”دسمبر ۲۰–۲۶۔ عیدِ ولادت المسِیح: ’بڑی خُوشی کی بشارت‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”دسمبر ۲۰–۲۶۔ عیدِ ولادت المسِیح‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
چرنی میں محفوظ، از ڈان بُر
دسمبر ۲۰–۲۶
عیدِ ولادت المسِیح
”بڑی خُوشی کی بشارت“
کچھ لوگوں کے لیے، عیدِ ولادت المسِیح مصروف ترین وقت ہوسکتا ہے۔ غور فرمائیں کہ آپ کا مُطالعہ برائے نئے عہد نامہ کِس طرح آپ کی زِندگی میں سکون اور تقدیس کے جذبے کو لانے میں مدد کرسکتا ہے۔ اپنی زِندگی پر نِجات دہندہ کی پیدائش اور مشن کے اثرات پر غور کریں، اور حاصل ہونے والے رُوحانی تاثرات کو قلمبند کریں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
ایک بچّے کی پیدائش کیوں اتنی خُوشی کا باعِث بنتی ہے؟ شاید اس لیے کیوں کہ نیا بچّہ اُمِید کی علامت ہوسکتا ہے۔ امکانات سے معمور ایک بالکل نئی زِندگی کے بارے میں کوئی خاص بات تو ہے جو ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتی ہے کہ اِس بچّے کو زِندگی کیا پیش کش کرے گی اور وہ کون سے حیرت انگیز کام کرنے کے قابل ہو گا/گی۔ یہ بات خُدا کے بَیٹے، یِسُوع مسِیح کی پیدائش کے وقت زیادہ حقیقی معلوم ہوئی ہوگی۔ کسی بھی بچّے سے کبھی اتنی اُمِیدیں وابستہ نہ تھیں، اور نہ ہی اتنے وعدوں کے ساتھ کوئی پَیدا ہوا تھا۔
جب فرِشتے نے چرواہوں کو چرنی میں نوزائیدہ بچّے کو دیکھنے کی دعوت دی، تو اُس نے اُنھیں اُس بچے کے بارے میں ایک پیغام بھی دیا۔ یہ اُمِید کا پیغام تھا—کہ یہ بچّہ ایک مُقدّس مشن کی تکمیل کے لیے زمِین پر آیا تھا۔ چرواہوں نے وہ بات ”مشہُور کی … اور سب سُننے والوں نے اِن باتوں پر جو چرواہوں نے اُن سے کہِیں تعّجُب کِیا۔ مگر مریم اِن باتوں کو اپنے دِل میں رکھ کر غور کرتی رہی“ (لُوقا ۲: ۱۷–۱۹)۔ شاید اِس عیدِ ولادت المسِیح کے موقع پر مریم کی مثال پر عمل کرنا اچھا ثابت ہوسکتا ہے: اِس سال نِجات دہندہ کے بارے میں جو باتیں آپ نے سیکھی ہیں اپنے دِل میں اُن پر غور کریں۔ آپ نے جن حوالہ جات کو پڑھا ہے اُن میں کیسے اُس نے اپنے مخلصی دینے والے مشن کی تکمیل کی؟ اور زیادہ اہم بات، اُس کے مشن نے آپ کی زِندگی کو کیسے تبدیل کیا ہے؟
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
متّی ۱: ۱۸–۲۵؛ ۲: ۱–۱۲؛ لُوقا ۱: ۲۶–۳۸؛ ۲: ۱–۲۰
یِسُوع مسِیح بڑی انکساری سے زمِین پر ہمارے درمیان پَیدا ہوا۔
اگرچہ آپ نے پہلے بھی کئی بار یِسُوع مسِیح کی ولادت کی کہانی پڑھی یا سُنی ہوگی، اِس دفعہ اِس خیال کو ذہن میں رکھیں کہ: ”کرسمس صرف اِس بات کا جشن نہیں ہے کہ یِسُوع دُنیا میں کیسے آیا تھا لیکن یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ وہ کون ہے—ہمارا خُداوند اور مُنّجی، یِسُوع مسِیح—اور وہ کیوں آیا تھا“ (کریگ سی کرسچن سن، ”The Fulness of the Story of Christmas“ [صدارتِ اول کا کرسمس ڈیوشنل، دسمبر ۴، ۲۰۱۶]، broadcasts.ChurchofJesusChrist.org)۔
اپنی پیدائش سے قبل یِسُوع مسِیح کون تھا آپ اِس بارے کیا جانتے ہیں؟ (دیکھیں، مثال کے طور پر، یُوحنّا ۱۷: ۵؛ مضایاہ ۳: ۵؛ عقائد اور عہود ۷۶: ۱۳–۱۴، ۲۰–۲۴؛ موسیٰ ۴: ۲)۔ جب آپ اُس کی ولادت کے بارے میں پڑھتے ہیں تو اِس علم کا آپ کے احساسات پر کیا اثر پڑتا ہے؟
یِسُوع مسِیح زمِین پر کیوں آیا تھا آپ اِس بارے کیا جانتے ہیں؟ (دیکھیں، مثال کے طور پر، لُوقا ۴: ۱۶–۲۱؛ یُوحنّا ۳: ۱۶–۱۷؛ ۳ نیفی ۲۷: ۱۳–۱۶؛ عقائد اور عہود ۲۰:۲۰–۲۸)۔ یہ علم نِجات دہندہ کے بارے میں آپ کے احساسات کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ یہ آپ کے زِندگی گزارنے کے طریقے کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
مزید دیکھیں ۲ کُرنتھِیوں ۸: ۹؛ عِبرانیوں ۲: ۷–۱۸؛ ۱ نیفی ۱۱: ۱۳–۳۳؛ ایلما ۷: ۱۰–۱۳؛ ”The Nativity“ (ویڈیو، ChurchofJesusChrist.org)۔
۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۲۱–۲۶؛ کُلسّیوں ۱: ۱۲–۲۲؛ ۱ پطرس ۲: ۲۱–۲۵
یِسُوع مسِیح نے اپنا فریضہ پورا کیا اور میرے لیے ابدی زِندگی کا وارث ہونا ممکن بنایا۔
اگرچہ مسِیح کی ولادت کی کہانی مُعجِزانہ واقعات سے گھِری ہوئی تھی،باوجود اِس کے اگر وہ عظیم کام نہ کرتا جو بعد میں اُس نے اپنی زِندگی میں سر انجام دیا تو اُس کی پیدائش بھی عام ہی تصّور کی جاتی۔ جیسا کہ صدر گورڈن بی ہنکلی نے بیان کیا ”گتسِمنی اور کلوری، اور قِیامت پر فتح کی حقیقت مخلصی دینے والے مسِیح کے برعکس، بیت لحم کا بچّہ یِسُوع دُوسرے عام بچّوں کی مانند ہی ہوتا“ (”The Wondrous and True Story of Christmas،“ انزائن، دسمبر ۲۰۰۰، ۵)۔
گتسِمنی، از جے کرک رچرڈز
نئے عہد نامے میں نِجات دہندہ کے الہٰی مشن اور دُوسروں کے ساتھ اُس کی قوی محبّت کا ثبوت مِلتا ہے۔ آپ کے ذہن میں کون سے حوالہ جات یا کہانیاں آتی ہیں؟ آپ شاید اِس وسیلہ یا اپنے مُطالعاتی روزنامچے پر نظر ڈال سکتے ہیں اور اپنے درج کردہ تاثرات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ آپ ۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۲۱–۲۶؛ کُلسّیوں ۱: ۱۲–۲۲؛ ۱ پطرس ۲: ۲۱–۲۵ بھی پڑھ سکتے ہیں اور غور کریں کہ کِس طرح نِجات دہندہ اور اُس کے کام نے آپ کی زِندگی کو برکت بخشی ہے۔ آپ اپنی زِندگی میں کیا تبدیل کرنے کی حوصلہ افزائی محسوس کرتے ہیں؟ آپ نِجات دہندہ کی طاقت کِس طرح حاصل کریں گے؟
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
متّی ۱: ۱۸–۲۵؛ ۲: ۱–۱۲؛ لُوقا ۱: ۲۶–۳۸؛ ۲: ۱–۲۰
آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ یِسُوع مسِیح کی ولادت کا جشن کیسے منا سکتے ہیں؟ یہاں چند ایک تجاویز پیش کی گئی ہیں، یا آپ خود سے سوچ سکتے ہیں:
-
مسِیح کی ولادت کی کہانی کے کچھ حصّے ایک ساتھ پڑھیں یا اُن کی کردار نگاری کریں۔
-
صدارتِ اوّل کا کرسمس ڈیوشنل دیکھیں (broadcasts.ChurchofJesusChrist.org)۔
-
اکٹھے کرسمس کے گیت گائیں، یا پڑوسیوں یا دوستوں کا انتخاب کرکے اُن سے ملنے جائیں اور اُن کے لیے گیت گائیں (دیکھیں گیت، نمبر. ۲۰۱–۱۴)۔
-
خدمت کا کام سرانجام دیں۔
-
خاندانی اَرکان سے کہیں کہ وہ مسِیح کی ولادت کی کہانی میں سے تفصیلات کو کھوجیں جن کی بدولت اُنھیں اَیسی آرائشی یا سجاوٹی چِیزیں بنانے کے لیے تجاویز ملیں جو اُن کو یِسُوع مسِیح کی یاد دِلا سکتی ہیں۔
۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۲۱–۲۶؛ کُلسّیوں ۱: ۱۲–۲۲؛ ۱ پطرس ۲: ۲۱–۲۵
ہم یِسُوع مسِیح کی پیدائش کے لیے کیوں شُکر گُزار ہیں؟ اُس نے ہمیں کون سی نَعمتیں بخشی ہیں؟ ہم اپنے تشکر کا اِظہار کِس طرح سے کر سکتے ہیں؟
”زِندہ مسِیح :رَسُولوں کی گواہی“
اگر آپ کرسمس کے موقع پر نِجات دہندہ پر توجہ مرکوز کرنے میں اپنے خاندان کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو، شاید آپ اکٹھے کچھ پڑھنے اور مُطالعہ کرنے میں وقت صرف کرسکتے ہیں ”زِندہ مسِیح :رَسُولوں کی گواہی“ (انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۷، سرورق کے اندر)۔ شاید آپ ”زِندہ مسِیح“ کی عبارتوں کو زبانی یاد کرسکتے ہیں یا نئے عہد نامے میں نِجات دہندہ کی زِندگی کی تفصیل میں سے ایسے بیانات تلاش کریں جو اِس تحریر کی تائید کرتے ہیں۔ آپ خاندان کے ہر فرد کو یِسُوع مسِیح کی اپنی گواہی لِکھنے کی بھی دعوت دے سکتے ہیں اور تحریک پانے پر اِن کو خاندان کے سامنے پڑھ سکتے ہیں۔
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا
یِسُوع مسِیح کو تلاش کریں۔ صحائف ہمیں سِکھاتے ہیں کہ تمام چِیزیں یِسُوع مسِیح کی گواہی دیتی ہیں (دیکھیں موسیٰ ۶: ۶۲–۶۳)، لہٰذا ہمیں ہر چِیز میں اُسے تلاش کرنا چاہیے۔ جب آپ صحائف کو پڑھیں، اُن آیات کو تحریر یا نشان زد کرنے پر غور کریں جو اُس کے بارے میں آپ کو تعلیم دیتی ہیں۔ کرسمس کے قریبی ایّام میں آپ اپنے اِرد گِرد کی اَیسی چِیزوں کو ڈھُونڈنے کے لیے وقت نکالیں جو یِسُوع مسِیح کی گواہی دیتی ہیں۔