لائبریری
مارچ ۱۵–۲۱۔ متّی ۱۳؛ لُوقا ۸؛ ۱۳: ’جِس کے کان ہوں وہ سُن لے‘


”مارچ ۱۵–۲۱۔ متّی ۱۳؛ لُوقا ۸؛ ۱۳: ’جِس کے کان ہوں وہ سُن لے‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”مارچ ۱۵–۲۱۔ متّی ۱۳؛ لُوقا ۸؛ ۱۳،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

کٹائی کے لیے تیار گندم

مارچ ۱۵–۲۱

متّی ۱۳؛ لُوقا ۸؛ ۱۳

”جِس کے کان ہوں وہ سُن لے“

جب آپ متّی ۱۳ اور لُوقا ۸؛ ۱۳ کو پڑھتے ہیں، تو اِس بارے میں سوچیں کہ آپ اِن تَمثِیلوں میں مُنّجی کی تعلیمات کو ”سُننے“ کے لیے اپنے آپ کو کِس طرح تیار کریں گے۔ آپ اپنی زندگی میں اِن تعلیمات کے اطلاق کے لیے کیا کریں گے؟

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

مُنّجی کی سب سے یادگار تعلیمات میں سے کچھ سادہ کہانیوں کی صورت میں تھیں جو تَمثِیلیں کہلاتی ہیں۔ یہ عام چِیزوں یا واقعات کے بارے میں مخص دلچسپ قصوں سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ اِن میں خُدا کی بادشاہی کے بارے میں اُن کے واسطے گہری سَچّائیاں موجود تھی جو رُوحانی طور پر اِن بھیدوں کو سَمَجھنے کے لیے تیار تھے۔ نئے عہد نامہ میں درج پہلی تَمثِیلوں میں سے ایک—بیج بونے والے کی تَمثِیل (دیکھیں متّی ۱۳: ۳–۲۳)—ہمیں دعوت دیتی ہے کہ خُدا کا کلام پانے کے لیے اپنی تیاری کی جانچ کریں۔ ”کِیُونکہ جِو پائے گا،“ یِسُوع نے اعلان کیا، ”اُسے دِیا جائے گا اور اُس کے پاس زیادہ ہو جائے گا“ (ترجمہ برائے جوزف سمتھ، متّی ۱۳: ۱۰)۔ اِس لیے جب ہم مُنّجی کی تَمثِیلوں—یا اُس کی تعلیمات میں سے کسی کا بھی مطالعہ کرنے کی تیاری کرتے ہیں—تو اپنے دِلوں کی جانچ سے اور یہ طے کرنے سے درست شروعات ہوسکتی ہے کہ کیا ہم خُدا کے کلام کو ”اچھّی زمِین“ دے رہے ہیں جس میں وہ بڑھے، کھِلے، پھلے پھُولے، اور ایسے پھل پیدا کرے جو ہمارے اپنے لیے اور ہمارے خاندان کے لیے کثرت سے برکت کا باعِث بنے (متّی ۱۳: ۸

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

متّی ۱۳

”آسمان کی بادشاہی“ سے کیا مراد ہے جس کا حوالہ مسِیح نے متّی ۱۳ میں دیا ہے؟

اِس باب میں، ”آسمان کی بادشاہی“ سے مراد مسِیح کی سَچّی کلیسیا ہے، جو زمِین پر آسمان کی بادشاہی ہے۔

متّی ۱۳: ۳–۲۳؛ لُوقا ۸: ۴–۱۵

خُدا کا کلام پانے کے لیے میرا دِل تیار رہنا چاہیے۔

ایسا کیوں ہے کہ کچھ دِل سَچّائی کو قبول کرتے ہیں جبکہ دُوسرے اِس کی مخالفت کرتے ہیں؟ بیج بونے والے کی تَمثِیل کو پڑھنے سے اِس بارے میں سوچنے کا اچھّا موقع مل سکتا ہے کہ آپ خُداوند کی طرف سے سَچّائی کو کیسے پاتے ہیں۔ متّی ۱۳ کی آیات ۳–۸ کی پہلے آیات ۱۸–۲۳ میں دی گئی تشریحات کے ساتھ متوافقت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ہم اپنے اندر ”اچھّی زمِین“ تیار کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ ایسی کون سی کُچھ ”جھاڑِیاں“ ہوسکتی ہیں جو آپ کو خُدا کے کلام کو حقیقی معنوں میں سُننے اور اِس پر عمل کرنے سے روکتی ہیں؟

مزید دیکھیں لُوقا ۱۳: ۳۴؛ مضایاہ ۲: ۹؛ ۳: ۱۹؛ ایلما ۱۲: ۱۰–۱۱؛ ۳۲: ۲۸–۴۳؛ ڈیلن ایچ اوکس، ”The Parable of the Sower،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۵، ۳۲–۳۵۔

متّی ۱۳: ۲۴–۳۵، ۴۴–۵۲

یِسُوع کی تَمثِیلوں سے مجھے اُس کی کلیسیا کی بڑھوتی اور تقدیر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

نبی جوزف سمتھ نے سِکھایا کہ متّی ۱۳ میں دی گئی تَمثِیلیں آخری ایّام کی کلیسیا کی بڑھوتی اور تقدیر کو بیان کرتی ہیں (دیکھیں Teachings of Presidents of the Church: Joseph Smith [۲۰۰۷], ۲۹۳–۳۰۳)۔ جب آپ یہ تَمثِیلیں پڑھتے ہیں تو، تحریر کریں کہ خُداوند کی کلیسیا کے بارے میں وہ آپ کو کیا سِکھاتی ہیں (آپ اِن میں سے کچھ تَمثِیلوں کے بارے میں نبی جوزف کی تعلیم کا حوالہ دے سکتے ہیں):

  • اچھّے بیج اورگیہُوں میں کڑوے دانے (۱۳: ۲۴–۳۰، ۳۶–۴۳): شریر اور راست لوگ دُنیا کے اختتام تک ایک ساتھ بڑھتے ہیں۔

  • رائی کا دانا (۱۳: ۳۱–۳۲):

  • خمِیر (۱۳: ۳۳):

  • چھِپا خزانہ اور بیش قِیمت موتی (۱۳: ۴۴–۴۶):

  • جال (۱۳: ۴۷–۵۰):

  • گھر کا مالِک (۱۳: ۵۲):

اِن تَمثِیلوں پر غَور کرنے کے بعد، آپ مسِیح کی آخری ایّام کی کلیسیا کے کام میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے لیے کیا اِلہام پاتے ہیں؟ اِن تَمثِیلوں کے اطلاق میں مدد فراہم کرنے سے متعلق آپ کے ذہن میں کون سے سوالات آتے ہیں؟ مثال کے طور پر، ”میں کلیسیا کے واسطے کون سی قُربانی دینے کے لیے تیار ہوں؟“

موتی

یِسُوع مسِیح کی اِنجیل ”بیش قِیمت موتی“ ہے (متّی ۱۳: ۴۶

متّی ۱۳: ۲۴–۳۰، ۳۶–۴۳

شریر اورراست دونوں لوگوں کو دُنیا کے اختتام تک ایک ساتھ بڑھنا ہے۔

اِس تَمثِیل کا تجزیہ کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اِس کی تصویر بنائی جائے اور متّی ۱۳: ۳۶–۴۳ اور عقائد اور عہود ۸۶: ۱–۸ میں پائی جانے والی تشریحات کے ساتھ لیبل کی جائیں۔ کڑوے دانے ” وہ زہریلی گھاس ہے، جو بالیوں میں تبدیل ہونے تک گیہُوں کی مانند نظر آتی ہیں۔“ دُنیا میں بدکاری کے باوجود بھی اِس تَمثِیل کی کون سی سَچّائیاں آپ کو دیندار رہنے کی ترغیب دیتی ہیں؟

لُوقا ۸: ۱–۳

”بعض عَورتوں“ نے کِس طرح مُنّجی کی خِدمت کی؟

”خواتین شاگِردوں نے یِسُوع اور بارہ کے ساتھ سفر کیا، [یِسُوع] سے رُوحانی طور پر سیکھتے ہوئے اور مادّی طور پر اُس کی خِدمت کرتے ہوئے۔ … یِسُوع کی خِدمت—اُس کی اِنجیل کی بشارت اور اُس کی شِفا بخش قوت کی برکات پانے کے علاوہ—اِن خواتین نے اپنا مال اور اپنی عقیدت پیش کرتے ہوئے، اُس کی خِدمت گزاری کی“ (Daughters in My Kingdom [۲۰۱۱]، ۴)۔ مُنّجی کی پیروکار عَورتیں اُس کی زبردست گواہ بھی تھیں (دیکھیں لِنڈا کے برٹن، ”Certain Women،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۷، ۱۲–۱۵)۔

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

متّی ۱۳

مُنّجی کی تَمثِیلیں پڑھتے ہوئے آپ کے خاندانی اَرکان، ایسی چِیزوں یا حالات کا استعمال کرتے ہوئے کہ جن سے وہ واقف ہیں اپنی تَمثِیلیں تخلیق کرنے سے لطف اُٹھا سکتے ہیں جو آسمان کی بادشاہی (کلیسیا) کے بارے میں یکساں سَچّائیاں سِکھاتی ہیں۔

متّی ۱۳: ۳–۲۳؛ لُوقا ۸: ۴–۱۵

اپنے دِلوں اور اپنے گھر میں ”اچھّی زمِین“ تیار کرنے کے لیے ہم بطور خاندان کیا کر سکتے ہیں؟ (متّی ۱۳: ۲۳)۔ اگر آپ کے خاندان میں چھوٹے بچے ہیں تو، خاندان کے اَرکان کو دعوت دینا باعِث مسرت ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے دِلوں کو خُدا کا کلام سُننے کے لیے تیار کرنے کی کردار نگاری کریں اور خاندان کے دیگر افراد اندازہ لگائیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

متّی ۱۳:۱۳–۱۶

آپ اپنے خاندانی اَرکان کی خُوشی سے مسِیح کے کلام کو پانے کی اہمیت کو سمجھنے میں کیسے مدد کرسکتے ہیں؟ مثال کے طور پر، آپ خاموشی سے متّی ۱۳:۱۳–۱۶ کو پڑھتے ہوئے کسِی خاندانی رکن کے کانوں کو ڈھانپ سکتے ہیں۔ اِن آیات سے خاندانی رکن نے کیا فہم حاصل کیا؟ خُدا کے کلام کو پانے میں ہماری آنکھیں، کان، اور دِل کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ کِن طریقوں سے ہم اپنی آنکھیں، کان، اور دِل خُدا کے کلام کے لیے بند کر دیتے ہیں؟

متّی ۱۳: ۴۴–۴۶

اِن تَمثِیلوں میں پائے جانے والے دو آدمِیوں میں کیا بات مشترک ہے؟ ہماری زِندگیوں میں خُدا کی بادشاہی کو اولین ترجیح دینے کے لیے فرد کی حیثیت سے اور بطور خاندان ہمیں مزید کیا کام کرنے چاہیے؟

لُوقا ۱۳: ۱۱–۱۷

لوگوں کو غلامی سے چھُڑانے کے لیے ہم مُنّجی کے نمونہ کی کیسے پیروی کرسکتے ہیں؟

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

صحیفہ یاد کریں۔ صحیفہ کی ایک عبارت کا انتخاب کریں جو خُصوصاً آپ کے خاندان کے لیے معنی خیز ہو، اور خاندانی اَرکان کو اِسے یاد کرنے کی دعوت دیں۔ بزرگ رچرڈ جی سکاٹ نے سِکھایا، ”یاد کیا جانے والا صحیفہ ایک دائمی دوست بن جاتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ کمزور نہیں پڑتا“ (”The Power of Scripture،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۱، ۶)۔

بیج بونے والا شَخص

بیج بونے والے کی تَمثِیل، از جارج سوپر