لائبریری
جنوری ۲۵–۳۱۔ متّی ۳؛ مرقس ۱؛ لُوقا ۳: ’خُداوند کی راہ تیّار کرو‘


”جنوری ۲۵–۳۱۔ متّی ۳؛ مرقس ۱؛ لُوقا ۳: ’خُداوند کی راہ تیّار کرو‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”جنوری ۲۵–۳۱۔ متّی ۳؛ مرقس ۱؛ لُوقا ۳،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا، یِسُوع کو بپتِسمہ دیتے ہوئے

ناؤو ایلونائے ہیکل میں لگی منقش شیشے کی کھڑکی، از ٹام ہولڈمین

جنوری ۲۵–۳۱

متّی ۳؛ مرقس ۱؛ لُوقا ۳

”خُداوند کی راہ تیّار کرو“

متّی ۳؛ مرقس ۱؛ اور لُوقا ۳ کو پڑھنے سے مُطالعہ کا آغاز کریں۔ جب آپ رُوحُ الُقدس کے لیے دُعا کرتے ہیں کہ آپ کی اِن ابواب کو سمجھنے میں مدد کرے، تو وہ آپ کو ایسی بصیرت عطا کرے گا جو خاص طور پر آپ کے لیے ہوگی۔ اِن تاثرات کو قلمبند کریں، اور اِن پر عمل کرنے کے منصوبے بنائیں۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

یِسُوع مسِیح اور اُس کی اِنجیل آپ کو تبدیل کرسکتی ہے۔ لُوقا نے یسعیاہ کی ایک قدیم پیش گوئی کا حوالہ دیا جس میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کے مشن اور نِجات دہندہ کی آمد کے اثر کا بیان کیا گیا: ”ہر ایک گھاٹی بھر دی جائے گی اور ہر ایک پہاڑ اور ٹِیلہ نِیچا کِیا جائے گا اور جو ٹیڑھا ہے سِیدھا اور جو اُونچا نِیچا ہے ہموار راستہ بنے گا“ (لُوقا ۳: ۵؛ مزید دیکھیں یسعیاہ ۴۰: ۴)۔ یہ پیغام ہم سب کے لیے ہے، بشمول اُن لوگوں کے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ تبدیل نہیں ہوسکتے ہیں یا اُنھیں تبدیل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ایک پہاڑ جیسی پائیدار چِیز کو ہموار کیا جاسکتا ہے، تو یقیناً خُداوند ہماری اپنی ٹیڑھی راہوں کو سِیدھا کرنے میں ہماری مدد کرسکتا ہے (دیکھیں لُوقا ۳: ۴–۵)۔ جب ہم یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کی تَوبہ اور تبدیلی کی دعوت کو قُبُول کرتے ہیں، تو ہم یِسُوع مسِیح کو اپنانے کے لیے اپنے دِل و دماغ کو تیار کرتے ہیں تاکہ ہم بھی ”خُدا کی نِجات دیکھیں“ (لُوقا ۳: ۶

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

مرقس کی اِنجیل

مرقس کون تھا؟

اناجیل کے مصنفین میں سے، ہم مرقس کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ پَولُس، پطرس اور کئی دوسرے مبلغین کا مبلغ ساتھی تھا۔ بائِبل مُقَدَّس کے بہت سے دانشوروں کا خیال ہے کہ پطرس نے مرقس کو مُنّجی کی زندگی کے واقعات کو قلمبند کرنے کی ہدایت کی۔ مرقس کی اِنجیل ممکنہ طور پر دیگر تینوں سے پہلے لکھی گئی تھی۔

متّی ۳: ۱–۱۲؛ مرقس ۱:۱–۸؛ لُوقا ۳: ۲–۱۸

تَوبہ دِل و دماغ کی بڑی تبدیلی کا نام ہے۔

یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کا مشن لوگوں کے دِلوں کو مُنّجی کو قُبُول کرنے اور مزید اُس کی مانند بننے کے لیے تیار کرنا تھا۔ اُس نے ایسا کیسے کیا؟ اُس نے اعلان کیا، ”تَوبہ کرو“ (متّی ۳: ۲)۔ اُس نے مسِیح کو قُبُول کرنے کے لیے تَوبہ کرنے کی اہمیت پر زور دینے کے لیے پھَل اور گیہُوں جیسی شبیہوں کا استعمال کیا (دیکھیں لُوقا ۳: ۹، ۱۷

آپ یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کی خدمت سے متعلق بیانات میں سے اور کون سی شبیہیں تلاش کرتے ہیں؟ صحائف میں اِن پر نشان لگانے یا اِن سے متعلق تصاویر اپنے روز نامچے میں بنانے کے بارے میں غور فرمائیں۔ یہ آیات تَوبہ کے عقیدہ اور ضرورت کے بارے میں کیا تعلیم دیتی ہیں؟

سَچّی تَوبہ ”خُدا کے بارے میں، اپنے خود کے بارے میں، اور دُنیا کے بارے میں ایک تازہ جائزہ لینے کے لیے ذہنی تبدیلی ہے۔ … [اِس کا مطلب] اپنے دِل اور مرضی کو خُدا کی طرف مائل کرنا ہے“ (Bible Dictionary، ”Repentanceلُوقا ۳: ۷–۱۴ میں، یُوحنّا نے مسِیح کو قُبُول کرنے کے لیے لوگوں کو کون سی تبدیلیاں کرنے کی دعوت دی ہے؟ یہ مشورت آپ پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟ آپ اپنی سَچّی تَوبہ کا اظہار کیسے کرسکتے ہیں؟ (دیکھیں لُوقا ۳: ۸

متّی ۳: ۷؛ لُوقا ۳: ۷

فرِیسِی اور صدُوقِی کون تھے؟

فرِیسِی ایک ایسی یہُودی مذہبی جماعت کے رکن تھے جو موسیٰ کی شَرِیعَت کی سختی سے پیروی کرنے پر فخر کرتے تھے۔ اُن کا رجحان مذہب کو فقط زائد رسمی روایات تک محدود کرنا تھا۔ صدُوقِی ثروت مند یہُودی طبقہ تھا جو امتیازی مذہبی اور سیاسی اثر و رسوخ کا حامل تھا۔ وہ قِیامت کے عقیدے پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ دونوں گروہ خُدا کی شَرِیعَت کی اصل تعلیم سے بھٹک گئے تھے، اور اُن کے بہت سے اراکین نے خُدا کے نبی، یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کے پیغام کو قُبُول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

مزید دیکھیں متّی ۲۳: ۲۷؛ یُوحنّا ۱: ۱۹–۲۴۔

متّی ۳: ۱۳–۱۷؛ مرقس ۱: ۹–۱۱؛ لُوقا ۳: ۱۵–۱۶، ۲۱–۲۲

یِسُوع مسِیح نے ”ساری راستبازی پُوری“ کرنے کے لیے بپتِسمہ لیا۔

جب آپ نے بپتِسمہ لیا تھا، آپ نے مُنّجی کی مثال کی پیروی کی تھی۔ مُنّجی کے بپتِسمہ کے اِن بیانات سے آپ جو کچھ سیکھتے ہیں اُس کا موازنہ اپنے بپتِسمہ کے دوران ہونے والے واقعات کے ساتھ کریں۔

یِسُوع کو کِس نے بپتِسمہ دیا، اور اُس کے پاس کون سا اِختیّار تھا؟

آپ کو کِس نے بپتِسمہ دیا، اور اُس کے پاس کون سا اِختیّار تھا؟

یِسُوع کا بپتِسمہ کہاں ہوا تھا؟

آپ کا بپتِسمہ کہاں ہوا تھا؟

یِسُوع نے کِس طریقے سے بپتِسمہ لیا؟

آپ نے کِس طریقے سے بپتِسمہ لیا؟

یِسُوع نے کیوں بپتِسمہ لیا تھا؟

آپ نے کیوں بپتِسمہ لیا تھا؟

آسمانی باپ نے کیسے ظاہر کیا کہ وہ یِسُوع سے خُوش تھا؟

جب آپ نے بپتِسمہ لیا تو آسمانی باپ نے کیسے ظاہر کیا کہ وہ آپ سے خُوش ہے؟ تب سے لے کر اب تک اُس نے اپنی منظوری کِس طرح ظاہر کی ہے؟

نیفی نے مُنّجی کے بپتِسمہ کے بارے میں کچھ اہم تعلیمات درج کیں۔ ۲ نیفی ۳۱ میں اُس کے اِلفاظ آپ کو کیا سِکھاتے ہیں؟ اپنے بپتِسمے کے تجربے کو روز نامچے میں قلمبند کرنے پر غور کریں۔

مزید دیکھیں یُوحنّا ۱: ۳۲–۳۳؛ مضایاہ ۱۸: ۸–۱۱؛ عقائد اور عہود ۱۳: ۱؛ ۲۰: ۳۷، ۶۸–۷۴۔

متّی ۳: ۱۶–۱۷؛ مرقس ۱: ۹–۱۱؛ لُوقا ۳: ۲۱–۲۲

کیا بائبل یہ تعلیم دیتی ہے کہ خُدائی اَرکان تین الگ ہستیاں ہیں؟

بائبل متعدد ایسے شواہد پر مشتمل ہے جو اِس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ خُدائی اَرکان تین الگ ہستیاں ہیں۔ مثال کے طور پر، مُنّجی کے بپتِسمہ کا بیان اِس عقیدے کی تائید کرتا ہے کہ خُدا باپ، یِسُوع مسِیح، اور رُوحُ الُقدس تین الگ ہستیاں ہیں۔ خُدا باپ نے آسمان سے بات کی، اور جب وہ بپتِسمہ لے رہا تھا تو رُوحُ الُقدس (ایک کبوتر کی صورت میں) مُنّجی پر اُترا۔ یہاں چند دیگر ایسے صحائف بھی پیش کیے گئے ہیں جو اِسی حقیقت کی تعلیم دیتے ہیں: پیدائش ۱: ۲۶–۲۷؛ متّی ۱۷: ۱–۵؛ یُوحنّا ۱۷: ۲۰–۲۳؛ اعمال ۷: ۵۵–۵۶؛ اور عقائد اور عہود ۱۳۰: ۲۲۔

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

متّی ۳

یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا ہارونی کہانت کا حامل تھا۔ اُس کے بارے میں مُطالعہ کرتے ہوئے ہم ہارونی کہانت کے بارے میں کیا سیکھ سکتے ہیں؟ یُوحنّا کی مثال سے ہارونی کہانت کے حاملین کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں کِس طرح سے مدد مِل سکتی ہے؟ (مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۱۳: ۱؛ ۲۰: ۴۶–۶۰۔)

متّی ۳: ۱۱–۱۷؛ مرقس ۱: ۹–۱۱؛ لُوقا ۳: ۲۱–۲۲

بپتِسمہ اور رُوحُ القُدس کی نَعمت کے بارے میں خاندانی اَرکان کو تعلیم دینے کے لیے، اُن کو کوئی گندی چِیز دکِھانے اور پھر اُسے پانی سے دھونے کو کہنے پر غور کریں۔ یہ سرگرمی بپتِسمہ کی نمائندگی کیسے کرتی ہے؟ پھر خاندانی اَرکان کو آگ کی تطہیری خصوصیات میں سے چند کے بارے میں بات کرنے کو کہیں۔ رُوحُ القُدس کی نَعمت کو ”آگ کے بپتِسمہ“ کے طور پر کیوں بیان کیا گیا ہے؟

نوجوان مرد کسِی دُوسرے کو بپتِسمہ دیتے ہوئے

جب ہم بپتِسمہ لیتے ہیں تو ہمارے گناہوں کو دھو دیا جاتا ہے۔

متّی ۳: ۱۷؛ مرقس ۱: ۱۱؛ لُوقا ۳: ۲۲

ہم نے کب محسوس کیا ہے کہ خُدا ہم سے خُوش ہے؟ خُدا کو خُوش کرنے کے لیے ہم بطور خاندان کیا کر سکتے ہیں؟

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا

خُداوند سے مدد کے طلب گار ہوں۔ صحائف مُکاشفہ کے ذریعہ دیئے گئے تھے، اور اِنھیں حقیقی معنوں میں سمجھنے کے لیے ہمیں ذاتی مُکاشفہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ خُداوند کا وعدہ ہے، ”مانگو، تو تُم کو دِیا جائے گا؛ ڈھُونڈو، تو پاؤ گے؛ دروازہ کھٹکھٹاؤ، تو تُمہارے واسطے کھولا جائے گا“ (متّی ۷:۷

یُوحنّا یِسُوع کو بپتِسمہ دیتے ہوئے

یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا، یِسُوع کو بپتِسمہ دیتے ہوئے، از گریگ کے اولسن