لائبریری
مارچ ۸–۱۴۔ متّی ۱۰–۱۲؛ مرقس ۲؛ لُوقا ۷؛ ۱۱: ’اِن بارہ کو یِسُوع نے بھیجا‘


”مارچ ۸–۱۴۔ متّی ۱۰–۱۲؛ مرقس ۲؛ لُوقا ۷؛ ۱۱: ’اِن بارہ کو یِسُوع نے بھیجا‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”مارچ ۸–۱۴۔ متّی ۱۰–۱۲؛ مرقس ۲؛ لُوقا ۷؛ ۱۱،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

یِسُوع پطرس کو مُقرِّر کرتے ہوئے

مارچ ۸–۱۴

متّی ۱۰–۱۲؛ مرقس ۲؛ لُوقا ۷؛ ۱۱

”اِن بارہ کو یِسُوع نے بھیجا“

جب آپ متّی ۱۰–۱۲؛ مرقس ۲؛ اور لُوقا ۷؛ ۱۱ کو پڑھیں، تو رُوحُ الُقدس سے حاصل ہونے والے اپنے تاثرات کو قلمبند کریں۔ اُن پر غور و فکر اور اُنھیں قلمبند کرنے کے بارے سوچیں۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

یِسُوع کے مُعجزوں کی شہُرت تیزی سے پھیل رہی تھی۔ لوگ بھِیڑ کی شکل میں اپنی بیماریوں سے نجات کی اُمِید میں، اُس کے پِیچھے ہولیے۔ لیکن جب نجات دہندہ نے بھِیڑ کو دیکھا تو، اُس نے اُن کی جسمانی بیماریوں سے بڑھ کر اُن میں کچھ دیکھا۔ اُن پر ترس کھاتے ہوئے، وہ اُسے ”اُن بھیڑوں کی مانِند جِن کا چرواہا نہ ہو“ نظر آئے (متّی ۹: ۳۶)۔ ”فصل تو بہُت ہے،“ اُس نے مشاہدہ کیا، ”لیکِن مزدور تھوڑے ہیں“ (متّی ۹: ۳۷)۔ پھِر اُس نے اپنے بارہ شاگِردوں کو پاس بُلاکر، ”اُن کو اِختیّار بخشا“، اور اُن کو ”اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہُوئی بھیڑوں کے پاس“ منادی اور خدمت گزاری کے لیے بھیجا (متّی ۱۰: ۱، ۶)۔ آسمانی باپ کے بچوں کی خدمت کے لیے آج مزدوروں کی ضرورت بھی اتنی ہی زیادہ ہے۔ بارہ رَسُول آج بھی ہیں، لیکن اب یِسُوع مسِیح کے شاگِرد پہلے سے کہیں زیادہ ہیں—ایسے لوگ جو ساری دُنیا میں منادی کرسکتے ہیں کہ، ”آسمان کی بادشاہی نزدِیک آگئی ہے“ (متّی ۱۰: ۷

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

متّی ۱۰

خُداوند نے اپنے خادِموں کو اپنا کام کرنے کا اِختیّار بخشا ہے۔

متّی ۱۰ میں دی گئی ہدایت یِسُوع کے اپنے رَسُولوں کے لیے تھی، لیکن ہم سب بھی خُداوند کے کام میں شامل ہیں۔ مسِیح نے اپنے رَسُولوں کو اُن کے کارِ تبلیغ کی تکمیل میں مدد کے لیے کون سا اِختیّار بخشا؟ جس کام کی بُلاہٹ آپ کو سونپی گئی ہے اُس کام کے لیے آپ اُس کے اِختیّار تک کیسے رسائی حاصل کرسکتے ہیں؟ (دیکھیں ۲ کُرنتھِیوں ۶: ۱–۱۰؛ عقائد اور عہود ۱۲۱: ۳۴–۴۶

بارہ رَسُولوں کی جماعت

آج بارہ رَسُول خُداوند کے کام کو انجام دیتے ہیں۔

جب آپ اُس حُکم کو پڑھتے ہیں جو مسِیح نے اپنے رَسُولوں کو دیا، تو آپ کو اُس کام کے بارے میں تاثرات مِل سکتے ہیں جو خُداوند آپ سے کروانا چاہتا ہے۔ درج ذیل خاکہ آپ کو اپنے خیالات کو منظم کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے:

متّی ۱۰

حاصل کردہ تاثرات

متّی ۱۰

نجات دہندہ نے اپنے شاگِردوں کو اِختیّار بخشا۔

حاصل کردہ تاثرات

خُدا مجھے اپنا کام کرنے کے لیے ضروری اِختیّار بخشے گا۔

متّی ۱۰

حاصل کردہ تاثرات

متّی ۱۰: ۱۷–۲۰

جب میں خُداوند کی خدمت کررہا ہوتا ہوں، تو وہ مجھے کلام کرنے کا الہام بخشے گا۔

خُداوند جانتا تھا کہ اُس کے شاگِردوں پر ظلم و ستم ڈھایا جائے گا اور اُن سے اِیمان کے بارے میں پوچھا جائے گا—ایسا ہی کچھ آج کے شاگِرد بھی تجربہ کرسکتے ہیں۔ لیکن اُس نے شاگِردوں سے وعدہ کیا کہ وہ رُوح کے ذریعہ جان لیں گے کہ کیا بولنا ہے۔ کیا آپ نے کبھی اِس خدائی وعدے کی تکمیل کا اپنی زندگی میں تجربہ کیا ہے، شاید تب جب آپ نے اپنی گواہی کا اشتراک کیا ہو، کسی کو برکت دی ہو، یا کسی سے گفتگو کی ہو؟ اپنے تجربات کا اشتراک کسی عزیز کے ساتھ کرنے یا اِنھیں روز نامچے میں تحریر کرنے کے بارے میں غور فرمائیں۔

مزید دیکھیں لُوقا ۱۲: ۱۱–۱۲؛ عقائد اور عہود ۸۴: ۸۵۔

متّی ۱۰: ۳۴–۳۹

یِسُوع کا اِس بات سے کیا مطلب تھا کہ ”یہ نہ سَمَجھو کہ مَیں زمِین پر صُلح کرانے آیا ہُوں، صُلح کرانے نہِیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہُوں“؟

بزرگ ڈی ٹاڈ کرسٹوفرسن نے سِکھایا: ”مجھے یقین ہے کہ جب آپ نے یِسُوع مسِیح کی اِنجیل کو قبول کیا اور اُس کے ساتھ عہد میں داخل ہوئے تو آپ میں سے بہتیروں کو باپ اور ماں، بھائیوں اور بہنوں نے مسترد اور بے دخل کردیا ہو گا۔ کسی نہ کسی طرح سے، مسِیح سے آپ کی اعلیٰ محبّت کے لیے اُن رشتوں کی قربانی درکار تھی جو آپ کو پیارے تھے، اور آپ نے بہت سے آنسو بہائے ہیں۔ پھر بھی آپ اپنی بے تخفیف محبّت کے باعث، اپنے آپ کو خُدا کے بیٹے سے شرمندہ نہ ہوتے ہوئے، اِس صلیب کے نیچے قائم ہیں“ (”Finding Your Life،“ انزائن، مارچ ۲۰۱۶، ۲۸)۔

نجات دہندہ کی پیروی کرنے کے لیے عزیز تعلقات کو کھونے کی اِس آمادگی کے ساتھ ایک وعدہ وابستہ ہے کہ ”جو کوئی میری خاطِر اپنی جان کھوتا ہے اُسے بَچائے گا“ (متّی ۱۰: ۳۹

متّی ۱۱: ۲۸–۳۰

جب میں اُس پر اور اُس کے کفارہ پر بھروسہ کرتا ہوں تو یِسُوع مسِیح مجھے آرام دے گا۔

ہم سب بوجھ سے دبے ہُوئے ہیں—کچھ ہمارے اپنے گناہوں اور غلطیوں کے نتیجے میں، کچھ دُوسروں کے انتخاب کی وجہ سے، اور کچھ جو کسی کی غلطی نہیں ہیں بلکہ صرف زمین پر زندگی کا حصّہ ہیں۔ ہماری جدوجہد کی وجوہات سے قطع نظر، یِسُوع ہم سے التماس کرتا ہے کہ ہم اُس کے پاس جائیں تاکہ بوجھ اٹھانے اور آرام پانے میں وہ ہماری مدد کرے (مزید دیکھیں مضایاہ ۲۴)۔ بزرگ ڈیوڈ اے بیڈنار نے سِکھایا، ”مُقدّس عہود باندھنے اور اُن پر قائم رہنے سے ہم خُداوند یِسُوع مسِیح کا جُوا اپنے اُوپر اُٹھا لیتے ہیں“ (”Bear Up Their Burdens with Ease،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۴، ۸۸)۔ اِس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اِن آیات میں نجات دہندہ کے اِلفاظ کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے درج ذیل جیسے سوالات پر غور و فکر کریں: ”میرے عہود کیسے مجھے نجات دہندہ کا جُوا اپنے اُوپر اُٹھانے کی اجازت دیتے ہیں؟“ ”مسِیح کی طرف رُجُوع لانے کے لیے مجھے کیا کرنے کی ضرورت ہے“ یا ”کِن معنوں میں نجات دہندہ کا جُوا ملائِم اور اُس کا بوجھ ہلکا ہے؟“

پڑھتے وقت آپ کے ذہن میں اور کون سے سوالات آتے ہیں؟ اُن کو قلمبند کریں اور اِس ہفتے صحائف اور انبیاء کے کلام میں سے جوابات تلاش کریں۔ آپ کو اپنے چند سوالات کے جوابات اوپر درج کیے گئے بزرگ ڈیوڈ اے بیڈنار کے پیغام میں سے مِل سکتے ہیں۔

لُوقا ۷: ۳۶–۵۰

جب مجھے اپنے گناہوں سے معافی ملتی ہے تو، نجات دہندہ کے لیے میری محبّت گہری ہوتی جاتی ہے۔

کیا آپ اپنے آپ کو اِن آیات کی کہانی میں دیکھ پاتے ہیں جب نجات دہندہ شمعُون فرِیسی کے گھر گیا؟ کیا آپ نے کبھی شمعُون کی مانند محسوس کیا ہے؟ یِسُوع مسِیح کے ساتھ فروتنی اور محبّت کا اظہار کرنے والی عورت کی مثال کی پیروی آپ کیسے کرسکتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی اُس شفقت اور رحمت کا تجربہ حاصل کیا ہے جس کا اظہار نجات دہندہ نے عورت کے ساتھ کیا تھا؟ آپ اِن آیات سے کیا سیکھتے ہیں کہ معافی کِس طرح نجات دہندہ سے ہماری محبّت کو تقویت بخشتی ہے؟

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

متّی ۱۰: ۴۰

حالیہ مجلسِ عامہ کے پیغامات پر غور کرتے ہوئے، ہم جدید دور کے رَسُولوں کی مشورت کو بطور خاندان قبول کرنے اور اُس پر عمل کرنے کے لیے کون سے اقدام اٹھاتے ہیں؟ اُن کی مشورت کی پیروی کرنے سے ہم کیسے یِسُوع مسِیح کے قریب تر ہو جاتے ہیں؟

متّی ۱۱: ۲۸–۳۰

آپ اپنے خاندان سے کسی بھاری چیز کو کھینچنے کی کوشش کرنے کا کہیں، پہلے خود اور پھر کسی کی مدد سے، ایسا کرنے سے آپ اِن آیات میں نجات دہندہ کی تعلیمات کو تصور کرنے میں اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔ ہم کون سے بوجھ اُٹھاتے ہیں؟ مسِیح کا جُوا اپنے اُوپر اُٹھا لینے سے کیا مراد ہے؟ اِس خاکہ سے وابستہ تصویر آپ کو یہ واضح کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ جُوا کیا ہوتا ہے۔

متّی ۱۲: ۱۰–۱۳؛ مرقس ۲: ۲۳–۲۸

سَبت کے دِن ہم کیسے ”نیکی کر“ سکتے ہیں؟ (متّی ۱۲:۱۲)۔ سَبت کے دِن نجات دہندہ ہمیں کِس طرح سے شِفا بخش سکتا ہے؟

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا

رُوح کی سُنیں۔ مُطالعہ کرتے وقت، اپنے خیالات اور احساسات پر دھیان لگائیں (دیکھیں عقائد اور عہود ۸: ۲–۳)، چاہے وہ پڑھے جانے والے مواد سے مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ تاثرات ایسی چیزیں ہوسکتی ہیں جو خُدا چاہتا ہے کہ آپ جانیں اور کریں۔

کرٹ لینڈ ہیکل کی تعمیر

نجات دہندہ نے کہا، ”میرا جُوا اپنے اُوپر اُٹھا لو“ (متّی ۱۱: ۲۹

کرٹ لینڈ اور پہلی ہیکل، از ڈان بُر