آ، میرے پِیچھے ہولے ۲۰۲۴
ذہن میں رکھنے کے لیے خیالات: پُرانے عہد نامے میں شاعری پڑھنا


”ذہن میں رکھنے کے لیے خیالات: پُرانے عہد نامے میں شاعری پڑھنا،“ آ، میرے پیچھے ہو لے—برائے گھر اور کلِیسیا : پُرانا عہد نامہ 2026 (2026)

”پُرانے عہد نامے میں شاعری پڑھنا،“ آ، میرے پیچھے ہو لے: پُرانا عہد نامہ 2026

خیالات کی علامت

ذہن میں رکھنے کے لیے خیالات

پُرانے عہد نامے میں شاعری پڑھنا

پُرانے عہد نامے کی پیدایش سے آستر تک کی کتابوں میں، ہم زیادہ تر کہانیاں پاتے ہیں—بیانیہ رُوداد جو تاریخی واقعات کو رُوحانی تناظر سے بیان کرتی ہیں۔ نوح نے کشتی تعمیر کی، موسیٰ نے اسرائیل کو رہائی بخشی، حنّا نے دُعا کی کہ اُس کا بیٹا ہو، اور وغیرہ وغیرہ۔ اَیُّوب سے آغاز کرتے ہُوئے، ہم مُختلف اندازِ تحریر پاتے ہیں۔ اِن کتابوں میں، پُرانے عہد نامہ کے مصنفین نے گہرے احساسات یا بےمثال نبوتوں کا یادگار انداز میں اظہار کرنے کے لیے شاعرانہ زُبان کو اپنایا ہے۔

ہم نے پُرانے عہد نامہ کی تاریخی کتابوں میں پہلے ہی شاعری کی بوندا باندی کی چند مثالیں دیکھی ہیں۔ اَیُّوب کی کتاب سے آگے، ہم اِس کو مزید دیکھیں گے۔ اَیُّوب، زبُور،اور امثال کی کتابیں تقریباً مُکمل شاعری ہیں، اِسی طرح یسعیاہ، یرمیاہ، اور عاموس جیسی پیغمبرانہ کتابوں کے کُچھ حِصّے بھی ہیں۔ چوں کہ شاعری کا مُطالعہ کہانی پڑھنے سے مُختلف ہے، اِس لیے اِسے سمجھنے کے لیے اکثر مُختلف نقطہ نظر درکار ہوتا ہے۔ یہاں کُچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں جو پُرانے عہد نامہ کی شاعری میں مزید معنی تلاش کرنے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔

عبرانی شاعری کو جاننا

اَوَّل، یہ جاننے میں آپ کی مدد ہو سکتی ہے کہ پُرانے عہد نامہ میں عبرانی شاعری کسی اور قسم کی شاعری کی مانند، قافیہ پردازی پر مبنی نہیں ہے۔ اور اگرچہ تال، الفاظ کا کھیل، اور آوازوں کی تکرار قدیم عبرانی شاعری کی عام خصوصیات ہیں، یہ چیزیں عام طور پر ترجمہ میں کھو جاتی ہیں۔ تاہم، ایک خصوصیت جو آپ محسُوس کریں گے، وہ فکر و خیال کی تکرار ہے، جو بعض اوقات ”متوازیت“ کہلاتی ہے۔ یسعیاہ سے ایک سادہ نمونہ یہ ہے:

اے صِیُّون، اپنی شوکت سے مُلبس ہو؛

اے یروشلیم، اپنا خُوشنما لِباس پہن لے۔ (یسعیاہ 52:‏1)

زبُور 29 کے بہت سے مصرعے متوازی ہیں—مثال کے طور پر:

خُداوند کی آواز میں قُدرت ہے؛

خداوند کی آواز میں جلال ہے۔ (زبُور 29:‏4)

اور یہاں ایک مثال ہے جہاں یہ جاننا کہ دُوسرا مصرعہ پہلے سے متوازی ہے، پیرائے کو سمجھنا آسان بنا دیتاہے:

مَیں نے تُم کو تمھارے ہر شہر میں دانتوں کی صفائی دی ہے،

اور تُمہارے ہر مکان میں روٹی کی کمی دی ہے۔ (عاموس 4:‏6)

اِن مثالوں میں، شاعر نے معمولی اختلاف کے ساتھ ایک خیال کو دہرایا ہے۔ یہ تکنیک تخیلِ مقرر پر زور دے سکتی ہے اور اِسے بیان کرنے یا ترویج دینےکے لیے مُتفَرقات کو بھر پور طور پر استعمال کر سکتی ہے۔

دُوسرے معاملات میں، دو متوازی جملے متضاد خیالات کو بیان کرنے کے لئے یکساں زبان کا استعمال کرتے ہیں، مثال کے طور پر:

نرم جواب قہر کو دوُر کر دیتا ہے:

پر کرخت باتیں غضب انگیز ہیں۔ (امثال 15:‏1)

اِس قسم کی متوازیت حادثاتی طور پر رونُما نہیں ہوئی تھی۔ مصنفین نے ایسا دانستہ طور پر کِیا۔ اِس نے اُنہیں رُوحانی احساسات اور سچّائیاں دونوں کو بڑی قدرت اور خوبصورتی سے پیش کرنے میں مدد دی ہے۔ لہذا جب آپ پُرانے عہد نامے کی تحریروں میں متوازیت کو دیکھتے ہیں، تو اپنے آپ سے پوچھیں کہ یہ مصنف کے پیغام کو سمجھنے میں آپ کی کیسے مدد کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، یسعیاہ ”خُوشنما لباس“ اور ”شوکت“ کا”یروشلیم“ کے ساتھ ”صِیُّون“ کا حوالہ دینے سے کیا بتانے کی کوشش کر رہا تھا؟ (یسعیاہ 52:‏1)۔ اگر ہم جانتے ہیں کہ ”کرخت باتوں “ کا اُلٹ ”نرم جواب“ ہے تو ہم اِس فقرے سےکیا نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں؟ (امثال 15:‏1

پرانے عہد نامے کا مصنف قلم اور طومار کے ساتھ

وہ میری جان کو بحال کرتا ہے، از والٹر رین

عبرانی شاعری بطور نیا دوست

کُچھ لوگ شاعری پڑھنے کا موازنہ کسی نئے شخص سے ملاقات کرنے سے کرتے ہیں۔ پُرانے عہد نامے کی شاعری پڑھنا، تب، کسی دور دراز مُلک اور غیر مُلکی ثقافت کے کسی ایسے شخص سے ملاقات کرنے کی مانند ہو سکتا ہے جو ہم سے مُختلف زبان بولتا ہو—اور جو دو ہزار برس سے زیادہ قدیم ہو۔ یہ شخص شاید ایسی باتیں کہے گا جو ہم پہلے نہیں سمجھتے، لیکن اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اُن کے پاس کہنے کے لیے کوئی قابل قدر بات نہیں ہے۔ ہمیں صرف اُن کے ساتھ وقت گزارنے کی ضرورت ہے، اُن کے نقطہ نظر سے چیزوں کو دیکھنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم کو معلوم ہو سکتا ہے کہ اپنے دِلوں میں، درحقیقت ہم ایک دُوسرے کو بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اور اگر ہم صبر اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، تو ہمارا نیاواقف کار آخر کار پیارا دوست بن سکتا ہے۔

لہذا جب آپ یسعیاہ سے کوئی حوالہ پڑھتے ہیں، مثال کے طور پر، اِسے ایک نئے واقف کار سے اپنا پہلا تعارف تصور کریں۔ اپنے آپ سے پوچھیں، ”میرا عمومی تاثر کیا ہے؟“ یہ حوالہ آپ کو کیسا محسُوس کرواتا ہے—اگرچہ آپ ہر لفظ کو نہیں سمجھتے ہیں؟ پھر اِسے دوبارہ پڑھیں، اگر ممکن ہو تو کئی بار۔ اِسے بلند آواز سے پڑھنے پر غور کریں؛ کُچھ لوگ اِس انداز سے افزوں معنی پاتے ہیں۔ مخصُوص الفاظ پر غور کریں جو یسعیاہ نے مُنتخب کیے ہیں، خاص طور پر اُن الفاظ پر جو آپ کے ذہن میں خاکہ بُنتی ہیں۔ وہ تصویریں آپ کو کیسا محسُوس کرواتی ہیں؟ وہ یسعیاہ کے احساسات کے بارے میں کیا تجویز کرتی ہیں؟ آپ پُرانے عہد نامے کے اِن مصنفین کے کلام کا جس قدر مطالعہ کریں گے، اُتنا زیادہ آپ جانیں گے کہ اُنہوں نے گہرے رُوحانی پیغام کے اظہار کے لیے اپنے الفاظ اور تراکیب کا قصداً انتخاب کِیا تھا۔

دو خواتین صحائف کا مُطالعہ کرتے ہُوئے

نظمیں شاندار دوست ہو سکتی ہیں کیونکہ وہ ہمارے احساسات اور تجربات کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔ پُرانے عہد نامے کی نظمیں خاص طور پر انمول ہیں کیوں کہ وہ ہمارے اہم ترین احساسات اور تجربات کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہیں—وہ جو خُدا کے ساتھ ہمارے تعلقات سے مُنسلک ہیں۔

جب آپ پُرانے عہد نامے میں شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یاد رکھیں کہ مُطالعہ صحائف سب سے زیادہ قابلِ قدر ہے جب یہ ہماری راہ نُمائی یِسُوع مسِیح کی جانب کرے۔ ایسی علامتیں، خاکے، اور سچّائیاں تلاش کریں جو اُس پر آپ کے ایمان کو تعمیر کرتی ہیں۔ مُطالعہ کرتے ہُوئے رُوحُ القُدس سے الہام کو سُنیں۔

حکمت کا ادب

پُرانے عہد نامے کی شاعری کی ایک صنف وہ ہے جس کو عُلما کرام ”حکمت کا ادب“ کہتے ہیں۔ اَیُّوب، امثال، اور واعِظ اِس زمرے میں آتے ہیں۔ اگرچہ زبُور تعریف، ماتم، اور پرستش کے احساسات کا اظہار کرتا ہے، حکمت کا ادب اَبَدی مشورے یا گہرے، فلسفیانہ سوالات پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اَیُّوب کی کتاب، خُدا کے انصاف اور انسانی تکالیف کی در پردہ وجوہات کو دریافت کر سکتی ہے۔ امثال اچھی زندگی گُزارنے کے بارے میں مشورت پیش کرتے ہیں، بشمُول دانش مندی کی باتیں جو سابقہ نسلوں سے اکٹھی کر کے آگے بڑھائی گئی ہیں۔ اور واعِظ بذاتِ خُود زندگی کے مقصد پر سوال اُٹھاتے ہیں—جب ہر چیز عارضی اور بے ترتیب دکھائی دیتی ہے، تو ہم حقیقی معنی کہاں سے پاتے ہیں؟ آپ حکمت کے ادب کو الہام یافتہ اتالیقوں کے ساتھ پُرمغز گُفت گُو تصور کر سکتے ہیں جو خُدا اور اُس کی تخلیق شُدّہ دُنیا کے بارے میں مشاہدات کا اشتراک کرنا چاہتے ہیں—اور شاید آپ کو اِن باتوں کو پہلے سے تھوڑا بہتر سمجھنے میں مدد کریں۔