لائبریری
مارچ ۲۲–۲۸۔ متّی ۱۴–۱۵؛ مرقس ۶–۷؛ یُوحنّا ۵–۶: ’ڈرو مت‘


”مارچ ۲۲–۲۸۔ متّی ۱۴–۱۵؛ مرقس ۶–۷؛ یُوحنّا ۵–۶: ’ڈرو مت‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”مارچ ۲۲–۲۸۔ متّی ۱۴–۱۵؛ مرقس ۶–۷؛ یُوحنّا ۵–۶،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

مسِیح بھِیڑ کو کھانا کھلاتے ہوئے

اِنھیں سیر کرو، از خورخے کوکو

مارچ ۲۲–۲۸

متّی ۱۴–۱۵؛ مرقس ۶–۷؛ یُوحنّا ۵–۶

”ڈرو مت“

جب آپ متّی ۱۴–۱۵؛ مرقس ۶–۷؛ اور یُوحنّا ۵–۶ پڑھتے ہیں، تو ایسی سَچّائیوں کی تلاش کریں جو آپ کے لیے معنی خیز ہوں۔ آپ خود سے سوالات پوچھ سکتے ہیں جیسا کی ”اِن ابواب میں موجود کہانیاں کیسے میری ذات سے تعلق رکھتی ہیں؟“ ”میں اپنی زِندگی کے لیے کون سے پیغامات ڈھُونڈتا/ڈھُونڈتی ہوں؟“ یا ”میں اپنے خاندان یا دُوسروں کے ساتھ کِس چِیز کا اشتراک کرنا چاہوں گا/گی؟“

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

پطرس نے گلیل کی جھِیل کے بِیچ میں تُند طوفان میں ڈگمگاتی اپنی کَشتی کے تحفظ کو چھوڑنے کی کیسے ترغیب پائی تھی؟ کِس چِیز نے اُسے یہ یقین دلایا کہ اگر یِسُوع پانی پر چل سکتا ہے، تو وہ بھی ایسا کرسکتا ہے؟ ہم یقینی طور پر نہیں جان سکتے، لیکن ہوسکتا ہے کہ پطرس نے یہ گمان کیا کہ خُدا کا بَیٹا صرف لوگوں کے لیے حیرت انگیز کام کرنے ہی نہیں بلکہ پطرس جیسے لوگوں کو بھی حیرت انگیز کام کرنے کا اِختیّار بخشنے آیا تھا۔ یِسُوع کی دعوت، بہرحال، یہ تھی کہ ”آ، میرے پِیچھے ہو لے“ (لُوقا ۱۸: ۲۲)۔ پطرس نے ایک بار یہ دعوت قبول کی تھی، اور وہ اِسے دوبارہ قبول کرنے پر رضامند تھا، خواہ اِس کے لیے اُسے اپنے خوف کا سامنا اور کوئی ناممکن کام کرنا پڑتا۔ شاید خُداوند ہمیں طوفان کے دوران کَشتی سے باہر قدم رکھنے یا ہزاروں کو کھانا کھلانے کے لیے اپنی روٹی کی معمولی رسد میں سے حصہ دینے کا نہ کہے، لیکن وہ ہمیں ایسی ہدایات کو قبول کرنے کا بول سکتا ہے جو ہمارے فہم سے بالاتر ہوں۔ ہمارے لیے اُس کی دعوتیں جو بھی ہوں، وہ بعض اوقات حیرت انگیز یا خوفناک معلوم ہوسکتی ہیں۔ اگر ہم، پطرس کی طرح اپنے خوف، اپنے شکوک و شبہات اور اپنے محدود فہم کو ایک طرف رکھیں اور اِیمان کے ساتھ اُس کی پیروی کریں، تو مُعجِزات رونما ہوسکتے ہیں۔

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

یُوحنّا ۵: ۱۷–۴۷

یِسُوع مسِیح اپنے باپ کی عِزّت کرتا ہے۔

آسمانی باپ اور اُس کے ہر ایک بچے کے درمیان ایک مُقدّس رشتہ ہونا چاہیے۔ اِن آیات میں، یِسُوع مسِیح نے ہمیں آسمانی باپ کے ساتھ اپنے تعلق کو برقرار رکھنے کے لیے ہدایات کا ایک متاثر کن نمُونہ پیش کیا ہے۔ یُوحنّا ۵: ۱۷–۴۷ پڑھیں، اور لفظ باپ کی ہر مثال پر نشان لگائیں یا اِسے نوٹ کریں۔ بَیٹا باپ کی کیسے عِزّت کرتا ہے، اور آپ اُس کے نمونہ کی کیسے پیروی کرسکتے ہیں؟ آپ اِس بارے میں کیا سیکھتے ہیں کہ باپ بَیٹے کے بارے میں کیسا محسوس کرتا ہے؟ آسمانی باپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو تقویت بخشنے سے آپ اُس کی مرضی کو جاننے اور فرمانبرداری کرنے کی رضامندی کو کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

مزید دیکھیں یُوحنّا ۱۷؛ جیفری آر ہالینڈ ”The Grandeur of God،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۰۳، ۷۰–۷۳۔

متّی ۱۴: ۱۶–۲۱؛ مرقس ۶: ۳۳–۴۴؛ یُوحنّا ۶: ۵–۱۴

مُنّجی اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے میری عاجزانہ پیش کش کو عظمت بخش سکتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی—اپنے گھر، اپنے تعلقات، یا معاشرے میں اپنے اِرد گِرد کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خود کو قاصر محسوس کیا ہے؟ جب یِسُوع نے اپنے شاگِردوں کو پانچ ہزار سے زائد بھوکے لوگوں کو کھانا کھلانے کا کہا تو اُنھوں نے ایسا کرنے کے لیے خود کو قاصر تصّور کیا ہوگا (دیکھیں متّی ۱۴: ۲۱) جب وہاں صرف پانچ روٹِیاں اور دو مَچھلِیاں دستیاب تھیں۔ جب آپ اِس کے بعد رونما ہونے والے مُعجِزے کے بارے میں پڑھتے ہیں تو، غور کریں کہ خُدا آپ کی خدمت کی عاجزانہ پیش کش کو آپ کے آس پاس کے لوگوں کو برکت دینے کے لیے کیسے اِستعمال کرسکتا ہے۔ جب آپ کلیسیا میں خدمت کرتے ہیں تو وہ آپ کی کوششوں کو کیسے عظمت بخش سکتا ہے؟ صدر جیمز ای فاوسٹ کے اِس بیان پر غور کریں: ”صرف پانچ روٹِیوں اور دو چھوٹی مَچھلِیوں کے برابر تحفے رکھنے والے بہت سے گمنام لوگ جانفشانی سے اپنی ذمہ داری نبھاتے اور بغیر کسی توجہ یا انعام کے خدمت کرتے ہیں اور بلامبالغہ ہزاروں کو کھانا کھلاتے ہیں“ (”Five Loaves and Two Fishes،“ انزائن، مئی ۱۹۹۴، ۵)۔

متّی ۱۴: ۲۲–۳۳؛ مرقس ۶: ۴۵–۵۲؛ یُوحنّا ۶: ۱۵–۲۱

یِسُوع مسِیح مجھے دعوت دیتا ہے کہ میں اپنے خوف اور شبہات کو ایک طرف رکھوں اور اُس پر اپنے اِیمان کی مشق کروں۔

متّی ۱۴: ۲۲–۳۳؛ مرقس ۶: ۴۵–۵۲؛ اور یُوحنّا ۶: ۱۵–۲۱ میں بیان کردہ منظر کی تفصیلات کو اپنے ذہن میں تصّور کریں۔ ذرا تصّور کریں کہ پطرس اور دُوسرے شاگِردوں نے کیسا محسوس کیا ہوگا۔ اِن آیات میں مُنّجی کے قول و فعل سے آپ شاگِردی کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟ آپ پطرس کے قول و فعل سے کیا سیکھتے ہیں؟ (مزید دیکھیں ۱ نیفی ۳: ۷۔) خُداوند آپ کو ایسا کیا کرنے کی دعوت دے رہا ہے جو کَشتی سے باہر نکلنے کی مانند ہوسکتا ہے؟ آپ اِن آیات میں ایسا کیا ڈھُونڈتے ہیں جو آپ کو یِسُوع مسِیح پر اپنے اِیمان کی مشق کرنے کی ہمت دیتا ہے؟

یُوحنّا ۶: ۲۲–۷۱

یِسُوع مسِیح کے شاگِرد ہونے کے ناطے، مجھے خُوشی سے سَچّائی پر یقین رکھنا اور اِسے قبول کرنا چاہیے، حتیٰ کہ جب ایسا کرنا مشکل لگے۔

جب یِسُوع نے بیابان میں بِھیڑ کو مُعجِزانہ طور پر کھانے سے سیر کیا تو اُس سے اگلے دن، اُس کے پیروکاروں نے اُسے ڈھُونڈا اور مزید کھانا کھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ تاہم، وہ مایوس ہوئے اور یہاں تک کہ ناراض بھی جب اُس نے اِس کے بجائے اُنھیں رُوحانی غذا—”زِندگی کی روٹی“ کی پیش کش کی (یُوحنّا ۶: ۴۸). اُن میں سے بِہتوں کو یہ ”کلام ناگوار“ لگا (یُوحنّا ۶: ۶۰

کیا آپ نے کبھی ایسا تجربہ کیا جب مُنّجی یا اُس کے خادمِوں میں سے کسی کی جانب سے سِکھایا گیا کلام آپ کو ”ناگوار“ یا قبول کرنے کے لیے مشکل محسوس ہوا ہو؟ اِس حوالہ کو پڑھتے ہوئے ایسے تجربات کے بارے میں سوچیں، خاص طور پر آیات ۶۸–۶۹ میں پطرس کے اِلفاظ۔ وہ کون سی ”ہمیشہ کی زِندگی کی باتیں“ (یُوحنّا ۶: ۶۸) ہیں جو مُنّجی کی پیروی کرنے میں پُر عزم رہنے میں آپ کی مدد کرتی ہیں؟

مزید دیکھیں ایم رسل بیلرڈ، ”To Whom Shall We Go؟،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۶، ۹۰–۹۲۔

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

متّی ۱۴: ۱۶–۲۱

جب آپ پانچ ہزار کو کھانا کھلانے کے بارے میں پڑھتے ہیں تو، آپ تھوڑی روٹِی اور مَچھلِی کھا سکتے ہیں اور تصّور کرسکتے ہیں کہ پانچ ہزار لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے کتنی مقدار درکار ہوتی ہے۔ مسِیح کی بدولت آپ کا خاندان کِس طرح رُوحانی طور پر سیر ہوا ہے؟ اُس نے آپ کو دُوسروں کو سیر کرنے کے لیے کِس طرح استعمال کیا ہے؟

روٹِیاں اور مَچھلِیاں

یِسُوع نے مُعجِزانہ طور پر پانچ روٹِیوں اور دو مَچھلِیوں سے ۵۰۰۰ لوگوں کو سیر کیا۔

متّی ۱۴: ۲۲–۳۳

شاید آپ کا خاندان اِن آیات میں بیان کردہ کہانی کی کردار نگاری کرنے سے خُوشی پائے۔ شاگِرد کیوں خَوف زدہ تھے؟ پطرس کیسے اپنے خوف پر قابو پانے اور کَشتی چھوڑنے کے قابل ہوا؟ جب وہ ڈوبنے لگا تب بھی اُس نے اِیمان کا اظہار کیسے کیا؟ بعض اوقات ہم کیسے پطرس کی مانند ہوتے ہیں؟

یُوحنّا ۵: ۱–۱۶

خاندانی اَرکان کو دعوت دیں کہ اِن آیات میں ”تندُرست/شِفا“ جیسی اصطلاحات کی مثالوں کو نوٹ کریں۔ کِن طریقوں سے یِسُوع مسِیح لوگوں کو تندُرستی/شِفا بخش سکتا ہے۔ اُس نے ہمیں کب اور کِس طرح تندُرستی/شِفا بخشی ہے؟

یُوحنّا ۶: ۲۸–۵۸

ہر خاندانی رکن کو کھانے کے لیے روٹِی کا ایک ٹکڑا دیں، اور روٹِی اور دیگر صحت مند کھانوں سے حاصل ہونے والے فوائد پر تبادلہ خیال کریں۔ پھر اِن آیات میں سے مِل کر تلاش کریں، کہ یِسُوع مسِیح نے کیوں اپنے آپ کو ”زِندگی کی روٹی“ کہا ہے (یُوحنّا ۶: ۳۵

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا

اپنی رُوحانی بصیرت کے خواہاں ہوں۔ اپنے ذاتی اور خاندانی مُطالعہ میں، اپنے آپ کو اِن خاکہ جات میں دی گئی صحائف کی عبارتوں تک محدود نہ رکھیں۔ اِن ابواب میں آپ کے لیے ممکنہ طور پر خُداوند کے اَیسے پیغامات موجود ہوسکتے ہیں جن کا احاطہ یہاں نہیں کیا گیا ہے۔ دُعاگو ہو کر اِن کی تلاش کریں۔

یِسُوع پطرس کو پانی سے باہر نکالتے ہوئے

ہوا مُخالِف تھی، از لز لیمن سِونڈل