”مارچ ۱–۷۔ متّی ۸–۹؛ مرقس ۲–۵: ’تیرے اِیمان نے تُجھے اچھّا کر دِیا‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”مارچ ۱–۷۔ متّی ۸–۹؛ مرقس ۲–۵،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
اُس کی کِرنوں میں شِفا، از جان مک نونٹن
مارچ ۱–۷
متّی ۸–۹؛ مرقس ۲–۵
”تیرے اِیمان نے تُجھے اچھّا کر دِیا“
جب آپ متّی ۸–۹ اور مرقس ۲–۵ پڑھیں، تو رُوحُ الُقدس سے حاصل ہونے والے تاثرات کا اثر قبول کریں۔ حاصل کردہ سرگوشیوں کو قلمبند کرنے، اور پھر اُن سرگوشیوں پر عمل کرنے کے لیے آپ جو کچھ کرسکتے ہیں اُن چِیزوں کو لکھنے پر غور کریں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
مُنّجی کے ایسے بہت سارے واقعات سے متاثر ہوئے بغیر نیا عہد نامہ پڑھنا مشکل ہے، جب اُس نے بیماروں اور مصیبت اُٹھانے والوں کو شِفا بخشی—تَپ میں پڑی عورت سے لے کر اُس لڑکی تک جسے مردہ قرار دیا گیا تھا۔ جسمانی شِفا کے اِن مُعجِزات میں ہمارے لیے کیا پیغامات ہوسکتے ہیں؟ یقینی طور پر ایک واضح پیغام یہ ہے کہ یِسُوع مسِیح خُدا کا بَیٹا ہے، جسے ہماری جسمانی تکلیفوں اور خامیوں سمیت، تمام چِیزوں پر اِختیّار ہے۔ لیکن شک کرنے والے فقیوں سے کہے گئے اُس کے اِلفاظ میں ایک اور مفہوم ملتا ہے: ”کہ تُم جانو کہ اِبنِ آدم کو زمِین پر گُناہ معُاف کرنے کا اِختیّار ہے“ (مرقس ۲: ۱۰)۔ لہذا جب آپ کسی نابینا شَخص یا کوڑھی کی شِفا کے بارے میں پڑھتے ہیں، تو آپ—رُوحانی اور جسمانی دونوں—شِفا کے بارے میں تصور کرسکتے ہیں جو آپ مُنّجی سے وصول کرسکتے ہیں اور اُس کو یہ کہتا ہوا سُن سکتے ہیں، ”تیرے اِیمان سے تُجھے شِفا مِلی“ (مرقس ۵: ۳۴)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
متّی ۸–۹؛ مرقس ۲؛ ۵
مُنّجی کمزوریوں اور بیماریوں کو شِفا بخش سکتا ہے۔
اِن چند ابواب میں مُنّجی کی مُعجِزاتی شِفا کی بہت سی مثالیں قلمبند کی گئی ہیں۔ اُن شِفائیہ مُعجِزات کا مُطالعہ کرتے ہوئے، اپنے لیے ممکنہ پیغامات تلاش کریں۔ آپ خود سے پوچھ سکتے ہیں: یہ واقعہ اِیمان کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؟ یہ واقعہ مُنّجی کے بارے میں کیا سِکھاتا ہے؟ خُدا مجھے اِس مُعجِزے سے کیا سِکھانا چاہتا ہے؟
-
کوڑھی (متّی ۸: ۱–۴)
-
صُوبہ دار کا خادِم (متّی ۸: ۵–۱۳)
-
پطرس کی ساس (متّی ۸: ۱۴–۱۵)
-
دو اَندھے شخص (متّی ۹: ۲۷–۳۱)
-
مفلُوج آدمِی (مرقس ۲: ۱–۱۲)
-
آدمِی جِس میں ناپاک رُوحیں تھی (مرقس ۵: ۱–۲۰)
-
یائِیر کی بیٹی (مرقس ۵: ۲۲–۲۳، ۳۵–۴۳)
-
عَورت جِس کے خُون جاری تھا (مرقس ۵: ۲۴–۳۴)
مزید دیکھیں ڈیلن ایچ اوکس، ”Healing the Sick،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۰، ۴۷–۵۰۔
یِسُوع بیمار کو شِفا دیتے ہوئے، از جوزف بریکی، بعد ازاں ہینرک ہوف مین
متّی ۸: ۵–۱۳؛ مرقس ۵: ۲۴–۳۴
اگرچہ میں خود کو اِس لائِق نہ سمجھوں پھر بھی میں خُدا کی مدد حاصل کرسکتا ہوں۔
صُوبہ دار، جو غیر قوم سے تھا، خود کو اِس لائِق نہِیں سمجھتا تھا کہ مُنّجی اُس کی چھت کے نیچے آئے۔ وہ عَورت جس کے خُون جاری تھا اُسے ناپاک سمجھا جاتا تھا اور یہودی معاشرے سے خارج کر دیا گیا تھا۔ پھر بھی مُنّجی نے اُن دونوں کو برکت بخشی۔ خُداوند سے مدد مانگنے کے بارے میں آپ اِن دو کہانیوں سے کیا سیکھتے ہیں؟
متّی ۸: ۱۸–۲۲؛ مرقس ۳: ۳۱–۳۵
یِسُوع مسِیح کے شاگِرد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ میں اُسے اپنی زندگی میں اولین درجہ دیتا ہوں۔
اِن آیات میں، یِسُوع نے سِکھایا کہ اُس کے شاگِرد بننے کے لیے درکار ہے کہ ہم اُسے اپنی زندگی میں اولین درجہ دیں، چاہے اِس ضمن میں بعض اوقات ہمیں اپنی دلپسند چِیزوں کو بھی قربان کیوں نہ کرنا پڑے۔ اِن حوالہ جات کا مطالعہ کرتے ہوئے، اپنی شاگِردی پر ہی غور کریں۔ شاگِردوں کو کیوں مُنّجی کو اولین ترجیح دینے پر راضی ہونا چاہیے؟ یِسُوع کو اولین ترجیح دینے کے لیے آپ کو کون سی چِیز ترک کرنے کی ضرورت ہے؟ (مزید دیکھیں لُوقا ۹: ۵۷–۶۲۔)
متّی ۸: ۲۳–۲۷؛ مرقس ۴: ۳۵–۴۱
یِسُوع مسِیح کے پاس زِندگی کے طُوفانوں کو تھامنے کی قدرت ہے۔
کیا آپ نے کبھی سمندر کے طُوفان میں یِسُوع کے شاگِردوں کی طرح محسوس کیا ہے—پانی کی لہروں کو کشتی میں بھرتے دیکھ کر پوچھتے ہوئے، ”اَے اُستاد کیا تجھے فِکر نہِیں کہ ہم ہلاک ہُوئےجاتے ہیں؟“
مرقس ۴: ۳۵–۴۱ میں، آپ کو چار سوالات ملیں گے۔ ہر ایک کی فہرست بنائیں، اور غور کریں کہ یِسُوع مسِیح پر اِیمان کے ساتھ زِندگی کی چنوتیوں کا مقابلہ کرنے کے بارے میں یہ آپ کو کیا تعلیم دیتا ہے۔ مُنّجی آپ کی زِندگی کے طُوفانوں کو کِس طرح تھام سکتا ہے؟
متّی ۹: ۱–۱۳؛ مرقس ۲: ۱۵–۱۷
میں سَچّے اُصولوں کی تعلیم دے کر اپنے عقائد کا دفاع کرسکتا ہوں۔
بعض اوقات جب لوگ ہمارے مذہبی عقائد اور رسوم پر تنقید کرتے ہیں تو اُن کو جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب آپ متّی ۹: ۱–۱۳ اور مرقس ۲: ۱۵–۱۷ پڑھیں، تو نالشیوں کی تنقید اور مُنّجی کے جوابات تلاش کریں۔ تنقید اور ردِعمل پہ مختلف رنگوں سے نشان لگانے یا اُن کو تحریر کرنے پر غور کریں۔ مُنّجی کے تعلیم دینے کے طریقے سے آپ نے کیا مشاہدہ کیا ہے؟ اِنجیلی اُصول یا کلیسیائی رسوم کے دفاع کے لیے اُس کی مثال کی پیروی کرنا کیسے آپ کی مدد کرسکتا ہے؟
متّی ۹: ۱–۸
تَوبہ کی بدولت، میں خاطِر جمع رکھّ سکتا ہوں۔
جب ایک مفلُوج شَخص کو مُنّجی کے پاس لایا گیا تھا، تو ہجوم کے سامنے یہ بات عیاں تھی کہ اُسے جسمانی طور پر شِفا یاب ہونے کی ضرورت ہے۔ لیکن یِسُوع نے پہلے اُس آدمِی کی سب سے بڑی ضرورت کی طرف دھیان دیا—یعنی اُس کے گناہوں کی معافی۔ یہاں تک کہ اگر وہ شَخص جسمانی طور پر شِفا نہ پاتا، تب بھی وہ یِسُوع کی مشورت پر عمل پیرا ہوسکتا تھا کہ ”خاطِر جمع رکھّ“ (متّی ۹: ۲)۔ معافی پانے کے باعِث کیا آپ نے کبھی خُوشی محسوس کی ہے؟ (مزید دیکھیں ایلما ۳۶: ۱۸–۲۴۔)
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
متّی ۸–۹؛ مرقس ۲؛ ۵
اِن ابواب میں بیان کردہ مُعجِزات کی ایک فہرست بنانے اور اُن میں سے کچھ کی تصاویر تلاش کرنے پر غور کریں (دیکھیں the Gospel Art Book یا ChurchofJesusChrist.org)۔ آپ خاندان کے ہر فرد سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ (اگر تصویر دستیاب ہو تو اُس کا استعمال کرتے ہوئے) ایک مُعجِزے کے بارے میں بتائیں اور اُس سے حاصل کردہ علم کا اشتراک کریں۔ آپ جدید کلیسیائی تاریخ میں سے اُن مُعجِزوں کی کچھ مثالوں کا اشتراک کرسکتے ہیں جن کے بارے میں آپ نے مشاہدہ کیا یا پڑھا ہے۔
متّی ۹: ۱۰–۱۳
محصول لینے والوں اور گنہگاروں کے ساتھ، جنہیں دُوسروں نے دھتکارا تھا مُنّجی کے رویے سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ دُوسرے لوگوں کے ساتھ تعامل کرتے ہوئے ہم اُس کے نمونہ کی کیسے پیروی کرسکتے ہیں؟
متّی ۹: ۳۶–۳۸
اِنجیل کو پھیلانے کے لیے مزید مزدُوروں کو بھیجنے کی مُنّجی کی مِنّت کو سمجھنے میں آپ اپنے خاندان کی کِس طرح مدد کرسکتے ہیں؟ آپ نہایت آسان کام سے شروع کرسکتے ہیں جیسا کہ کسی ایسی تفویض پر اکٹھے کام کرنا جسے ختم کرنے کے لیے ایک شخص کو کافی زیادہ وقت درکار ہو، مثلاً عشائیہ کے بعد کچن کی صفائی کرنا۔ اِنجیل کا پیغام پھیلانے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟
مرقس ۴: ۳۵–۴۱
کیا یہ کہانی خوفزدہ ہونے کی صورت میں خاندانی اَرکان کی مدد کرسکتی ہے؟ شاید وہ آیت ۳۹ پڑھ سکتے ہیں اور ایسے تجربات کا اشتراک کرسکتے ہیں جب مُنّجی نے پریشانی یا خوف کے وقت اِطمینان محسوس کرنے میں اُن کی مدد کی۔
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
اپنی تدریس کو بہتر بنانا
میسر اور قابلِ رسائی ہوں۔ سِکھانے کے بعض بہترین مواقعوں کا آغاز ہمارے خاندانی اَرکان کے دِلوں میں بسے سوالات یا پریشانیوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ خاندانی اَرکان کو اپنے اِلفاظ اور اعمال سے یہ باور کرائیں کہ آپ اُن سے سُننے کے مُشتاق ہیں (دیکھیں نجات دہندہ کے طریق سے تعلیم دینا، ۱۶)۔