لائبریری
جولائی ۱۲–۱۸۔ اعمال ۱۰–۱۵: ’خُدا کا کلام ترقّی کرتا اور پھَیلتا گیا‘


”جولائی ۱۲–۱۸۔ اعمال ۱۰–۱۵: ’خُدا کا کلام ترقّی کرتا اور پھَیلتا گیا‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”جولائی ۱۲–۱۸۔ اعمال ۱۰–۱۵،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

کُرنِیلیُس پطرس کے ساتھ ہمکلام

جولائی ۱۲–۱۸

اعمال ۱۰–۱۵

”خُدا کا کلام ترقّی کرتا اور پھَیلتا گیا“

رُوح کو خیالات اور جذبات کے ساتھ ترغیب دینے کا وقت دیتے ہوئے اعمال ۱۰–۱۵ کو بغور پڑھیں۔ اِن ابواب میں آپ کے سیکھنے کے لیے کیا ہے؟

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

اُس کی فانی خدمت کے دوران، یِسُوع مسِیح کی تعلیمات اکثر لوگوں کی دیرینہ روایات اور عقائد کو چیلنج کرتی رہیں؛ اُس کے آسمان پر اُٹھائے جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا—اُس نے مُکاشفہ کے ذریعہ اپنی کلیسیا کی راہ نمائی کرنا جاری رکھا۔ مثال کے طور پر، یِسُوع کی زِندگی کے دوران اُس کے شاگِردوں نے صرف اپنے ساتھی یہُودِیوں کے درمیان ہی اِنجیل کی منادی کی تھی۔ لیکن نِجات دہندہ کے مرنے اور پطرس کے کلیسیا کا نبی بننے کے فوراً بعد، یِسُوع مسِیح نے پطرس پر یہ منکشف کیا کہ اب غیر یہُودِیوں کے درمیان اِنجیل کی منادی کرنے کا مناسب وقت ہے۔ آج غَیر قَوموں کے درمیان اِنجیل پھیلانے کا خیال حیرت انگیز محسوس نہیں ہوتا، تاہم ہمارے لیے اِس کہانی میں کیا سبق ملتا ہے؟ شاید ایک سبق یہ ہے کہ حکمتِ عملی اور مشق میں تبدیلی—قدیم اور جدید دونوں کلیسیا میں—خُداوند کی طرف سے اُس کے برگزیدہ راہ نماؤں کو مُکاشفہ کی بدولت حاصل ہوتی ہے (عامُوس ۳: ۷؛ عقائد اور عہود ۱: ۳۸)۔ یِسُوع مسِیح کی سَچّی اور زِندہ کلیسیا کی اہم خصوصیت جاری مُکاشفہ ہے۔ پطرس کی مانند، ہمیں بھی جاری مُکاشفہ کو قبول کرنے اور ”ہر بات جو خُدا کے منہ سے نکلتی ہے“ اُس کے مطابق زِندگی گزارنے کے لیے تیار رہنا چاہیے (لُوقا ۴:۴)، بمشول ”وہ جو [اُس] نے ظاہر کیں، وہ سب کچھ جو اب وہ ظاہر کرتا ہے“ اور ”بہت ساری عظیم اور اہم چِیزیں“ جنھیں وہ ابھی مزید منکشف کرے گا ”خُدا کی بادشاہی سے متعلق“ (اِیمان کے اَرکان ۱: ۹

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

اعمال ۱۰

”خُدا کِسی کا طرفدار نہِیں۔“

نسلوں سے یہُودِیوں کا یہ ماننا تھا کہ ”ابرؔہام کی نسل،“ یا ابرؔہام کی اصل اولاد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ شَخص خُدا کی طرف سے مقبول (منتخب) ٹھہرا ہے (دیکھیں لُوقا ۳: ۸)۔ کسی اور کو ”ناپاک“ غَیر قَوم سمجھا جاتا تھا جسے خُدا نے قبول نہیں کیا۔ اعمال ۱۰ میں، خُداوند نے پطرس کو اِس کے بارے میں کیا سِکھایا کہ کون ”اُس کو پسند آتا ہے“؟ (اعمال ۱۰: ۳۵)۔ آپ کو اِس باب میں اِس بات کا کیا ثبوت ملتا ہے کہ کُرنِیلیُس ایک نیک زِندگی گزار رہا تھا جو خُداوند کو پسند آئی؟ یہ جاننا کیوں ضروری ہے کہ ”خُدا کِسی کا طرفدار نہِیں“ (آیت ۳۴)، اِس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمام لوگ اِنجیل کے مُوافِق زِندگی گزارتے ہیں تو وہ اِنجیل کی برکات حاصل کرسکتے ہیں؟ (دیکھیں ۱ نیفی ۱۷: ۳۵

یہُودِیوں کی طرح جو اُن لوگوں کو حقیر جانتے تھے جو ابرؔہام کی نسل میں سے نہیں تھے، کیا کبھی آپ نے بھی کبھِی خُود سےمختلف نظر آنے والے شَخص کو بدتمیزی اور بے خبر مفروضوں کا شکار بنایا ہے؟ آپ اِس رجحان پر کیسے غالب آسکتے ہیں؟ اگلے چند دنوں کے لیے کوئی سادہ سی سرگرمی کرنے کی کوشش کرنا دلچسپ ہوسکتا ہے: جب بھی آپ کسی کے ساتھ بات چیت کریں، تو خود سے سوچنے کی کوشش کریں، ”یہ شَخص خُدا کا بچّہ ہے۔“ اَیسا کرنے سے، دُوسروں کے بارے میں اپنی سوچ اور تعامل کے انداز میں آپ کو کیا تبدیلیاں نظر آتی ہیں؟

مزید دیکھیں ڈی ٹاد کرسٹوفرسن، ”Abide in My Love،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۶، ۴۸–۵۱؛ ۱ سموئیل ۱۶: ۷۔

اعمال ۱۰؛ ۱۱: ۱–۱۸؛ ۱۵

آسمانی باپ نے مجھے مُکاشفہ کے ذریعہ قطار بہ قطار تعلیم دی ہے۔

جب پطرس نے اعمال ۱۰ میں بیان کردہ رویا دیکھی، تو اِسے سمجھنے کے لیے اُس نے پہلے جدوجہد کی اور ”اپنے دِل میں حیَران ہورہا تھا کہ [یہ] رویا جو مَیں نے دیکھی کیا ہے“ (آیت ۱۷)۔ تاہم خُداوند نے پطرس کو زیادہ فہم عطا کیا جب پطرس نے اِس کی خواہش کی۔ جب آپ اعمال ۱۰، ۱۱، اور ۱۵ پڑھیں، تو غور فرمائیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ پطرس کی اپنی رویا کے بارے میں تفہیم کِس طرح گہری ہوئی۔ سوالات ہونے کی صُورت میں آپ نے خُدا سے کِس طرح زیادہ سے زیادہ فہم طلب اور حاصل کیا ہے؟

اعمال ۱۰، ۱۱، اور ۱۵ اُن واقعات کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں جن میں خُداوند نے اپنے بندوں کی مُکاشفہ کے ذریعہ ہدایت کی۔ جب آپ اِن ابواب کو پڑھتے ہیں تو مُکاشفہ سے متعلق اپنی دریافت کو قلمبند کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ رُوح آپ سے کیسے مخاطب ہوتا ہے؟

مزید دیکھیں رانلڈ اے رسبیڈ، ”Let the Holy Spirit Guide“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۷، ۹۳–۹۶۔

اعمال ۱۱: ۲۶

میں ایک مسِیحی ہوں کیونکہ میں یِسُوع مسِیح پر اِیمان رکھتا/رکھتی ہوں اور اُس کی پیروی کرتا/کرتی ہوں۔

کِسی شَخص کے مسِیحی کہلانے سے متعلق اہم بات کیا ہے؟ (دیکھیں اعمال ۱۱: ۲۶)۔ ایک مسِیحی کے طور پر پہچانے جانے یا یِسُوع مسِیح کا نام اپنے پر لینے سے کیا مراد ہے؟ (دیکھیں عقائد اور عہود ۲۰: ۷۷)۔ ناموں کی اہمیت پر غور کریں۔ مثال کے طور پر، آپ کا خاندانی نام آپ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ کلیسیا کا نام آج کیوں اہم ہے؟ (دیکھیں عقائد اور عہود ۱۱۵: ۴

مزید دیکھیں مضایاہ ۵: ۷–۱۵؛ ایلما ۴۶: ۱۳–۱۵؛ ۳ نیفی ۲۷: ۳–۸؛ ایم رسل بیلرڈ، ”The Importance of a Name،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۱، ۷۹–۸۲۔

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

اعمال ۱۰: ۱۷، ۲۰

کیا ہمیں کوئی ایسے رُوحانی تجربات حاصل ہیں جن پر بعد میں ہم نے اپنے احساس یا حاصل کردہ علم پر شک کیا ہو؟ ہم ایک دُوسرے کو کون سی ایسی مشورت دے سکتے ہیں جو ہمارے شکوک و شبہات کو دُور کرنے میں ہماری مدد کرسکے؟ (دیکھیں رونلڈ اے رسبینڈ، ”Lest Thou Forget،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۶، ۱۱۳–۱۵۔)

اعمال ۱۲: ۱–۱۷

جب پطرس کو قید خانہ میں ڈال دیا گیا تو، کلیسیائی اِرکان جمع ہوئے اور اُس کے لیے دُعا کی۔ کیا آپ کا خاندان کِسی شَخص کے لیے، جیسا کہ کلیسیائی راہ نما یا کِسی پیارے کے لیے دُعا کرنے کی تحریک پاتا ہے؟ ”بَدَن و جان“ سے دُعا کرنے سے کیا مراد ہے؟؟ (اعمال ۱۲: ۵

اعمال ۱۴

جب آپ اِس باب کو اکٹھے پڑھتے ہیں تو، خاندان کے کچھ افراد شاگِردوں اور کلیسیا کو حاصل ہونے والی نَعمتوں کا ذکر کرسکتے ہیں، جبکہ خاندان کے دُوسرے افراد اُس مخالفت یا آزمائشوں کو نوٹ کرسکتے ہیں جن کا سامنا شاگِردوں کو کرنا پڑا تھا۔ خُدا نیک لوگوں کو مشکل چِیزوں کا سامنا کرنے کی اجازت کیوں دیتا ہے؟

اعمال ۱۵: ۱–۲۱

اِن آیات میں کلیسیا میں اِس بارے میں اختلاف کی وضاحت کی گئی ہے کہ آیا غَیر قَوموں (غَیر یہُودِی) کے تبدیل شدگان کو عہد کی نشانی کے طور پر ختنہ کروانے کی ضرورت ہے۔ پَس رَسُول اِس بات پر غور کرنے کے لِئے جمع ہُوئے اور پھر ایک الہامی جواب پاکر اِس اختلاف کا حل نکالا۔ اپنے خاندان کو یہ سِکھانے کا اچھا وقت ہوسکتا ہے کہ آج بھی اِسی نمونے کی پیروی کی جاتی ہے۔ بطور خاندان، اِنجیل کے بارے میں ایک سوال منتخب کریں جس کا جواب آپ مِل کر تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ صحائف اور جدید نبیوں اور رَسُولوں کی تعلیمات میں سے اکٹھے بصیرت تلاش کریں۔

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

تصویر بنائیں۔ تصاویر سے خاندانی اَرکان کو صحیفائی تعلیمات اور کہانیوں کو تصّور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ آپ چند آیات پڑھ سکتے ہیں، اور پھر خاندانی اَرکان کو اُن سے متعلق کچھ تصویریں بنانے کے لیے وقت دیں۔ مثال کے طور پر، خاندان کے افراد اعمال ۱۰ میں پطرس کی رویا کی تصویر بنانے سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

کُرنِیلیُس اور پطرس

پطرس اور کُرنِیلیُس کے تجربات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ”خُدا کِسی کا طرفدار نہِیں“ (اعمال ۱۰: ۳۴