لائبریری
نومبر ۸–۱۴۔ عِبرانیوں ۷–۱۳: ’آیندہ کی اچھّی چِیزوں کا سَردار کاہِن‘


”نومبر ۸–۱۴۔ عِبرانیوں ۷–۱۳: ’آیندہ کی اچھّی چِیزوں کا سَردار کاہِن‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”نومبر ۸–۱۴۔ عِبرانیوں ۷–۱۳،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

مَلکِ صدؔق ابؔرام کو برکت دیتے ہوئے

مَلکِ صدؔق ابؔرام کو برکت دیتا ہے، از والٹر رین

نومبر ۸–۱۴

عِبرانیوں ۷–۱۳

”آیندہ کی اچھّی چِیزوں کا سَردار کاہِن“

جب آپ عِبرانیوں ۷–۱۳ پڑھتے ہیں، تو آپ رُوحُ الُقدس کے ذریعہ تاثرات حاصل کرسکتے ہیں۔ اُن کو قلمبند کرنے کے طریقوں پر غور کریں؛ مثال کے طور پر، آپ اُنھیں اِس خاکہ میں، اپنے صحائف کے حاشیے میں یا گاسپل لائبریری ایپ میں قلمبند کرسکتے ہیں۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

یہاں تک کہ راست باز مُقدّسین بھی بعض اوقات ”لعن طعن اور مُصِیبتوں“ کا شکار ہوجاتے ہیں جس کے باعِث اُن کا اعتماد ہل سکتا ہے (دیکھیں عِبرانیوں ۱۰: ۳۲–۳۸)۔ پَولُس جانتا تھا کہ مسِیحیت کی طرف رُجُوع لانے والے یہُودِیوں کو اپنے نئے عقیدے کی وجہ سے شدید ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اپنی گواہیوں پر قائم رہنے کی حوصلہ افزائی کے لیے، اُس نے اُنھیں اُن کی اپنی تاریخ سے وفادار پیروکاروں کی طویل لڑی کی یاد دلائی: ہابِل، حنُوک، نُوح، ابؔرہام، سارہ، یُوسُف، مُوسیٰ—”گواہوں کا اَیسا بڑا بادل“ کہ خُدا کے وعدے حقیقی اور انتظار کے قابل ہیں (عِبرانیوں ۱۲: ۱)۔ اِیمان کی اِس وراثت کا اشتراک وہ سب لوگ کرتے ہیں جو ”اِیمان کے بانی اور کامِل کرنے والے یِسُوع کو تکتے“ رہتے ہیں (عِبرانیوں ۱۲: ۲)۔ اُسی کی بدولت، جب بھی مشکلات ہمیں پِیچھے ”ہٹنے“ کا کہیں گی تو، اِس کے برعکس ہم ”سَچّے دِل اور پُورے اِیمان کے ساتھ خُدا کے پاس چلیں“ (عِبرانیوں ۱۰: ۲۲، ۳۸)۔ قدیم مُقدّسین کے ساتھ ساتھ، یِسُوع مسِیح، ہمارے لیے بھی ”آیندہ کی اچھّی چِیزوں کا سَردار کاہِن“ ہے (عِبرانیوں ۹: ۱۱

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

عِبرانیوں ۷: ۱–۲۲

مَلکِ صدؔق کہانت ایک اعلیٰ کہانت ہے۔

صدیوں سے، یہُودِیوں نے لاوی کی کہانت کا استعمال کیا تھا، جسے ہارونی کہانت بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن یِسُوع مسِیح کی اِنجیل کی معموری کے ساتھ اعلیٰ مَلکِ صدؔق کہانت آئی، جس نے قدرے زیادہ برکات پیش کیں۔ آپ عِبرانیوں ۷ سے مَلکِ صدؔق کہانت کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟ یہاں آپ کو سَچّائیوں کی کچھ مثالیں مل سکتی ہیں:

ترجمہ برائے جوزف سمتھ، عِبرانیوں ۷: ۳، ۲۱:وہ جو مَلکِ صدؔق کہانت پر مُقرّر ہوئے ہیں وہ خُدا کے بَیٹے کے مُشابِہ ٹھہرے اور ہمیشہ کے لئِے [کاہِن] مُقرّر ہُوئے ہیں۔

عِبرانیوں ۷: ۱۱:لاوی کی کہانت سے ”کامِلیّت “ حاصِل نہیں ہوتی ہے اور اس لیے مَلکِ صدؔق کہانت نے اِس پر سبقت لے لی (دیکھیں عقائد اور عہود ۸۴: ۱۸–۲۲

عِبرانیوں ۷: ۲۰–۲۱:مَلکِ صدؔق کہانت ایک عہد کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے (دیکھیں عقائد اور عہود ۸۴: ۱۹–۴۴

آپ نے مَلکِ صدؔق کہانت اور اِس سے وابستہ رسوم کے وسیلہ سے کون سی نَعمتیں حاصل کیں ہیں؟

مزید دیکھیں ایلما ۱۳: ۱–۱۳؛ عقائد اور عہود ۱۲۱: ۳۶–۴۶؛ ہینری بی آئرنگ ”Faith and the Oath and Covenant of the Priesthood،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۰۸، ۶۱–۶۴؛ ڈیلن ایچ اوکس، ”The Keys and Authority of the Priesthood،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۴، ۴۹–۵۲۔

عِبرانیوں ۹: ۱–۱۰: ۲۲

قدیم اور جدید رسوم یِسُوع مسِیح کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

اِس خط کے پڑھنے والے حقیقی عِبرانی لوگ قدیم خَیمہ اجتماع اور اُن رسوم سے واقف ہوں گے جو پَولُس نے بیان کی ہیں۔ لیکن کچھ نے پوری طرح سے اِس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا تھا کہ اِن رسوم کا مقصد یِسُوع مسِیح کے کفّارہ کی طرف اشارہ کرنا تھا۔

بائبل کے اوقات میں، سالانہ تعطیل کے دن جسے یومِ کفّارہ کہا جاتا تھا، ایک سَردار کاہِن یروشلِیم کی ہَیکل میں سب سے مُقدّس جگہ (یا پاک ترین) مقام میں داخل ہوتا اور اِسرائیل کے گُناہوں کے کفّارہ کے لیے ایک بکرا یا بّرہ قربان کرتا تھا۔ پَولُس نے وضاحت کی کہ یِسُوع مسِیح اَیسا سَردار کاہِن ہے جس نے ایک ہی قربانی چڑھائی—اپنی زِندگی کی—دُنیا کے گُناہوں کے کفّارہ کے لیے (دیکھیں عِبرانیوں ۹: ۲۴–۱۰: ۱۴

اُن رسوم کے بارے میں سوچیں جن میں آج آپ نے حصّہ لیا۔ یہ رسوم کیسے یِسُوع مسِیح کی طرف اشارہ کرتی ہیں؟

عِبرانیوں ۱۱

اِیمان خُدا کے وعدوں پر بھروسے کاتقاضا کرتا ہے۔

اگر کوئی آپ سے اِیمان کی تعریف پوچھے تو آپ کیا کہیں گے؟ بہن اِین سی پینگری، انجمنِ خواتین کی عمومی صدارت کی سابقہ رکن نے، اِس کی تعریف کو پیش کرنے کے لیے عِبرانیوں ۱۱ کے اِلفاظ پر روشنی ڈالی: ”اِیمان، اُن وعدوں پر قائل رہنے کی رُوحانی قابلیت ہے جو ”دُور ہی سے“ نظر آتے ہیں لیکن شاید اِس زِندگی میں حاصل نہیں کیے جاسکتے، یہ پختہ یقین رکھنے والوں کی ایک ٹھوس تدبیر ہے“ (”Seeing the Promises Afar Off،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۰۳، ۱۴)۔

عِبرانیوں ۱۱ میں درج خیالات پر غور کرتے ہوئے اپنی خود کی اِیمان کی تعریف کو تیار کرنے پر غور کریں۔ اِس باب میں درج لوگوں کی مثالوں سے آپ کو اِیمان کے بارے میں کیا تعلیم ملتی ہے؟ (مزید دیکھیں عیتر ۱۲: ۶–۲۲۔)

مزید دیکھیں ایلما ۳۲: ۲۱، ۲۶–۴۳؛ جیفری آر ہالینڈ، ”An High Priest of Good Things to Come،“ انزائن، نومبر ۱۹۹۹، ۳۶–۳۸۔

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

عِبرانیوں ۱۰: ۳۲–۳۶

آپ خاندانی اَرکان کو ایسے رُوحانی تجربات کا اشتراک کرنے کی دعوت دے سکتے ہیں جب اُنھوں نے خود کو سَچّائی کی بدولت ”مُنوّر“ محسوس کیا۔ آزمائش یا شک کے اوقات میں یہ تجربات ”اپنی دِلیری کو ہاتھ سے نہ“ جانے دینے میں کِس طرح ہماری مدد کرسکتے ہیں؟

عِبرانیوں ۱۱

عِبرانیوں ۱۱ میں درج دیندار مثالوں سے سبق حاصل کرنے کے لیے آپ اپنے خاندانی اَرکان کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟ اِن مثالوں میں سے کچھ کہانیوں کی کردار نگاری کرنے سے لطف اُٹھایا جاسکتا ہے۔ یا شاید آپ کا خاندان دُوسرے دیندار لوگوں کی مثالوں پر تبادلہ خیال کرسکتا ہے جن سے آپ واقف ہیں—بشمول آپ کے آباؤ اجداد، کلیسیائی راہ نماؤں، اور آپ کی برادری کے اَرکان۔

عِبرانیوں ۱۲: ۲

اِس آیت کے مطابق، یِسُوع نے کیوں خُوشی سے صلِیب کا دُکھ اُٹھایا اور اِس کی تکلیف سہی؟ اِس سے ہم اپنے مصائب کو کِس طرح برداشت کرنا سیکھتے ہیں؟ صدر رسل ایم نیلسن نے اپنے پیغام میں اِس آیت کے بارے میں کچھ مددگار بصیرت پیش کی ہے ”Joy and Spiritual Survival“ (انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۶، ۸۱–۸۴)۔

عِبرانیوں ۱۲: ۵–۱۱

خُداوند کیسے ہمیں نصِیحت اور تنبِیہ کرتا ہے؟ جب آپ اِن آیات کا اکٹھے مُطالعہ کرتے ہیں تو آپ کے خاندانی اَرکان خُداوند کی تنبِیہ کے طریقوں کے بارے میں کیا سیکھتےہیں؟ یہ آیات کسی کو تنبِیہ کرنے یا خود تنبِیہ حاصل کرنے کے آپ کے طریقے کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

رُوح کو دعوت دینے اور عقیدے کو سیکھنے کے لیے موسیقی کا استعمال کریں۔ صدارتِ اَول نے کہا، ”موسیقی [ہمیں] اعلیٰ درجے کی رُوحانیت کی طرف بڑھانے کی بے پایاں قُدرت رکھتی ہے“ (”First Presidency Preface،“ گیت، x)۔ شاید اِیمان کے بارے میں کوئی گیت، جیسا کہ ”True to the Faith“ (گیت، نمبر ۲۵۴)، عِبرانیوں ۱۱ سے متعلق خاندانی گفتگو کی تکمیل کرسکتا ہے۔

قدیم یروشلِیم کا نقشہ

قدیم ہَیکل اور اُس کی رسوم کی علامتوں نے یِسُوع مسِیح کے کردار کے بارے میں تعلیم دی۔