لائبریری
جنوری ۴–۱۰۔ متّی ۱؛ لُوقا ۱: ’میرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہو‘


”جنوری ۴–۱۰۔ متّی ۱؛ لُوقا ۱: ’میرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہو‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”جنوری ۴–۱۰۔ متّی ۱؛ لُوقا ۱،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

مریم اور اِلِیشبع

جنوری ۴–۱۰

متّی ۱؛ لُوقا ۱

”میرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہو“

جب آپ متّی ۱ اور لُوقا ۱کو پڑھیں اور غوروفکر کریں، تو اپنے حاصل کردہ رُوحانی تاثرات کو قلمبند کریں۔ آپ کو کونسی عقائدی سَچّائیاں ملتی ہیں؟ آپ اور آپ کے خاندان کے لیے کون سے پیغامات سب سے زیادہ گراں قدر ہوں گے؟ اِس خاکہ میں مطالعہ کی تجاویز آپ کو اضافی بصیرت دریافت کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

فانی تناظر سے، یہ ناممکن تھا۔ ایک کُنواری حاملہ نہیں ہوسکتی۔ اور نہ ہی ایک ایسی بانجھ عورت جس کی بچے پیدا کرنے والی عمر نہیں تھی کیوں کہ وہ عُمر رسِیدہ تھی۔ لیکن خُدا نے اپنے بیٹے اور یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کی پیدائش کا منصوبہ بنایا تھا، لہذا مریم اور اِلِیشبع، دُنیاوی مُشکلات کے برعکس، دونوں مائیں بنی۔ جب بھی ہمیں کسی ایسی چِیز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ناممکن لگے تو اِن کے معجزاتی تجربات کو یاد رکھنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ کیا ہم اپنی کمزوریوں پر غالب آ سکتے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسے خاندانی رکن کے دل کو چھو سکتے ہیں جو کسی بات کا ذرا بھی اثر قبول نہیں کرتا؟ جِبرائیل تب ہم سے بھی آسانی سے مخاطب ہوسکتا تھا جب اُس نے مریم کو یاد دلایا کہ، ”کِیُونکہ جو قَول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگِز بے تاثِیر نہ ہوگا“ (لُوقا ۱: ۳۷)۔ جب خدا اپنی مرضی ظاہر کرتا ہے تو مریم کی طرح ہمارا جواب بھی یہ ہوسکتا ہے: ”میرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہو“ (لُوقا ۱: ۳۸

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

متّی اور لُوقا کی اناجیل

متّی اور لُوقا کون تھے؟

متّی ایک محصُول لینے والا، یہُودی تھا، جسے یِسُوع نے اپنا رَسُول چنا تھا (دیکھیں متّی ۱۰: ۳)۔ متّی نے اپنی اِنجیل بنیادی طور پر ساتھی یہُودِیوں کے لیے لکھی تھی؛ لہٰذا، اُس نے ممسوح کے بارے میں پرانے عہد نامہ کی پیشنگوئیوں پر زور دینے کا انتخاب کیا جو یِسُوع کی زِندگی اور خدمت کے دوران پوری ہوئی تھیں۔

لُوقا ایک غیر قوم (غیر یہُودی) طبیب تھا جو پَولُس رَسُول کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ اُس نے مُنّجی کی موت کے بعد اپنی اِنجیل بنیادی طور پر غیر یہُودی سامعین کے لیے تحریر کی۔ اُس نے یہُودِیوں اور یُونانِیوں دونوں کے مُنّجی کے طور پر یِسُوع مسِیح کی گواہی دی۔ اُس نے مُنّجی کی زِندگی میں پیش آنے والے واقعات کے عینی شاہدین کی کہانیاں درج کیں، اور اُس نے دوسری اناجیل کے مقابلے میں خواتین سے متعلق مزید کہانیاں بھی شامل کیں۔

متّی ۱: ۱۸–۲۵؛ لُوقا ۱: ۲۸–۳۵

مُنّجی کو ایک فانی ماں اور لافانی باپ سے پیدا ہونے کی کیوں ضرورت تھی؟

صدر رسل ایم نیلسن نے وضاحت کی کہ یِسُوع مسِیح کے کفارہ کے لیے ”ایک لافانی ہستی کی ذاتی قربانی درکار تھی جو موت کے تابع نہ تھا۔ پھر بھی اُسے لازماً مرنا تھا اور دوبارہ اپنا جسم مُردوں میں سے جِلانا تھا۔ مُنّجی ہی اِس کام کو پورا کرسکتا تھا۔ اپنی ماں سے اُس نے مرنے کا اِختیار وراثت میں پایا۔ اپنے باپ سے اُس نے موت پر غالب آنے کی قوت حاصل کی“ (”Constancy amid Change،“ انزائن، نومبر ۱۹۹۳، ۳۴)۔

لُوقا ۱: ۵–۲۵، ۵۷–۸۰

خُدا کی برکات اُس کے اپنے وقت میں ملتی ہیں۔

کسی بھی وجہ سے، خُدا کے وقت سے مراد یہ تھی کہ جس نَعمت کی خواہش اِلِیشبع اور زکریاہ نے بہت پہلے کی تھی، کہ اُن کا ایک بچہ ہو، وہ نَعمت اُن کی توقع سے بہت دیر بعد اُنھیں حاصل ہوئی۔ اگر آپ کو کسی نَعمت کا انتظار کرنا پڑے، یا اگر کبھی ایسا لگے کہ خُدا آپ کی دُعائیں سن نہیں رہا ہے تو، اِلِیشبع اور زکریاہ کی کہانی ایک یاد دہانی ہوسکتی ہے کہ اُس نے آپ کو فراموش نہیں کیا ہے۔ اُس نے آپ کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے اور وہ ہمیشہ اپنے راست باز مُقَدَّسین سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔ جیسا کہ بزرگ جیفری آر ہالینڈ نے وعدہ کیا ہے کہ، ”کچھ نَعمتیں جلد ہی حاصل ہو جاتی ہیں، کچھ دیر بعد، اور کچھ آسمان تک نہیں حاصل ہوتی؛ لیکن جو لوگ یِسُوع مسِیح کی اِنجیل کو خوشی سے قبول کرتے ہیں اُنھیں، وہ ضرور حاصل ہوتی ہیں“ (”An High Priest of Good Things to Come،“ انزائن، نومبر ۱۹۹۹، ۳۸)۔ زکریاہ اور اِلِیشبع کیسے وفادار رہے؟ (دیکھیں لُوقا ۱: ۵–۲۵، ۵۷–۸۰)۔ کیا آپ کو کسی نَعمت کا انتظار ہے؟ جب آپ انتظار کر رہے ہوتے ہیں تو خُداوند آپ سے کیا توقع کرتا ہے؟

اِس کہانی میں خُداوند آپ کو مزید اور کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟

اِلِیشبع اور زکریاہ بچے یُوحنّا کے ساتھ

وفاداری سے انتظار کرنے کے بعد، اِلِیشبع اور زکریاہ کو ایک بیٹا بخشا گیا۔

متّی ۱: ۱۸–۲۵؛ لُوقا ۱: ۲۶–۳۸

وفادار خُوشی سے خُدا کی مرضی کے تابع ہوتے ہیں۔

مریم کی طرح، ہم بعض اوقات یہ جان پاتے ہیں کہ ہماری زِندگی کے لیے خُدا کے منصوبے ہمارے منصوبوں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ خُدا کی مرضی کو قبول کرنے کے بارے میں آپ مریم سے کیا سیکھتے ہیں؟ درج ذیل جدولوں میں، فرِشتہ اور مریم کے بیانات لکھیں (دیکھیں لُوقا ۱: ۲۶–۳۸)، ایسے پیغامات کے ساتھ جو آپ کو اُن کے بیانات میں سے ملتے ہیں:

مریم کے لیے فرِشتہ کے اِلفاظ

میرے لیے پیغام

مریم کے لیے فرِشتہ کے اِلفاظ

”خُداوند تیرے ساتھ ہے“ (آیت ۲۸

میرے لیے پیغام

خُداوند میرے حالات اور مشکلات سے واقف ہے۔

مریم کے لیے فرِشتہ کے اِلفاظ

میرے لیے پیغام

مریم کے لیے فرِشتہ کے اِلفاظ

میرے لیے پیغام

مریم کا ردِ عمل

میرے لیے پیغام

مریم کا ردِ عمل

”یہ کیونکر ہوگا؟“ (آیت ۳۴

میرے لیے پیغام

جب مجھے سمجھ نہ آئے تو سوالات کرنا ٹھیک ہے۔

مریم کا ردِ عمل

میرے لیے پیغام

مریم کا ردِ عمل

میرے لیے پیغام

جب آپ متّی ۱: ۱۸–۲۵ میں یُوسُف کی راستباز مثال کے بارے میں پڑھتے ہیں، تو خُدا کی مرضی کو قبول کرنے کے بارے میں آپ کیا سیکھتے ہیں؟ آپ زکریاہ اور اِلِیشبع کے تجربات سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (دیکھیں لُوقا ۱

مزید دیکھیں مضایاہ ۳: ۱۹؛ لُوقا ۲۲: ۴۲؛ ہیلیمن ۱۰: ۴–۵۔

لُوقا ۱: ۴۶–۵۵

مریم یِسُوع مسِیح کے مشن کی گواہی دیتی ہے۔

لُوقا ۱: ۴۶–۵۵ میں مریم کے اِلفاظ نجات دہندہ کے مشن کے پہلوؤں کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ آپ مسِیح کے بارے میں مریم کے بیانات سے کیا سیکھتے ہیں؟ اِن آیات کا موازنہ ۱ سموئیل ۲: ۱–۱۰میں حنّاہ کے اِلفاظ اور متّی ۵: ۴–۱۲ میں یِسُوع کی مُبارکبادیوں کے ساتھ کرتے ہوئے نجات دہندہ کی پیش کردہ نَعمتوں کے بارے میں آپ کو مزید کیا بصیرت حاصل ہوتی ہے؟ جب آپ اِس بصیرت پر غور کرتے ہیں تو رُوح آپ کو کیا سِکھاتا ہے؟

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

متّی ۱:۱–۱۷

جب آپ کا خاندان یِسُوع کا نسب نامہ پڑھتا ہے، تو آپ وضاحت دے سکتے ہیں کہ اُس کا شاہی شجرہ نسب یُوسُف سے ہوتا ہوا پِیچھے داؤد بادشاہ سے جا ملتا ہے۔ یہ نسب نامہ اِس لیے اہم تھا کیوں کہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ ممسوح داؤد کی نسل سے ہوگا (دیکھیں یرمیاہ ۲۳: ۵–۶)۔ یہ آپ کی اپنی خاندانی تاریخ پر گفتگو کرنے اور اپنے آباؤ اجداد کے بارے میں کچھ کہانیوں کا اشتراک کرنے کا ایک اچھا موقع ہوسکتا ہے۔ اپنی خاندانی تاریخ کے بارے میں جاننے سے آپ کے خاندان کو کِس طرح برکت ملتی ہے؟

متّی ۱: ۲۰؛ لُوقا ۱: ۱۳، ۳۰

اِن آیات میں بیان کردہ لوگ کیوں خَوف زدہ تھے؟ ہم کِس سبب سے خَوف زدہ ہوتے ہیں؟ خُدا ہمیں ”خَوف نہ کرنے“ کی کِس طرح تلقین کرتا ہے؟

لُوقا ۱: ۳۷

اپنے خاندان کو یہ یقین دلانے میں مدد کے لیے کہ ”جو قَول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگِز بے تاثِیر نہ ہوگا،“ آپ لُوقا ۱ کا اکٹھے مُطالعہ کرسکتے ہیں اور خُدا کے کئے ہوئے ایسے کاموں کو ڈھونڈ سکتے ہیں جو شاید ناممکن تصور کیے جاتے تھے۔ صحائف یا اپنی زِندگیوں میں سے—وہ اور کون سی کہانیوں کا اشتراک کرسکتے ہیں—جن میں خُدا نے بظاہر ناممکن چِیزوں کو ممکن بنایا؟ Gospel Art Book میں تلاش کرنے سے اُنھیں تجاویز کے بارے میں سوچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

صحائف کو اپنی زِندگی پر لاگو کریں۔ صحیفہ کی عبارت پڑھنے کے بعد، خاندانی اَرکان کو دعوت دیں کہ وہ اِسے اپنی زِندگی پر لاگو کریں (دیکھیں نجات دہندہ کے طریق سے تعلیم دینا، ۲۱)۔ مثال کے طور پر، ہم متّی ۱ اور لُوقا ۱ میں موجود افراد کے خُداوند کی پکار کو قبول کرنے کے ردِ عمل کے بارے میں اپنے علم کو کیسے اپنی زِندگی پر لاگو کرسکتے ہیں؟

جِبرائیل مریم پر ظاہر ہوا

تُو عَورتوں میں مُبارک ہے، از والٹر رین