”نومبر ۱۵–۲۱۔ یعقُوب: ’کلام پر عمل کرنے والے بنو نہ محض سُننے والے‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”نومبر ۱۵–۲۱۔ یعقُوب،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
ابرؔہام ممرے کے بلوؔطوں میں، از گرانٹ رامنی کلوسن
نومبر ۱۵–۲۱
یعقُوب
”کلام پر عمل کرنے والے بنو نہ محض سُننے والے“
یعقُوب کا خط پڑھتے ہوئے، ایسے جملوں پر توجہ مزکور کریں جو آپ کو منفرد لگیں، اور اُن کو قلمبند کریں۔ آپ کو کیسے اِن سَچّائیوں کے مُوافِق زِندگی گزارنے کا اِلہام بخشا گیا ہے؟
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
بعض اوقات پاک کلام کی صرف ایک آیت ہی دُنیا بدل سکتی ہے۔ یعقُوب ۱: ۵ جو ایک سادہ سی مشورت معلوم ہوتی ہے—اگر تُم میں حِکمت کی کمی ہو تو خُدا سے مانگو۔ لیکن جب ۱۴ سالہ جوزف سمتھ نے یہ نوشتہ پڑھا تو، ”ایسا لگتا تھا کہ یہ شدتِ قوی سے [اُس کے] دل کے ہر خیال میں سرایت کر گیا ہے“ (جوزف سمتھ—تاریخ ۱: ۱۲)۔ یوں متاثر ہو کر، جوزف نے یعقُوب کی ہدایت پر عمل کیا اور دُعا کے ذریعے خُدا سے حِکمت مانگی۔ اور واقعتاً خُدا نے جوزف کو فَیّاضی کے ساتھ انسانی تاریخ کے سب سے شاندار آسمانی دورے—پہلی رویا سے نوازا۔ اِس رویا نے جوزف کی زِندگی کی سمت بدلی اور زمِین پر یِسُوع مسِیح کی کلیسیا کی بحالی کا باعِث بنی۔ جوزف سمتھ کے یعقُوب ۱: ۵ کو پڑھنے اور اِس پر عمل کرنے کے باعِث آج ہم سب بابرکت ٹھہرے ہیں۔
مُطالعہ کرتے ہوئے آپ یعقُوب کے خط میں کیا پائیں گے؟ شاید ایک دو آیات آپ کو یا آپ کے پیاروں کو تبدیل کر دیں گی۔ زِندگی میں اپنے مشن کی تکمیل کے لیے آپ کو راہ نمائی مِل سکتی ہے۔ آپ کو شفقت سے بات کرنے یا زیادہ صبر کرنے کی ترغیب مِل سکتی ہے۔ جو چِیز بھی آپ کو متاثر کرے، اِن الفاظ کو ”[اپنے] دل کے ہر احساس میں … داخل“ ہونے دیں۔ یاد سے ”اُس کلام کو … حلِیمی سے قُبُول کر لو“ جیسا کہ یعقُوب نے لکھا، ”جو تُمہاری رُوحوں کو نِجات دے سکتا ہے“ (یعقُوب ۱: ۲۱)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
یعقُوب
یعقُوب کون تھا؟
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یعقُوب کے خط کا مصنف اُس مریم کا بَیٹا تھا، جو یِسُوع مسِیح کی ماں تھی، اور اِسی وجہ سے مُنّجی کا سوتیلا بھائی تھا۔ یعقُوب کا ذکر متّی ۱۳: ۵۵؛ مرقس ۶: ۳؛ اعمال ۱۲: ۱۷؛ ۱۵: ۱۳؛ ۲۱: ۱۸؛ اور گلتیوں ۱: ۱۹؛ ۲: ۹ میں ہوا ہے۔ اِن صحائف سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یعقُوب یروشلِیم میں ایک کلیسیائی راہ نما تھا اور اُسے رَسُول کی بُلاہٹ حاصل تھی (دیکھیں گلتیوں ۱: ۱۹)۔
یعقُوب ۱: ۲–۴؛ ۵: ۷–۱۱
صبر سے برداشت کرنا کاملیت کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔
”انتظار کرنا مشکل ہوسکتا ہے،“ صدر ڈیٹئر ایف اوکڈورف نے سِکھایا۔ ”ہم جو چاہتے ہیں وہ ہمیں چاہیے، اور ابھی چاہیے۔ لہذا، صبر کا خیال نہایت ناخوشگوار معلوم ہوسکتا ہے“ (”Continue in Patience،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۰، ۵۶)۔ یعقُوب ۱: ۲–۴؛ ۵: ۷–۱۱ کو پڑھنے کے بعد، آپ یعقُوب کے صبر سے متعلق اہم پیغام کے بارے میں کیا خیال کرتے ہیں؟ صدر اوکڈورف کے بقیہ پیغام کو پڑھنے کے بعد آپ مزید کیا بصیرت حاصل کرتے ہیں؟ آپ خُداوند کے سامنے صبر کرنے کی اپنی آمادگی کا اظہار کیسے کرسکتے ہیں؟
یعقُوب ۱: ۳–۸، ۲۱–۲۵؛ ۲: ۱۴–۲۶؛ ۴: ۱۷
اِیمان عمل کا تقاضا کرتا ہے۔
آپ یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ آپ یِسُوع مسِیح پر اِیمان رکھتے ہیں؟ آپ کے کام خُدا پر آپ کے اِیمان کیسے ظاہر کرتے ہیں؟ اِیمان سے متعلق یعقُوب کی تعلیمات کا مُطالعہ کرتے ہوئے اِن سوالات کے بارے میں سوچیں۔ ابرؔہام اور راحب کے بارے میں بھی پڑھنا دلچسپ ہوسکتا ہے، جن دو مثالوں کا ذکر یعقُوب نے کیا (دیکھیں پیَدایش ۲۲: ۱–۱۲؛ یشُوع ۲)۔ اُنھوں نے خُدا پر اپنے اِیمان کا اِظہار کیسے کیا؟
یعقُوب ۱: ۳–۸، ۲۱–۲۵؛ ۲: ۱۴–۲۶؛ ۴: ۱۷ کو پڑھنے سے آپ کو اُن طریقوں کے بارے میں سوچنے میں مدد مِل سکتی ہے جن کے باعِث آپ کلام پر عمل کرنے والے بن سکتے ہیں۔ کسی بھی قسم کے حاصل ہونے والے تاثرات کو قلمبند کریں، اور اِن پر عمل کرنے کے منصوبے بنائیں۔
مزید دیکھیں ایلما ۳۴: ۲۷–۲۹؛ ۳ نیفی ۲۷: ۲۱۔
یعقُوب ۱: ۲۶؛ ۳: ۱–۱۸
میرے بولے گئے اِلفاظ دُوسروں کو تکلیف یا برکت دینے کی قُدرت رکھتے ہیں۔
یعقُوب نے اپنے پورے خط میں بھرپور منظر کشی کا استعمال کیا ہے، زبان سے متعلق اُس کی مشورت میں کچھ انتہائی واضح زبان پائی جاتی ہے۔ اُن انداز کی ایک فہرست بنانے پر غور کریں جن سے یعقُوب نے زبان یا مُنہ کی وضاحت کی۔ ہر موازنہ یا شبیہہ ہمارے کہے گئے اِلفاظ کے بارے میں کیا تجویز کرتی ہے؟ کسی کو اپنے اِلفاظ سے برکت دینے کے بارے کچھ کرنے کے متعلق سوچیں (دیکھیں عقائد اور عہود ۱۰۸: ۷)۔
یعقُوب ۲: ۱–۹
یِسُوع مسِیح کے شاگرد کی حیثیت سے، مجھے تمام لوگوں سے اُن کے حالات سے قطع نظر پیار کرنا چاہیے۔
یعقُوب نے مُقدّسین کو خاص طور پر امیروں کی حمایت کرنے اور غریبوں کو حقیر جاننے کے خلاف خبردار کیا ہے، لیکن اُس کی یہ انتباہ دُوسروں کے ساتھ کسی قسم کے تعصب یا جانبداری برتنے پر بھی لاگو ہوسکتی ہے۔ اُن طریقوں کو پہچاننا مشکل ہوسکتا ہے جن کی بدولت ہم دُوسروں کو منفی طور پر چانچتے ہیں، لیکن خُداوند نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق بہتر بننے میں ہماری مدد کرے گا (دیکھیں عیتر ۱۲: ۲۷)۔ دُعاگو ہو کر یعقُوب ۲: ۱–۹ کا مُطالعہ کرتے ہوئے، اپنے ہی دِل میں تلاش کریں اور رُوحُ الُقدس کی سرگوشیوں کو سُنیں۔ کیا دُوسروں کے ساتھ اپنے سلوک یا اُن کے بارے میں اپنی سوچ کے انداز میں آپ کو تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے؟
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
یعقُوب ۱: ۵
یعقُوب ۱: ۵ کو پڑھنے اور خاندان کے ایک فرد کو پہلی رویا کا خلاصہ بیان کرنے کی دعوت دینے پر غور کریں (دیکھیں جوزف سمتھ—تاریخ ۱: ۸–۱۳۔ خاندان کے اَرکان کو دعوت دیں کہ وہ جوزف سمتھ اور اُن تجربات سے متعلق اپنی گواہیوں کا اشتراک کریں جب آسمانی باپ نے اُن کی دُعاؤں کا جواب دیا۔
یعقُوب ۱: ۲۶–۲۷
پھر یعقُوب کی خالِص دِینداری کی تعریف کو پڑھیں اور اُن طریقوں پر گفتگو کریں جو آپ کے خاندان کی مذہبی روش کو مزید خالِص بنا سکتے ہیں۔
یعقُوب ۳
آپ کے خاندان کو شریں زبان پانے سے متعلق یادگار عملی اسباق کی حوصلہ افزائی دینے کے لیے یعقُوب ۳ میں بہت ساری شبیہیں شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ اِس بات پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی چنگاری یا ماچس کی تیلی سے کِس طرح بڑی آگ لگ سکتی ہے، اور خاندانی اَرکان ایسے اوقات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جب کوئی بے رحم لفظ کسی پریشانی کا سبب بنا تھا (دیکھیں آیات ۵–۶)۔ یا آپ کسی میٹھی چیز میں کھٹی یا کڑوی چیز مِلا کر کھانے کے لیے پیش کرسکتے ہیں—جیسا کہ شہد کے برتن میں لیموں کا رس۔ ایسا کرنے سے اِس بات کو یقینی بنانے کے بارے میں گفتگو ہوسکتی ہے کہ ہمارے اِلفاظ شریں اور حوصلہ افزا ہونے چاہیے (دیکھیں آیات ۹–۱۴)۔
یعقُوب ۴: ۵–۸
آزمائش کا سامنا کرتے وقت ہمیں کیوں”خُدا کے نزدِیک“ ہونا چاہیے؟
یعقُوب ۵: ۱۴–۱۶
شاید کہانتی برکت حاصل کرنے کے بارے میں ذاتی تجربہ کا اشتراک کرنے سے خاندانی اَرکان کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے کہ ”جب [اُنھیں] رُوحانی طاقت کی ضرورت ہو تو وہ کہانتی برکت مانگ سکتے ہیں“ (ڈیلن ایچ اوکس، ”The Importance of Priesthood Blessings،“ New Era، جولائی ۲۰۱۲، ۴)۔
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا
جو کچھ آپ سیکھتے ہیں اُس پر عمل کریں۔ مُطالعہ کرتے ہوئے، اُس سے متعلق رُوح کی سرگوشیوں کو سُنیں کہ آپ سِکھائے جانے والے علم کو اپنی زِندگی پر کِس طرح لاگو کرسکتے ہیں۔ اِن سرگوشیوں پر مکمل طور پر عمل کرنے اور مزید اِنجیل کے مُوافِق جینے کا عہد کریں۔ (دیکھیں نِجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، ۳۵۔)