جب آپ اُس کی کہانی پڑھتے ہیں تو غور کریں کہ وہ کیوں رُجُوع لانے پر آمادہ ہوا تھا۔ (ساؤل کے رُجُوع لانے کے بارے میں اُس کا اپنا بیان پڑھنے کے لیے، دیکھیں اعمال ۲۲: ۱–۱۶ اور ۲۶: ۹–۱۸۔ نوٹ کریں کہ اِن بیانات تک، ساؤل کا نام پَولُس میں تبدیل ہوگیا تھا۔)

اگرچہ یہ سچ ہے کہ ساؤل کا تجربہ غیر معمولی ہے—زیادہ تر لوگوں کے لیے، رُجُوع لانے کا عمل بہت طویل عمل ہوتا ہے—کیا کوئی ایسی بات ہے جو آپ ساؤل سے رُجُوع لانے کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں؟ حننِیاہ اور دُوسرے شاگردوں نے جس طرح ساؤل کے رُجُوع لانے پر ردِعمل کا اظہار کیا اُس سے آپ کیا سیکھ سکتے ہیں؟ آپ اپنی زِندگی میں اِن اسباق کے اطلاق کے لیے کیا کریں گے؟ آپ دُعا کے ذریعے پوچھنے سے آغاز کرسکتے ہیں، جیسے ساؤل نے کیا، ”تُو مُجھ سے کیا چاہتا ہے؟“ یا آپ یہ سوال اپنے روزنامچے میں بطور عنوان لکھ سکتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حاصل ہونے والے تاثرات کو قلمبند کریں۔

مزید دیکھیں ڈیٹئر ایف اوکڈورف، ”Waiting on the Road to Damascus،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۱، ۷۰–۷۷؛ ”The Road to Damascus“ (ویڈیو، ChurchofJesusChrist.org

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

اعمال ۶: ۸–۷: ۶۰

اعمال ۶: ۸ اور اعمال ۷: ۵۱–۶۰ میں سِتفنُس کے ساتھ پیش ہونے والے واقعات کا موازنہ لُوقا ۲۳: ۱–۴۶ میں مُنّجی کے ساتھ پیش ہونے والے واقع کے ساتھ کریں۔ سِتفنُس نے نِجات دہندہ کی مثال کی پیروی کیسے کی؟

اعمال ۷: ۵۱–۶۰

جب اُس پر ظلم کیا جا رہا تھا تو رُوحُ اُلقدس نے سِتفنُس کو کِس طرح برکت دی؟ ہم نے کب مشکل اوقات میں رُوحُ الُقدس سے قوت پائی ہے؟

اعمال ۹: ۵

کیا آپ کے خاندان کو معلوم ہے کہ ”پَینے کی آر پر لات مارنے“ کا کیا مطلب ہے؟ پَینا جانوروں کو چلانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک نوکیلا نیزہ تھا۔ اکثر جانور مار کھانے پر واپس ٹکر مارتے تھے، جس کی وجہ سے یہ نوکیلا نیزہ جانوروں کے گوشت میں مزید اندر چلا جاتا تھا۔ یہ مشابہت ہم پر کِس طرح لاگو ہوسکتی ہے؟

پطرس نے تبِیتا کو مُردوں میں سے جِلایا

تبِیتا کا جی اُٹھنا از سینڈی فریکلٹن گیگن

اعمال ۹: ۳۲–۴۳

اعمال ۹: ۳۲–۴۳ میں پائی جانے والی کہانیوں کی تصویریں بنانے کے لیے اپنے خاندانی اَرکان کو دعوت دینے پر غور کریں۔ وہ اَینیاس، تبِیتا، اور یافا کی بیواؤں سے حقیقی شاگِردی کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟ ”نیک کام اور خَیرات“ کرنے والا خُداوند پر بھروسا رکھنے سے دُوسروں کی کِس طرح مدد کرسکتا ہے؟ (دیکھیں اعمال ۹: ۳۶، ۴۲

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا

نوشتوں کو اپنی زِندگی پر لاگو کریں۔ پڑھائی کرتے ہوئے، اِس بات پر غور کریں کہ صحائف میں درج کہانیاں اور تعلیمات آپ کی زِندگی پر کِس طرح لاگو ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، آزمائش یا ظلم و ستم کے اوقات میں کب آپ نے خود کو ”رُوحُ اُلقدّس سے معُمور“ محسوس کیا تھا؟ (اعمال ۷: ۵۵

سِتفنُس ہجوم کے ساتھ

سِتفنُس مسِیح کا ایک وفادار شاگِرد تھا جو اپنے عقائد کے سبب سے مارا گیا۔