”نومبر ۲۹–دسمبر ۵۔ ۱–۳ یُوحنّا؛ یہُوداہ: ’خُدا محبّت ہے‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”نومبر ۲۹–دسمبر ۵۔ ۱–۳ یُوحنّا؛ یہُوداہ،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
کامِل محبّت، از ڈیل پارسن
نومبر ۲۹–دسمبر ۵
۱–۳ یُوحنّا؛ یہُوداہ
”خُدا محبّت ہے“
جب آپ یُوحنّا اور یہُوداہ کے خطوط کو پڑھیں تو، اِس بارے میں اِلہام کے متلاشی ہوں کہ آپ خُدا سے اپنی محبّت کا اظہار کیسے کرسکتے ہیں۔ اِن تاثرات کو قلمبند کریں، اور اِن پر عمل کریں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
جب یُوحنّا اور یہُوداہ نے اپنے خطوط لکھے تو، شدید ظلم و ستم اور بدکار عقائد دونوں کے نتیجہ میں، پیشتر سے بیان کردہ برگشتگی جاری ہو چکی تھی۔ کچھ جھُوٹے اساتذہ نے یہاں تک سوال اُٹھایا کہ کیا یِسُوع مسِیح واقعتاً ”مُجّسم“ ہوکر آیا تھا (دیکھیں، مثال کے طور پر، ۱ یُوحنّا ۴: ۱–۳؛ ۲ یُوحنّا ۱: ۷)۔ پس یُوحنّا رَسُول نے نِجات دہندہ کی اپنی ذاتی گواہی دے کر اپنے پہلے خط کا آغاز کیا: ”اُس زِندگی کے کلام کی بابت گواہی، جو اِبتدا سے تھا، اور جِسے ہم نے سُنا، اور اپنی آنکھوں سے دیکھا، بلکہ غَور سے دیکھا، اور اپنے ہاتھوں سے چھُؤا“۔ لیکن شاید یُوحنّا کے خطوط کا سب سے مضبُوط پیغام محبّت ہے: ہم سے خُدا کی محبّت اور وہ محبّت جو ہمیں اُس سے اور اُس کے تمام بچوں سے رکھنی چاہیے۔ بہرحال، یُوحنّا نے نِجات دہندہ کی محبّت کا ذاتی طور پر تجربہ کیا تھا (دیکھیں یُوحنّا ۱۳: ۲۳؛ ۲۰: ۲)، اور وہ چاہتا تھا کہ مُقدّسین کو بھی مشکلات اور مخالفت کا سامنا کرتے وقت اِسی طرح کی محبّت کو محسوس کرنا چاہیے، کِیُونکہ ”محبّت میں خَوف نہِیں ہوتا بلکہ کامِل محبّت خَوف کو دُور کر دیتی ہے“ (۱ یُوحنّا ۴: ۱۸)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
۱ یُوحنّا
خُدا نُور ہے، اور خُدا محبّت ہے۔
اگر آپ کو کہا جائے کہ خُدا کو بیان کرنے کے لیے ایک یا دو اِلفاظ کا انتخاب کریں تو، وہ کیا ہوں گے؟ اپنے خطوط میں، یُوحنّا نے ”نُور“ اور ”محبّت“ جیسے اِلفاظ کا استعمال کیا ہے (۱ یُوحنّا ۱: ۵؛ ۴: ۸، ۱۶)۔ جب آپ ۱ یُوحنّا کو پڑھتے ہیں تو، یُوحنّا کی اِنجیل میں درج یُوحنّا کے تجربات پر غوروفکر کریں، اور غور کریں کہ اِن تجربات نے یُوحنّا کو خُدا کے نُور اور اُس کی محبّت کے بارے میں کیا تعلیم دی ہوگی۔ آپ کو کون سے ذاتی تجربات نے یہ سِکھایا ہے کہ خُدا نُور اور محبّت ہے؟
مزید دیکھیں یُوحنّا ۳: ۱۶–۲۱؛ ۱۵: ۹–۱۷؛ ۲ نیفی ۲۶: ۲۴؛ عقائد اور عہود ۵۰: ۲۴؛ ۸۸: ۶، ۱۲–۱۳؛ ۹۳: ۳۶–۳۷۔
۱ یُوحنّا ۲: ۲۴–۳:۳
مَیں یِسُوع مسِیح کی مانند بن سکتا ہُوں۔
کیا مسِیح کی مانند بننے کا ہدف آپ کو کبھی زیادہ ارفع محسوس ہوا ہے؟ یُوحنّا کی حوصلہ افزا مشورت پر غور کریں: ”غرض اَے بچّو! اُس میں قائِم رہو تاکہ جب وہ ظاہِر ہو تو ہمیں دِلیری ہو … [اور] ہم بھی اُس کی مانِند ہوں گے“ (۱ یُوحنّا ۲: ۲۸؛ ۳: ۲)۔ آپ کو ۱ یُوحنّا ۲: ۲۴–۳:۳ میں ایسا کیا ملتا ہے جو آپ کو یِسُوع مسِیح کے شاگِرد کی حیثیت سے دِلیری اور سکون بخشتا ہے؟ جب آپ یُوحنّا کے خطوط کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، دُوسرے ایسے اُصولوں یا مشورت کی تلاش کریں جو مسِیح کی مانند بننے کی کوشش میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔
مزید دیکھیں مرونی ۷: ۴۸؛ عقائد اور عہود ۸۸: ۶۷–۶۸۔
کیا ”خُدا کو کبھی … کِسی نے نہِیں دیکھا“؟
Joseph Smith Translation, 1 John 4:12 واضح کرتا ہے کہ ”خُدا کو کبھی کِسی نے نہِیں دیکھا، سوائے اُن کے جو اِیمان رکھتے ہیں“ (مزید دیکھیں یُوحنّا ۶: ۴۶؛ ۳ یُوحنّا ۱: ۱۱)۔ صحائف میں متعدد ایسے واقعات درج ہیں جب خُدا باپ نے خود کو دیندار افراد کے سامنے ظاہر کیا، بمشول یُوحنّا کے (دیکھیں مُکاشفہ ۴؛ مزید دیکھیں اعمال ۷: ۵۵–۵۶؛ ۱ نیفی ۱: ۸؛ عقائد اور عہود ۷۶: ۲۳؛ جوزف سمتھ—تاریخ ۱: ۱۶–۱۷)۔
۱ یُوحنّا ۵
یِسُوع مسِیح پر اپنے اِیمان کی مشق کرنے اور نئے سِرے سے پَیدا ہونے کے باعِث، میں دُنیا پر غالب آسکتا/سکتی ہوں۔
دُنیا پر غالب آنے کا خیال یُوحنّا کی تحریروں میں متعدد بار ظاہر ہوا ہے۔ یُوحنّا نے یِسُوع کے اِس کلام کو قلمبند کیا، ”دُنیا میں مُصیبت اُٹھاتے ہو: لیکِن خاطِر جمع رکھّو؛ مَیں دُنیا پر غالِب آیا ہوں“ (یُوحنّا ۱۶: ۳۳)۔ اور مُکاشفہ ۲–۳ میں، یُوحنّا نے دُنیا پر غالب آنے والوں کے ساتھ خُداوند کے وعدوں کو درج کیا ہے۔ ۱ یُوحنّا ۵: ۳–۵ میں یُوحنّا نے دُنیا پر غالب آنے سے متعلق کیا کہا ہے؟ جب آپ ۱ یُوحنّا ۵ پڑھیں، تو تلاش کریں کہ دُنیا پر غالب آنے اور ابدی زِندگی پانے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ آپ اپنی زِندگی میں دُنیا پر کیسے غالب آسکتے ہیں؟ آپ کو بزرگ نیل ایل اینڈرسن کے پیغام میں سے بھی جوابات اور بصیرت مِل سکتی ہے (”Overcoming the World“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۷، ۵۸–۶۲)۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
۱ یُوحنّا ۲: ۸–۱۱
اپنے خاندان کی یُوحنّا کی تعلیمات پر غور کرنے میں مدد کرنے کے لیے، ایک تارِیک کمرے میں جمع ہوں اور خاندانی اَرکان کو ”تارِیکی میں“ چلنے اور ”نُور میں“ چلنے کے درمیان فرق کا تجربہ کرنے دیں۔ عَداوَت تارِیکی میں چلنے اور ٹھوکروں کا سبب کیسے بنتی ہے؟ ایک دُوسرے سے محبّت رکھنے سے ہماری زِندگیاں کیسے منور ہوتی ہیں؟
۱ یُوحنّا ۳: ۲۱–۲۲
اِن آیات میں خُدا کے سامنے اور ہماری دُعاؤں کے جوابات حاصل کرنے کی ہماری صلاحیت کی ”دِلیری“ میں کیسے اضافہ ہوتا ہے؟
۱ یُوحنّا ۵: ۲–۳
کیا کوئی ایسے احکام ہیں کہ جن کو ہم ”سخت“ سمجھتے ہیں یا اِن پر عمل پیرا ہونا مشکل لگتا ہے؟ خُدا کے لیے ہماری محبّت کے باعِث اُس کے حُکموں کے بارے میں ہمارے احساسات کیسے تبدیل ہو جاتے ہیں؟
خُدا کے احکامات پر عمل پیرا ہونے سے ہمیں دُنیا پر غالب آنے میں مدد ملتی ہے۔
یہُوداہ ۱: ۳–۴
کیا ایَسے کوئی رُوحانی خطرات ہیں جو ہماری زِندگیوں اور خاندان میں ”چُپکے سے“ آ مِلے ہیں؟ (یہُوداہ ۱: ۴)۔ ہم کِس طرح یہُوداہ کی مشورت پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں کہ ”اِیمان کے واسطے جانفِشانی“ کریں اور اِن خطرات کا مقابلہ کریں۔؟ (یہُوداہ ۱: ۳)۔ ہم یہ یقینی بنانے کے لیے کیا کرسکتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں ”رحم اور اِطمینان اور محبّت زِیادہ حاصِل ہوتی رہے“؟ (یہُوداہ ۱: ۲)۔
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا
خُدا کی محبّت کو تلاش کریں۔ صدر ایم رسل بیلرڈ نے سِکھایا، ”اِنجیل محبّت کی اِنجیل ہے—خدا سے محبّت اور ایک دوسرے سے محبّت“ (”God’s Love for His Children،“ انزائن، مئی ۱۹۸۸، ۵۹)۔ جب آپ صحائف کو پڑھیں، اُن اِلفاظ یا اقوال کو تحریر یا نشان زد کرنے پر غور کریں جو خُدا کی محبّت کے ثبوت کا اِظہار کرتے ہیں۔