لائبریری
نومبر ۲۲–۲۸۔ ۱ اور ۲ پطرس: ’اَیسی خُوشی مناتے ہو جو بیان سے باہِر اور جلال سے بھری ہے‘


”نومبر ۲۲–۲۸۔ ۱ اور ۲ پطرس: ’اَیسی خُوشی مناتے ہو جو بیان سے باہِر اور جلال سے بھری ہے‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”نومبر ۲۲–۲۸۔ ۱ اور ۲ پطرس،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

یِسُوع مسِیح عالمِ ارواح میں اِنجیل کی منادی کرتے ہوئے

مسِیح عالمِ ارواح میں منادی کرتے ہوئے، از رابرٹ ٹی بیرٹ

نومبر ۲۲–۲۸

۱ اور ۲ پطرس

”اَیسی خُوشی مناتے ہو جو بیان سے باہِر اور جلال سے بھری ہے“

جب آپ پطرس کے خطوط پڑھتے ہیں، تو آپ عمل کرنے کی سرگوشیاں پاسکتے ہیں۔ اِن سرگوشیوں کو ”رُوح ہی میں“ ہوتے ہوئے قلمبند کریں (عقائد اور عہود ۷۶: ۸۰) تاکہ آپ سِکھائی جانے والی تعلیم کو درست طریقے سے گرفت میں لے سکیں۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

اپنی قیامت کے فوراً بعد، مُنّجی نے ایک پیش گوئی کی جو یقیناً پطرس کو پریشان کن لگی ہوگی۔ اُس نے کہا کہ جب پطرس بُوڑھا ہوگا تو اُسے ”جہاں [وہ] نہ چاہے گا وہاں لیجائے گا … ، اِن باتوں سے اِشارہ کر دِیا کہ وہ کِس طرح کی مَوت سے خُدا کا جلال ظاہِر کرے گا“ (یُوحنّا ۲۱: ۱۸–۱۹)۔ جب پطرس نے اپنے خطوط لکھے تو وہ جانتا تھا کہ اُس کی پیش گوئی کی گئی شہادت قریب ہے: ”کِیُونکہ ہمارے خُداوند یِسُوع مسِیح کے بتانے کے مُوافِق مُجھے معلُوم ہے کہ میرے خیمہ کے گِرائے جانے کا وقت جلد آنے والا ہے۔“ (۲ پطرس ۱: ۱۴)۔ بدقسمتی سے، پطرس جن سے مخاطب تھا، رومہ کے صوبوں میں مقیم اُن مُقدّسین کے لیے، اِس طرح کا سخت ظلم و ستم عام تھا (دیکھیں ۱ پطرس ۱:۱)۔ اور پھر بھی اُس کے اِلفاظ خوف یا منفی تاثر سے پاک تھے۔ اِس کے بجائے، اُس نے مُقدّسین کو ”خُوشی منانے“ کی تعلیم دی، اگرچہ تب وہ ”طرح طرح کی آزمایشوں کے سبب سے غم زدہ تھے۔“ اُس نے اُن کو مشورت دی کہ وہ یاد رکھیں کہ ”[اُن کا] آزمایا ہُؤا اِیمان“ ”یِسُوع مسِیح کے ظُہُور کے وقت تعرِیف اور جلال اور عِزّت کا باعِث ٹھہرے“ گا اور وہ ”[اپنی] رُوحوں کی نِجات“ حاصل کریں گے (۱ پطرس ۱: ۶–۷، ۹)۔ پطرس کا اِیمان اُن ابتدائی مُقدّسین کے لیے ضرور راحت بخش رہا ہوگا ، جیسا کہ یہ آج کے مُقدّسین کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے کہ، ”مسِیح کے دُکھوں میں جُوں جُوں شِریک ہوکر خُوشی کرو تاکہ اُس کے جلال کے ظُہُور کے وقت [ہم] بھی نِہایت خُوش و خُرّم ہوں“ (۱ پطرس ۴: ۱۳

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

۱ پطرس ۱: ۳–۹؛ ۲: ۱۹–۲۴؛ ۳: ۱۴–۱۷؛ ۴: ۱۲–۱۹

مجھے آزمائش اور دکھوں کے اوقات میں خُوشی مِل سکتی ہے۔

پہلی نظر میں، یہ عجیب معلوم ہوسکتا ہے کہ پطرس نے عام طور پر مصائب سے وابستہ اِلفاظ: بھاری پن ،آزمائشیں، غم، آتش گیر اِمتحانات، اور تکلِیفوں کی بجائے شادمانی، خُوشی، جلال، اور نِہایت خُوش و خُرّم جیسے اِلفاظ کا استعمال کیا ہے (دیکھیں ۱ پطرس ۱: ۶؛ ۲: ۱۹؛ ۴: ۱۲–۱۳)۔ ابتدائی مُقدّسین کے لیے پطرس کا پیغام صدر رسل ایم نیلسن کے سِکھائے گئے پیغام کے مترادف ہے: ”مُقدّسین ہر طرح کے حالات میں خوش رہ سکتے ہیں۔ … جب ہماری زِندگیوں کی توجہ کا مرکز خُدا کا نِجات کا منصوبہ … اور یِسُوع مسِیح اور اُس کی اِنجیل ہوتی ہے، تو ہم اپنی زِندگیوں میں چاہے کچھ ہو—یا نہ ہو—اِس سے قطع نظر خُوشی محسوس کر سکتے ہیں۔ خُوشی اُس سے اور اُس کے وسیلہ سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ کُل خُوشی کا منبع ہے“ (”Joy and Spiritual Survival،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۶، ۸۲)۔

جب آپ ۱ پطرس ۱: ۳–۹؛ ۲: ۱۹–۲۴؛ ۳: ۱۴–۱۷؛ ۴: ۱۲–۱۹ پڑھتے ہیں، تو کونسی بات آپ کو اُمید دیتی ہے کہ آپ مشکل حالات کے باوجود بھی خُوشی پاسکیں گے؟

۱ پطرس ۳: ۱۸–۲۰؛ ۴: ۱–۶

مُردوں کے درمیان اِنجیل کی منادی کی جاتی ہے تاکہ اُن کی عدالت اِنصاف کے ساتھ کی جاسکے۔

ایک دن، ہر شَخص کو تختِ عدالت کے سامنے کھڑا ہونا اور ”اُسی کو حِساب دینا پڑے گا جو زِندوں اور مُردوں کا اِنصاف کرنے کو تیّار ہے“ (۱ پطرس ۴: ۵)۔ کچھ لوگوں کو حیرت ہوسکتی ہے کہ جب اِنجیل کو سمجھنے اور اِس کے مُوافِق جینے کے مواقع اتنے مختلف ہوتے ہیں تو خُدا تمام لوگوں کی اِنصاف کے ساتھ عدالت کیسے کرسکتا ہے۔ اُس عقیدے پر غور کریں جو پطرس نے ۱ پطرس ۳: ۱۸–۲۰؛ ۴: ۶ میں اپنے دور کے مُقدّسین کو یہ سمجھنے میں مدد کرنے کے لیے سِکھایا کہ خُدا کے فیصلے منصفانہ ہوں گے۔ یہ آیات خُدا کے اِنصاف اور عدالت پر آپ کے بھروسے کو کیسے مضبُوطی بخشتی ہیں؟

اِس عقیدے کے مزید مُطالعہ کے لیے، عقائد اور عہود ۱۳۸ کا تفصیلی جائزہ لیں، وہ مُکاشفہ جو صدر جوزف ایف سمتھ نے پطرس کی اِن تحریروں پر غور کرنے کے باعِث حاصل کیا۔ اُن لوگوں کو کون سی برکات حاصل ہوتی ہیں جو اِنجیل کی رسوم کو اپنے خاندان کے اُن اَرکان کے لیے مہیا کرتے ہیں جو رحلت فرما چکے ہیں اور اب بھی اُن رسوم کے منتظر ہیں؟

۱ پطرس ۱:۱–۱۱

یِسُوع مسِیح کی قُدرت کے وسِیلہ سے، میں اپنی الہٰی فطرت کو فروغ دے سکتا ہوں۔

کیا آپ کو کبھی یِسُوع مسِیح کی مانند بننا اور اُس کی صفات کو اپنانا ناممکن محسوس ہوا ہے؟ بزرگ رابرٹ ڈی ہیلز نے مسِیح کی مانند صفات کو فروغ دینے کے لیے اِس حوصلہ افزا سوچ کی پیش کش کی: ”نِجات دہندہ کی صفات … ایک دُوسرے کے ساتھ بُنی ہوئی خصوصیات ہیں، جو ایک دُوسرے سے جوڑی ہوتی ہیں، جو ہم میں متعامل طریقوں سے فروغ پاتی ہیں۔ دُوسرے لفظوں میں، ہم دُوسری صفات کو حاصل اور متاثر کیے بغیر مسِیح جیسی ایک بھی خصوصیت حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔ ایک صفت کی مضبُوطی، دُوسری صفات کی مضبُوطی کا بھی باعِث بنتی ہے“ (”Becoming a Disciple of Our Lord Jesus Christ،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۷، ۴۶)۔

رنگین دھاگوں کی آمیزش سے بُنا ہوا ایک پیچیدہ منقش کپڑا

مِثلِ مسِیح کی ہر امتیازی خصوصیت جس میں ہم ترقّی کرتے ہیں وہ شاگِردی کی رُوحانی کشیدہ کاری کو بُننے میں ہماری مدد کرتی ہے۔

بزرگ ہیلز کے پیغام کے ساتھ ۲ پطرس ۱:۱–۱۱ پڑھنے پر غور کریں۔ مسِیح کی مانند بننے کی آپ کی کوششوں میں مدد کے لیے آپ اِن دو رَسُولوں سے کیا سیکھتے ہیں؟

مزید دیکھیں ۱ پطرس ۴: ۸؛ ڈیوڈ اے بیڈنار، ”Exceeding Great and Precious Promises،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۷، ۹۰–۹۳۔

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

۱ پطرس ۲: ۵–۱۰

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ یہ آیات پڑھتے ہیں تو، خاندانی اَرکان کو پطرس کی تعلیمات تصوّر کرنے میں مدد دینے کے لیے پتھّروں کے اِستعمال پر غور کریں کہ نِجات دہندہ ہمارا ”کونے کے سِرے کا پتھّر“ ہے۔ ہم کِس طرح ”سرگرم [زِندہ] پتھّروں“ کی مانند ہیں جو خُدا اپنی بادشاہی کی تعمیر کے لیے استعمال کر رہا ہے؟ ہم پطرس سے نِجات دہندہ اور اُس کی بادشاہی میں اپنے کردار کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟ پطرس کا آپ کے خاندان کے لیے کیا پیغام ہے؟

۱ پطرس ۳: ۸–۱۷

جو ہم سے ہمارے اِیمان کے بارے میں پوچھتے ہیں ہم کیسے اُن کو ”جواب دینے کے لِئے ہر وقت مُستعِد“ رہ سکتے ہیں؟ آپ کا خاندان اِنجیل سے متعلق پوچھے جانے والے سوالات جیسے حالات کی کردار نگاری کرنے سے لطف اندوز ہوسکتا ہے۔

۱ پطرس ۳: ۱۸–۲۰؛ ۴: ۶

بطور خاندان آپ اپنے مرحوم آباؤ اجداد کے بارے میں جاننے کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟ شاید کسی مُردہ پُرکھ کی سالگرہ کے موقع پر آپ اپنے پُرکھوں کا پسندیدہ کھانا پکا سکتے ہیں، اُن کی تصاویر کی نمائش کرسکتے تھے، یا اپنے پُرکھوں کی زِندگی کی کہانیاں سُن سکتے تھے۔ اگر ممکن ہو تو، آپ ہَیکل میں اُس پُرکھ کے لیے رسوم ادا کرنے کا بھی منصوبہ بناسکتے ہیں۔

۱ پطرس ۱: ۱۶–۲۱

اِن آیات میں، پطرس نے مُقدّسین کو تبدیلیِ صُورت کے پہاڑ پر اپنے تجربے کی یاد دلائی (مزید دیکھیں متّی ۱۷: ۱–۹)۔ نبِیوں کی تعلیمات کے بارے میں ہم اِن آیات سے کیا سیکھتے ہیں؟ (مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۱: ۳۸)۔ آج ہم اپنے زندہ نبی کی پیروی کرنے کا اعتماد کِس چیز سے پاتے ہیں؟

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

”ہر وقت مُستعِد رہو۔“ گھر میں غیر رسمی تدریسی لمحات جلد رونما اور غائب ہوسکتے ہیں، لہذا یہ ضروری ہے کہ نمودار ہوتے وقت اُن کا بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔ جب تعلیمی لمحات نمودار ہوں تو آپ اپنے خاندانی اَرکان کو اِنجیل کی سَچّائیوں کی تعلیم دینے اور اپنے اندر کی ”اُمِید“ کا اشتراک کرنے کے لیے ”ہر وقت مُستعِد“ رہنے کی کوشش کیسے کرسکتے ہیں (۱ پطرس ۳: ۱۵)؟ (دیکھیں نِجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، ۱۶۔)

پطرس لوگوں کے ایک گروہ میں منادی کررہا ہے

اگرچہ پطرس کو بہت ظلم اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، مگر پھر بھی وہ مسِیح میں اپنی گواہی پر قائم رہا۔