”اکتوبر 26–یکم نومبر ’مَیں اُن کے غم کو خُوشی سے بَدل دُوں گا‘: یرمیاہ 31–33؛ 36–39؛ نوحہ 1؛ 3“ آ، میرے پیچھے ہو لے—برائے گھر اور کلِیسیا: پُرانا عہد نامہ 2026 (2026)
”اکتوبر 26–یکم نومبر ’مَیں اُن کے غم کو خُوشی سے بَدل دُوں گا،‘“ آ، میرے پیچھے ہو لے: پُرانا عہد نامہ 2026
یرمیاہ یروشلیم کی تباہی کا نوحہ کرتے ہُوئے، اَز ریمبرنڈٹ وین رِجن
اکتوبر 26–یکم نومبر: ”مَیں اُن کے غم کو خُوشی سے بَدل دُوں گا“
یرمیاہ 31–33؛ 36–39؛ نوحہ 1، 3
جب خُداوند نے پہلی بار یرمیاہ کو نبی ہونے کے لیے بُلایا، تو اُس نے اُسے بتایا کہ اِس کا مقصد ”اُکھاڑ پھینکنے کے لیے، اور تباہ کرنے کے لیے“ ہو گا (یرمیاہ 1:10)—اور یروشلیم میں، بے شُمار بَدکاری اُکھاڑ پھینکنے اور تباہ کرنے کے لیے تھی۔ لیکن یہ یرمیاہ کے مقصد کا صِرف ایک حِصّہ تھا—اُسے ”بنانے اور لگانے“ کے لیے بھی بُلایا گیا تھا (یرمیاہ 1:10)۔ موعُودہ اُمّت کی بغاوت سے باقی رہ جانے والے ویران کھنڈروں میں کیا بنایا یا لگایا جا سکتا تھا؟ دُوسرے طریقے سے پُوچھیں تو، جب گُناہ یا مُشکلات ہماری زِندگیوں کو کھنڈروں میں تبدیل کر دیں، تو ہم دوبارہ کیسے بنا اور لگا سکتے ہیں؟ جواب ”سچّی شاخ“ میں ہے (یرمیاہ 33:15)، وعدہ کِیا گیا ممسُوح۔ وہ ”نیا عہد“ لاتا ہے (یرمیاہ 31:31)—ایسا عہد جو محض ظاہری صُورت سے زیادہ کی ضرُورت رکھتا ہے۔ اُس کی شریعت ”[ہمارے] باطن“ میں ہونی چاہیے، ”[ہمارے] دِلوں“ میں لِکھی ہُوئی ہو۔ یہی خُداوند کے لیے ”[ہمارا] خُدا ہونے“ اور ہمارے لیے ”[اُس کے] لوگ ہونے“ کا مطلب ہے (یرمیاہ 31:33)۔ یہ زِندگی بھر کا عمل ہے، اور ہم اَب بھی غلطیاں کریں گے اور وقتاً فوقتاً ماتم کرنے کا سبب بنیں گے۔ لیکن جب ہم اَیسا کرتے ہیں، تو خُداوند وعدہ کرتا ہے، ”مَیں اُن کے ماتم کو خُوشی میں بَدل دُوں گا“ (یرمیاہ 31:13)۔
نوحہ کے جائزہ کے لیے، راہ نُمائے صحائف میں ”نوحہ، کی کِتاب“ کو دیکھیں۔
گھر اور کلِیسیا میں سیکھنے کے لیے تجاویز
یرمیاہ 31، 33
خُداوند اپنے موعُودہ لوگوں کو اَسیری سے نِکال باہر کرے گا۔
یرمیاہ 31؛ 33 میں خُداوند نے ”ماتم، اور زار زار رونے“ کو تسلیم کِیا (یرمیاہ 31:15) جو بنی اِسرائیل اَسیری میں تجربہ کریں گے۔ تاہم، اُس نے تسلّی اور اُمید کے الفاظ بھی پیش کِیے۔ جب آپ اِن اَبواب کو پڑھتے ہیں تو اُن کی تلاش کریں۔ آپ کو کون سے وعدے مِلتے ہیں جِن کا اِطلاق آپ پر ہوتا ہے؟
یرمیاہ 31:31–34؛ 32:37–42۔
”وہ میرے لوگ ہوں گے، اور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا۔“
اگرچہ اِسرائیلیوں نے اپنے عہُود کو توڑ دِیا تھا، یرمیاہ نے نبُوت کی کہ خُداوند دوبارہ اُن کے ساتھ ایک ”نیا“ اور ”دائمی عہد“ قائم کرے گا (یرمیاہ 31:31؛ 32:40)۔ وہ عہد کیا ہے؟ راہ نُمائے صحائف ”نیا اور اَبَدی عہد،“ گاسپل لائبریری میں بصیرتیں تلاش کرنے پر غور کریں۔
جب آپ یرمیاہ 31:31–34؛ 32:37–42 پڑھتے ہیں، تو غور کریں:
-
آپ کے لیے خُدا کے موعُودہ لوگوں کا حِصّہ ہونے سے کیا مُراد ہے۔
-
آپ کے دِل میں اُس کی شریعت کو تحریر کرنے سے کیا مُراد ہے۔
-
جب آپ اُس کے ساتھ عہُود باندھتے ہیں تو خُداوند نے کیا وعدہ کِیا ہے۔
-
خُداوند کے ساتھ آپ کا عہد کا رِشتا آپ کو کیسے بدلتا ہے۔
جب آپ مُقدّس رُسُوم میں شریک ہُوئے ہیں تو آپ نے خُدا سے کیا وعدے کِیے ہیں؟ وہ آپ سے اپنے وعدوں کو کیسے پُورا کر رہا ہے؟
مزید دیکھیے ڈیوڈ اے بیڈنار، ”ُتُو مُجھ میں بسے گا اور مَیں تُجھ میں؛ پَس، میرے ساتھ ساتھ چل،“ لیحونا، مئی 2023، 123–26۔
یرمیاہ 36
صحائف میں مُجھے بُرائی سے دُور کرنے کی طاقت موجود ہے۔
یرمیاہ 36:2–3 کے مُطابق، خُداوند نے یرمیاہ کو اپنی نبُوتوں کو قلم بند کرنے کا حُکم کیوں دِیا؟ جب آپ یرمیاہ 36 پڑھیں، تو نوٹ کریں کہ درج ذیل لوگوں نے اِن نبُوتوں کے بارے میں کیسا محسُوس کِیا:
-
خُداوند (دیکھیے آیات 1–3، 27–31)
-
یرمیاہ (دیکھیے آیات 4–7، 32)
-
باروک (دیکھیے آیات 4، 8–10، 14–18)
-
یہُودی اور بادشاہ یہو یقیم (دیکھیے آیات 20–26)
-
الناتن، دلایاہ، اور جمریاہ (دیکھیے آیت 25)
غور کریں کہ آپ صحائف کے بارے میں کیسا محسُوس کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کِس طرح آپ کی بُرائی سے دُور ہونے میں مدد کی ہے؟
یرمیاہ 37–39
خُدا کے نبیوں کی پیروی کرنے میں پُختہ ہوں۔
یرمیاہ 37:1–3، 15–21؛ 38:1–6، 14–28 میں، آپ کو کیا ثبُوت مِلتا ہے کہ بادشاہ صِدقیاہ نے یرمیاہ کو خُداوند کا حقیقی نبی مانا تھا؟ آپ کو کیا ثبُوت مِلتا ہے کہ صِدقیاہ نے یقین نہیں کِیا؟ ہم اِس موازنہ سے کیا سیکھتے ہیں؟ جب آپ یرمیاہ 39 کا مُطالعہ کریں، تو غور کریں کہ اگر صِدقیاہ اور اُس کے لوگوں نے نبی کی پیروی کی ہوتی اور خُداوند کے حکموں کی پاس داری کی ہوتی تو اِس سے کیا فرق پڑتا۔ (صِدقیاہ کے ساتھ جو کُچھ ہُوا اُس کا موازنہ 1 نِیفی 1–2 میں جو لِحی کے خاندان کے ساتھ ہُوا اُس سے کریں۔)
یرمیاہ 38:6–13؛ 39:15–18
مَیں حق کے لیے کھڑے ہونے میں دلیر ہو سکتا ہُوں۔
بادشاہ کے عہدیداروں نے محسُوس کِیا کہ یرمیاہ کی نبُوتیں اپنے سپاہیوں کو کم زور بنا رہی تھیں، پس اُنھوں نے یرمیاہ کو غلیظ تہہ خانہ میں پھینک دِیا (دیکھیے یرمیاہ 38:1–4)۔ یرمیاہ 38:6–13 میں، خواجہ سرا عبد ملک کے ردِعمل کے بارے میں آپ کو کیا مُتاثر کُن لگتا ہے؟ اِس برکت پر بھی غور کریں جو خُداوند نے یرمیاہ 39:15–18 میں عبد ملک کو بخشی تھی۔
آپ کیسے عبد ملک کے نمُونہ کی پیروی کر سکتے ہیں؟
یرمیاہ کا رونا
نوحہ 1؛ 3
خُداوند اُس غم کو دُور کر سکتا ہے جس کا مَیں گُناہ کی وجہ سے تجربہ کرتا ہُوں۔
نوحہ کی کِتاب اَیسی نظموں کا مجمُوعہ ہے جو یروشلیم اور اُس کی ہَیکل کی تباہی کے بعد لِکھی گئی تھی۔ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ یہ ضرُوری ہے کہ اُنھیں محفُوظ رکھا گیا؟ غور کریں کہ نوحہ 1 اور 3 میں اِستعاروں سے آپ کو اِسرائیل کے اُس عظیم غم کے بارے میں سمجھنے میں کیا مدد مِل سکتی ہے۔ آپ مسِیح میں اُمید کے کون سے پیغامات پاتے ہیں؟ (خصُوصاً دیکھیے نوحہ 3:20–33؛ مزید دیکھیے متّی 5:4؛ یعقُوب 4:8–10؛ ایلما 36:17–20)۔
صدر ایم رسل بیلرڈ نے کئی اَیسے حالات کا ذِکر کِیا ہے جو کُچھ اُمید کھونے کا سبب بن سکتے ہیں، اور اُنھوں نے اِس بارے میں مشورت دی کہ اُمید کہاں تلاش کی جائے:
”ہم میں سے بعض اپنی زِندگیوں کو مایُوسی، نااُمیدی، اور غم سے لدی ہُوئی پا سکتے ہیں۔ بُہت سے لوگ اُس اِنتشار کا سامنا کرنے میں بے بس محسُوس کرتے ہیں جو دُنیا میں غالِب نظر آتا ہے۔ دُوسرے اَفراد اپنے اہلِ خانہ کے بارے میں غم محسُوس کرتے ہیں، جو کم زور ہوتے ہُوئے اِقدار اور زوال پذیر اِخلاقی معیارات کی تیز طُوفانی دھار میں بہہ رہے ہیں۔ … بُہت سوں نے تو دُنیا کی بدعُنوانی اور ظُلم کو ناقابلِ اِصلاح تسلیم کرنے پر بھی راضی ہو گئے ہیں۔ اُنھوں نے اُمید ہار دی ہے۔ …
”… ہم میں سے بعض نے گُناہ اور خطا کی وجہ سے ساری اُمید کھو دی ہو گی۔ ایک شخص دُنیا کی راہوں میں اِس قدر گہرے طور پر ڈُوب سکتا ہے کہ وہ کوئی راستا نہیں دیکھتا اور ساری اُمیدیں کھو دیتا ہے۔ مَیں اُن سب سے اِلتجا کرتا ہُوں جو دُشمن کے اِس جال میں پھنس گئے ہیں وہ کبھی ہمت نہ ہاریں! چاہے حالات کِتنے ہی مایُوس کُن کیوں نہ ہوں یا مزید مایُوس کُن ہونے کا خدشہ ہو، براہِ کرم مُجھ پر یقین کریں، آپ ہمیشہ اُمید رکھ سکتے ہیں۔ ہمیشہ“ (”اُمید کی خُوشی پُوری ہُوئی،“ اِنزائن، نومبر 1992، 31–32)۔
مزید دیکھیے ”آؤ، اَے بے سُکونو،“ گیت، نمبر 115۔
دُوسروں کو اپنی سیکھنے کی ذِمہ داری لینے میں مدد کریں۔ کبھی کبھی اَیسا لگتا ہے کہ سِکھانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم سیکھنے والوں کو وہ بتا دیں جو ہمیں لگتا ہے کہ اُنھیں جاننا چاہیے۔ حالاں کہ، آسان طریقہ ہمیشہ سب سے اچھا طریقہ نہیں ہوتا۔ ایلڈر ڈیوڈ اے بیڈنار نے سِکھایا کہ: ”ہمارا اِرادہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’مَیں اُنھیں کیا بتاؤں؟‘ بلکہ، خُود سے پُوچھنے والے سوالات یہ ہیں کہ ’مَیں اُنھیں کیا انجام دینے کی دعوت دے سکتا ہوں؟ مَیں کون سے اِلہامی سوالات پُوچھ سکتا ہُوں کہ، اگر وہ جواب دینے کے لیے تیار ہیں، تو وہ رُوحُ القُدس کو اپنی زِندگی میں مدعُو کرنا شُروع کر دیں گے؟‘“ (اعلیٰ عُہدے دار کے ساتھ ایک شام، فروری 7، 2020، broadcasts.ChurchofJesusChrist.org؛ نجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، 25)۔ مُتعلمین کو اپنی سیکھنے کی ذِمہ داری لینے میں مدد کرنے کے بُہت سے طریقے ہیں۔ مِثال کے طور پر، اِس خاکہ میں مُتعلمین کو تلاش کرنے، غور کرنے، فہرستیں بنانے، تصاویر دیکھنے، عملی اَسباق میں حِصّہ لینے، تصویریں بنانے، اور اِشتراک کرنے اور جو کُچھ وہ سیکھتے ہیں اُسے لاگُو کرنے کے لیے مدعُو کِیا جاتا ہے۔
بچّوں کو سِکھانے کے لیے تجاویز
یرمیاہ 31:3
آسمانی باپ اور یِسُوع مُجھ سے ”دائمی محبّت“ رکھتے ہیں۔
-
جب آپ اپنے بچّوں کے ساتھ یرمیاہ 31:3 پڑھتے ہیں، تو وہ اَیسی اَشیا (یا اَشیا کی تصاویر) تلاش کرنے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں جو طویل عرصہ تک چلتی ہیں، جیسے کہ دھاتی سِکّہ، اور کُچھ جو نہیں ہیں، جیسے کہ پھَل کا ٹُکڑا۔ آپ اِس بارے میں بات کر سکتے ہیں کہ ”دائمی“ کیا معانی رکھتے ہیں اور ایک دُوسرے کو بتا سکتے ہیں کہ آپ نے آسمانی باپ کی ”دائمی محبّت“ کو کیسے محسُوس کِیا ہے۔ آپ اِکٹھے مِل کر گیت بھی گا سکتے ہیں جیسے کہ ”خُدا سب کی نِگرانی کر رہا ہے“ (بچّوں کے گیتوں کی کِتاب، 229)۔
یرمیاہ 31:31–34؛ 32:38–41۔
خُدا مُجھے اپنے عہُود کی پاس داری کرنے میں مدد دے گا۔
-
آپ کے بچّے کاغذ کے ایک ٹُکڑے پر دِل کی ڈرائنگ بنانے سے لُطف اَندوز ہو سکتے ہیں اور پھِر دِل کی وہ باتیں لِکھیں جو وہ یرمیاہ 31:31–34 سے خُدا کے ساتھ عہُود باندھنے کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ آپ بپتِسما کے وقت جو عہد باندھتے ہیں اُس کا جائزہ لینا چاہیں گے (دیکھیے مُضایاہ 18:10، 13) اور گُفت گُو کر سکتے ہیں کہ اُن وعدوں کو اپنے دِلوں پر لِکھے جانے والے وعدوں سے کیا مُراد ہے۔
یرمیاہ 36:1–4
صحائف خُدا کا کلام ہیں۔
-
اِس ہفتے کا عملی سرگرمی کا صفحہ یرمیاہ، باروک، اور بادشاہ کے بارے میں جاننے میں آپ کے بچّوں کی مدد کر سکتا ہے (دیکھیے یرمیاہ 36)۔ وہ اَیسے اَعمال بھی کر سکتے ہیں جو یرمیاہ 36:4–10 میں دِیے گئے الفاظ کے ساتھ چلتے ہیں، جیسا کہ ایک کِتاب میں تحریر کرنا (دیکھیے آیت 4 اور لوگوں کے لیے صحائف کا مُطالعہ کرنا (دیکھیے آیات 8، 10)۔
-
آپ اور آپ کی اولاد بچّوں کی کِتاب اور صحائف کی ایک جِلد کو دیکھ سکتے ہیں اور اِس بارے میں بات کر سکتے ہیں کہ یہ کِتابیں کیسے مُختلف ہیں۔ صحائف کو کون سی چیز خاص بناتی ہے؟ ایک دُوسرے کے ساتھ صحائف کے چند اَیسے حوالہ جات کا اِشتراک کرنا اِلہام بخش ہو سکتا ہے جو آپ کے لیے خاص ہوں۔
یرمیاہ 38:6–13
مَیں حق کے لیے کھڑے ہونے میں دلیر ہو سکتا ہُوں۔
-
آپ خاکہ کے آخِر میں دی گئی تصویر کا اِستعمال اپنے بچّوں کو یرمیاہ 38:6–13 میں عبد ملک کی کہانی کو تصور کرنے میں مدد دینے کے لیے کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اُن کی ایک اَیسی آیت تلاش کرنے میں مدد کر سکیں جہاں عبد ملک نے خُداوند کے نبی کی مدد کرنے کے لیے دلیرانہ کام کِیا ہو۔ ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کر سکیں کہ ہم جانتے ہیں کہ آج ہمارا نبی خُدا کی طرف سے بُلایا گیا ہے؟
نوحہ 1:1–2، 16؛ 3:22–26
نجات دہندہ نے مُجھے اپنے گُناہوں کی مُعافی حاصِل کرنے کا موقع فراہم کِیا۔
-
نوحہ کو مُتعارف کرانے کے لیے، آپ اپنی اولاد کو بتانا چاہیں گے کہ چُوں کہ اِسرائیلوں نے توبہ نہیں کی تھی، یروشلیم اور ہَیکل تباہ ہو گئے تھے۔ اگر آپ اُس وقت وہاں رہ رہے ہوتے تو آپ ایک دُوسرے کے ساتھ اِشتراک کر سکتے ہیں کہ آپ نے کیسا محسُوس کِیا ہو گا (دیکھیے نوحہ 1:1–2، 16)۔ نوحہ 3:22–26 میں پیغام نے آپ کو کیسے اُمید دی ہے؟
-
آپ ایک دُوسرے کو اِن اوقات کے مُتعلق بھی بتا سکتے ہیں جب آپ نے اپنے بُرے اِنتخاب کے بارے میں اُداس محسُوس کِیا۔ ہم نوحہ 3:22–26 میں کیا پاتے ہیں جو ہمیں یِسُوع مسِیح کی پیش کش کی مُعافی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے؟
مزید تجاویز کے لیے، اِس ماہ کے فرینڈ رسالے کا شُمارہ دیکھیں۔