لائبریری
مارچ ۲۹–اپریل ۴۔ متّی ۱۶–۱۷؛ مرقس ۸–۹؛ لُوقا ۹: ’تُو مسِیح ہے‘


”مارچ ۲۹–اپریل ۴۔ متّی ۱۶–۱۷؛ مرقس ۸–۹؛ لُوقا ۹: ’تُو مسِیح ہے‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”مارچ ۲۹–اپریل ۴۔ متّی ۱۶–۱۷؛ مرقس ۸–۹؛ لُوقا ۹،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

مسِیح کی تبدیلیِ صُورت

تبدیلیِ صُورت، از کارل ہائنرِک بلوچ

مارچ ۲۹–اپریل ۴

متّی ۱۶–۱۷؛ مرقس ۸–۹؛ لُوقا ۹

”تُو مسِیح ہے“

اگلے دو ہفتوں کے دوران، پطرس کی گواہی، جو متّی ۱۶: ۱۵–۱۷ میں ملتی ہے، اور نبِیوں اور رَسُولوں کی گواہیاں جو آپ مجلسِ عامہ کے دوران سُنیں گے اُن پر غور کریں۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ فرِیسِیوں اور صدُوقِیوں نے یِسُوع سے ”آسمانی نِشان“ دِکھانے کی دَرخواست کی؟ کیا اُس کے بہت سے معروف مُعجِزات اُن کے لیے کافی نہ تھے؟ کیا اُس کی قوی تعلیمات یا اُس کے مختلف طریقہ کار بے فائدہ تھے جن کی بدولت اُس نے قدیم پیش گوئیاں پوری کی تھیں؟ اُن کا مطالبہ نشانات کی کمی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ”علامتوں میں تمِیز “ اور اُن کو قبول نہ کرنے کے باعِث تھا۔ (دیکھیں متّی ۱۶: ۱–۴۔)

پطرس نے، فرِیسِیوں اور صدُوقِیوں کی مانند، مُنّجی کے مُعجِزات دیکھے تھے اور اُس کی تعلیمات سُنی تھِیں۔ لیکن پطرس کی اپنی حتمی گواہی، ”تُو زِندہ خُدا کا بَیٹا مسِیح ہے“ اُس کے جسمانی حواس—”گوشت اور خُون“ سے نہیں دی گئی تھی۔ اُس کی گواہی ہمارے ”باپ نے جو آسمان پر ہے“ اُس پر ظاہِر کی تھی۔“ مُکاشفہ وہ پتھّر ہے جس پر مُنّجی نے اپنی کلیسیا کی تب اور اب تعمیر کی—آسمان سے اُس کے خادمِوں کے لیے مُکاشفہ۔ اور یہی وہ پتھّر ہے جس پر ہم اپنی شاگِردی کی تعمیر کرسکتے ہیں—مُکاشفہ کہ یِسُوع ہی المسِیح ہے اور اُس کے خادمِوں کے پاس”بادشاہی کی کُنجیاں“ ہیں۔ جب ہم اِس بنیاد پر تعمیر ہوتے ہیں تو،”عالمِ ارواح کے دروازے [ہم] پر غالِب نہ آئیں گے۔“ (متّی ۱۶: ۱۵–۱۹۔)

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

متّی ۱۶: ۱۳–۱۷؛ لُوقا ۹: ۱۸–۲۱

یِسُوع مسِیح کی گواہی مُکاشفہ کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔

اگر آج یِسُوع مسِیح یہ پُوچھے کہ، ”لوگ اِبنِ آدم کو کیا کہتے ہیں؟“ تو اُن کے جوابات اُس وقت کے لوگوں کے جوابات سے مختلف ہوں گے۔ آپ نے یِسُوع کے بارے میں لوگوں کا کیا جدید رویہ دیکھا ہے؟ اگر یِسُوع آپ سے پُوچھے کہ، ”تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟“ تو آپ کا کیا جواب ہوگا۔ (دیکھیں متّی ۱۶: ۱۳–۱۵۔)

مُنّجی سے متعلق اپنی گواہی پر غور کریں اور یہ کہ آپ نے اِسے کیسے حاصل کیا۔ آپ متّی ۱۶: ۱۵–۱۷ سے کیا سیکھتے ہیں جس کے باعِث اِس کو تقویت حاصل ہو سکتی ہے؟ اگر آپ گواہی اور ذاتی مُکاشفہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو، اِن صحائف کا تفصیلی جائزہ لیں: یُوحنّا ۱۵: ۲۶؛ ۱ کُرنتھِیوں ۱۲: ۳؛ ۲ نیفی ۳۱: ۱۸؛ ایلما ۵: ۴۵–۴۸؛ اور عقائد اور عہود ۸: ۲–۳۔

متّی ۱۷: ۱–۹؛ مرقس ۹: ۲–۱۰؛ لُوقا ۹: ۲۸–۳۶

تبدیلیِ صُورت کے پہاڑ پر کیا ہوا تھا؟

جب یِسُوع پطرس، یَعقُوب اور یُوحنّا کو ”ایک اُونچے پہاڑ“ پر لے گیا، تو اُن کے سامنے اُس کی صُورت بدل (یا جلالی ہو) گئی۔ موسیٰ اور ایلیاہ بھی ظاہر ہوئے اور رَسُولوں کو کہانتی کُنجیاں بخشیں۔ اِن کُنجیوں نے اُن کو اُس کی قیامت کے بعد زمِین پر مسِیح کی کلیسیا کی راہنمائی کرنے کے قابل بنایا۔ یہی کُنجیاں ہمارے دور میں بھی بحال کردی گئیں (دیکھیں عقائد اور عہود ۱۱۰

متّی ۱۶: ۱۳–۱۹؛ ۱۷: ۱–۹

”آسمان کی بادشاہی کی کُنجیاں“ کیا ہیں؟

مُنّجی نے پطرس کو جن ”آسمان کی بادشاہی کی کُنجیاں“ دینے کا وعدہ کیا تھا وہ کہانتی کُنجیاں ہیں (متّی ۱۶: ۱۹)۔ ”کہانتی کُنجیاں وہ اِختیّار ہے جو خُدا نے کہانتی راہ نماؤں کو زمِین پر اپنی کہانت کے استعمال کی ہدایت، قُدرت، اور انتظام کرنے کے لیے دیا ہے۔ کہانتی اِختیّار کے استعمال کو وہ لوگ منظم کرتے ہیں جو اِن کُنجیوں کے حامل ہوتے ہیں (دیکھیں عقائد اور عہود ۶۵: ۲؛ ۸۱: ۲؛ ۱۲۴: ۱۲۳)۔ جو لوگ کہانتی کُنجیوں کے حامل ہوتے ہیں اُن کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ کلیسیا کی صدارت کریں اور کسی مخصوص دائرہ اِختیّار میں کلیسیا کو ہدایت بخشیں“ (Handbook 2: Administering the Church [۲۰۱۰]، ۲.۱.۱

کُنجیاں تھامے ہوئے پطرس کا مجسمہ

”آسمان کی بادشاہی کی کُنجیاں“ کہانتی کُنجیاں ہیں۔

تبدیلیِ صُورت کے پہاڑ پر پطرس اور دیگر رَسُولوں کو سونپی گئی کہانتی کُنجیاں ہمارے دور میں بحال ہوئی ہیں (دیکھیں عقائد اور عہود ۱۱۰: ۱۱–۱۶)۔ کہانتی کُنجیاں رکھنے والوں میں صدارتِ اَوّل اور بارہ رَسُولوں کی جماعت اور دیگر کلیسیائی اعلیٰ حکام؛ ہَیکلوں کے صدور، مشن، المیخ، اور اضلاع کے صدور؛ اور اُسقف صاحبان، شاخ کے صدور، اور جماعتوں کے صدور شامل ہیں۔

مزید دیکھیں نیل ایل اینڈرسن، ”Power in the Priesthood،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۳، ۹۲–۹۵؛ True to the Faith، ۱۲۶–۲۷۔

متّی ۱۷: ۱۴–۲۱؛ مرقس ۹: ۱۴–۲۹

عظیم تر اِیمان کے حصول سے قبل، مجھے اُس ایمان پر قائم رہنا چاہیے جو میں پہلے سے رکھتا ہوں۔

متّی ۱۷ اور مرقس ۹ میں جس والد کا ذکر کیا گیا ہے اُس کے پاس شک کرنے کی بہت سی وجوہات تھیں کہ آیا واقعی ہی یِسُوع اُس کے بَیٹے کو شِفا بخش سکتا ہے۔ وہ اُسے پہلے یِسُوع کے شاگِردوں کے پاس لے کر گیا تھا کہ وہ اُس کے بَیٹے کو اچھّا کردیں، مگر وہ ایسا نہ کرسکے۔ لیکن جب مُنّجی نے اُسے اِیمان پر چلنے کی دعوت دی تو اُس نے اپنے شکوک و شبہات پر توجہ نہ دی۔ ”خُداوند، مَیں اِعتِقاد رکھتا ہُوں“ وہ بولا، اور پھر، اپنے غیر کامل اِیمان کا اعتراف کرتے ہوئے، اُس نے مزید کہا، ”تُو میری بے اِعتِقادی کا عِلاج کر۔“

جب آپ اِس مُعجِزے کے بارے میں پڑھتے ہیں تو رُوح آپ کو کیا سِکھاتا ہے؟ آسمانی باپ نے آپ کے اِیمان میں اضافے کے لیے آپ کی کس طرح مدد کی ہے؟ اپنے موجودہ اِیمان کی تعمیر کے لیے آپ کیا کر سکتے ہیں؟ شاید آپ ایسے صحائف، مجلسِ عامہ کے ایسے پیغامات، یا ایسے تجربات کی ایک فہرست مرتب کرسکتے ہیں جن سے آپ کے اِیمان کو تقویت ملی ہو۔

مزید دیکھیں جیفری آر ہالینڈ، ”Lord, I Believe،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۳، ۹۳–۹۵۔

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

متّی ۱۶: ۱۳–۱۹؛ ۱۷: ۱–۹

بچّوں کو کہانتی کُنجیوں کے بارے میں تعلیم دینے کے لیے، آپ بزرگ گیری ای سٹیونسن کی اپنی کار میں بند ہو جانے والی کہانی کا اشتراک کرسکتے ہیں (دیکھیں ”Where Are the Keys and Authority of the Priesthood؟“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۶، ۲۹–۳۲)۔ آپ اپنے بچّوں کو گھر، کار یا دُوسرے تالوں کو کھولنے کے لیے کُنجیوں کا استعمال کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ کلیسیا کے صدر کی تصویر دکھانے اور اِس بارے میں گواہی دینے پر غور فرمائیں کہ وہ پطرس کی مانند تمام کہانتی کنجیاں کا حامل ہے۔

متّی ۱۷: ۲۰

یِسُوع مسِیح پر اِیمان کی بدولت نبِیوں نے پہاڑوں کو ہٹا دیا (دیکھیں یَعقُوب ۴: ۶؛ موسیٰ ۷: ۱۳)۔ بشپ رچرڈ سی ایجلی کی درج ذیل گواہی اِس آیت کو آپ کے خاندان کے ساتھ مربوط کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے: ”میں نے واقعتاً کبھی کسی پہاڑ کے ہٹنے کا مشاہدہ نہیں کیا۔ لیکن اِیمان کی بدولت، میں نے اُمید اور خُوش اندیشی کو شک اور مایوسی کے پہاڑ کی جگہ لیتے دیکھا ہے۔ اِیمان کی بدولت، میں نے ذاتی طور پر تَوبہ اور مُعافی کو گناہ کے ایک پہاڑ کی جگہ لیتے دیکھا ہے۔ اور اِیمان کی بدولت، میں نے ذاتی طور پر امّن، اُمِید اور شُکر گُزاری کو درد کے پہاڑ کی جگہ لیتے دیکھا ہے۔ ہاں، میں نے پہاڑوں کو ہٹتے دیکھا ہے“ (”Faith—the Choice Is Yours،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۰، ۳۳)۔ ہماری زِندگیوں میں ایسے کون سے پہاڑ ہیں کہ جن کو ہمیں ہٹانے کی ضرورت ہے؟ ہم اِن پہاڑوں کو ہٹانے میں خُدا کی قُدرت پر کیسے اِیمان رکھ سکتے ہیں؟

لُوقا ۹: ۶۱–۶۲

اپنا ہاتھ ہل پر رکھ کر پِیچھے دیکھنے کا کیا مطلب ہے؟ کیوں یہ رویہ ہمیں خُدا کی بادشاہی کے لائِق نہِیں ٹھہراتا؟

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

اکثر اکٹھا ہوا کریں۔ صدر ہنری بی آئرنگ نے سِکھایا: ”یِسُوع مسِیح کے عقیدہ کے بارے میں جاننے کے لیے بچوں کو اکٹھا کرنے کا موقع کبھی بھی ضائع نہ کریں۔ ایسے لمحات دشمن کی کوششوں کے مقابلہ میں بہت کم ہوتے ہیں“ (”The Power of Teaching Doctrine،“ انزائن، مئی ۱۹۹۹، ۷۴)۔

یِسُوع کے سامنے اپنے بیمار بَیٹے کے ساتھ ایک آدمِی

اَے اُستاد، مَیں اپنے بَیٹے کو تیرے پاس لایا تھا، از والٹر رین