لائبریری
دسمبر ۲۸–جنوری ۳۔ ہم اپنی تعلیم کے خود ذمہ دار ہیں


”دسمبر ۲۸–جنوری ۳۔ ہم اپنی تعلیم کے خود ذمہ دار ہیں،“ آ، میرے پِیچھے ہولے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”دسمبر ۲۸–جنوری ۳۔ ہم اپنی تعلیم کے خود ذمہ دار ہیں،“ آ، میرے پِیچھے ہولے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

خاندان تصویروں کا البم دیکھ رہا ہے

دسمبر ۲۸–جنوری ۳

ہم اپنی تعلیم کے خود ذمہ دار ہیں

آ، میرے پِیچھے ہولے—برائے افراد و خاندان کا مقصد آپ کو مسِیح کے پاس آنے اور اُس کی اِنجیل پہ زیادہ گہرائی سے رُجُوع لانے میں مدد دینا ہے۔ یہ وسیلہ آپ کو صحائف کو سمجھنے اور اِن میں اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیے ضروری رُوحانی قوت کو تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ تب، آپ اپنی کلیسیائی جماعتوں میں، اپنی بصیرت کا اشتراک کرنے اور اپنے ساتھی مُقَدَّسین کو مسِیح کی پیروی کرنے کی کوششوں میں اُن کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

”تُم کیا ڈھونڈتے ہو؟“ یِسُوع نے یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کے شاگِردوں سے پوچھا (یُوحنّا ۱: ۳۸)۔ آپ خود سے بھی یہی سوال پوچھ سکتے ہیں—اِس سال کے دوران آپ نئے عہد نامہ سے جو سیکھیں گے اُس کا انحصار اِس بات پر ہے کہ آپ کیا ڈھونڈتے ہیں۔ مُنّجی کا وعدہ ہے ”ڈھُونڈو تو پاؤ گے“ (متّی ۷:۷)۔ لہذا پڑھائی کرتے وقت ایسے سوالات پوچھیں جو آپ کے ذہن میں آتے ہیں، اور پھر جوابات کو تندہی سے تلاش کریں۔ نئے عہد نامہ میں آپ یِسُوع مسِیح کے شاگِردوں کے طاقتور رُوحانی تجربات کے بارے میں پڑھیں گے۔ مُنّجی کے ایک اِیماندار شاگِرد کی حیثیت سے، مُنّجی کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے آپ بھی اپنے ذاتی طاقتور رُوحانی تجربات حاصل کرسکتے ہیں، جو اِس مُقَدَّس جِلد میں پائے جاتے ہیں، ”آ، میرے پِیچھے ہولے“ (لُوقا ۱۸: ۲۲

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

مُنّجی سے حقیقی طور پر سیکھنے کے لیے، مجھے اُس کی دعوت قبول کرنی ہوگی، ”آ، میرے پِیچھے ہولے۔“

مُنّجی کی دعوت کہ، ”آ، میرے پِیچھے ہولے،“ سب پر لاگو ہوتی ہے—چاہے ہم شاگِردی کی راہ پر نئے ہوں یا ساری زندگی اِس پر چلتے رہے ہوں۔ اُس نےیہ دعوت ایک مالدار نوجوان شَخص کو دی تھی جو احکامات کی فرمانبرداری کرنے میں کوشاں تھا (دیکھیں متّی ۱۹: ۱۶–۲۲)۔ اُس نے جو کچھ سیکھا—اور جو ہم سب کو سیکھنا ہے—وہ یہ ہے کہ شاگِرد ہونے کا مطلب اپنی ساری جانیں آسمانی باپ اور یِسُوع مسِیح کو سونپنا ہے۔ ہم اپنی شاگِردیت میں اُس وقت تَرَقّی کرتے ہیں جب ہم اُن چِیزوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کی ہم میں کمی ہے، اپنے اندر تبدیلی لاتے ہیں اور اُن کی پوری طرح سے پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مُنّجی سے سیکھنے کا عمل تب شروع ہوتا ہے جب ہم اُس کی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب آپ درج ذیل کو دریافت کرتے ہیں تو معافی کے بارے میں آپ کا فہم کِس طرح گہرا ہوتا ہے؟

مُنّجی کی تعلیمات (دیکھیں متّی ۶: ۱۴–۱۵؛ ۱۸: ۲۱–۳۵)

اُس کی زِندگی کی مثال (دیکھیں لُوقا ۲۳: ۳۳–۳۴)

تاہم، سیکھنے کا عمل تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک ہم اُس کی تعلیمات کے موافق زِندگی گزارتے ہوئے نجات دہندہ کی پیروی نہیں کرتے۔ آپ کِس طرح زیادہ معاف کرنے والے بن سکتے ہیں؟

اگر آپ مزید جاننا چاہتے ہیں تو، اِس سرگرمی کو کسی اور اِنجیلی اُصول، جیسا کہ پیار یا عاجزی کے ساتھ آزمائیں۔

میں اپنی تعلیم کا خود ذمہ دار ہوں۔

بزرگ ڈیوڈ اے بیڈنار نے سِکھایا: ”سیکھنے والوں کی حیثیت سے، آپ اور میں کلام کے مطابق کام کرنے والے بنیں اور اِس پر عمل پیرا ہوں اور نہ مخص سننے والے بنیں جن پر صرف عمل کیا جاتا ہے۔ کیا آپ اور میں ایسے نمائندے ہیں جو عمل کرکے اِیمان کے ذریعہ سیکھنے کے خواہاں ہیں یا ہم سِکھائے جانے اور عمل کیے جانے کا انتظار کر رہے ہیں؟ … ایک سیکھنے والاجو درست اُصولوں کے مطابق آزادِی انتخاب کی مشق کرتا ہے وہ مرد یا عورت رُوحُ الُقدس کے لیے اپنا دل کھولتا/کھولتی ہے اور یوں اُس کی تعلیمات، گواہی دینے کی قوت، اور تصدیقی شہادت کو دعوت دیتے ہیں۔ اِیمان کے ذریعے سیکھنے کے لیے رُوحانی، ذہنی اور جسمانی مشقت کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ محض غیر فعال وصولی کی“ (”Seek Learning by Faith،“ انزائن، ستمبر ۲۰۰۷، ۶۴)۔

اپنی تعلیم کا خود ذمہ دار ہونے کا کیا مطلب ہے؟ بزرگ بیڈنار کے بیان اور مندرجہ ذیل صحائف میں سے ممکنہ جوابات تلاش کریں: یُوحنّا ۷: ۱۷؛ ۱ تھِسلُنیکیوں ۵: ۲۱؛ یَعقُوب ۱: ۵–۶، ۲۲؛ ۲: ۱۷؛ ۱ نیفی ۱۰: ۱۷–۱۹؛ ۲ نیفی ۴: ۱۵؛ ایلما ۳۲: ۲۷؛ اور عقائد اور عہود ۱۸:۱۸؛ ۵۸: ۲۶–۲۸؛ ۸۸: ۱۱۸۔ آپ اِنجیل کو سیکھنے میں زیادہ سرگرم ہونے کے لیے کیا کرنے کا الہام پاتے ہیں؟

مجھے ذاتی طور پر سَچّائی جاننے کی ضرورت ہے۔

شاید آپ ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو کبھی بھی اپنا اِیمان نہیں کھوتے ہیں، چاہے اُن کی زِندگیوں میں کچھ بھی ہو جائے۔ وہ آپ کو مُنّجی کی تَمثِیل میں موجود پانچ عقلمند کُنوارِیوں کی یاد دلاتے ہیں (دیکھیں متّی ۲۵: ۱–۱۳)۔ واضح چِیزیں جو آپ کو بظاہر دیکھائی نہیں دیتی وہ سَچّائی کی گواہیوں کو مضبوطی بخشنے والی اُن کی مستعد کوششیں ہیں۔ ہمیں اپنی گواہیوں کو مضبوطی بخشنے کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے کیونکہ جیسا کہ بیوُقُوف کُنوارِیوں نے سیکھا، ہم کسی اور سے تبدیلی کو ادھار نہیں لے سکتے ہیں۔

ہم اپنی گواہیوں کو کیسے حاصل کرسکتے ہیں اور کیسے اِن کی نشونما کرسکتے ہیں؟ اپنے خیالات تحریر کرتے وقت درج ذیل صحائف پر غور فرمائیں: لُوقا ۱۱: ۹–۱۳؛ یُوحنّا ۵: ۳۹؛ یُوحنّا ۷: ۱۴–۱۷؛ اعمال ۱۷: ۱۰–۱۲؛ ۱ کُرنتھِیوں ۲: ۹–۱۱؛ اور ایلما ۵: ۴۵–۴۶۔

راہ میں کھڑی نوجوان خاتون

ہم میں سے ہر ایک کو اپنی ذاتی گواہی حاصل کرنی ہوگی۔

سوالات کی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جب آپ رُوحانی علم حاصل کرتے ہیں، آپ کے ذہن میں سوالات آسکتے ہیں۔ درج ذیل اُصول سوالات کو ایسے طریقوں سے حل کرنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں جن سے اِیمان اور گواہی کو تقویت حاصل ہوتی ہے:

  1. مقررکردہ الہٰی وسیلوں کے ذریعہ فہم کے خواہاں ہوں۔ خُدا کُل سَچّائی کا منبع ہے، اور وہ رُوحُ الُقدس، صحائف، اور اپنے نبیوں اور رَسُولوں کے ذریعہ سَچّائی کو ظاہر کرتا ہے۔

  2. اِیمان پر عمل پیرا ہوں۔ اگر جوابات فوری طور پر حاصل نہیں ہوتے تو، بھروسہ رکھیں کہ صحیح وقت پر خُداوند خود جوابات ظاہر کر دے گا۔ اِس دوران میں، اُس سَچّائی پر قائم رہیں جسے آپ پہلے سے ہی جانتے ہیں۔

  3. ایک ابدی تناظر رکھیں۔ چِیزوں کو خُداوند کی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کریں، نہ کہ دُنیا کی نگاہ سے۔ اپنے سوالات کا ہمارے آسمانی باپ کے نجات کے منصوبے کے تناظر کی روشنی میں جائزہ لیں۔

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اورگفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

متّی ۱۳: ۱–۲۳

اِس سال نئے عہد نامے سے سیکھنے کے لیے اپنے خاندان کو تیار کرنے میں مدد کا ایک زبردست طریقہ بیچ بونے والے کی تَمثِیل کا جائزہ لینا ہے۔ تَمثِیل میں بیان کردہ زمین کی اقسام کو تصور کرنے کے لیے آپ کا خاندان اپنے گھر کے قریب مختلف قسم کے میدان کو دیکھ کر لطف اندوز ہوسکتا ہے۔ ہم اپنے گھر میں ”اچھی زمین“ تیار کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ (متّی ۱۳: ۸)۔

گلتیوں ۵: ۲۲–۲۳؛ فِلپِّیوں ۴: ۸

”ہم والدین اور بچوں کو مشورت دیتے ہیں کہ وہ خاندانی دُعا، خاندانی شام، اِنجیل کے مُطالعہ اور ہدایت اور صحت مند خاندانی سرگرمیوں کو اولین ترجیح دیں۔ دیگر مطالبات یا سرگرمیاں چاہے جتنی بھی موزوں اور مناسب ہوں، اِنھیں اُن الٰہی مُقرِّر کردہ فرائض کو بے دخل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جو صرف والدین اور خاندان مناسب طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں“ (”Letter from the First Presidency،“ لیحونا، دسمبر ۱۹۹۹، ۱)۔

اپنے گھر کو انجیل مرکوز بنانے کے لیے سال کے آغاز میں خاندانی مشاورتی مجلس کا انعقاد کرنے کے لیے اچھا وقت ہے۔ جب آپ گلتیوِں ۵: ۲۲–۲۳ اور فلپیوں ۴: ۸ میں درج برکات اور مشورت کو پڑھتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کیا خیالات آتے ہیں؟ اپنے مقاصد کی یاد دہانی کے لیے شاید آپ گھر کے چاروں طرف پوسٹر لگاسکتے ہیں۔

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا

عقیدہ تلاش کریں۔ عقیدہ ایک ابدی، غیر متزلزل سَچّائی ہے۔ صدر بائڈ کے پیکر نے اعلان کیا کہ ”سَچّا عقیدہ، اگر صحیح طور پر سمجھا جائے، تو یہ طرزِ فکر اور رویوں کو تبدیل کر دیتا ہے“ (”Little Children،“ انزائن، نومبر ۱۹۸۶، ۱۷)۔ جب آپ اور آپ کا خاندان صحائف کا مطالعہ کرتا ہے تو اُن سَچّائیوں کی تلاش کریں جو آپ کو نِجات دہندہ کی مانند زِندگی گزارنے میں مدد فراہم کرسکتی ہیں۔

یِسُوع مسِیح

دُنیا کا نُور از برینٹ بورپ