لائبریری
جنوری ۱۸–۲۴۔ یُوحنّا ۱: ہم کو مسِیح مِل گیا


”جنوری ۱۸–۲۴۔ یُوحنّا ۱: ہم کو مسِیح مِل گیا،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”جنوری ۱۸–۲۴۔ یُوحنّا ۱،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

ٹرین سٹیشن پر اِنجیل کا اشتراک کرتی ہوئی خاتون

جنوری ۱۸–۲۴

یُوحنّا ۱

ہم کو مسِیح مِل گیا

جب آپ یُوحنّا ۱ کو پڑھیں اور غوروفکر کریں، تو حاصل کردہ تاثرات کو قلمبند کریں۔ آپ کی نظر میں آپ اور آپ کے خاندان کے لیے کون سے پیغامات سب سے زیادہ گراں قدر ہوں گے؟ آپ اپنی کلیسیائی جماعتوں میں کِس چِیز کا اشتراک کرسکتے ہیں؟

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ اُس کی فانی خدمت کے دوران زندہ ہوتے تو کیا آپ یِسُوع ناصری کو خُدا کا بَیٹا تسلیم کرتے؟ برسوں سے، وفادار اِسرائیلیوں، بشمول اِندریاس، پطرس، فِلپُّس، اور نتن ایل، نے موعودہ ممسوح کے آنے کا انتظار کیا اور اُس کی آمد کی دُعا کی۔ جب وہ اُس سے ملے، تو اُنھیں کیسے پتہ چلا کہ یہ وہی شَخص تھا کہ جس کی اُنھیں تلاش تھی؟ اُسی طرح جیسے ہم سب مُنّجی کو جان پاتے ہیں—”چلو دیکھ لو“ کی دعوت قبول کرکے (یُوحنّا ۱: ۳۹)۔ ہم صحائف میں اُس کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ ہم اُس کا عقیدہ سُنتے ہیں۔ ہم اُس کی زِندگی گزارنے کے طریقے کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہم اُس کے رُوح کو محسوس کرتے ہیں۔ اِسی دوران، ہم نتن ایل کی مانند، جانیں گے، کہ مُنّجی ہمیں جانتا ہے اور ہم سے پیار کرتا ہے اور ہمیں ”بڑے بڑے ماجرے“ دِکھانے کے لیے تیار کرنا چاہتا ہے (یُوحنّا ۱: ۵۰

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

یُوحنّا کی اِنجیل

یُوحنّا کون تھا؟

یُوحنّا، یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کا شاگِرد تھا اور بعد میں یِسُوع مسِیح کے پہلے پیروکاروں میں سے ایک اور اُس کے بارہ رَسُولوں میں سے ایک بن گیا۔ اُس نے یُوحنّا کی اِنجیل، کئی خطوط، اور مُکاشفہ کی کتاب تحریر کیں۔ اپنی اِنجیل میں، اُس نے ایسے شاگِرد ”جِس سے یِسُوع محبّت رکھتا تھا“ اور ”دُوسرے شاگِرد“ کے طور پر اپنا حوالہ دیا ہے (یُوحنّا ۱۳: ۲۳؛ ۲۰: ۳)۔ اِنجیل کی منادی کے معاملے میں یُوحنّا نہایت پُر جوش تھا کہ اُس نے مُنّجی کے آنے تک زمین پر رہنے کی درخواست کی تاکہ وہ جانوں کو مسِیح کے پاس لاسکے (دیکھیں عقائد اور عہود ۷: ۱–۶

یُوحنّا ۱:۱–۵

یِسُوع مسِیح ”اِبتدا میں خُدا کے ساتھ“ تھا۔

یُوحنّا نے اپنی اِنجیل کا آغاز اُن کاموں کو بیان کرتے ہوئے کیا جو مسِیح نے اپنی پیدائش سے پیشتر سرانجام دیے تھے: ”اِبتدا میں … کلام [یِسُوع مسِیح] خُدا کے ساتھ تھا۔“ آیات ۱–۵ میں آپ مُنّجی اور اُس کے کام کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟ مُنّجی کی زِندگی کے بارے میں اپنا مُطالعہ شروع کرتے ہوئے، اُس کے قبل فانی کام کے بارے میں جاننا کیوں ضروری ہے؟

یُوحنّا ۱:۱–۱۸

یِسُوع مسِیح کے شاگِرد اُس کی گواہی دیتے ہیں۔

یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کی گواہی کی وجہ سے یُوحنّا نے مُنّجی کو ڈھونڈنے کا الہام پایا تھا، جس نے اعلان کیا کہ وہ ”حقیقی نُور … کی گواہی دینے آیا تھا“ (یُوحنّا ۱: ۸–۹، ۱۵–۱۸)۔ یُوحنّا نے خود بھی مُنّجی کی زِندگی اور مشن کی قوی گواہی دی۔

اُن سَچّائیوں کی فہرست بنانا دلچسپ ہوسکتا ہے جو یُوحنّا نے مسِیح کے بارے میں اپنی ابتدائی گواہی میں شامل کی تھیں (آیات ۱–۱۸)۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ یُوحنّا نے اپنی اِنجیل کا آغاز اِن سَچّائیوں سے کیوں کیا تھا؟ یِسُوع مسِیح کے بارے میں اپنی گواہی تحریر کرنے پر غور کریں—آپ کِن چِیزوں کا اشتراک کرنا چاہیں گے؟ کن تجربات نے مُنّجی کو جاننے اور اُس کی پیروی کرنے میں آپ کی مدد کی ہے؟ آپ کی گواہی کو سُن کر کون برکت پا سکتا ہے؟

یُوحنّا ۱: ۱۲

”خُدا کے فرزند بننے“ سے کیا مراد ہے؟

اگرچہ ہم سب خُدا کے بَیٹے اور بَیٹیاں ہیں، مگر جب ہم گناہ کرتے ہیں تو ہم اُس سے منحرف یا الگ ہوجاتے ہیں۔ یِسُوع مسِیح ہمیں واپسی کا راستہ پیش کرتا ہے۔ اُس کی کفارہ دینے والی قربانی اور اِنجیلی عہود کی ہماری فرمانبرداری کے ذریعہ، وہ دوبار ”[ہمیں] خُدا کے بَیٹے [اور بَیٹیاں] بننے کی اِختیار بخشتا ہے۔“ ہم نئے سِرے سے پَیدا ہوتے ہیں اور ہمارا اپنے باپ کے ساتھ دوبارہ مِلاپ ہوتا ہے، اُس کی دائمی مِیراث کے اہل ہوتے ہوئے اور جو کچھ اُس کا ہے اُس سب کے وارِث ٹھہرتے ہیں (دیکھیں رومیوں ۸: ۱۴–۱۸؛ یَعقُوب ۴: ۱۱

یُوحنّا ۱: ۱۸

کیا کِسی نے خُدا کو دیکھا ہے؟

پرانے عہد نامے میں اُن لوگوں کی مثالیں درج ہیں جنہوں نے خُدا کو دیکھا (دیکھیں پیدائش ۳۲: ۳۰؛ خُروج ۳۳: ۱۱؛ یسعیاہ ۶: ۵)۔ تو یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے نے کیوں کہا کہ ”خُدا کو کِسی نے کبھی نہِیں دیکھا“؟ اِس آیت کا ترجمہ برائے جوزف سمتھ واضح کرتا ہے کہ خُدا باپ آدمیوں پر ظاہر ہوتا ہے، اور جب وہ ظاہر ہوتا ہے، تو اپنے بَیٹے کی گواہی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب وہ مُقَدَّس درختوں کے جھنڈ میں جوزف سمتھ پر ظاہر ہوا تو اُس نے جوزف سے کہا، ”یہ میرا پیارا بَیٹا ہے۔ اِس کی سُنو!“ (جوزف سمتھ—تاریخ ۱: ۱۷؛ مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۷۶: ۲۳)۔ ایسے متعدد دیگر واقعات بھی موجود ہیں جب لوگوں نے خُدا باپ کو رویا میں دیکھا (دیکھیں اعمال ۷: ۵۵–۵۶؛ مُکاشفہ ۴: ۲؛ ۱ نیفی ۱: ۸؛ عقائد اور عہود ۱۳۷: ۱–۳) یا بَیٹے کی گواہی دیتی ہوئی اُس کی آواز سُنی (دیکھیں متّی ۳: ۱۷؛ ۱۷: ۵؛ ۳ نیفی ۱۱: ۶–۷

یُوحنّا ۱: ۱۹–۲۳

ایلِیاہ کون ہے اور ”وہ نبی“ کون ہے؟

یہُودِیوں کے راہ نما سوچتے تھے کہ شاید یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا اُن انبیاء کی قدیم پیش گوئیوں کی تکمیل تھا جو کسی دن لوگوں کے درمیان آنے والے تھے۔ اُنھوں نے اُس سے پوچھا کہ کیا وہ ایلائس ہے، جو ایلِیاہ کو یونانی زبان میں کہا جاتا ہے، اُس نبی کا نام جس کے بارے میں تمام چِیزوں کو بحال کرنے کی پیش گوئی کی گئی تھی (دیکھیں ملاکی ۴: ۵–۶)۔ اُنھوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا تو ”وہ نبی“ ہے، جس ”نبی“ کا حوالہ شاید استثنا ۱۸: ۱۵ میں دیا گیا ہے۔ یُوحنّا نے وضاحت کی کہ وہ اِن دونوں میں سے نہیں تھا لیکن یہ وہ نبی تھا جس کی بابت یسعیاہ نے کہا کہ وہ خُداوند کی راہ تیار کرے گا (دیکھیں یسعیاہ ۴۰: ۳

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

لڑکی صحائف کو پڑھتے ہوئے

جب ہم صحائف کا مُطالعہ کریں گے، تو ہم اپنی زِندگیوں کے لیے الہام پائیں گے۔

یُوحنّا ۱: ۴–۱۰

اِن آیات میں نُور کے بارے میں جو کچھ وہ پڑھتے ہیں اُس کو تصور کرنے میں کِس طرح آپ اپنے خاندان کی مدد کرسکتے ہیں؟ آپ خاندان کے اَرکان کو باری باری ایک تارِیک کمرے کو منور کرنے اور یہ بتانے کا کہیں کہ مُنّجی اُن کی زِندگیوں کو کِس طرح منور کرتا ہے۔ پھر، جب آپ یُوحنّا ۱: ۴–۱۰ کو پڑھتے ہیں، تو خاندان کے اَرکان کو یِسُوع مسِیح، دُنیا کے نُور سے متعلق یُوحنّا کی گواہی کے بارے میں مزید بصیرت حاصل ہوسکتی ہے۔

یُوحنّا ۱: ۳۵–۴۶

آیت ۳۶ میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کی گواہی پر توجہ مرکوز کریں۔ اُس کی گواہی کے کیا نتائج نکلے؟ (دیکھیں آیات ۳۵–۴۶)۔ آپ کا خاندان اِن آیات میں بیان کردہ لوگوں سے اِنجیل کا اشتراک کرنے کے بارے میں کیا سیکھتا ہے؟

یُوحنّا ۱: ۴۵–۵۱

نتن ایل نے ایسا کیا کیا جس نے مُنّجی کی گواہی حاصل کرنے میں اُس کی مدد کی؟ ہم نے اپنی گواہیاں کیسے حاصل کی ہیں؟

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

عملی اسباق کا اشتراک کریں۔ خاندان کے اَرکان کو ایسی چِیزیں ڈھونڈنے کی دعوت دیں جو بطور خاندان صحائف کو پڑھنے کے دوران پائے جانے والے اُصولوں کو سمجھنے میں اُن کی مدد کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ مسِیح کے نُور کی نمائندگی کے لیے ایک شمع کا استعمال کرسکتے ہیں (دیکھیں یُوحنّا ۱: ۴

یِسُوع مسِیح زمین تخلیق کرتے ہوئے

یہوؔواہ نے زمین تخلیق کی، از والٹر رین