”نومبر ۱–۷۔ عِبرانیوں ۱–۶: ’یِسُوع مسِیح، ’ابدی نِجات کا باعِث ہُؤا‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”نومبر ۱–۷۔ عِبرانیوں ۱–۶،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
جِلعؔاد کا روغنِ بلسان، از اینی ہنری
نومبر ۱–۷
عِبرانیوں ۱–۶
یِسُوع مسِیح، ”ابدی نِجات کا باعِث ہُؤا“
رُوحانی تاثرات کو قلمبند کرنے سے آپ کو یہ پہچاننے میں مدد ملتی ہے کہ رُوحُ الُقدس آپ کو کیا تعلیم دینا چاہتا ہے۔ اپنے تاثرات پر عمل کرنے سے آپ کے اِیمان کا ثبوت ملتا ہے کہ وہ سرگوشیاں حقیقی تھیں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
یِسُوع مسِیح کی اِنجیل کو قبول کرنے کے لیے ہم سب کو کچھ نہ کچھ ترک کرنا ہوگا—خواہ وہ بری عادتیں ہوں، غلط عقائد ہوں، غیر مہذب رفاقتیں ہوں یا کوئی اور چِیز۔ غیر قوموں کے لیے، رُجُوع لانے کا مطلب اکثر جھوٹے دیوتاؤں کو ترک کرنا تھا۔ تاہم، عِبرانیوں (یہُودِیوں) کے لیے، رُجُوع لانا، اگر زیادہ مشکل نہیں تو، تھوڑا پیچیدہ ثابت ہوا تھا۔ بہر حال، اُن کے عزیز عقائد اور روایات کی بنیاد سَچّے خُدا کی پرستش اور اُس کے انبیاء کی تعلیمات پر قائم تھی، جو ہزاروں سالوں پر محیط تھی۔ پھر بھی رَسُولوں نے سِکھایا کہ موسیٰ کی شَرِیعَت یِسُوع مسِیح میں پوری ہوچکی ہے اور یہ کہ اب پیروکاروں کو اعلیٰ شَرِیعَت بطور معیار بخشی گئی ہے۔ کیا مسِیحیت قبول کرنے کے لیے عِبرانیوں کو اپنے پہلے عقائد اور تاریخ کو ترک کرنا پڑنا تھا؟ عِبرانیوں کے نام خط میں یہ سِکھاتے ہوئے اِن سوالات کو حل کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ موسیٰ کی شَرِیعَت، انبیا، اور رسومات سب اہم ہیں، لیکن یِسُوع مسِیح اِن سے بڑھ کر ہے (دیکھیں عِبرانیوں ۱:۱–۴؛ ۳: ۱–۶؛ ۷: ۲۳–۲۸)۔ در حقیقت، یہ ساری چِیزیں اِس بات کی طرف اشارہ کرتی اور گواہی دیتی ہیں کہ مسِیح ہی خُدا کا بَیٹا اور موعودہ ممسوح ہے جس کا انتظار یہُودِیوں کو تھا۔ عِبرانیوں، اور ہم سب کے لیے یہ پیغام ہے کہ بعض اوقات ہمیں یِسُوع مسِیح کو اپنی عبادت اور اپنی زِندگی کا مرکز بنانے کے لیے روایات کو ترک کرنا پڑے گا—تاکہ مسِیح کے وسیلے سے ”ہم پر رحم ہو“ (عِبرانیوں ۴: ۱۶)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
عِبرانیوں
عِبرانیوں کے نام خط کِس نے لکھا تھا؟
کچھ علما نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ کیا واقعی ہی پَولُس نے عِبرانیوں کے نام خط لکھا تھا؟ عِبرانیوں کے خط کا ادبی انداز پَولُس کے دُوسرے خطوط سے کچھ مختلف ہے، اور متن کی ابتدائی تحریروں میں مصنف کا نام نہیں لیا گیا۔ تاہم، چونکہ عِبرانیوں میں جن خیالات کا اِظہار کیا گیا ہے وہ پَولُس کی دُوسری تعلیمات کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں، مسِیحی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، مقدسینِ آخِری ایّام نے، تسلیم کیا ہے کہ اِس خط کو لکھنے میں کم از کم پَولُس ملوث تھا۔
عِبرانیوں ۱–۵
یِسُوع مسِیح آسمانی باپ کی ”ذات کا نقش“ ہے۔
بہت سے یہُودِیوں کے لیے یِسُوع مسِیح کو خُدا کا بَیٹا قبول کرنا مشکل تھا۔ عبرانیوں کے نام خط یہ تعلیم دیتا ہے کہ یِسُوع کے بارے میں سب کچھ اُس کے باپ کی گواہی اور مثال پیش کرتا ہے۔ جب آپ عِبرانیوں کے پہلے پانچ ابواب پڑھتے ہیں تو، آپ یِسُوع مسِیح کے القابات، کردار، اوصاف، اور درج کاموں کی ایک فہرست بنا سکتے ہیں۔ یہ چِیزیں آپ کو نِجات دہندہ کے بارے میں کیا تعلیم دیتی ہیں؟ یہ آسمانی باپ کے بارے میں آپ کو کیا سِکھاتی ہیں؟
بزرگ جیفری آر ہالینڈ کا درج ذیل بیان اِن ابواب میں دی گئی تعلیمات کے بارے میں آپ کے فہم میں کیا اضافہ کرتا ہے؟ ”یِسُوع … خُدا کے بارے میں انسان کے نظریہ کو بہتر بنانے اور اُن سے یہ التجا کرنے آیا تھا کہ وہ اپنے آسمانی باپ سے محبّت رکھیں جیسا کہ وہ ہمیشہ سے اُن سے محبّت رکھتا آیا ہے اور ہمیشہ رکھے گا۔ … چنانچہ بھوکے کو کھانا کھلانے، بیماروں کو شِفا دینے، رعیاکاروں کو ڈانٹنے، اِیمان کی التجا کرنے کے باعِث—مسِیح نے ہمیں باپ کی جانب جانے کا راستہ دِکھایا“ (”The Grandeur of God،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۰۳، ۷۲)۔
عِبرانیوں ۲: ۹–۱۸؛ ۴: ۱۲–۱۶؛ ۵: ۷–۸
یِسُوع مسِیح نے آزمائشوں اور کمزوریوں کا سامنا اِس لیے کیا تاکہ وہ مجھے سمجھ سکے اور میری مدد کر سکے۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ ”فضل کے تخت کے پاس دِلیری سے“ جاسکتے ہیں تاکہ آپ پر رحم ہو؟ (عِبرانیوں ۴: ۱۶)۔ عِبرانیوں کے نام خط کا ایک پیغام یہ ہے کہ ہمارے گُناہوں اور کمزوریوں کے باوجود، ہم خدا تک رسائی پاسکتے ہیں اور اُس کا فضل قابلِ حصول ہے۔ عِبرانیوں ۲: ۹–۱۸؛ ۴: ۱۲–۱۶؛ ۵: ۷–۸ میں کون سی باتیں آپ کے اعتماد کو تقویت بخشتی ہیں کہ یِسُوع مسِیح آپ کی فانی چنوتیوں میں آپ کی مدد کرے گا؟ روزنامچے میں اپنے خیالات اور احساسات کو قلمبند کرنے پر غور کریں کہ نِجات دہندہ نے آپ کے لیے کیا کِیا ہے۔
مزید دیکھیں مضایاہ ۳: ۷–۱۱؛ ایلما ۷: ۱۱–۱۳؛ ۳۴۔
عِبرانیوں ۳: ۷–۴: ۱۱
خُدا کی نَعمتیں حاصل کرنے کے لیے، مجھے اپنے دل کو ”سخت نہیں“ کرنا چاہیے۔
اگرچہ وہ مسِیحیت کی طرف رُجُوع لا چکے تھے، پھر بھی کچھ یہُودی مُقدّسین کے لیے یِسُوع مسِیح کی اِنجیل اور اِس کی برکات کو پوری طرح قبول کرنا مشکل تھا۔ قدیم بنی اِسرائیل کی کہانی کو دہراتے ہوئے، پَولُس نے اِس اُمِید سے یہُودیوں کو یہ باور کروایا کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی غلطی سے بچیں—بے اعتقادی کی وجہ سے خُدا کی نَعمتوں کو رد کرتے ہوئے۔ (آپ پَولُس کی اُس کہانی کو پڑھ سکتے ہیں جو گنتی ۱۴: ۱–۱۲، ۲۶–۳۵ میں درج حقائق کی طرف اشارہ کرتی ہے۔)
غور کریں کہ عِبرانیوں ۳: ۷–۴: ۱۱ آپ پر کِس طرح لاگو ہوسکتا ہے۔ اَیسا کرنے کے لیے، آپ شاید اِس طرح کے سوالات پر غور کرسکتے ہیں:
-
اسرائیلیوں نے خُداوند کو کِس طرح اُکسایا؟ (دیکھیں عِبرانیوں ۳: ۸–۱۱)۔ سخت دِل ہونے کے کیا نتائج ہوتے ہیں؟
-
میں نے کب اپنے دِل کو سخت ہونے کی اجازت دی؟ کیا اَیسی کوئی نَعمت ہے جو خُدا مجھے عطا کرنا چاہتا ہے مگر میرے اِیمان کی کمی کی وجہ سے اَیسا نہیں ہو پا رہا؟
-
شائستہ اور پشیمان دِل پانے کے لیے مَیں کیا کرسکتا ہوں؟ (دیکھیں عیتر ۴: ۱۵؛ امثال ۳: ۵–۶؛ ایلما ۵: ۱۴–۱۵)۔
مزید دیکھیں ۱ نیفی ۲: ۱۶؛ ۱۵: ۶–۱۱؛ یعقوب ۱: ۷–۸؛ ایلما ۱۲: ۳۳–۳۶۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
عِبرانیوں ۱: ۸–۹
یِسُوع نے کیسے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ راستبازی سے محبّت اور بدکاری سے عَداوَت رکھّتا ہے؟ ہم اپنی بدکار خواہشات کو بدلنے کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟
عِبرانیوں ۲: ۱–۴
کیا آپ کسی اَیسے عملی سبق کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو آپ کے خاندان کو یہ سمجھنے میں مدد فراہم کرے کہ اِنجیلی سَچّائیاں جو ”ہم نے سُنِیں“ اُن کو پختگی سے تھامے رکھنے کا مطلب کیا ہے؟ آپ اِس کی وضاحت کسی اَیسی چِیز کے ساتھ کر سکتے ہیں جس کو تھامے رکھنا مشکل ہو۔ اِس چِیز کو پکڑنا اور تھامے رکھنا کیسے ہماری گواہی کو برقرار رکھنے کی ہماری کوششوں کے مترادف ہے؟ ہم اِس بات کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں کہ وہ ”باتیں جو ہم نے سُنِیں“ وہ ہم سے ”دُور“ نہ ہوجائیں؟ (آیت ۱)۔
عِبرانیوں ۲: ۹–۱۰
”نِجات کے بانی“ کی اصطلاح کو دریافت کرنے کے لیے، آپ اِس بارے میں گفتگو کر سکتے ہیں کہ بانی کِس کو کہتے ہیں۔ بانی کیا کرتا ہے؟ یِسُوع مسِیح کِس طرح ہمارا اور ہماری نِجات کا بانی ہے؟
عِبرانیوں ۵: ۱–۵
یہ آیات آپ کو اِس بارے میں گفتگو کرنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ خُدا کی طرف سے بُلاہٹ پانے، کہانت کے حامل ہونے یا کسی اِختیّار کے حامل شَخص کے ذریعہ دیگر کلیسیائی بُلاہٹوں کو پورا کرنے کا مطلب کیا ہے۔ ہم یِسُوع مسِیح کی مثال سے بُلاہٹوں کو پانے اور اُن کو پورا کرنے کے بارے میں کیا سیکھ سکتے ہیں؟
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا
مختلف طریقے آزمائیں۔ صحائف کا ہمیشہ یکساں طریقے سے مُطالعہ کرنے کے بجائے، مُطالعہ کی مختلف تجاویز پر غور کریں۔ چند تجاویز کے لیے، اِس وسیلہ کے آغاز میں ”آپ کے ذاتی مُطالعہِ صحائف کو بہتر بنانے کےلیے تجاویز“ دیکھیں۔