لائبریری
اکتوبر ۲۵–۳۱۔ ۱ اور ۲ تیمِتھُیس؛ طِطُس؛ فِلیمون: ’تُو اِیمانداروں کے لِئے نمُونہ بن‘


”اکتوبر ۲۵–۳۱۔ ۱ اور ۲ تیمِتھُیس؛ طِطُس؛ فِلیمون: ’تُو اِیمانداروں کے لِئے نمُونہ بن‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”اکتوبر ۲۵–۳۱۔ ۱ اور ۲ تیمِتھُیس؛ طِطُس؛ فِلیمون،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

ہَیکل کے باہر کھڑی تین عَورتیں

اکتوبر ۲۵–۳۱

۱ اور ۲ تیمِتھُیس؛ طِطُس؛ فِلیمون

”تُو اِیمانداروں کے لِئے نمُونہ بن“

بعض اوقات ایک یا زائد سوالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے صحائف کا مُطالعہ کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ مُطالعہ کرتے وقت اپنے جوابات کی راہنمائی کے لیے رُوح کو دعوت دیں، اور حاصل کردہ اِلہام کو قلمبند کریں۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

وہ خطوط جو پَولُس نے تیمِتھُیس، طِطُس، اور فِلیمون کے نام لکھے تھے، اُن میں ہمیں خُداوند کے خادِم کے دِل کی جھلک ملتی ہے۔ پوری جماعتوں کے لیے پَولُس کے دیگر خطوط کے غیر مشابہ، یہ خطوط افراد کے نام پر لکھے گئے تھے—جو پَولُس کے قریبی دوست اور خُدا کے کام میں شریک تھے—اور اِن کو پڑھنا گفتگو کو سُننے کے مترادف ہے۔ اِن میں ہم پَولُس کو، جماعتوں کے دو راہ نماؤں، تیمِتھُیس اور طِطُس، کی کلیسیائی خدمت سے متعلق حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے دوست فِلیمون سے التجا کر رہا ہے کہ وہ ایک ساتھی مُقدّس کو معاف کر دے اور اِنجیل میں اُس کے ساتھ ایک بھائی کی طرح برتاؤ رکھے۔ پَولُس کے اِلفاظ براہ راست ہمارے لیے نہیں لکھے گئے تھے، اور اُس نے کبھی توقع بھی نہیں کی ہوگی کہ ایک دن بہت سارے لوگ اِنھیں پڑھیں گے۔ مسِیح کی خدمت میں ہماری ذاتی بُلاہٹ جو بھی ہو، ہم اِن خطوط میں اپنے لیے مشورت اور حوصلہ افزائی پاتے ہیں۔

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

۱ اور ۲ تیمِتھُیس؛ طِطُس

تیمِتھُیس اور طِطُس کون تھے؟

تیمِتھُیس اور طِطُس نے پَولُس کے ساتھ اُس کی تبلیغی مسافتوں میں خدمات سر انجام دی تھیں۔ اُن کی خدمت کے دوران، اُنھوں نے پَولُس کا اعتماد اور عزت کمائی۔ تیمِتھُیس کو بعد میں اِفِسُس میں کلیسیائی راہ نما کے طور پر بُلاہٹ ملی، اور طِطُس کو کریتے میں راہ نما کے طور پر بُلایا گیا تھا۔ اِن خطوط میں، پَولُس نے راہنماؤں کو اُن کی ذمہ داریوں سے متعلق ہدایت اور حوصلہ افزائی بخشی، جس میں اِنجیل کی منادی کرنا اور مرد حضرات کو اُسقف کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے لیے بُلاہٹ دینا بھی شامل ہے۔

اُسقف اپنے دفتر میں ایک نوجوان شَخص سے گفتگو کرتے ہوئے

اُسقف صاحبان کو حلقے کے اَرکان کو رُوحانی راہنمائی فراہم کرنے کی بُلاہٹ ملتی ہے۔

۱ تیمِتھُیس ۴: ۱۰–۱۶

اگر میں ”اِیمانداروں کے لِئے نمُونہ“ بنوں، تو میں دُوسروں کو مُنّجی اور اُس کی اِنجیل کی طرف مائل کرسکتا ہوں۔

تیمِتھُیس نسبتاً جوان تھا، لیکن پَولُس جانتا تھا کہ لڑکپن کے باوجود وہ کلیسیا کا ایک عظیم راہنما بن سکتا ہے۔ پَولُس نے ۱ تیمِتھُیس ۴: ۱۰–۱۶ میں تیمِتھُیس کو کیا صلاح دی؟ یہ مشورت دُوسروں کو مُنّجی اور اُس کی اِنجیل کی طرف مائل کرنے میں آپ کی کِس طرح مدد کرسکتی ہے؟

مزید دیکھیں ایلما ۱۷: ۱۱۔

۲ تیمِتھُیس

”کِیُونکہ خُدا نے ہمیں دہشت کی رُوح نہِیں؛ بلکہ قُدرت، اور محبّت، اور تربیت کی رُوح دی ہے۔“

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ۲ تیمِتھُیس وہ آخری خط ہے جو پَولُس نے لکھا تھا، اور ایسا لگتا ہے کہ وہ جانتا تھا کہ زمِین پر اُس کا وقت بہت کم رہ گیا تھا (دیکھیں ۲ تیمِتھُیس ۴: ۶–۸)۔ جب آپ یہ خط پڑھتے ہیں، تو اِس کے بارے میں سوچیں کہ تیمِتھُیس کو یہ جان کر کیسا لگا ہوگا کہ اُس کا قابلِ بھروسا صلاح کار اور راہنما اُسے جلد ہی چھوڑ کر جانے والا تھا۔ پَولُس نے اُس کی حوصلہ افزائی کے لیے کیا کہا؟ پَولُس کے اِلفاظ آپ کو خود اپنی آزمائشوں اور خطرات کا سامنا کرنے کے بارے میں کیا سِکھاتے ہیں؟

۲ تیمِتھُیس ۳

اِنجیل کے مُوافِق زِندگی گزارنے سے آخری ایّام کے رُوحانی خطرات سے حفاظت ملتی ہے۔

ہم ”اخِیر زمانہ“ میں جی رہے ہیں جس کی بابت پَولُس نے بات کی تھی، اور ”بُرے دِن“ آ گئے ہیں (۲ تیمِتھُیس ۳: ۱)۔ جب آپ ۲ تیمِتھُیس ۳، پڑھیں تو، اُن آخری ایّام کے خطرات کو تحریر کریں جن کا تذکرہ کیا گیا ہے (مزید دیکھیں ۱ تیمِتھُیس ۴: ۱–۳):

کیا آپ اپنی اِرد گِرد کی دُنیا میں—یا اپنی ہی زِندگی میں اِن خطرات سے متعلق مثالوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ یہ خطرات، کیسے آیت ۶میں بیان کردہ لوگوں کی طرح، ”[آپ کے گھروں] میں دبے پاؤں گُھس آتے ہیں اور [آپ] کو قابُو میں کر لیتے ہیں“؟ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو اِن رُوحانی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ۲ تیمِتھُیس ۳ میں اور اِن خطوط میں کہیں بھی آپ کو کیا مشورت ملتی ہے؟ (دیکھیں، مثال کے طور پر، ۱ تیمِتھُیس ۱: ۳–۱۱؛ ۲ تیمِتھُیس ۲: ۱۵–۱۶؛ طِطُس ۲: ۱–۸

فِلیمون

فِلیمون کون تھا؟

فِلیمون ایک مسِیحی تھا جو پَولُس کے باعِث اِنجیل کی طرف رُجُوع لایا تھا۔ وہ اُنیسمُس نامی ایک غُلام کا مالِک تھا، جو قَید سے فرار ہوگیا، پَولُس سے مِلا، اور اِنجیل کی طرف رُجُوع لایا تھا۔ فِلیمون کے نام لکھے گئے خط میں، پَولُس نے اپنے دوست کو اُنیسمُس کو معاف کرنے اور اُسے ”غُلام کی طرح نہِیں، بلکہ غُلام سے بہُتر ہوکر، یعنی عزیز بھائِی کی طرح“ قبول کرنے کی ترغیب دی (آیت ۱۶

فِلیمون

مسِیح کے پیروکار ایک دُوسرے کو مُعاف کرتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی ایسی صورتحال کا سامنا کیا کہ جب کوئی آپ سے مُعافی کا طالب ہوا تھا؟ فِلیمون کے خط کو پڑھتے ہوئے اِس صورتِ حال کے بارے میں سوچیں۔ پَولُس نے فِلیمون کو کیا سِکھایا کہ وہ اُنیسمُس کو کیوں مُعاف کرے؟ کیا اِس خط میں آپ کو اپنے لیے کوئی پیغام مِلتا ہے؟

مزید دیکھیں، ۱ نیفی ۷: ۱۶–۲۱؛ مضایاہ ۲۶: ۳۰–۳۱۔

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

۱ تیمِتھُیس ۲: ۹–۱۰

اگرچہ پَولُس کی خواتین کے لیے باحیا لباس پہننے کی مشورت کے پہلو ہمارے وقت پر لاگو نہیں ہوتے ہیں، لیکن ہم سب اُس کی مشورت ”نیک کاموں سے … اپنے آپ کو سنوارنے“ سے متعلق سیکھ سکتے ہیں۔ آپ کا خاندان ایک فیشن شو منعقد کرنے سے لطف اندوز ہوسکتا ہے، جس میں خاندانی اَرکان مختلف قسم کے اچھّے کاموں کے لیبل زدہ لباس یا زیور میں ملبوس ہوں۔ اِس ہفتے آپ کا خاندان کون سے کچھ اچھّے کام کرسکتا ہے؟

۱ تیمِتھُیس ۴: ۱۲

اپنے خاندان کے اَرکان کی ”اِیمانداروں کے لِئے نمُونہ“ بننے کی خواہش میں مدد کے لیے، اُنھیں اِس بات کی تصویر بنانے کی دعوت دینے پر غور کریں کہ لوگ اُن کے لیے کِس طرح عمدہ مثال بنے ہیں۔ کِس طرح اِن لوگوں نے ہمیں یِسُوع مسِیح کی پیروی کرنے کی ترغیب بخشی؟ صدر تھامس ایس مانسن کا پیغام ”Be an Example and a Light“ (انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۵، ۸۶–۸۸) چند تجاویز پیش کرسکتا ہے۔

۱ تیمِتھُیس ۶: ۷–۱۲

آپ کے خیال میں ”زر کی دوستی“ کو ”ہر قِسم کی بُرائی کی ایک جڑ“ کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اپنی زِندگی کو پیسے پر مرکوز کرنے کے کیا خطرات ہیں؟ اپنی حاصل کردہ نَعمتوں پر ہم کِس طرح قناعت کرسکتے ہیں؟

۲ تیمِتھُیس ۳: ۱۴–۱۷

اِن آیات کے مطابق، صحائف کو جاننے اور اِن کا مُطالعہ کرنے والوں کو کون سی برکات حاصل ہوتی ہیں؟ شاید خاندانی اَرکان اُن صحائف کا اِشتراک کرسکتے ہیں جو اُنھیں خاص طور پر ”فائِدہ مند“ لگیں۔

فِلیمون ۱: ۱۷–۲۱

پَولُس اُنیسمُس کے لیے کیا کرنے کو تیار تھا؟ یہ اُس کام سے کیسے مطابقت رکھتا ہے جو مُنّجی نے ہمارے واسطے خُوشی سے کیا؟ (مزید دیکھیں ۱ تیمِتھُیس ۲: ۵–۶؛ عقائد اور عہود ۴۵: ۳–۵)۔ ہم کیسے پَولُس اور مُنّجی کے نمُونہ کی پیروی کرسکتے ہیں؟

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

واضح اور آسان عقیدے کی تعلیم دیں۔ اِنجیل اپنی سادگی میں خوبصورت لگتی ہے (دیکھیں عقائد اور عہود ۱۳۳: ۵۷)۔ اپنے خاندان کو زیادہ تیاری طلب درس کے ساتھ تفریح مہیا​کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، خالص اور آسان عقیدے کی تعلیم دینے کی کوشش کریں (دیکھیں ۱ تیمِتھُیس ۱: ۳–۷

بھائی اور بہن صحائف کا مُطالعہ کرتے ہوئے

خُدا کے کلام کا مُطالعہ ہمیں آخری ایّام کے رُوحانی خطرات سے محفوظ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔