لائبریری
فروری ۱۵–۲۱۔ متّی ۵؛ لُوقا ۶: ’مُبارک ہو تُم‘


”فروری ۱۵–۲۱۔ متّی ۵؛ لُوقا ۶: ’مُبارک ہو تُم‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”فروری ۱۵–۲۱۔ متّی ۵؛ لُوقا ۶،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

پہاڑی واعظ

پہاڑی واعظ، از خورخے کوکو

فروری ۱۵–۲۱

متّی ۵؛ لُوقا ۶

”مُبارک ہو تُم“

متّی ۵ اور لُوقا ۶ کو پڑھتے ہوئے حاصل کردہ تاثرات پر دھیان لگائیں، اور اِنھیں روزنامچے میں قلمبند کریں۔ یہ خاکہ آپ کو اِن ابواب میں سے کچھ انتہائی اہم اور متعلقہ اُصولوں کی نشاندہی کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

اُس کی خدمت کے اِس مقام پر، یہ واضح تھا کہ یِسُوع کی تعلیمات اُس کے برعکس ہوں گی جو اُس وقت کے لوگ سُننے کے عادی تھے۔ آسمان کی بادشاہی غُربا ہی کی ہے؟ حلیم زمِین کے وارِث ہوں گے؟ ستائے گئے لوگ مُبارک ہیں؟ فقِی اور فرِیسِی ایسی باتوں کی تعلیم نہیں دے رہے تھے۔ اور پھر بھی اُن لوگوں نے جو خُدا کی شَرِیعَت کو صحیح معنوں میں سمجھتے تھے، اِن عقائد کو درست سمجھا۔ ”آنکھ کے بدلے آنکھ“ اور ”اپنے دُشمن سے عَداوَت“ رکھنا کم درجے کی شَرِیعَت تھی (متّی ۵: ۳۸، ۴۳)، جو ایسے لوگوں کو دی گئی جو اعلیٰ شَرِیعَت کے مطابق زِندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ لیکن یِسُوع مسِیح کم درجے کی شَرِیعَت کو پورا کرنے اور ایک اعلیٰ شَرِیعَت کی تعلیم دینے آیا تھا (دیکھیں ۳ نیفی ۱۵: ۲–۱۰) جو ہماری مدد کے واسطے مرتب کی گئی ہے کہ ”کامِل ہو جَیسا [ہمارا] آسمانی باپ کامِل ہے“ (متّی ۵: ۴۸

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

متّی ۵: ۱–۱۲؛ لُوقا ۶: ۲۰–۲۶

دائمی خُوشی یِسُوع مسِیح کی تعلیم کے مُوافِق جینے سے حاصل ہوتی ہے۔

ہر شَخص خُوش رہنا چاہتا ہے، لیکن ہر کسِی کی خُوشی کا ٹھِکانا مختلف ہوتا ہے۔ کچھ اِس کو دُنیاوی طاقت اور مقام حاصل کرنے، دُوسرے دولت میں یا جسمانی اشتہاؤں کو پورا کرنے میں اِس کی تلاش کرتے ہیں۔ یِسُوع مسِیح دائمی خُوشی کا راستہ سِکھانے کے لیے آیا تھا، یہ سِکھانے کے لیے کہ مُبارک ہونے کے حقیقی معنی کیا ہیں۔ آپ متّی ۵: ۱–۱۲ اور لُوقا ۶: ۲۰–۲۶ سے دائمی خُوشی حاصل کرنے کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟ خُوشی حاصل کرنے کا یہ نظریہ دُنیاوی نظریے سے کیسے مختلف ہے؟

ہر آیت کو پڑھتے ہوئے آپ کے ذہن میں کون سے سوالات یا تاثرات آتے ہیں؟ یہ آیات آپ کو یِسُوع مسِیح کے شاگِرد ہونے کے بارے میں کیا تعلیم دیتی ہیں؟ آپ اِن آیات میں بیان کردہ خصوصیات کو اپنانے کے لیے کیا کرنے کا اِلہام پاتے ہیں؟

مزید دیکھیں یُوحنّا ۱۳: ۱۷؛ ۳ نیفی ۱۲: ۳–۱۲۔

متّی ۵: ۱۳

مُنّجی نے اپنے شاگِردوں کا موازنہ نمک کے ساتھ کیوں کیا؟

نمک کو طویل عرصے سے محفوظ رکھنے، ذائقے، اور پاک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسرائیلوں کے لیے نمک بھی مذہبی حیثیت کا حامل تھا۔ یہ موسیٰ کی شَرِیعَت کے تحت جانوروں کی قربانی کے قدیم عمل سے وابستہ تھا (دیکھیں احبار ۲: ۱۳؛ گنتی ۱۸: ۱۹)۔ جب نمک اپنا مزہ کھو دیتا ہے تو، وہ بے کار ہو جاتا ہے، یا وہ ”کسی کام کا نہیں“ (متّی ۵: ۱۳)۔ ایسا تب ہوتا ہے جب یہ دُوسرے عناصر کے ساتھ ملتا یا آلودہ ہوتا ہے۔ مسِیح کے شاگرد ہونے کے ناطے، ہم دُنیا کی رُوحانی آلودگی سے بچ کر اپنے ”مزے“ کو برقرار رکھتے ہیں۔ اِس سے ہمیں زمین کے نمک کی حیثیت سے اپنے محفوظ اور پاک صاف کرنے کے کام کو پورا کرنے کی اجازت ملتی ہے—مثال کے طور پر، اِنجیل پھیلانے اور دُنیا میں اچھائی کی ایک مثال بننے کے ذریعے (دیکھیں عقائد اور عہود ۱۰۳: ۹–۱۰

نمک

”تُم زمِین کے نمک ہو“ (متّی ۵: ۱۳

متّی ۵: ۱۷–۴۸؛ لُوقا ۶: ۲۷–۳۵

مسِیح کی شَرِیعَت کو موسیٰ کی شَرِیعَت پر فوقیت حاصل ہے۔

شاگِرد شاید یہ سُن کر حیران ہو گئے ہوں گے جب یِسُوع نے کہا کہ اُن کی راستبازی کو فقِیہوں اور فرِیسِیوں سے زیادہ ہونے کی ضرورت تھی (دیکھیں متّی ۵: ۲۰)، جو موسیٰ کی شَرِیعَت کی سختی سے پیروی کرنے پر فخر کرتے تھے۔ لیکن یِسُوع نے ایک اعلیٰ شَرِیعَت کی تعلیم دی ہے جو نہ صرف ہمارے اعمال کو بلکہ اُن خیالات اور احساسات کو بھی بلند کرتی ہے جو اِنھیں متاثر کرتی ہیں۔ اِس اعلیٰ شَرِیعَت کے لیے بہت زیادہ چِیزیں درکار ہوتی ہیں: دِل، جان اور عقل (دیکھیں متّی ۲۲: ۳۷

جب آپ متّی ۵: ۲۱–۴۸ اور لُوقا ۶: ۲۷–۳۵ پڑھتے ہیں، تو موسیٰ کی شَرِیعَت میں درکار رویوں (”تُم سُن چُکے ہو کہ …“) اور جو کچھ یِسُوع نے اُنھیں بلند کرنے کے لیے تعلیم دی دونوں طرز عمل پر نشان لگانے کے بارے میں غور کریں۔

مثال کے طور پر، یِسُوع نے متّی ۵: ۲۷–۲۸ میں ہمارے خیالات پر ہماری ذمہ داری کے بارے میں کیا تعلیم دی؟ آپ اپنے ذہن اور دِل میں آنے والے خیالات پر کِس طرح زیادہ قابو پاسکتے ہیں؟ (دیکھیں عقائد اور عہود ۱۲۱: ۴۵

متّی ۵: ۴۸

کیا آسمانی باپ واقعتاً مجھ سے کامل ہونے کی اُمید رکھتا ہے؟

صدر رسل ایم نیلسن نے سِکھایا:

کامل اصطلاح کا ترجمہ یونانی لفظ ٹیلی اُوس سے کیا گیا ہے جس کا مطلب ’مکمل‘ ہے۔ … فعل کی بنیادی شکل ٹیلی اُونیو، ہے، جس کا مطلب ہے ’کسی بعید حدِ آخر تک پہنچنا، مکمل طور پر پختہ صورت پانا، تکمیل کرنا، یا ختم کرنا۔‘ براہ کرم نوٹ کریں کہ اِس لفظ سے مراد ’غلطی سے آزادی‘ نہیں ہے؛ اِس کا مطلب ہے ’بعید مقصد حاصل کرنا۔‘ …

”… خُداوند نے سِکھایا ہے، ’تُم ابھی خُدا کی حُضُوری کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہو … ؛ پَس، صبر و تحمل سے قائم رہو جب تک کامِل نہ کیے جاؤ‘ [عقائد اور عہود ۶۷: ۱۳

”اگر ہمیں اب کاملیت کی جانب اپنی پُر جوش کوششیں اتنی دشوار گزار اور لامتناہی معلوم پڑیں تو ہمیں ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کاملیت تکمیل طلب ہے۔ یہ قیامت کے بعد اور صرف خُداوند کی بدولت حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ اُن سب کی منتظر ہے جو اُس سے محبّت رکھتے ہیں اور اُس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں“ (”Perfection Pending،“ انزائن، نومبر ۱۹۹۵، ۸۶، ۸۸)۔

مزید دیکھیں فِلپِّیوں ۳: ۱۳–۱۵؛ ۲ پطرس ۱: ۳–۱۱؛ مُکاشفہ ۳: ۲۱–۲۲؛ ۳ نیفی ۲۷:۲۷؛ مرونی ۱۰: ۳۲–۳۳؛ عقائد اور عہود ۷۶: ۶۹۔

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

متّی ۵: ۱–۹

متّی ۵: ۱–۹ میں کون سے ایسے اُصول سِکھائے گئے ہیں جو آپ کے گھر کو خوشحال جگہ بنانے میں مدد دے سکتے ہیں؟ اگلے چند ہفتوں میں پہاڑی واعظ کو پڑھتے ہوئے آپ اِن میں سے ایک یا دو اُصولوں پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ کے خاندانی اَرکان صُلح کرانے والے بننے کے لیے کونسی تعلیمات سے مدد پاسکتے ہیں؟ (دیکھیں متّی ۵: ۲۱–۲۵، ۳۸–۴۴). آپ کون سے اہداف طے کرسکتے ہیں؟ آپ کیسے اِن اہداف کی ترقی کا معائنہ کرسکتے ہیں؟

متّی ۵: ۱۴–۱۶

اپنے خاندان کو یہ سمجھنے میں مدد دینے کے لیے کہ ”دُنیا کے نُور“ ہونے سے کیا مراد ہے، آپ اپنے گھر، اپنے محلے اور دُنیا میں روشنی کے کچھ ذرائع کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ یہ بتانا مددگار ثابت ہوسکتا ہے کہ جب آپ روشنی چھپاتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔ یِسُوع کا کیا مطلب تھا جب اُس نے کہا، ” تُم دُنیا کے نُور ہو“؟ (متّی ۵: ۱۴)۔ ہمارے خاندان کے لیے کون نُور کی مانند رہا ہے؟ ہم دُوسروں کے لیے کیسے نُور بن سکتے ہیں؟ (دیکھیں عقائد اور عہود ۱۰۳: ۹–۱۰

متّی ۵: ۴۳–۴۴

خُداوند کیوں چاہتا ہے کہ ہم اُن لوگوں کے لیے دُعا کریں جو ہمارے ساتھ بے رحمی سے پیش آتے ہیں؟ ہم اپنے خاندان پر اِس اُصول کو کیسے لاگو کرسکتے ہیں؟

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

مبصر بنیں۔ جب آپ اپنے بچّوں کی زِندگی میں ہونے والے واقعات پر توجہ دیں گے، تو آپ کو تعلیم دینے کے بہترین مواقع ملیں گے۔ پورے دن کے دوران آپ کے بچوں کے تبصرے اور سوالات بھی ممکنہ تدریسی لمحات کا باعِث بن سکتے ہیں۔ (دیکھیں نجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، ۱۶۔)

شمع

” تُم دُنیا کے نُور ہو“ (متّی ۵: ۱۴