خُود اِنحصاری کے وسائل
آغازِ خُود انحصاری


آغازِ خُود انحصاری

خود انحصاری کی تعلیم اور اصول

خود انحصاری ”اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیے روحانی اور جسمانی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی صلاحیت، عزم اور کوشش کا نام ہے۔ جب اراکین اور زیادہ خود انحصار ہو جاتے ہیں، تو وہ دوسروں کی بہتر طور پر فکر اور خدمت کرنے کے بھی قابل بن جاتے ہیں“ (Handbook 2, 6.1.1)۔ تین بنیادی تعلیمات ہماری یہ سمجھنے میں مدد کر سکتی ہیں کہ کیسے خُود انحصار زندگیاں گزارنی چاہیں:

اول، نجات کے منصوبہ میں خُود انحصاری ایک لازمی حکم ہے۔ صدر سپنسر ڈبلیو قمبل نے سیکھایا: ”کلیسیا اور اِس کے اراکین کو خداوند کی طرف سے خود انحصار اور خود مختار ہونے کا حکم ملا ہے۔ (دیکھیں عقائد و عہود ۷۸: ۱۳–۱۴۔) ہر شخص کی سماجی، جذباتی، روحانی، جسمانی، یا مالیاتی سلامتی کی ذمہ داری اول خود اُس پر، دوم اُس کے خاندان پر، اور سوئم کلیسیا پر عائد ہوتی ہے اگر وہ وفادار رکن ہے“ (Teachings of Presidents of the Church: Spencer W. Kimball [۲۰۰۶], ۱۱۶

دوم، خُدا اپنے راست بازبچوں کے لیے خُود انحصار بننے کی راہ تیار کر سکتا ہے اور وہ ایسا کریگا۔ ”اور یہی میرا مقصد ہے کہ اپنے مقدسین کے لیے مہیا کروں، کیونکہ سب چیزیں میری ہیں“ (عقائد اور عہود ۱۰۴: ۱۵

سوئم، ساری چیزیں، بشمول مادی تفکرات، خُدا کے لیے روحانی معاملات ہیں (دیکھئے عقائد اور عہود ۲۹: ۳۴)۔ جب ہم مزید بھرپور طور پر انجیل پر عمل کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، تو ہم دونوں مادی اور روحانی طور پر اور زیادہ خُود انحصار بنتے ہیں۔ صدر ڈئیٹر ایف اُکڈورف نے سیکھایا: ”دو عظیم احکام—خُدا اور اپنے پڑوسی سے محبت رکھنا—مادیت اور روحانیت کا ملاپ ہیں۔ … سکے کے دو رُخوں کی مانند، مادیت اور روحانیت ناقابل تسنیخ ہیں“ (ڈئیٹر ایف اُکڈورف، ”خُداوند کے طریق پر مہیا کرنا،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۱، ۵۳)۔

انجیل کے چند اصول جو ہماری مزید خُود انحصار بننے میں مدد کرسکتے ہیں اُن میں آسمانی باپ اور یسوع مسیح پر اپنا ایمان بڑھانا، اور زیادہ فرمانبردار بننا، اپنی خطاؤں سے توبہ کرنا، راستبازی سےاپنی مرضی کا استعمال کرنا، اور دوسروں کی خدمت کرنا شامل ہیں۔ مزید معلومات کے لئے، کتابچہ My Foundation for Self-Reliance. کی طرف رجوع کریں۔

صدر تھامس ایس  مانسن

”خُود انحصاری ہمارے کام کی پیداوارہے اور دیگر تمام فلاحی اعمال کو تقویت دیتی ہے۔ … ’آئیں اپنی ضرورت کے لئے کام کریں۔ آئیں خُود انحصار او ر خود مختار بنیں۔ نجات کسی اور اصول سے حاصل نہیں کی جا سکتی ہے۔‘“

صدر تھامس ایس مانسن (میرین جی. رومنی کے الفاظ کو دہراتے ہوئے)، ”Guiding Principles of Personal and Family Welfare،“ انزائن، ستمبر ۱۹۸۶، ۳

آغاِز خُود انحصاری کہانتی راہنماؤں کی قیادت میں ہوتا ہے

صیون کی المیخیں ایسی جائے پناہ ہیں جو اُن سب کی حفاطت کرتی ہیں جو اِس میں داخل ہوتے ہیں۔ المیخ کا مقصد ”دفاع کرنا، اور … طوفان سے، اور قہر سے پناہ دینا ہے جب یہ … ساری زمین پر اُنڈیلا جائے گا“ (عقائد و عہود ۱۱۵: ۶)۔ المیخیں ایسی مقامِ اجتماع ہیں جہاں ارکانِ کلیسیا ایک دوسرے کی خدمت اور ایک دوسرے کو مضبوط کر سکتے ہیں، متحد ہوسکتے ہیں، اور کہانتی رسوم اور انجیلی ہدایات پا سکتے ہیں (Handbook 1, introduction)۔

خُداوند نے کہانتی راہنماؤں سے فرمایا ہے، ”میں نے تمہیں … خدمت کرنے اور میرے مقدسین کو کامل بنانے کے کام کے لیے … کنجیاں عطا کی ہیں“ (عقائد و عہود ۱۲۴: ۱۴۳)۔ صدر ڈئیٹر ایف. اُکڈورف نے سیکھایا: ”خُود انحصاری کا خُداوند کا طریقہ زندگی کے بہت سے حقائق کو ایک متوازن طریقہ سے ملوث کرتا ہے، بشمول تعلیم، صحت، روزگار، خاندانی مالیات، اورروحانی مضبوطی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ، بڑے پیمانے پر، آپ کو اس کو خود سے سمجھنا ہو گا۔ ہر خاندان، ہر جماعت، اور دُنیا کا ہر علاقہ مختلف ہے“ (” خُداوند کے طریق پر مہیا کرنا،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۱، ۵۵)۔

آغازِ خُودانحصاری ایک ایسا آلہ ہے جو صدورِ المیخ اور اُسقف صاحبان غربا اور محتاج کی دیکھ بھال کرنے کی اپنی الہٰی مقرر ذمہ داری میں مدد کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔

صدر ہارلڈ بی  لی

”اِن لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھنے کے لئے کسی اور نئی تنظیم کی ضرورت نہیں ہے۔ ضروری صرف یہ ہے کہ خُدا کی کہانت کو کام میں لایا جائے۔“

ہارلڈ بی لی، ”Admonitions for the Priesthood of God،“ انزائن، جنوری ۱۹۷۳، ۱۰۴

المیخ کی خود انحصار کمیٹی

اپنی المیخ میں خُود انحصاری کی ضروریات کو سمجھنے اور حل کرنے کے لئے، المیخ کی صدارتی مجلس المیخ مجلس کے حصہ کے طور پر المیخ کی خُود انحصار کمیٹی کو منظم کر سکتی ہے۔ المیخ کی خود انحصار کمیٹی کی صدارت المیخ کی صدارتی مجلس کا ایک رکن کرتا ہے اور المیخ میں خُود انحصاری کی ضروریات کی جانچ اور منصوبہ سازی کرنے کے لئے باقاعدگی سے ملتا ہے۔ المیخ کی خود انحصارکمیٹیوں کی اُن ضروریات کا اندازہ لگانے اور پورا کرنےکے لئے اُسقف صاحبان کی فلاحی مجلس کے ساتھ کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

عموماً المیخ کی خود انحصار کمیٹی میں مجلسِ اعلیٰ کا ایک رکن، المیخ کی ریلف سوسائٹی کی صدارتی مجلس کی ایک رکن، اُسقف کی فلاحی مجلس کا چیئرمین، اور بلائے گئے المیخ کے خُود انحصاری کے ماہرین میں سے کوئی ایک شامل ہوتے ہیں۔ کمیٹی کے دیگر اراکین میں المیخ کے ینگ مین اور انجمنِ دختران کی صدارتی مجالس کے اراکین، اضافی المیخ ماہرین، اور مبلغین شامل ہو سکتے ہیں۔

خُود انحصار کمیٹی کا کردار

المیخ میں افراد اور خاندانوں کی ضروریات کا جائزہ لینے اور منصوبہ سازی کرتے ہوئے، کمیٹی درج ذیل پر توجہ مرکوزکرتی ہے:

  • اُسقف صاحبان اور حلقہ کی کونسلز کو خُود انحصاری کی تعلیم کے بارے میں سِکھانا اور اُن کے فرائض میں اُن کی معاونت کرنا۔

  • اُسقف صاحبان کی معاونت کرنے اور سٹیک کی خُود انحصاری کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سادہ منصوبہ بنانا۔ اس ہدایت نامہ برائے راہنما کے آخر میں”کمیٹیوں کے غور کرنے کے لیے سوالات“ کی طرف رجوع کریں۔

  • باقاعدگی سے خُود انحصاری کے رُوحانی اجلاس منعقد کرنااور خُود انحصاری گروہوں کو منظم کرنا۔

  • سہولت کاروں کو حسبِ ضرورت رواں تربیت مہیا کرنا۔

  • خُود انحصاری گروہ کی میٹنگوں میں وقفے وقفے سے جانااور رکن کی ترقی سے متعلق اُسقف اور حلقہ کی مجالس سے اپنی رائے کا اظہا ر کرنا۔

  • معاشرے اور کلیسیا میں میسر مقامی ذرائع اکٹھے کرنااور اُنکی اطلاع دینا۔ ان لوگوں کے نام جو کہ مدد کر سکتے ہیں، حکومتی پروگرامز، روزگار کے مواقع، وغیرہ اِن ذرائع میں شامل ہو سکتے ہیں۔ مقامی خُود انحصاری خدمات کا مینجربھِی کمیونٹی ذرائع اکٹھے کرنے اور بانٹنے کے طریقے سے متعلق ہدایت مہیا کر سکتا ہے۔

خُود انحصار کمیٹی کا کردار
صدر جوزف ایف  سمتھ

”مقدسینِ ایام آخر کی یہ ہمیشہ سے ہی بنیادی تعلیم رہی ہے، کہ جو مذہب لوگوں کو مادی طور پر بچانے اور اُنہیں یہاں خُوشحال اور شادمان بنانے کی قدرت نہیں رکھتا، اُس پر اُنہیں روحانی طور پر بچانے، اُنہیں آئندہ زندگی میں سرفراز کرنے کے لئے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔“

صدر جوزف ایف سمتھ کلیسیا کے صدور کی تعلیمات: جوزف ایف سمتھ (۲۰۱۱)، ۱۶۳

المیخ کا ماہرِ خود انحصاری

ایک بہن، بھائی، یا جوڑا بطور ماہر خُود انحصاری برائے المیخ (یا ضلع) خدمت کر سکتا ہے۔ کمیٹی کے اراکین کے ساتھ قریبی طور پر کام کرتے ہوئے، ایک ماہر المیخ میں خُودانحصاری کی کاروائیوں اور سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے۔ ماہرینِ المیخ اُسقف صاحبان اور حلقہ کے دیگر راہنماؤں کے لئے بطورِ وسیلہ خدمت کرتے ہیں (Handbook 2, 6.3.3) اور ارکان کی تعلیم، تربیت، خاندانی مالیات، اور جاری تعلیمی فنڈ جہاں لاگو ہو، جیسی ضروریات میں مدد کر سکتے ہیں (Handbook 2, 6.2.5)۔ حسبِ ضرورت اُسقف بھی حلقہ (یا شاخ )کے ماہرینِ خُود انحصاری کو بُلا سکتا ہے۔

ماہر کی ذمہ داریوں میں درجِ ذیل شامل ہو سکتی ہیں:

  • جب درخواست کی جائے تب اُسقف صاحبان اور حلقہ کی مجالس کو تربیت دینا اور اُنکی معاونت کرنا۔

  • رُوحانی اجلاس میں ربط قائم کرنے اور گروہوں کو منظم کرنے کے لئے المیخ کی خود انحصار کمیٹی کے ساتھ کام کرنا۔

  • خُود انحصار گروہ کے سہولت کاروں کو تربیت فراہم کرنا، کتابچہ خُود انحصاری کے لیے گرہوں کو سہولت دینا کا استعمال کرتے ہوئے (جو srs.lds.org/facilitator پر آن لائن میسر ہے)۔

  • خُود انحصاری گروہوں کا وقفے وقفے سے مشاہدہ کرنا اور اُنکی معاونت کرنا۔

  • اراکین کے ساتھ دستیاب کمیونٹی اور کلیسیائی ذرائع کا اشتراک کرنا۔

  • یقینی بنانا کہ srs.lds.org/report پر رپورٹیں مکمل ہوں۔

ایلڈر ڈی ٹاڈ کرسٹوفرسن

”یہ خُد اکی منشاء ہے کہ ہم آزاد مرد و زن ہوں، دونوں مادی اور روحانی طورپر اپنی بھرپور صلاحیتوں تک اُبھرنے کے قابل ہوں، کہ ہم غربت کی تحقیر آمیز حدود اور گناہ کے بندھن سے آزاد ہوں، کہ ہم عزتِ نفس اور آزادی سے لطف اندوز ہوں، کہ ہم سلیٹیل جلال میں اُس کے ساتھ شامل ہونے کے لیے تمام باتوں میں تیار ہوں۔“

ڈی  ٹاڈ کرسٹوفرسن، ”Free Forever, to Act for Themselves،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۴، ۱۹

خُود انحصار بننے کے لیے اراکین کیسے سیکھتے اور عمل کرتے ہیں

اِس کا آغاز اُسقفی صدارت اور حلقہ کی مجالس کے دُعاگو ہو کر اُن لوگوں پر توجہ دینے سے ہوتاہے جو مسائل سے دوچار ہیں جو کہ عظیم خُود انحصاری سےفیض یاب ہو سکتے ہیں۔ مثالی طور پر، رُوحانی اجلاس (اگر منعقد کیا جائے) یا پھر براہ راست خُود انحصاری گروہ میں شمولیت کی ذاتی دعوت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، اُن کو دعوت دینے پر غور کریں جو دوسروں کو اپنے وقت اور صلاحیتوں کے ساتھ حصه لینے کی مضبوطی بخش سکتے ہیں (دیکھئے عقائد اور عہود ۸۲: ۱۸–۱۹

اراکین خود انحصار گروہوں میں ملتے ہیں

منجی نے سیکھایا کہ ”جہاں دو یا تین میرے نام میں، ایک چیز کی بابت، اکھٹے ہوتے ہیں، دیکھو، وہاں میں اُن کے درمیان میں ہوں گا“ (عقائد اور عہود ۶: ۳۲)۔ خُود انحصاری گروہ چھوِٹی اور عمل پر مبنی مجالس ہیں۔ وہ ہر شریک کار کے ایمان اور مہارتوں کی تعمیر کرنے میں مدد کے لئے باہم ملتے ہیں۔ گروہی میٹنگوں کے دوران ذاتی مکاشفہ کئی مختلف ذرائع سے آ سکتا ہے۔ تدریسی کتب کے علاوہ، ہر شریک کار وہ علم، تجربات، اور نعمتیں رکھتا ہے جو دوسروں کی سیکھنے اور فروغ پانے میں مد دکر سکتی ہیں۔

ایک گروہ عموماً ۸ سے ۱۲ افراد پر مشتمل ہوتا ہے اور ۱۲ ہفتوں تک ہر ہفتے تقریباً دو گھنٹے ملتا ہے۔

گروہ کیسے کام کرتے ہیں

عقائد اور زندگی کی مہارتیں دونوں سیکھائی جاتی ہیں

ہر گروہی میٹنگ کے دوران، شرکا خُود انحصاری کے نظریاتی اصولوں کا جائزہ لینے، بشمول رسوم کی اہمیت پر وقت صرف کرتے ہیں۔ وہ عملی مہارتیں جیسا کہ بہتر مالی انصرام کرنا، بہتر ملازمت کی تلاش کرنا، تعلیم میں بہتری لانا، یا کوئی چھوٹا کاروبار شروع کرنا اور اُسکو وسعت دینا سیکھتے ہیں۔

گروہ وعدے کرتے اور اپنی ترقی کی رپورٹ دیتے ہیں

ہر گروہی مجلس کا آغاز سابقہ ہفتے میں کیے گئے اُنکے وعدوں کی انفرادی رپورٹ دینے سے ہوتا ہے۔ پھر شرکا رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے اور اُن پر غالب آنے کے لئے باہم مشورت کرتے ہیں۔

خُود انحصاری گروہ تین کاموں کا احاطہ کرتے ہیں جن کی بابت صدر گورڈن بی ہینکلی نے فرمایا ہے کہ وہ ایک تبدیل ہونے والے شخص کی ضرورت ہے: ” ایک دوست، ایک ذمہ داری، اور ’خُدا کے عمدہ کلام‘ سے پرورش (مرونی ۶ :۴)“ (”تبدیل شدگان اور نوجوان مرد،“ انزائن، مئی ۱۹۹۷، ۴۷؛ مزید دیکھیں مرونی ۶ :۳–۹

شرکا اپنے سیکھے گئے علم کا اشتراک ارکانِ خاندان سے کرتے ہیں

زیادہ تر سیکھنا گروہی مجلس سے باہر وقوع پذیر ہوتاہے جب اراکین نئی مہارتوں کی مشق کرتے ہوئے اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں۔ شرکا کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ جو کچھ بھی سیکھتے ہیں اسے اپنے اراکینِ خاندان کو بتائیں۔

شرکا بطور ”عملی ساتھی“ ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں

شرکا سے ہر ہفتےگروہ کے ایک دوسرے رکن کی معاونت کرنے اور اُسکو مضبوط کرنے کو کہا جاتا ہے۔ یہ ”عملی ساتھی“ ایک دوسرے کی باقاعدہ رابطے اور حوصلہ افزائی کے ذریعے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

صدر ایم رسل بیلیرڈ

”اگر ہم خُداوند کے طریق پر ایک دوسرے کے ساتھ مشورت کرتے ہوئے—واقعی مشورت کرتے ہوئے—حل تلاش کریں تو خاندان، حلقہ یا المیخ میں کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں جِسے حل نہ کیا جا سکے۔“

ایم  رسل بیلیرڈ، Counseling with Our Councils, rev. ed. (2012), 4

سہولت کار ہفتہ وار گروہی مجالس کی راہنمائی کرتے ہیں

خُود انحصاری گروہوں کی راہنمائی ایک معلم نہیں کرتا بلکہ ایک سہولت کار ان کی قیادت کرتا ہے۔ سہولت کار لیکچر نہیں دیتے بلکہ اس کی بجائے کورس کے مواد پر عمل کرتے ہیں اور تمام ارکینِ گروہ کو شرکت کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ سہولت کار ایسا ماحول پید اکرتے ہیں جہاں روح القدس شرکاکو ”وہ سب باتیں جو [اُنہیں] کرنی ہیں“ سیکھا سکے (۲ نیفی ۳۲: ۵؛ ۲ نیفی ۳۲: ۳ بھی دیکھِیں)۔

رواں ترقی

اگر ضرورت ہو، تو ماہرینِ المیخ، رضاکار، یا خاندانی اور ملاقاتی معلمین کو بذریعہ فون یا بذات خود شرکا کی انفرادی طور پر پیش رفت کی پیروی یا سرپرستی کرنے کے لیے مقر رکیا جا سکتاہے۔ المیخ کی خود انحصار کمیٹی وقفے وقفے سے خودانحصاری گروہ کے گریجوئیٹس کا ایک اجتماع بھی منظم کر سکتی ہے تاکہ شرکا دوستی جاری رکھ سکیں، تجربات بانٹے رہیں، اور خود انحصاری کیلئے میری بنیاد کے اصولوں کا جائزہ لیتے رہیں۔

گروہوں میں کس کو شرکت کرنی چاہیے؟

ذیل کی صورتحال والے اراکین مستفید ہو سکتے ہیں: روزے کے ہدیے کے وصول کنندگان، بے روزگار یا کم روزگار والے، حال ہی میں لوٹے ہوئے مشنری، نئے تبدیل شدگان، کم متحرک اراکین، اور اکیلے والدین۔