”فروری ۱–۷۔ متّی ۴؛ لُوقا ۴–۵: ’خُداوند کا رُوح مُجھ پر ہے‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”فروری ۱–۷۔ متّی ۴؛ لُوقا ۴–۵،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
مسِیح شیطان پر غالب آیا، از رابرٹ ٹی بیرٹ
فروری ۱–۷۔
متّی ۴؛ لُوقا ۴–۵
”خُداوند کا رُوح مُجھ پر ہے“
متّی ۴ اور لُوقا ۴–۵ پڑھنے سے آغاز کریں، اور اپنی حاصل کردہ بصیرت پر دھیان دیں۔ اِس خاکہ میں مُطالعہ کی تجاویز آپ کو اِن ابواب میں سے اہم اُصولوں کی نشاندہی کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
اپنی جوانی سے ہی، یِسُوع کو علم تھا کہ اُسے ایک بے مثل، مُقدّس فریضہ سونپا گیا تھا۔ لیکن جب یِسُوع نے اپنی زمینی خدمت شروع کرنے کی تیاری کی، تو مخالف نے مُنّجی کے ذہن میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کیاگر تُو خُدا کا بَیٹا ہے، شیطان نے کہا (لُوقا ۴: ۳، italics added)۔ لیکن مُنّجی اپنے آسمانی باپ کے ساتھ ہمکلام ہوا تھا۔ وہ صحائف کو جانتا تھا، اور وہ جانتا تھا کہ وہ کون تھا۔ اُس کے لیے، شیطان کی پیشکش—”یہ سارا اِختیّار مَیں تُجھے دے دُوں گا“ (لُوقا ۴: ۶)—کھوکھلی تھی، چونکہ مُنّجی کی زندگی بھر کی تیاری نے اُسے ”رُوح کی قُوّت“ حاصل کرنے کا اِختیار بخشا تھا (لُوقا ۴: ۱۴)۔ تاہم آزمائشوں، دشواریوں اور مخالفت کے باوجود، یِسُوع مسِیح کبھی بھی اپنے مقرر کردہ کام سے نہیں ہٹا: ”مُجھے خُدا کی بادشاہی کی خُوشخَبری سُنانا ضرُور ہے … کِیُونکہ مَیں اِسی لِئے بھیجا گیا ہُوں“ (لُوقا ۴: ۴۳)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
متّی ۴: ۱–۲
خُدا کے ساتھ ہمکلام ہونا مجھے اُس کی خدمت کے لیے تیار کرتا ہے۔
اپنے مشن کی تیاری کے لیے، یِسُوع ”خُدا کے ساتھ سکونت کرنے کے لیے“ بیابان میں چلا گیا۔ اِس بارے میں سوچیں کہ خُدا کی قربت کو محسوس کرنے کے لیے آپ کیا کرسکتے ہیں۔ یہ آپ کو اُس کام کے لیے کیسے تیار کرتا ہے جو وہ آپ سے کروانا چاہتا ہے؟
متّی ۴: ۱–۱۱؛ لُوقا ۴: ۱–۱۳
یِسُوع مسِیح نے آزمائشوں کی مزاحمت کرکے میرے لیے نمونہ قائم کیا ہے۔
بعض اوقات جب لوگ گناہ کرنے کی آزمائش میں پڑتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو گناہ گار ٹھہراتے ہیں۔ بلکہ حتیٰ کہ مُنّجی جو”بے گُناہ رہا“ (عبرانیوں ۴: ۱۵)، وہ بھی آزمایا گیا۔ یہ علم بہت تسکین بخش ہے کہ چونکہ مسِیح نے بھی آزمائشوں کا سامنا کیا اور اُن پر غالب آیا، وہ ہماری آزمائشوں کو جانتا ہے جن کا ہم سامنا کرتے ہیں اور اُن پر غالب آنے میں ہماری مدد کرسکتا ہے (دیکھیں عبرانیوں ۲: ۱۸؛ ایلما ۷: ۱۱–۱۲)۔
جب آپ متّی ۴: ۱–۱۱ اور لُوقا ۴: ۱–۱۳ کو پڑھتے ہیں، تو آزمائشوں کا سامنا کرنے میں مدد کے لیے آپ کیا سیکھتے ہیں؟ آپ اپنے خیالات کو اِس طرح کے جدول میں ترتیب دے سکتے ہیں:
|
یِسُوع مسِیح |
مَیں |
|---|---|
یِسُوع مسِیح شیطان نے مسِیح کو کیا کرنے کی ترغیب دی؟ اپنی بھوک کو مٹانے کے لیے اپنی قُوّت کا استعمال۔ | مَیں شیطان مجھے کون سا قدم اُٹھانے کی ترغیب دیتا ہے؟ |
یِسُوع مسِیح مسِیح آزمائش پر غالب آنے کے لیے کیوں تیار تھا؟ اُس نے روزہ رکھا؛ وہ خُدا کی حضوری میں رہا؛ اُسے صحائف کا علم تھا۔ | مَیں آزمائش پر غالب آنے کے لیے میں کیسے تیاری کر سکتا/سکتی ہوں؟ |
یِسُوع مسِیح | مَیں |
مزید دیکھیں ۱ کُرنتھِیوں ۱۰: ۱۳؛ ایلما ۱۳: ۲۸؛ موسیٰ ۱: ۱۰–۲۲۔
لُوقا ۴: ۱۶–۳۲
یِسُوع مسِیح وہی مُمسوح ہے جس کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
اگر آپ سے یہ بیان کرنے کا کہا جائے کہ یِسُوع مسِیح کو زمین پر کیا کرنے کے لیے بھیجا گیا، تو آپ کیا کہیں گے؟ لُوقا ۴ :۱۸–۱۹ میں، مُنّجی نے ممسوح کے بارے میں یسعیاہ کی ایک پیش گوئی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے مشن کے پہلوؤں کو بیان کیا (دیکھیں یسعیاہ ۶۱: ۱–۲)۔ اِن آیات کو پڑھنے سے آپ کو اُس کے مشن کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
یِسُوع مسِیح نے گواہی دی کہ وہ مُمسوح ہے۔
اگرچہ یہودیوں کو یسعیاہ کی پیش گوئی کے پورے ہونے کا صدیوں سے انتظار تھا، بہتیروں نے یہ قبول نہ کیا کہ یِسُوع ممسوح تھا جب اُس نے اعلانیہ کہا، ”آج یہ نوِشتہ تُمہارے سامنے پُورا ہُؤا“ (لُوقا ۴: ۲۱)۔ جب آپ لُوقا ۴: ۲۰–۳۰ پڑھیں (مزید دیکھیں مرقس ۶: ۱–۶)، تو خُود کو ناصرت کے لوگوں کی جگہ رکھیں۔ کیا ایسی کوئی چیز ہے جو آپ کو مسِیح کو اپنا ذاتی مُنّجی قبول کرنے سے روک سکتی ہے؟
مزید دیکھیں مضایاہ ۳: ۵–۱۲۔
متّی ۴: ۱۸–۲۲؛ لُوقا ۵: ۱–۱۱
جب میں خُداوند پر بھروسہ رکھتا ہوں، تو میرے الہٰی مقدور تک پہنچنے میں وہ میری مدد کرسکتا ہے۔
صدر عزرا ٹافٹ بینسن نے سِکھایا، ”ایسے مرد و زن جو اپنی زندگیوں کو خُدا کی طرف مائل کرتے ہیں وہ جانیں گے کہ وہ اُن کی زندگیوں کو اُن کی اپنی کوشش کے برعکس بہت زیادہ نمایاں طور پر پھلدار بنا سکتا ہے“ (Teachings of Presidents of the Church: Ezra Taft Benson [۲۰۱۴]، ۴۲)۔ پطرس اور اُس کے ساتھی ماہی گِیروں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ یِسُوع نے اُن کی یہ جاننے میں مدد کی کہ وہ مَچھلِیوں کے شِکار سے کہیں زیادہ بڑا کام کرسکتے ہیں—وہ ”آدم گِیر“ بن سکتے ہیں (متّی ۴: ۱۹؛ مزید دیکھیں لُوقا ۵: ۱۰)۔ اِس کو سمجھنے میں اُن کی مدد کے لیے، یِسُوع نے ایسے تجربات استعمال کیے جن سے وہ واقف تھے۔
آپ نے کب محسوس کیا ہے کہ مُنّجی آپ کو اپنی پیروی کرنے کے لیے بُلا رہا ہے؟ آپ خُداوند کو کیسے ظاہر کروا سکتے ہیں کہ آپ ”سب کُچھ [چھوڑ کر]“ (لُوقا ۵: ۱۱) اُس کی پیروی کریں گے؟ متّی ۴: ۱۸–۲۲؛ لُوقا ۵: ۱–۱۱ کو پڑھتے ہوئے اِن سوالات پر غور کریں۔
مزید دیکھیں ”Come, Follow Me،“ گیت، نمبر ۱۱۶۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اورگفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
متّی ۴: ۱–۲؛ لُوقا ۴: :۱–۲
اِس سے پیشتر کہ وہ مخالف سے آزمایا جاتا یِسُوع نے روزہ رکھا۔ روزے کی طاقت سے متعلق ہم اِس حوالہ سے کیا بصیرت حاصل کرسکتے ہیں؟ آپ خاندانی اَرکان کو روزہ رکھنے کے تجربات کا اشتراک کرنے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ شاید آپ کا خاندان ایک خاص مقصد کے لیے دُعاگو ہو کر اکٹھے روزہ رکھنے کا ارادہ کرسکتا ہے۔
متّی ۴: ۳–۴؛ لُوقا ۴: ۳–۴
جب شیطان نے مسِیح کو پتھّر کو روٹِی میں تبدیل کرنے کی ترغیب دی، تو اُس نے یہ کہہ کر مسِیح کی الہٰی شناخت کو للکارا کہ، ”اگر تُو خُدا کا بَیٹا ہے“ (متّی ۴: ۳، italics added)۔ شیطان کیوں کوشش کرتا ہے کہ ہم اپنی الہٰی شناخت پر شک کریں؟ وہ ایسا کیسے کرتا ہے؟ (مزید دیکھیں موسیٰ ۱: ۱۰–۲۳۔)
ترجمہ برائے جوزف سمتھ، متّی ۴: ۱۱
یِسُوع کی جسمانی اور رُوحانی آزمائش کے بعد، اُس کا دھیان یُوحنّا بپتسمہ دینے والے کی طرف مائل ہوا، جو قید خانہ میں تھا: ”اور اب یِسُوع کو معلوم تھا کہ یُوحنّا پکڑوا دِیا گیا تھا، اور اُس نے فرِشتوں کو حُکم دیا، اور دیکھو، وہ آ کر اُس [یُوحنّا] کی خِدمت کرنے لگے“ (ترجمہ برائے جوزف سمتھ، متّی ۴: ۱۱)۔ ہم اپنے بجائے پہلے دُوسروں کے بارے میں سوچنے کی مسِیح کی مثال پر عمل کرتے ہوئے کِس طرح برکت پاتے ہیں؟ ہم اُس کے نمونہ کی کیسے پیروی کرسکتے ہیں؟
لُوقا ۴: ۱۶–۲۱
کیا ہم کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو شکستہ دل کا مالک ہو یا جسے ”رہائی“ کی ضرورت ہے؟ (لُوقا ۴: ۱۸)۔ مُنّجی کی شفا اور نجات پانے میں ہم دُوسروں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟ آپ یہ بھی گفتگو کرسکتے ہیں کہ ہیکل کی رسوم کو انجام دینے سے ”قَیدیوں کی رہائی“ میں کِس طرح مدد ملتی ہے (لُوقا ۴: ۱۸)۔
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
اپنی تدریس کو بہتر بنانا
یِسُوع مسِیح کی اِنجیل کے مطابق جینا ”شاید سب سے اہم کام جو آپ [والدین یا معلم کی حیثیت سے] کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ … اپنے پورے دل سے اِنجیل کے مطابق جئیں۔ … یہ رُوحُ الُقدس کی رفاقت کے اہل ہونے کا بنیادی طریقہ ہے۔ آپ کو کامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے، صرف تندہی سے کوشش کریں—اور جب بھی آپ ٹھوکر کھائیں تو مُنّجی کے کفارہ کی بدولت معافی کے طالب ہوں“ (نجات دہندہ کی طریق پر تعلیم دینا، ۱۳)۔