لائبریری
اکتوبر ۱۱–۱۷۔ فِلپِّیوں؛ کُلسّیوں: ’مسِیح جو مُجھے طاقت بخشتا ہے اُس میں مَیں سب کُچھ کر سکتا ہُوں‘


”اکتوبر ۱۱–۱۷۔ فِلپِّیوں؛ کُلسّیوں: ’مسِیح جو مُجھے طاقت بخشتا ہے اُس میں مَیں سب کُچھ کر سکتا ہُوں‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”اکتوبر ۱۱–۱۷۔ فِلپِّیوں؛ کُلسّیوں،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

پَولُس قید خانہ میں ایک خط لکھواتے ہوئے

اکتوبر ۱۱–۱۷

فِلپِّیوں؛ کُلسّیوں

”مسِیح جو مُجھے طاقت بخشتا ہے اُس میں مَیں سب کُچھ کر سکتا ہُوں“

نئے عہد نامہ کے اپنے مُطالعے کے دوران آپ نے آخری بار کب اپنے تحریر شدہ رُوحانی تاثرات کو پڑھا تھا؟ اپنی حاصل کردہ سرگوشیوں کا جائزہ لینا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

پِولُس نے فِلپِّیوں اور کُلسّیوں کو اپنے خطوط تب لکھے جب وہ قید میں تھا۔ لیکن اِن خطوط میں ویسا لہجہ نہیں پایا جاتا جس کی آپ کسی قیدی سے توقع کرسکتے ہیں۔ پِولُس نے تکالیف اور آزمائشوں کی بجائے خُوشی، مسرت اور شکر گزاری کے بارے میں زیادہ بات کی: ”مسِیح کی منادی ہوتی ہے“ اُس نے کہا، ”اور اِس سے مَیں خُوش ہُوں اور رہُوں گا بھی“ (فِلپِّیوں ۱: ۱۸)۔ ”گو جِسم کے اِعتبار سے دُور ہُوں مگر رُوح کے اِعتبار سے تُمہارے پاس ہُوں، اور تُمہاری باقاعِدہ حالت … تُمہارے اِیمان کی جو مسِیح پر ہے مضبُوطی دیکھ کر خُوش ہوتا ہُوں“ (کُلسّیوں ۲: ۵)۔ یقینی طور پر، ”خُدا کا اِطمینان“ جس کا تجربہ پَولُس نے اپنے مشکل حالات میں کیا ”سَمَجھ سے بِالکُل باہِر ہے“ (فِلپِّیوں ۴: ۷)، لیکن اِس کے باوجود یہ ایک حقیقت تھی۔ اپنی آزمائشوں کے دوران، ہم بھی یہی اِطمینان محسوس کرسکتے ہیں اور ”خُداوند میں ہر وقت خُوش“ رہ سکتے ہیں (فِلپِّیوں ۴:۴)۔ ہم بھی، جیسا کہ پَولُس نے کیا، یِسُوع مسِیح پر مکمل طور پر انحصار کرسکتے ہیں، ”جِس میں ہم کو مخلصی حاصِل ہے“ (کُلسّیوں ۱: ۱۴)۔ ہم بھی، پَولُس کی مانند یہ کہہ سکتے ہیں کہ ”مسِیح جو مُجھے طاقت بخشتا ہے اُس میں مَیں سب کُچھ کر سکتا ہُوں“ (فِلپِّیوں ۴: ۱۳؛ مزید دیکھیں کُلسّیوں ۱: ۱۱

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

فِلپِّیوں ۲: ۱۲–۱۳

کیا ہم ”اپنی [خود کی] نِجات کا کام“ کرسکتے ہیں؟

”اپنی نِجات کا کام کِئے جاؤ“ جملے کا استعمال کچھ لوگ اِس خیال کی تائید کے لیے کرتے ہیں کہ ہم صرف اپنی کوششوں سے بچ جائیں گے۔ لیکن یہ ایک محدود نظریہ ہے، جس طرح پَولُس کی اِس تعلیم کو سمجھنا محدود ہے—”کِیُونکہ تُم کو اِیمان کے وسِیلہ سے فضل ہی سے نِجات مِلی ہے“ (اِفِسیوں ۲: ۸)—جس کا مطلب یہ ہے کہ نِجات کے لیے کوئی کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صحائف، پَولُس کی تحریروں سمیت، نِجات کے حصول کے لیے یِسُوع مسِیح کے فضل اور ذاتی کوشش دونوں کی واضح طور پر ضرورت کی تعلیم دیتے ہیں۔ جیسا کہ نیفی نے کہا، ”ہم سب کچھ کرنے کے بعد بھی فضل کے وسیلے ہی نِجات پا سکتے ہیں“ (۲ نیفی ۲۵: ۲۳)۔ یہاں تک کہ ہمارے اندر ہماری نِجات کے لیے نِیّت اور عمل دونوں کو جو پَیدا کرتا ہے، ”وہ خُدا ہے“ (فِلپِّیوں ۲: ۱۳؛ مزید دیکھیں فِلپِّیوں ۱: ۶

فِلپِّیوں ۳: ۵–۱۴

یِسُوع مسِیح کی اِنجیل ہر طرح کی قربانی کی مستحق ہے۔

پوَلُس نے یِسُوع مسِیح کی اِنجیل کی طرف رُجُوع لانے کے لیے بہت کچھ ترک کیا، جس میں یہُودی معاشرے میں ایک فرِیسی کی حیثیت سے اُس کا بااثر مقام بھی شامل ہے۔ فِلپِّیوں ۳: ۵–۱۴ میں، یہ تلاش کریں چونکہ وہ اِنجیل کے لیے قربانیاں دینے کو تیار تھا پَولُس نے اِس کے بدلے کیا حاصل کیا۔ اُس نے اپنی قربانیوں کے بارے میں کیسا محسوس کیا؟

پھر آپ اپنی شاگِردی پر غور کریں۔ آپ نے یِسُوع مسِیح کی اِنجیل کے لیے کیا قربانی دی ہے؟ آپ نے کیا حاصل کیا ہے؟ کیا آپ کو مُنّجی کے زیادہ وقف شاگِرد بننے کے لیے مزید قربانیاں دینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے؟

مزید دیکھیں ۳ نیفی ۹: ۱۹–۲۰؛ عقائد اور عہود ۵۸: ۲–۵؛ رابرٹ سی گے، ”What Shall a Man Give in Exchange for His Soul؟“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۲، ۳۴–۳۶۔

فِلپِّیوں ۴: ۱–۱۳

اپنے حالات سے قطع نظر، مَیں مسِیح میں خُوشی پا سکتا ہوں۔

پَولُس کی زِندگی صدر رسل ایم نیلسن نے جس سَچّائی کا اِظہار کیا ہے اُس کی ایک روشن مثال ہے: ”جب ہماری زِندگیوں کی توجہ کا مرکز … یِسُوع مسِیح اور اُس کی اِنجیل ہوتی ہے، تو ہم اپنی زِندگیوں میں چاہے کچھ ہو—یا نہ ہو—اِس سے قطع نظر خُوشی محسوس کر سکتے ہیں۔ خُوشی اُس سے اور اُس کے وسیلہ سے حاصل ہوتی ہے“ (”Joy and Spiritual Survival،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۶، ۸۲)۔

جب آپ فِلپِّیوں—خاص طور پر باب ۴ پڑھتے ہیں تو—ایسے بیانات تلاش کریں جو آپ کو اپنی زِندگی کے کسی بھی معاملے میں خُوشی پانے میں مدد فراہم کرسکیں۔ آپ نے مشکل وقت کے دوران ”خُدا کے اِطمینان“ کا کب تجربہ حاصل کیا ہے؟ (آیت ۷)۔ کب آپ کو ”مسِیح کے وسیلہ“ سے سخت کام کرنے کی طاقت ملی ہے؟ (آیت ۱۳)۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ ہر حالت میں ”راضی“ رہنا کیوں ضروری ہے؟ (آیت ۱۱آیت ۸میں موجود خصوصیات پر عمل کرنے سے آپ اپنے حالات میں راضی کیسے رہ سکتے ہیں؟

دیکھیں ایلما ۳۳: ۲۳؛ ڈیٹئر ایف اکڈورف، ”Grateful in Any Circumstances،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۴، ۷۰–۷۷۔

کُلسّیوں ۱: ۱۲–۲۳

میرے اِیمان کی بُنیاد یِسُوع مسِیح پر رکھی گئی ہے۔

یہاں مُطالعہ کرنے کا ایک طریق کار پیش کیا گیا ہے جو آپ صحائف کے تقریباً ہر باب پر آزما سکتے ہیں، اگرچہ اِس کا اطلاق خاص طور پر کُلسّیوں ۱: ۱۲–۲۳ پہ ہوتا ہے۔ یِسُوع مسِیح کے بارے میں جو کچھ بھی آپ سیکھتے ہیں اُس سے متعلقہ آیات کو تلاش کریں، اور پھر اپنی دریافت کی ایک فہرست بنائیں۔ آپ مُنّجی کے بارے میں اِن سَچّائیوں کو جاننا کیوں ضروری سمجھتے ہیں؟

کُلسّیوں ۳: ۱–۱۷

یِسُوع مسِیح کے شاگِرد جب وہ اُس کی اِنجیل کے موافق زِندگی گزارتے ہیں تو وہ ”نئے“ ہوجاتے ہیں۔

آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ آیا یِسُوع مسِیح کی اِنجیل آپ کو ”نیا مرد [یا عورت]“ بننے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے؟ جاننے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کُلسّیوں ۳: ۱–۱۷ میں ڈھونڈیں اور ”پُرانی اِنسانِیّت“ کے رویوں، خصوصیات، اور اقدامات کی ایک فہرست بنائیں اور ”نئی اِنسانِیّت“ کے رویوں، خصوصیات اور اقدامات کی ایک اور فہرست بنائیں۔

کیا اِن آیات کا مُطالعہ اِس بارے میں آپ کی سوچ کو متاثر کرتا ہے کہ اِنجیل آپ کو کِس طرح بدل رہی ہے؟ اپنے خیالات کو قلمبند کریں تاکہ آپ مستقبل میں اُن کا جائزہ لے سکیں اور غور کرسکیں کہ آپ کِس طرح تَرَقّی کر رہے ہیں۔

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

فِلپِّیوں

آپ کا خاندان فِلپِّیوں میں اکثر خُوشی یا شادمانی جیسے اِلفاظ کا مشاہدہ کرے گا۔ ہر بار جب آپ اِن اِلفاظ میں سے ایک کو پڑھتے ہیں تو، آپ ٹھہر سکتے ہیں اور اِس پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں کہ پَولُس نے خُوشی حاصل کرنے کے طریقوں کے بارے میں کیا تعلیم دی ہے۔

فِلپِّیوں ۲: ۱۴–۱۵

ہم کِس طرح ”دُنیا میں چراغوں کی طرح دِکھائی“ دے سکتے ہیں؟

فِلپِّیوں ۴: ۸

ہوسکتا ہے کہ آپ کا خاندان ایسی چِیزوں کی شناخت کرسکے جو اِس آیت کی وضاحت کے عین مطابق ”غَور“ کرنے کے لائق ہوں (مزید دیکھیں اِیمان کے اَرکان ۱: ۱۳)۔ پَولُس کی مشورت پر عمل کرنے سے آپ کے خاندان کو کِس طرح برکت حاصل ہوگی؟

کُلسّیوں ۱: ۹–۱۱؛ ۲:۲–۳

ہم ”خُدا کی پہچان“ میں بڑھنے کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟ ہم اِنجیل میں ”حِکمت اور معرفت“ کے کون سے خزانے تلاش کرتے ہیں؟

کُلسّیوں ۱: ۲۳؛ ۲: ۷

شاید آپ کا خاندان کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر یا کسی درخت کی تصویر (جیسا کہ اِس خاکہ کے ساتھ وابستہ تصویر) کو دیکھتے ہوئے اِن آیات کو پڑھ سکتا ہے۔ مسِیح میں ”جڑ پکڑنے“ اور ”تعمِیر ہونے“ سے کیا مراد ہے؟ ہم کِس طرح اپنی رُوحانی جڑوں کو مضبوط بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں؟

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

اپنی گواہی کے مُوافِق زِندگی گزاریں۔ ”آپ اپنی ذات کے مُوافِق تعلیم دیتے ہیں“ بزرگ نیل اے میکس ویل نے سِکھایا ہے۔ ”آپ کی امتیازی خصوصیت کو … کسی خاص سبق کی کسی خاص سَچّائی سے زیادہ یاد رکھا جائے گا“ (نجات دہندہ کے طریق سے تعلیم دینا، ۱۳ میں)۔

درخت

پَولُس نے سِکھایا کہ ہمارے اِیمان کی ”جڑ“ یِسُوع مسِیح میں ہونی چاہیے (کُلسّیوں ۲: ۷