”فروری ۲۲–۲۸۔ متّی ۶–۷: ’وہ صاحبِ اِختیّار کی طرح اُن کو تعلِیم دیتا تھا‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”فروری ۲۲–۲۸۔ متّی ۶–۷،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
یِسُوع سَمَندَر کے کِنارے لوگوں کو تعلیم دیتے ہوئے، از جیمز ٹیسیٹ
فروری ۲۲–۲۸
متّی ۶–۷
”وہ صاحبِ اِختیّار کی طرح اُن کو تعلِیم دیتا تھا“
جب ہم ذہن میں ایک سوال رکھتے ہوئے اور اُس سَچّی خواہش کے ساتھ صحائف کو پڑھتے ہیں کہ آسمانی باپ ہمیں کیا فہم بخشنا چاہتا ہے، تو ہم رُوحُ الُقدس کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمیں الہام بخشے۔ جب آپ متّی ۶–۷ کو پڑھیں، تو اِن تاثرات پر توجہ دیں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
مسِیحیت کے تمام واعظوں میں سے پہاڑی واعظ سب سے بہترین اور معروف ہے۔ اِس میں مُنّجی نے کثرت سے استعارات کا استعمال کرتے ہوئے تعلیم دی، جیسا کہ جو شہر پہاڑ پر بسا ہے، جنگلی سوسن کے دَرخت، اور بھیڑوں کے بھیس میں پھاڑنے والے بھیڑئے۔ لیکن پہاڑی واعظ ایک خوبصورت تقریر سے کہیں زیادہ ہے۔ اُس کے شاگِردوں کے لیے مُنّجی کی تعلیمات کی قدرت ہماری زندگیوں کو تبدیل کرسکتی ہے، خصوصاً جب ہم اِن کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ پھر اُس کے اِلفاظ مخص اِلفاظ نہیں رہتے؛ وہ زِندگی کی ایک یقینی بنیاد بن جاتے ہیں جو، اُس عقلمند آدمِی کے گھر کی مانِند ہیں جِس نے چٹان پر اپنا گھر بنایا، اور دُنیاوی آندھیوں اور طوفانوں کے سامنے ٹھہرے رہ سکتے ہیں (دیکھیں متّی ۷: ۲۴–۲۵)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
متّی ۶–۷
مجھے آسمانی چِیزوں پر اپنا دل لگانا چاہیے۔
خُدا کی چِیزوں کو دُنیاوی چِیزوں پر فوقیت دینا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا ہے۔ متّی ۶–۷ میں مُنّجی کی کون سی تعلیم آپ کو آسمانی چِیزوں پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہے؟ اُس کے کلام کو پڑھتے ہوئے آپ کون سے خیالات یا تاثرات حاصل کرتے ہیں؟ آپ کیا کرنے کی ترغیب پاتے ہیں؟ اپنے تاثرات کو قلمبند کرنے پر غور کریں۔ مثال کے طور پر:
|
متّی ۶: ۱–۴ |
مجھے اِس بات کی زیادہ پرواہ ہونی چاہیے کہ خُدا میرے بارے میں کیا سوچتا ہے برعکس اِس کے کہ دُوسرے کیا سوچیں گے۔ |
متّی ۶–۷
میں حلیم، سَچّی دُعا کے ذریعے خُدا کے قریب ہوسکتا ہوں۔
پہاڑی واعظ بہت سارے موضوعات پر مشتمل ہے، اور جن موضوعات کا آپ مشاہدہ کرتے ہیں اُن کا انحصار، ایک حد تک، آپ کی زِندگی کے موجودہ حالات اور خُداوند آپ سے کیا گفتگو کرنا چاہتا ہے، اِس بات پر ہوتا ہے۔
متّی ۶–۷ کا ایک موضوع دُعا ہے۔ اپنی دُعاؤں کو جانچنے کے لیے ایک لمحہ نکالیں۔ آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے کہ آپ دُعا کے ذریعہ خُدا کے قریب ہونے کی کیسی ممکنہ کوششیں کر رہے ہیں؟ متّی ۶–۷ میں کون سی تعلیمات آپ کو دُعا کرنے کے طریقوں کو بہتر بنانے کا الہام بخشتی ہیں؟ آپ رُوح کی جانب سے جو تاثرات پاتے ہیں اُنھیں قلمبند کریں۔ مثال کے طور پر:
|
متّی ۶: ۹ |
جب میں دُعا کرتا ہوں، تو مجھے آسمانی باپ کے نام کی تعظیم کرنی چاہیے۔ |
|
متّی ۶: ۱۰ |
جب میں دُعا کرتا ہوں، تو مجھے اپنی اِس خواہش کا اظہار کرنا چاہیے کہ خُداوند کی مرضی پُوری ہو۔ |
آپ شاید ایک بار پھر پہاڑی واعظ پڑھنے پر غور کرسکتے ہیں، اِس بار آپ دوبارہ ذہن میں وارد ہونے والے موضوع یا پیغام کی تلاش کرتے ہوئے جو خاص طور پر آپ پر لاگو ہوتا ہے۔ اپنے خیالات اور تاثرات سمیت، اپنی کلیدی دریافت کو روزنامچے میں قلمبند کریں۔
ہم دُعا کے ذریعے خُدا کے قریب ہوسکتے ہیں۔
متّی ۶: ۷
دُعا میں ”بک بک“ کرنے کا کیا مطلب ہے؟
لوگ اکثر ”بک بک“ کو بار بار بیکار میں دہرائے جانے والے اِلفاظ کے مترادف سمجھتے ہیں۔ تاہم، بک بک لفظ کسی ایسی چِیز کی وضاحت کرسکتا ہے جس کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ دُعا میں ”بک بک“ کرنے کا مطلب مخلص، دِل کی گہرائی کے بغیر دُعا کرنا ہوسکتا ہے (دیکھیں ایلما ۳۱: ۱۲–۲۳)۔
متّی ۶: ۹–۱۳
ہم دُعائے ربانی کی تلاوت کیوں نہیں کرتے ہیں؟
صدر رسل ایم نیلسن نے سِکھایا: : ”خُداوند نے سب سے پہلے اپنے پیروکاروں سے یہ کہا کہ ’بک بک‘ نہ کرو [متّی ۶: ۷] اور ’اِس طرح دُعا کِیا کرو‘ [متّی ۶: ۹]۔ اِس طرح، دُعائے ربانی پیروی کے لیے بطورِ نمونہ نہ کہ حفظ اور بار بار تلاوت کرنے والی دُعا کے طور پر پیش کی گئی تھی۔ اُستاد صرف یہ چاہتا ہے کہ ہم برائیوں کا مقابلہ اور راستباز زِندگی گزارنے کے لیے مستقل کوشش کرتے ہوئے خُدا کی مدد کے لیے دُعا کریں“ (”Lessons from the Lord’s Prayers،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۰۹، ۴۶–۴۷)۔
متّی ۷: ۱–۵
مجھے راستی سے جانچ کرنی چاہیے۔
متّی ۷: ۱ میں، مُنّجی شاید ایسا کہہ رہا ہے کہ ہمیں جانچنا نہیں چاہیے، لیکن دُوسرے صحائف میں (جن میں اِس باب کی دیگر آیات بھی شامل ہیں)، وہ ہمیں جانچنے کے بارے میں ہدایات دیتا ہے۔ اگر یہ بات آپ کو الجھن میں ڈال دے تو، اِس آیت کا ترجمہ برائے جوزف سمتھ مددگار ثابت ہوسکتا ہے: ”ناراستی سے جانچ نہ کرو، تاکہ تمھاری بھی جانچ نہ ہو؛ بلکہ راستی سے جانچ کرو“۔ متّی ۷: ۱–۵ میں، باقی ماندہ باب سمیت، ”راستی سے جانچ“ کرنے کے بارے آپ کو کیا مدد ملتی ہے؟
مزید دیکھیں لِن جی رابنز، ”The Righteous Judge،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۶، ۹۶–۹۸۔
متّی ۷: ۲۱–۲۳
اُس کی مرضی کو پورا کرنے سے میں نے یِسُوع مسِیح کو جانا۔
متّی ۷: ۲۳ میں پائے جانے والے قول ”میری کبھی تُم سے واقفِیت نہ تھی“ کو ترجمہ برائے جوزف سمتھ میں ”تمھاری کبھی مجھ سے واقفِیت نہ تھی“ میں تبدیل کیا گیا تھا (متّی ۷: ۲۳، زیریں حاشیہ اے)۔ یہ تبدیلی آپ کو اُسے سمجھنے میں کیسے مدد فراہم کرتی ہے کہ جو خُداوند نے آیات ۲۱–۲۲ میں اُس کی مرضی کو پورا کرنے کے بارے میں سِکھایا تھا؟ آپ کیا محسوس کرتے ہیں کہ آپ خُداوند کو کتنی اچھی طرح جانتے ہیں؟ اُسے مزید بہتر طور سے جاننے کے لیے آپ کیا کرسکتے ہیں؟
مزید دیکھیں ڈیوڈ اے بیڈنار، ”If Ye Had Known Me،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۶، ۱۰۲–۵۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
متّی ۶–۷
متّی ۶: ۵–۱۳
مُنّجی کے دُعا کرنے کے طریقے سے ہم دُعا کے بارے میں کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ہم اپنی ذاتی اور خاندانی دُعاؤں کو بہتر بنانے کے لیے بطور نمونہ اُس کی دُعا کو کِس طرح استعمال کرسکتے ہیں؟ (مزید دیکھیں لُوقا ۱۱: ۱–۱۳۔) اگر آپ کے بچے چھوٹے ہیں تو، آپ مِل کر دُعا کرنے کی مشق کرسکتے ہیں۔
متّی ۶: ۳۳
”پہلے خُدا کی بادشاہی … کی تلاش کرو“ سے کیا مراد ہے؟ ہم بطور خاندان ایسا کیسے کر رہے ہیں؟
متّی ۷: ۱–۵
جب آپ دُوسروں کو جانچنے کے بارے میں مُنّجی کی تعلیمات پر گفتگو کرتے ہیں تو آپ ایک تِنکے اور شہتِیر کی نمائندگی کرنے کے لیے لکڑی کا ایک چھوٹا ٹکڑا اور لکڑی کا ایک بہت بڑا ٹکڑا استعمال کرسکتے ہیں۔
متّی ۷: ۲۴–۲۷
مُنّجی کی عقلمند آدمِی اور بیوقُوف آدمِی کی تَمثِیل کو بہتر طور پر سمجھنے میں اپنے خاندان کی مدد کے لیے، آپ اُنھیں ریت اور پھر چٹان پر پانی ڈالنے دیں۔ ہم اپنی رُوحانی بنیادیں چٹان پر کیسے ڈال سکتے ہیں؟
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا
بصیرت کا اشتراک کریں۔ اپنے ذاتی مطالعہ سے سیکھے گئے اُصولوں پر گفتگو کرنا نہ صرف دُوسروں کو سیکھانےکا ایک اچھا طریقہ ہے، بلکہ یہ آپ کے فہم کو بھی تقویت بخشنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اِس ہفتے کے مطالعہ سے آپ نے جو اُصول سیکھا ہے اُس کا اشتراک خاندان کے کسی فرد کے ساتھ یا اپنی کلیسیائی جماعت میں کرنے کی کوشش کریں۔